زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 8 اکتوبر، 2025

تجدیدِ مذہب و اسباب و علل

تجدیدِ مذہب و اسباب و علل

پی ڈی ایف ڈاون لوڈ کریں

تجدیدِمذہب و اسباب و علل

بقلم: منشی محمد صادق  ﴿ سالِ تحریر: 1996ء﴾

سابقہ گاوٴں بھیرہ تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر__موجودہ پتہ تھلہیر  کالونی﴿کشمیر کالونی﴾ کوٹلی آزاد کشمیر

﴿ تبصرہ و نظرِ ثانی: 31/7/ 2025﴾

تبصرہ : ڈاکٹر نذر حافی     نظرِثانی: میجر ﴿ ر ﴾گل اختر

nazarhaffi@gmail.com

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تجدیدِمذہب و اسباب و علل

بحوالہ منشی محمد صادق صاحب مرحوم و مغفور: سابقہ گاوٴں بھیرہ تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر__موجودہ پتہ تھلہیر  کالونی﴿کشمیر کالونی﴾ کوٹلی آزاد کشمیر      

تبصرہ   :  ڈاکٹر نذر حافی

عقیدے کی تبدیلی ایک داخلی ہجرت ہے۔ تحقیق نہ ہو تو  عقیدہ انسان کیلئے ایک تاریک  قفس بن جاتا ہے۔ مجھے ایسے افراد میں ہمیشہ دلچسپی رہی ہے کہ جنہوں نے تحقیق کی دنیا میں  دوسروں کے عقائد کو چھیڑنے  کے بجائے اپنے ہی عقیدے پر  سوال اٹھانے  کی جسارت کی ۔ میری اس دلچسپی کی وجہ یہ ہے کہ میرے نزدیک  جو عقیدہ عقل کی دہلیز پر دستک نہ دے وہ اپنانے کے قابل بھی نہیں ہوتا۔  آپ بھی اگر سوچیں تو آپ کو احساس ہوگا کہ تحقیق، انسان کو عقیدے کے موروثی  زندان  سے آزاد کر کے اُسے ایک زندہ و پائندہ  یقین عطا کرتی ہے، ایسا یقین جو نہ تعصب کا اسیر ہوتا ہے، اور  نہ جمود کا پجاری۔

میں نے ہمیشہ کھلے دل کے ساتھ تحقیق کرنے والے لوگوں کے قلوب میں اترنے کی کوشش کی ہے تاکہ یہ سمجھ سکوں کہ تبدیلی مذہب کے بعد وہ کیسا محسوس کرتے ہیں! ہر دفعہ جب میں کسی ایسے شخص  سے ملا تو مجھے  یہی محسوس ہوا کہ سچائی اپنے آپ کو عقل سے متصادم نہیں ہونے دیتی،  اور جو عقیدہ عقل اور تحقیق سے خائف ہو، وہ سچائی کا ہمزاد نہیں ہو سکتا۔لوگوں کی اکثریت  اپنے عقیدے کے بارے میں تحقیق کرنے کو کفر سمجھتی ہے۔   لوگ  ڈرتے ہیں کہ کہیں تحقیق کرنے سے ان کا عقیدہ غلط ثابت نہ ہو جائے۔ بہت ہی کم افراد یہ جانتے ہیں کہ تحقیق ایک ایسا آئینہ ہے کہ جس میں انسان کو اپنے عقیدے کی حقیقی اور اصلی صورت نظر آتی ہے۔  اگر تحقیق کے آئینے میں اپنا عقیدہ بدشکل نظر آئے تو سمجھ جانا چاہیے کہ میرے پاس جو عقیدہ ہے وہ در اصل  ایک  دھوکہ  ہے۔ جو عقیدہ تحقیق سے ثابت ہو جائے صرف  وہی انسان کو مخلوق کے من گھڑت عقیدوں سے نجات دے سکتا ہے۔

ہمارے قارئین کو یاد ہوگا کہ ہم  نے گزشتہ دنوں ساہیوال سے تعلق رکھنے والے  الحاج خورشید احمد چوہان ایڈوکیٹ صاحب کی تبدیلی مذہب کی داستان   الہیٰ خزانہ   کے بارے میں  دو قسطیں لکھی تھیں۔ ہمارا مقصد تب بھی جھوٹ کے پردوں سے سچ کو برآمد کرنا تھا اور آج بھی یہی ہے۔ آج آپ  مرحوم و مغفور منشی محمد صادق  صاحب کی تبدیلی مذہب کی  روداد اُن ہی کے قلم سے ملا حظہ فرمائیں۔ موصوف نے  سال  ۱۹۹۶ ءمیں کوٹلی آزاد کشمیر میں  اپنے اس روحانی و معنوی سفر کو قلمبند کیا  کہ جو  اس وقت  معمولی پروف ریڈنگ کے بعد من و عن قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ 

