ڈاکٹر نذر حافی : نسلِ نو دین اور عقیدے کو روایتی
انداز میں سمجھنے سے قاصر ہے۔ نئی نسل ایک ایسے ذہنی ماحول میں پرورش پا رہی ہے کہ
اُسے ہر چیز سسٹم، ڈیٹا اور ماڈل کی زبان میں سمجھ آتی ہے۔ اس تناظر میں آج کے
نوجوان عقائد کے ساتھ جذباتی وابستگی کو کافی نہیں سمجھتے۔ اُن کے نزدیک عقائد کو
حقیقی معنوں میں ایک مکمل ضابطہ حیات ہونا چاہیے۔ ایسی نسل کے ہاں ایک مسلمان ہونا
دراصل ایک ایسے تربیت یافتہ ماڈل کی مانند ہے جس کے بنیادی فیچرز میں نص کی
رہنمائی، علم، تقویٰ اور اخلاقی قابلیت شامل ہیں، جبکہ خوف، تعصب، افواہیں اور
بغیر تحقیق کے قیاس آرائیاں اس ماڈل کی ساکھ کو متاثر کر تی ہیں۔ عقیدہ دراصل کسی
بھی معاملے میں فیصلہ کرنے کا ایک منظم طریقہ ہوتا ہے، جس میں یہ طے کیا جاتا ہے
کہ کن اصولوں کو بنیاد بنایا جائے، کون سی معلومات معتبر سمجھی جائیں، کن عوامل کو
نظرانداز کیا جائے اور آخرکار نتیجہ کس منطق کے تحت اخذ ہونا چاہیے۔اسے آپ فیصلہ
سازی کا اصولی فریم ورک بھی کہہ سکتے ہیں۔
یہ طریقۂ کار جذبات، وقتی دباؤ یا سنی سنائی باتوں سے نہیں بلکہ اصول، علم، اقدار اور حالات کے شعوری تجزیے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ نئی نسل چونکہ سسٹمز، ڈیٹا اور ماڈلز کی زبان میں سوچتی ہے، اس لیے وہ عقائد کو بھی اسی زاویے سے سمجھنا چاہتی ہے کہ یہ عملی زندگی میں فیصلے کرنے میں کس طرح رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ عقیدے کی اہمیّت کو اگر ایک سادہ سی دنیاوی مثال سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو فرض کریں کہ ایک نوجوان کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کس شعبے میں اپنا کیریئر بنائے؟۔
اگر وہ فیصلہ سازی کے کسی اصولی فریم ورک کے
بغیر کوئی فیصلہ کرنے لگے تو اُسے عموماً دوستوں کی رائے، سوشل میڈیا کے رجحانات،
خاندانی دباؤ یا وقتی جذبات کے تحتِ تاثیر کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا، جس کا نتیجہ
اکثر الجھن یا بعد میں پچھتاوے کی صورت میں نکلے گا۔ اس کے برعکس اگر وہ ایک اصولی
فریم ورک کے تحت فیصلہ کرنے کیلئے سوچےگا تو سب سے پہلے کچھ غیر متبدل اصول سامنے
رکھے گا، جیسے حلال ذریعۂ معاش، اپنی صلاحیت اور دلچسپی، نیز مستقبل میں اس شعبے
کی پائیداری۔ اس کے بعد وہ متعلقہ ڈیٹا اور معلومات اکٹھی کرے گا، مثلاً مارکیٹ کی
ضرورت، مطلوبہ مہارتیں اور دستیاب وسائل۔ پھر ایک اخلاقی فلٹر استعمال کرے گا کہ
آیا یہ کام اُسے یا کسی اور کو نقصان تو نہیں پہنچاتا اور کیا یہ سب اسے ایک بہتر
ین و مفید انسان بنا پائے گا۔ ایک اصولی فریم ورک ﴿عقیدے﴾ سے گزر کر جو نتیجہ نکلے
گا وہ جذباتی ہونے کے بجائے اصولی اور منطقی فیصلہ ہوگا۔
عقائد انسان کو یہ سکھاتے ہیں کہ یہ فیصلہ کیسے
اور کن دلائل سے کرنا ہے کہ اپنی زندگی میں کیا ماننا ہے اور کیا نہیں۔ اس فریم
ورک ﴿عقائد﴾کی پہلی سطح وہ غیر متبدل اصول ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے، جیسے قرآن،
توحید، ختم نبوّت ﷺ وغیرہ۔ یہ اس اسلام کے بنیادی قواعد اور عقائدہیں جو ہر حال
