زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

بدھ، 19 نومبر، 2025

جامعۃ الرضا ۔۔۔الوداع!

جامعۃ الرضا ۔۔۔الوداع!
بقلم کاشف رضا :
اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے مادرِ علمی سے جدائی  ناگزیر بھی ہے اور عقیدت  سے لبریز بھی۔مدرسے میں گزرے سالوں میں بے شمار یادگار لمحے آئے لیکن سب سے زیادہ اثر چھوڑنے والا لمحہ میری عمامہ پوشی کا  لمحہ تھا۔ اس دن ایک عجیب کیفیت طاری تھی۔ جب مجھے اس اعزاز کے لیے بلایا گیا تو دل پر ذمہ داری کا گہرا احساس اترنے لگا۔ آنکھوں میں آنسو آ گئے جنہیں روکنے کی میں نے بہت کوشش کی مگر یہ خوشی، عاجزی اور ذمہ داری کا ایسا امتزاج تھا کہ  میں ان لمحات کو بھلائے نہیں بھول سکتا۔ اس لمحے دل میں یہی دعا تھی کہ اللہ مجھے اس امانت کے قابل بنائے۔
میری دینی تعلیم کی طرف رغبت کا سب سے بنیادی سبب میرا گھرانہ ہے، جو شروع ہی سے ایک مذہبی ماحول کا حامل تھا۔ والد صاحب نے خود بھی کچھ عرصہ مدرسے میں تعلیم حاصل کی تھی اور ہمارے گھر میں مذہبی امور میں گہری دلچسپی پائی جاتی تھی۔ اسی ماحول نے میرے اندر دین سے وابستگی کا ابتدائی شعلہ روشن کیا۔خاندان میں اہلِ سنت عزیز بھی موجود تھے، جن کے ساتھ علمی بحث و مباحثہ ہوتا رہتا تھا۔ انہی علمی گفتگوؤں نے میرے اندر مطالعے اور مذہبی شعور کا شوق مزید بڑھایا۔
جب میں اپنے عزیزواقارب کے درمیان خود کو دوسروں کے مقابل دیکھتا ہوں تو واضح طور پر محسوس کرتا ہوں کہ دینی تعلیم نے میری سوچ، اخلاق اور طرزِ زندگی پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔ میں ہمیشہ سمجھتا ہوں کہ اگر بچے کو ابتدا ہی سے دین سے جوڑ دیا جائے تو اس کی شخصیت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوتی ہے۔
مدرسے کے دوران مجھے اپنے اساتذہ سے کتابی علم کے ساتھ ساتھ عملی اور روحانی تربیت بھی ملی۔علامہ حسنین عباس گردیزی صاحب سے  تقوی و تذکیۂ نفس،علامہ ثمر علی نقوی صاحب سے دشمن شناسی،ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب سے خطابت اور عملی میدان میں آگے بڑھنے کا حوصلہ،علامہ محمد حسین مبلغی صاحب سے دعا و مناجات اور قرآن کی تاثیر،علامہ حبیب الحسن صاحب سے نظم و ضبط،اصغر عسکری صاحب سے معاشرے کی پہچان اور مبلغ کا کردار،علامہ ساجد علی سبحانی صاحب سے دینی درس و تدریس  کی اہمیت،اور علامہ مزمل نقوی صاحب سے اخلاقیات اور آداب جیسی اقدار سیکھنے کا موقع ملا۔مولانا حبدار علی صاحب سے انسانی ہمدردی اور خدمتِ خلق  کا جذبہ سیکھا اور ڈاکٹر نذر حافی صاحب نے جدید دور میں علمِ دین  کی وسعت و گہرائی اور جامعۃ المصطفی کی اہمیّت سے آشنا کیا۔
یہ تمام اسباق، لمحات اور تجربات آج بھی میرے ساتھ ہیں اور میری زندگی کی سمت متعین کرتے ہیں۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد کا  سفر میرے لیے صرف تعلیم کا نہیں بلکہ تربیت، شعور، کردار سازی اور ذمہ داری کا سفر بھی تھااور آج تک ہے۔
خوش قسمتی سے مجھے اپنی  اپنی ابتدائی زندگی میں ہی روحانی ماحول ملا تھا۔ راولپنڈی کے علاقے شکریال میں مسجد القائم کے نام سے ایک شاندار دینی مرکز تھا، جہاں دعا و مناجات کا سلسلہ جاری رہتا تھا اور باقاعدہ دروس ہوتے تھے۔ انہی دروس میں علماء کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا، جس نے مجھے دینی تعلیم کی طرف اور بھی مائل کر دیا۔
کالج کے بعد زندگی کا سب سے مشکل مرحلہ یہ  آیا کہ  یہ فیصلہ کروں  کہ مدرسے جاؤں یا یونیورسٹی۔ تقریباً پورا ہفتہ ہر رات میں فیصلہ کرتا کہ صبح مدرسے جاؤں گا، لیکن صبح ہوتے ہی ذہن کسی اور طرف مائل ہو جاتا۔ مسلسل کشمکش کے بعد آخرکار میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ مجھے اسی راستے کا انتخاب کرنا ہے، اور یوں میں نے مدرسے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔
جب میں نے داخلہ لیا تو گھر والوں کا ردِعمل نہایت خوشگوار تھا۔ والد صاحب بچپن ہی سے کہا کرتے تھے کہ میرا یہ بیٹا ایک دن عالم بنے گا۔ چنانچہ میری اس راہ کے انتخاب نے اُنہیں حقیقی خوشی دی۔ سب میرے لیے دعاگو تھے کہ اللہ اس راستے میں مجھے کامیابی عطا فرمائے۔
دینی تعلیم کے اصل مقصد کے بارے میں میری سوچ یہ بنی کہ ایک عالم دین صرف اپنے عمل تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ معاشرے کی اصلاح، رہنمائی، اسلامی نظام کے فروغ اور فتنوں کے جواب تک کی ذمہ داریاں نبھاتا ہے۔ اس نے مجھے سکھایا کہ عالم دین ایک فرد نہیں بلکہ ایک ادارہ ہوتا ہے۔
مدرسے کے نصاب میں کئی مضامین نے میری سوچ کو جلا بخشی، مگر شیعہ شناسی، دین شناسی اور علومِ حدیث نے میری فکری دنیا کو سب سے زیادہ وسعت دی۔ ان مضامین نے نہ صرف مختلف مذاہب اور مسالک کو سمجھنے میں مدد کی بلکہ تبلیغ کے میدان میں بھی رہنمائی فراہم کی کہ لوگوں سے کس انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ آج کے دور میں مدارس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ خاص طور پر ماڈرن اکنامکس، میڈیا، کمیونیکیشن اور انجنیئرنگ سے متعلق بنیادی اصطلاحات سے واقفیت بہت ضروری ہے۔ نوجوان آج انہی زبانوں میں گفتگو کرتے ہیں، اور جب عالم دین جدید  دنیا اور نئی علمی اصطلاحات سے آگاہ ہو تو وہ معاشرتی مسائل کو بہتر انداز میں سمجھ سکتا ہے اور ان کا مناسب اور موثر حل بھی بتا سکتا ہے۔

 آپ کی پسند



0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...