تجدیدِ مذہب و اسباب و علل

﴿ انتساب:  انسانی ضمیر کے اُن گوشوں کے نام جو حق سوچنے اور حق  کہنے پر اُکساتے ہیں﴾

بقلم: منشی محمد صادق سابقہ گاوٴں بھیرہ تحصیل مینڈھر، ضلع پونچھ مقبوضہ کشمیر__موجودہ پتہ تھلہیر کالونی ﴿کشمیر کالونی﴾کوٹلی آزاد کشمیر      

1954ء کے موسمِ سرما کا واقعہ ہے۔ میں اپنے سسرال میں چند روزہ قیام کے بعد جب واپس اپنے گھر لوٹا تو والدِ محترم نے فرمایا کہ چند دن ہوئے ہیں کہ پیر  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب، جو قیامِ پاکستان کے بعد ہجرت کر گئے تھے، اب واپس مقبوضہ کشمیر (ہندوستان کے زیرِ قبضہ علاقہ) اپنے وطن پہنچ آئے ہیں۔ دورانِ ہجرت  پاکستان میں ہمارے خاندان کو  ان کے  اہل و عیال کے ہمراہ کچھ وقت    بسر کرنے کا موقع ملا تھا۔ تاہم، وہ ہم سے دو سال بعد  وطن واپس آئے۔

میں نے والد صاحب سے اُن کے موجودہ قیام کے بارے میں پوچھا چونکہ میری معلومات کے مطابق  مقبوضہ کشمیر میں  ان کا ذاتی مکان فسادات (غدر) میں جل چکا تھا۔  میرے استفسار پر والد صاحب  نے بتایا کہ شاہ صاحب اپنی زمین سے کچھ فاصلے پر اپنے ایک ہم زلف کے ہاں مقیم ہیں ۔ چنانچہ میں نے تھوڑا سا غلہ مکئی وغیرہ اپنے ہمراہ لیا اور ان سے ملاقات کی نیت سے روانہ ہو نے لگا۔

ابھی میں گھر سے نکلنے ہی لگا تھا کہ  میرے  تایا زاد بڑے بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ   یہ غلہ کیوں ساتھ لیا  ہے؟  میں نے جواب دیا کہ   یہ گیارہویں شریف کی بچی ہوئی مکئی ہے، جو میں شاہ صاحب کے لیے لے کر جا رہا ہوں۔ 

اس پر انہوں نے کہا کہ شاہ صاحب تو شیعہ ہیں، اور شیعہ  غوثِ اعظم ؒ کو نہیں مانتے۔ تم  ان کے لیےیہ لے کر نہ جاؤ۔ میں نے کہا کہ   مجھے تو نہیں معلوم کہ وہ غوثِ پاک کو مانتے ہیں یا نہیں، لیکن اس وقت وہ محتاج اور امداد کے مستحق ضرور ہیں۔ اگر  غوثِ اعظمؒ   نے مجھے خواب میں آکر شکوہ کیا کہ تُو نے میرے عاق کردہ شیعہ کو میرا حصہ کیوں دیا ہے  تو میں انہیں راضی کرنے کیلئے  اس کے بدلے میں اُن کے کسی اور ماننے والے مرید  کو مزید غلہ دے دوں گا۔ 

بہرحال، میں مذکورہ شاہ صاحب کی طرف روانہ ہوا  اور تھوڑا سا  غلہ بھی ساتھ لے گیا۔ کچھ دیر کے بعد میں ان کے ہاں پہنچ گیا۔ یوں اچانک مجھ سے مل کر انہیں بھی بہت خوشی ہوئی۔ کافی دیر تک  ہم  یونہی ایک دوسرے کی احوال پرسی کرتے رہے۔ دورانِ گفتگو میرے ذہن میں مسلسل اپنے تایا زاد بڑے بھائی صاحب  کی وہی بات کھٹک رہی تھی۔ بالآخر میں نے موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ہمت کی اور شاہ صاحب سے پوچھ ہی لیا کہ   شاہ صاحب! کیا آپ شیعہ ہیں؟ 

انہوں نے کمالِ  اطمینان سے جواب دیا کہ  جی  ہاں! ایسا ہی ہے۔ میں نے  جھجکتے ہوئے ہی سہی جھٹ سے کہہ دیا کہ  ہمارے ہاں تو شیعہ ہونا بڑا معیوب ہے۔ باتوں ہی باتوں میں شیعوں سے منسوب بہت ساری منفی باتیں بھی میں  اُنہیں بتا بیٹھا۔ ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ شیعہ لوگ اپنے متوفی رشتہ دار کے پیٹ سے غلاظت صاف کرنے کے لیے ایک ڈنڈے سے اُس کی صفائی کرتے ہیں، یعنی پیٹ میں ڈنڈا ڈال کر نجاست نکالتے ہیں، اور اس کے بعد کفن دفن ہوتا ہے۔ یہ بات چونکہ بڑی مضحکہ خیز اور چونکا دینے والی تھی سو میں نے اسی سے آغاز کیا۔

شاہ صاحب نے میری توقع کے برخلاف یہ بات سن کر کسی قسم کی خفگی ظاہر کرنے کے بجائے زور زور سے ہنسنا شروع کر دیا۔ پھر پیار سے بولے  کہ   اگر آپ شیعہ کو ایک مسلک یا فرقہ سمجھتے ہیں تو ظاہر ہے کہ کفن و دفن کے احکامات  کے متعلق اس مسلک کی بھی کوئی مذہبی کتاب تو ضرور ہوگی جس پر  اہلِ تشیع عمل کرتے ہوں گے۔ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ   جی، کتاب تو ہونی چاہیے۔  انہوں نے موقع کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے اپنی الماری سے  تجہیز و تکفین کے متعلق ایک چھوٹا سا فقہی رسالہ نکالا اور مجھے  یہ کہہ کر تھما دیا کہ  عزیزم !  اسے پڑھ کر دیکھیں کہ ہمارا طریقہ کیا ہے،  اہلِ تشیع کی تجہیز و تکفین اسی کے مطابق ہوتی ہے۔  

میں نے تقریباً دس سے پندرہ منٹ میں اس کتابچے کو ترجمے کے ساتھ پڑھا، جس میں ایسی کسی حرکت کا ذکر نہ تھا۔ شاہ صاحب نے پوچھا کہ   پڑھ لیا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ   جی ہاں، اس میں تو  ایسا کچھ بھی نہیں لکھا۔  شاہ صاحب نےمیری طرف دیکھا اور پھر مسکراتے ہوئے  کہنے لگے  کہ  اس کتاب میں نہیں تو پھر کیا ہوا ممکن ہے آپ کو کسی اور کتاب سے مل جائے۔ ویسے    آپ کا   اِمامِ دیہہ جو غالباً آپ کا استاد بھی ہے، وہ بھی   ہمارا  ہمسایہ ہے۔ اس سے بھی پوچھیں اور پتہ کریں  کہ کیا واقعی ہم شیعہ لوگ  ایسا کرتے ہیں؟ اگر وہ کہے کہ ہاں تو اسی کی ذمہ داری لگا دیں کہ اہلِ تشیع کی کسی معتبر کتاب سے ایسا کرنا لکھا ہوا دکھا دے۔ 

جیسا کہ میں پہلے ذکرکر چکا ہوں کہ  شاہ صاحب کا ذاتی مکان فسادات میں جل چکا تھا، اور ان کی حالیہ رہائش ہمارے  اِمامِ دیہہ یعنی میرے مذہبی استاد کے مکان کے قریب ہی تھی، اس لیے میں نے شاہ صاحب سے اجازت لی اور  دل ہی دل میں     اِمام صاحب سے یہی سوال  پوچھنے کی ٹھان لی۔حُسنِ اتفاق سے ان دونوں کی زمینیں بھی ملحقہ تھیں۔   المختصر  کہ عوام النّاس کے ہاں عام طور پر مذہبی گفتگو بحث و تکرار اور بدمزگی پر ختم ہوا کرتی ہے لیکن ہماری یہ نشست بڑے اچھے اور خوشگوار  ماحول میں اختتام پذیر ہوئی۔

اہلِ تشیع کے بارے میں اِمام صاحب کا دعویٰ

میں تحقیق کی ایک نئی توانائی اور مصمّم ارادہ لے کر شاہ صاحب سے رخصت ہوا۔  بعد ازاں میں نے کسی روز اِمام صاحب سے ملاقات ہونے  پر  پوچھا کہ  کیا واقعی شیعہ لوگ اپنے متوفی کے پیٹ سے نجاست نکالنے کے لیے ایک ڈنڈے سے  اس کی اندرونی صفائی کرتے ہیں؟ 

انہوں نے بلا فاصلہ  جواب دیا کہ  بالکل! ضرور ایسا ہی کرتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ اگر ایسا ہے تو پھر تو یقیناً ان کی کسی مذہبی کتاب میں ایسے   احکامات درج ہونگے۔     اِمام صاحب بولے کہ  انہوں  نے خود اپنی آنکھوں سے اہلِ تشیع کی کتابوں میں یہ بات پڑھی ہے۔اس پر میری حیرت اور تعجب کی کوئی انتہا نہیں رہی چنانچہ  میں نے کہا کہ  کیا آپ ان کی کسی کتاب سے مجھے یہ بات لکھی ہوئی دکھا سکتے ہیں؟ 

انہوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں  میں چند دنوں میں اہلِ تشیع کی کسی کتاب سے یہ حوالہ نکال کر دکھا دوں گا۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا اور  پھر دن، ہفتے اور مہینے گزر گئے۔ یہ معاملہ  آج اور کل، یہ دن اور وہ دن  کی نذر ہوتا گیا، حتیٰ کہ ایک سال بیت گیا، مگر وہ کوئی حوالہ نہ دکھا سکے۔

ایک طرف تو اِمام صاحب کے جواب کا مجھے بے قراری سے انتظار تھا اور دوسری طرف اہلِ تشیع کے بارے میں میرے ذہن میں اور بھی بہت زیادہ سوالات مجھے بے چین کئے ہوئے تھے۔  اس بے چینی کے باعث  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب سے میری  بات چیت اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 

اہلِ تشیع کے بارے میں دیگر شبہات کا ازالہ

ان دنوں مینڈھر کے  تحصیل دفتر میں میرا  آنا جانا معمول تھا۔  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب بھی ایک تعویذات کی کتاب بغل میں دبائے روزانہ بازار آتے اور واپسی پر ہم دونوں اکٹھے گاؤں واپس جاتے۔ واپسی کے اس راستے میں، میں اکثر ان کے مذہبی نظریات سے متعلق کچھ نہ کچھ ضرور پوچھ لیتا اور شاہ صاحب ہر بار ایسا مدلل اور اطمینان بخش جواب دیتے کہ میرے اندر کا شبہ دُور ہو جاتا۔

ان ہی دنوں محکمہ مال نے ہمارے ایک ملحقہ موضع میں بندوبست کا آغاز کیا۔ یہ موضع صرف اڑھائی میل مغرب کی جانب واقع تھا۔ یہاں مالی، بندوبستی اور امیدوار پٹواریان کی تربیت ہوتی تھی۔ میں بھی امیدوار پٹواری کی حیثیت سے وہاں پیمائش اور دیگر امور سیکھنے جایا کرتا تھا۔ایک دن عصر کے وقت وہاں کے تحصیلدار بندوبست کا ایک ہندو ریڈر سیر کرتے ہوئے آپہنچا۔ اس نے کہا کہ  میں واپس جا رہا ہوں، غالباً تم بھی گھر جاؤ گے، آؤ اکٹھے چلتے ہیں۔ 

راستے میں اُس نے کہا کہ  میں ایک ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوں، امید ہے تم میری رہنمائی کرو گے۔ میں نے کہا کہ  کیا پریشانی ہے؟ وہ بولا کہ  کسی عام مسلمان یا مولوی سے اس بارے میں بات کرنے سے ڈر لگتا ہے، کہیں الٹا مسئلہ نہ بن جائے۔ تم سے اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ تم سوچ سمجھ کر بات کرتے ہو۔ 

پھر اس نے کہا کہ  ہم ہندو گائے کا گوشت اس لیے حرام سمجھتے ہیں کہ ہم اس کا دودھ پیتے ہیں، اور یوں وہ ہمارے لیے 'ماتا' یعنی ماں کے درجے کی ہوتی ہے۔ اس لیے بطورِ احترام ہم اسے ذبح نہیں کرتے۔ لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ آپ مسلمان لوگ سور کا گوشت کیوں حرام سمجھتے ہیں؟  میں نے کہا کہ  قرآن نے اسے حرام کہا ہے۔ 

وہ بولا کہ  اتنا تو میں بھی جانتا ہوں کہ قرآن میں یہ بات لکھی ہے، مگر میں ہندو ہوں۔ قرآن کو آسمانی کتاب نہیں مانتا، اس لیے قرآن کی بات میرے لیے حجت نہیں۔  میں نے کہا کہ  پھر میں کسی مولوی سے پوچھ کر آپ کو بتاؤں گا۔ 

میں نے بعد ازاں   اِمامِ دیہہ سے پوچھا۔ انہوں نے جواب دیا کہ  یہ جانور بے غیرت ہے، اپنی ہی مادہ سے اجتماعی جفتی کرتا ہے، اسی لیے اسلام نے اسے نجس اور حرام قرار دیا ہے۔ میں نے اسی بنیاد پر اس ہندو ریڈر کو جواب دیا، لیکن وہ مطمئن نہ ہوا۔ وہ بولا کہ  یہ عمل تو میں نے دوسرے حلال جانوروں میں بھی دیکھا ہے۔ بلکہ اب تو انسان، جو اشرف المخلوقات ہے، وہ بھی اجتماعی جفتی کو روزمرہ کا معمول بنا چکا ہے۔ یہ جواب سن کر مجھے بھی کچھ تشویش ہوئی۔ایک دن میں نے یہی سوال  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب سے کیا۔ انہوں نے فرمایا کہ  قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر ذکر ہے کہ نافرمانی کرنے والی اقوام مسخ ہو کر جانوروں کی شکل اختیار کر لیتی تھیں۔ اہلِ ہنود کی کتابوں میں بھی اس سے بڑھ کر تفصیلات موجود ہیں کہ ان کے اوتاروں کی مخالفت کرنے والے افراد مختلف جانوروں کی شکل میں بدل دیے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ  ایک نبی کی بد دعا کے نتیجے میں ان کی قوم مسخ ہو کر سور بن گئی، اسی وجہ سے قرآن نے اسے حرام قرار دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ یہ حکم نہ دیتا تو انسانوں کے لیے انسان خوری کا جواز پیدا ہو جاتا۔ جب میں نے یہی بات اس ہندو ریڈر کو بتائی تو وہ قدرے مطمئن ہو گیا۔

رودادِ مناظرہ

دن اسی طرح پر لگا کر اُڑتے رہے اور  یوں ہی پوچھنے پچھانے میں دو سال بیت گئے۔ ایک دن  اتفاق سے میرا  اپنے  ایک ہمسائے اور تعلق واسطے والے ہندو ٹھیکیدار کے ہاں جانا ہوا۔داستان کچھ یوں ہے کہ میرے مکان سے دو،  اڑھائی فرلانگ دور ایک  ہندو ٹھیکیدار کی الاٹ شدہ زمین تھی اور  وہاں اُس ہندو ٹھیکیدار کے مویشی خانہ کی لادئی (چھت بندی) کا  کام ہو رہا تھا۔ پہلے  اسی  زمین کو میرے استاد، یعنی   اِمامِ دیہہ نے  غلّہ بٹائی  پر کاشت کر رکھا تھا۔ غدر 1947ء سے قبل یہ اراضی پانچ سال تک اس ہندو الاٹی کی ذاتی ملکیت تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ زمین ڈاکٹر فقیر محمد (نیریاں چوکیاں والے) کو فروخت کر دی تھی، جو بعد ازاں راولپنڈی منتقل ہو گئے۔ اب 1947ء کے فسادات کے بعد وہی سابقہ  ہندو مالک  قانونی طور پر اس زمین کا دوبارہ  الاٹی بن گیا تھا۔ پھر  ہمارے خاندان کے اس ہندو ٹھیکیدار سے پرانے مراسم بھی تھے۔

علاقائی رسم و رواج کے مطابق شادی بیاہ یا فوتگی کی مانند  کسی کے  ہاں دورانِ لادئی (چھت بندی)  جانا ہماری مقامی ثقافت کا حصّہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ لادئی (چھت بندی)  کے روز میں،  میرے استاد (  اِمامِ دیہہ) اور وہ ہندو ٹھیکیدار تینوں اکٹھے ہو گئے۔ اسی اثنا میں  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب ایک عزیز کی بیمار پُرسی کے بعد  ہمارے قریب سے گزرتے دکھائی دئیے،  غالباً وہ تیمار داری کے بعد  اپنے گھر  واپس جا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر نجانے اِمام صاحب کو کیا ہوا!۔ انہوں نے شاہ صاحب کو دیکھتے ہی   بلند آواز سے کہا کہ   شاہ صاحب! ذرا ادھر آئیں، آج آپ سے مناظرہ ہو  کر رہے گا  ۔

شاہ صاحب، جو قدرے تیزی سے چل  رہے تھے، رک گئے اور بولے کہ  میں مناظرہ نہیں کروں گا۔ تم شرارت کرنا چاہتے ہو۔  میں نے فرصت کو غنیمت جانتے ہوئے  مداخلت کی اور کہا کہ  شاہ صاحب، آپ تشریف لائیں، میری موجودگی میں کوئی آپ سے بداخلاقی نہیں کر سکتا۔  شاہ صاحب مجھ پر بھروسا کر کے واپس آ گئے۔میں نے فریقین سے کہا کہ  آپ دونوں کی بات چیت کے دوران کوئی ثالث توہونا چاہیے، تاکہ مناظرہ  فیصلہ کن ہو۔ دونوں نے ثالث کے طور پر اس ہندو ٹھیکیدار کو تسلیم کر لیا، جو ایک معتدل مزاج اور پڑھا لکھا انسان تھا۔

جب گفتگو کا آغاز ہوا تو میرے مولوی  استاد صاحب نے  سیِّد گل حیدر شاہ صاحب کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے شور مچانا شروع کر دیا۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہاں موجود لوگ شاہ صاحب پر حملہ کر دیں۔ مگر عین اُس وقت ہندو ٹھیکیدار بول اٹھا کہ  مولوی صاحب! اگر آپ کے پاس ان کے سوالات کے جوابات  نہیں ہیں تو شور کیوں مچا رہے ہیں؟ 

ٹھیکیدار کی یہ بات سب کے لیے حجّت تھی کہ مولوی صاحب کے پاس جواب نہیں ہے۔ اِمام صاحب اپنی جگہ بوکھلا گئے اور میں نے بھی وقت ضائع کئے بغیر انتہائی ادب کے ساتھ کہا کہ  میرے اُستادِ محترم مولوی صاحب! ایک سال سے زائد عرصہ ہو چکا ہے کہ آپ نے وعدہ کیا تھا کہ شیعہ متوفی کے پیٹ میں گز ڈالنے کا ثبوت شیعہ مذہبی کتاب سے دیں گے۔ مگر آپ آج تک کوئی حوالہ نہیں دے سکے۔ وہ بولے کہ   میں اب بھی تلاش میں ہوں لیکن کہیں سے کوئی  کتاب مل نہیں رہی۔ میں نے کہا کہ  اگر واقعی ایسی کوئی کتاب ہوتی، تو  دوسال میں کہیں نہ کہیں سے ضرور مل جاتی۔ اب مجھ پر بھی یہ ثابت ہو گیا تھا  کہ ایسی کوئی بات اہلِ تشیع کی کتابوں میں موجود نہیں ہے۔ 

 اب سچائی کو چھپانے اور لَیت و لَعَلَّ سے کام لینے کے بجائے میں نے وہیں  سب کے سامنے اعلان کیا کہ  آج میں آپ تمام لوگوں کے سامنے  شیعہ مذہب اختیار  کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔اس اعلان کا دوسرا حصّہ یہ تھا کہ  اگر آپ حضرات  میں سے کوئی بھی شخص  اگلے ایک سال میں بھی اس الزام کا کوئی مستند حوالہ اہلِ تشیع کی کسی کتاب سے پیش کر سکے، تو میں دوبارہ اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ آؤں گا۔ 

میرا یہ اعلان میرے قبیلے اور اہلِ دیہہ کے لیے ایک دھچکہ تھا، لیکن  وہاں کسی نے ظاہراً مخالفت نہ کی۔یوں  ہندو ٹھیکیدار کے مویشی خانے کی چھت بندی ایک بہانہ بنی اور وہاں اہلِ تشیع کے بارے میں غلط الزامات اور توہمات  کی کلی کھلنے کی بنیاد پر میں نے مکتبِ اہلِ بیت سے اپنا تعلق جوڑ لیا۔ لوگوں میں مشہور کہاوت ہے کہ حضرت موسی ٰ  علیہ السلام طُور پر آگ لینے گئے تھے اور پیغمبری مل گئی۔

اپنے شیعہ ہونے کا  اعلان کرنے  کے بعد 

 اس واقعے کے بعد میں سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے ضلعی ہیڈکوارٹر، پونچھ چلا گیا۔ ایک روز وہاں ایک مجلسِ عزا کے لیے اعلان سنا، جو میرے لیے ایک بالکل نیا تجربہ تھا۔ میں نے پہلی بار کسی مجلس میں شرکت کی۔

ابتدا میں مجلس کا آغاز ماتم سے ہوا، جو اُس وقت میرے لیے ایک اجنبی اور بظاہر بے مقصد عمل محسوس ہوا۔ دل کو تسلی دی کہ  جس مکتبِ اہلِ بیتؑ کے دیگر کئی مسائل میرے دل کو بھا گئے ہیں، شاید کچھ عرصہ بعد یہ عملِ ماتم بھی مجھے قابلِ قبول لگنے لگے۔  اس کے بعد علمائے کرام اور ذاکرین نے وعظ فرمایا۔ میں چونکہ مجلس میں نیا اور اجنبی تھا، تو کچھ لوگ میرے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا۔ میں نے بتایا کہ میں مینڈھرر کا رہائشی، پٹواری کے پیشے سے وابستہ ہوں، اور فلاں فلاں وجوہات کی بنا پر، شیعہ مذہب اختیار کر چکا ہوں۔

میں نے ان سے کہا کہ   میرے پاس مکتبِ اہلِ بیتؑ کی کوئی کتاب نہیں ہے۔  انہوں نے مجھے لکھنؤ کے اہلِ تشیع کتب خانوں کے پتے دیے۔ چنانچہ میں نے وہاں سے کتابیں منگوائیں، مطالعہ کیا، اور پھر دوسروں کو بھی حقائق سے آگاہ کرنا شروع کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے میں ایک ذریعۂ تفکر بن گیا۔  سوچنے سمجھنے والے سادات کی بستیاں آہستہ آہستہ مکتبِ اہلِ بیتؑ میں آنے لگیں۔میں نے اپنے کئی ہم جلیس افراد کو مذہبِ حق خَیْرُ ٱلْبَرِیَّةِ کی جانب راغب کیا۔ ان میں تحصیلدار  سیِّد عبد القیوم شاہ صاحب بھی شامل تھے، جو ترقی پا کر اسسٹنٹ کمشنر پونچھ بن گئے تھے۔ وہ مجھے اپنا معنوی رہبر سمجھتے اور اکثر کہا کرتے کہ   منشی صاحب! مجھے میرے والد نے بچپن میں ڈرایا تھا کہ یہ شیعہ لوگ آدمی کھاتے ہیں۔ 

اسی طرح مولوی خادم حسین شاہ صاحب (گورساہی) بھی ہماری صحبت میں آئے، سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہوئے، اور پھر اپنے علاقے میں مکتبِ اہلِ بیتؑ کو خوب پھیلایا۔ یہ وہی خادم حسین شاہ ہیں جن کا ذکر تیونس کے ڈاکٹر محمد تیجانی سماوی کی  مشہور کتاب  پھر میں ہدایت پا گیا  کے  اردو ترجمے کے مقدمے میں موجود ہے۔ وقت آگے بڑھتا رہا اور پاکستان و ہندوستان کے حالات ۱۹۶۵ ءمیں ایک مرتبہ پھر خراب ہوئے اور دیگر  ہزاروں  خاندانوں کی مانند ایک مرتبہ مجھے بھی دوبارہ ہجرت کرنی پڑی۔  ہم دوبارہ آزاد کشمیر آئے اور اب کی بار مذہب کے نام پر  میرا سوشل بائیکاٹ کیا گیا۔

1965ء کی ہجرت اور سوشل بائیکاٹ کی حقیقت

 1965ء کے بعد میں نے ہجرت کر کے آزاد کشمیر آ کر سکونت اختیار کی۔ یہاں 1947ء اور 1965ء کے مہاجرین میں ہمارے کئی قریبی رشتہ دار بھی موجود تھے۔ میں نے 1989ء میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ لے لی۔ انسان جہاں رہتا ہے وہاں اُس سے اونچ نیچ ہوتی رہتی ہے۔ ہجرت کے بعد بہت سارے عزیزورشتے دار جہاں بچھڑ گئے وہیں کچھ بہت زیادہ قریب بھی ہو گئے۔ ایسے میں عزیزواقارب کے ساتھ تعلقات کا  اُتار چڑھاو اور گرمی سردی یہ سب انسانی نفسیات اور  سماجی مزاج کا حصّہ ہے۔  مگر کچھ افراد نے تعلقات کے اِس اُتار چڑھاو  اور میرے ساتھ ذاتی رنجشوں کو مذہبی رنگ  دیا۔

 اس کا مجھے ہمیشہ افسوس رہے گا چونکہ انہوں نے  جسے مذہبی اختلاف کہا وہ ہمارے گھریلو مسائل تھے۔  انہوں نے دیہات و شہروں میں وفود بھیجے اور برادری کو یہ کہہ کر  میرے خلاف مشتعل کیا کہ چونکہ شیعہ کافر ہیں، اس لیے ہم نے اپنے حقیقی چچا، منشی صادق سے سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے۔ کوئی بھی فرد نہ اس کی خوشی میں شریک ہو اور نہ اسے اپنی خوشی میں شریک کرے۔

  یوں  ہجرت کے بعد مجھے سماجی تنہائی میں دھکیلنے کی کوشش کی گئی جس سے میرے اعصاب اور صحت پر منفی دباوٴ  پڑا ۔ ایک طرف میں اکیلا تھا اور دوسری طرف ان لوگوں نے  مسلسل مذہب کو بطور ہتھیار میرے خلاف استعمال کیا۔ رفتہ رفتہ  اس بائیکاٹ نے مجھے  جسمانی عوارض میں مبتلا کر دیا۔

میں جانتا تھا کہ یہ دباوٴ جتنا بھی زیادہ ہے اس کے باوجود کسی بھی طور  شعبِ ابیطالب ؑ سے تو زیادہ نہیں۔  چنانچہ  ایسے وقت میں مجھے اللہ کی یہ آیت سہارا دیتی رہی کہ   وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَةً ۗ أَتَصْبِرُونَ  (یعنی کہ  ہم نے تم میں سے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنایا، کیا تم صبر کرو گے؟) – سورۃ الفرقان، آیت 20۔ سو میرے ربّ کریم نے اپنے اس ابدی قانون کے تحت میری بھی آزمائش کی۔ مجھے اس پر فخر ہے اور میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں اس آزمائش میں ثابت قدم رہا۔

یہ تھا میرے تجدیدِ مذہب اور زندگی کے نشیب و فراز کا مختصر مگر سچا، ذاتی اور ایسا  ناقابلِ انکار خاکہ   کہ جس کے بارے میں  اکثر لوگ مجھ سے وقتاً فوقتاً  دریافت کرتے رہتے ہیں۔

منشی محمد صادق صاحب   یکم فروری 2018 ء   بروز جمعرات کو اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ التماسِ فاتحہ

 حرفِ آخر!

مذکورہ بالا تحریر کا مطالعہ کرنے والے قارئین کی خدمت میں ہم یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ زندگی محض سانس کی آمد و رفت کا نام نہیں بلکہ یہ ایک باطنی جہاد ہے، جہادِ فکر، جہادِ صداقت،  اور جہاد تبیینِ حق ۔ یہ تحریر ایک ایسے مسافرِ حق کا اعترافی بیانیہ ہے کہ جس نے موروثی عقیدے کے پہاڑ، تعصب کی دیوار، اور موروثی مذہب کے پردوں کو چاک کر کے، شعور و آگہی کی روشنی میں حق و سچ کو پہچانا۔ وہ حق و سچ جسے صدیوں سے  چھپایا  جاتا رہا، اسے اس مسافرِ تحقیق نے  نہ فقط تلاش کیا بلکہ اسے پرکھا اور قبول بھی کیا ۔ اس نے  حق و سچ کے  اعتراف  کیلئے  مشکلات کے زہر کا جام بھی پیا۔ یہ تحریر ہمارے قارئین کو ہمیشہ یہ یاد دلاتی رہے گی  کہ مذہب اگر تحقیق سے محروم ہو جائے تو تعصب بن جاتا ہے، اور ایمان اگر عقل سے خالی ہو تو اندھی تقلید کہلاتا ہے۔

آنلائن کاپی کیلئے کلک کریں


آئندہ قسط میں۔۔۔ ان شا اللہ 
محمد اشرف جعفری مرحوم
آپ مقبوضہ کشمیر میں پونچھ کے اندر مینڈر اڑی کے پیدائشی تھے ،۱۹۶۵ میں اپنے والد غلام حسین مرحوم اور اپنی والدہ کے ہمراہ  ہجرت کرکے آزاد کشمیر آئے اور ساردہ کالونی کوٹلی آزاد کشمیر میں مقیم ہوئے۔ آپ  کی والدہ تو جلد ہی جوانی میں فوت ہوگئی تھیں لیکن آپ کے والد محترم کے ساتھ آپ کی محبت اور دوستی ضرب المثل کی حیثیت رکھتی تھی۔۲۷مارچ ۲۰۱۰ کو آپ کے والد بزرگوار کا انتقال ہوا اور پانچ سال بعد ۲۳ دسمبر ۲۰۱۵ کو بروزہ بدھ آپ نے وفات پائی،اگلے روز جمعرات کو ۱۲ ربیع الاول کے مبارک دن آپ کی تدفین ہوئی۔﴿التماسِ فاتحہ﴾
ان کی تبدیلی مذہب کی تفصیل آئندہ۔۔۔

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...