میں رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔ عقائد کی دوسری سطح وہ ہے جہاں بنیادی اصولوں﴿عقائد﴾
کی حدود کے اندر رہتے ہوئے حالات کے مطابق انسانی عقل، مشاورت اور اجتہاد سے کام
لیا جاتا ہے۔ جیسے نئے مسائل سے نمٹنا ، بدلتے ہوئے سماجی حالات اور نئی ٹیکنالوجی
سے استفادہ وغیرہ۔ اب اسی عقائد کے فریم ورک میں شیعہ اور اہل سنت کے تصورِ قیادت
کو سمجھا جائے تو معاملہ زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔
شیعہ اثنا عشری فکر میں قیادت کا بنیادی فیصلہ
نص کے ذریعے طے ہوتا ہے اور انسانی رائے اس میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ نص سے مراد
سب سے پہلے قرآنِ مجید، جو اللہ کا قطعی اور محفوظ کلام ہے۔ یہ دین کے بنیادی
عقائد، اخلاقی اصول اور عمومی ہدایات فراہم کرتا ہے اور اسے اسلامی فکر میں سب سے
اعلیٰ اور غیر متبدل ماخذ سمجھا جاتا ہے۔ دوسری چیز سنتِ نبوی ﷺ ہے، یعنی نبی ﷺ کے
فرامین، اعمال اور عملی نمونہ، جو قرآن کی تشریح اور اس کی عملی صورت پیش کرتا ہے۔
جہاں قرآن اصول دیتا ہے وہاں سنت ان اصولوں کو زندگی میں نافذ کرنے کا طریقہ
سکھاتی ہے۔تیسری چیز بعض اوقات حدیثِ صحیح کو نص کے دائرے میں اس حد تک شامل کیا
جاتا ہے جہاں اس کا مفہوم واضح ہو اور اس میں تاویل یا متعدد احتمالات کی گنجائش
نہ ہو۔ ایسی حدیث کو بھی فیصلہ سازی میں مضبوط بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اس زاویے سے
شیعہ اثنا عشری یہ ایک ایسا نظام ہے جس کے مرکزی اصول اور اختیار پہلے سے متعین
اور محفوظ ہیں۔
دوسری طرف اہل سنت کے ہاں بھی بنیادی اخلاقی اور
فکری رہنمائی نص سے حاصل ہوتی ہے، لیکن اُن کے نزدیک اُمّت کی قیادت کے انتخاب میں
نص کے بجائے امت کی مشاورت اور اجتماعی رائے کو فوقیّت حاصل ہے۔ یوں اہل سنت کے
ہاں بھی نص بطورِ عقیدہ ثابت ہے مگر اِن پُٹ کے طور پر نصوص کے علاو عملی فیصلے
حالات کے مطابق بھی کیے جاتے ہیں۔
اس طرح قدیم دنیا سے لے کر جدید دنیا تک اے آئی
کی دنیا میں سُنّی و شیعہ عقائد کو بیان کرنے یا سمجھنے سمجھانے میں کوئی مسئلہ
نہیں ، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب عقائد کے فریم ورک میں تعصب کا عُنصرداخل ہو
جائے۔ تعصب کی وجہ سے عقائد کے نام پر دلائل کی جگہ افواہیں، خوف اور پروپیگنڈے کو
فروغ ملتا ہے۔ اگر یہ تعصّب زیادہ ہو جائے تو بہترین عقائد پر قائم نظام بھی غلط
نتائج دے سکتا ہے۔
مثال کے طور پر اگر کسی شخص کے بارے میں بغیر
تحقیق کے یہ طے کر لیا جائے کہ وہ صرف اپنے فرقے یا پس منظر کی وجہ سے غلط ہے تو
یہ فیصلہ نہ نص پر مبنی ہوگا اور نہ عقل پر۔ اسی طرح روزمرہ دینی معاملات میں بھی
اگر قرآن، نبی ﷺ کے اخلاق اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو نتیجہ
نفرت کے بجائے فہم اور برداشت کی صورت میں نکلتا ہے۔ نئی نسل کے لیے اصل سبق یہی
ہے کہ اپنے عقائد کو موروثی طور پر اپنانے کے بجائے اُنہیں ایک فریم ورک کے طور پر
سمجھا جائے۔ عقائد کو موروثی طور پر قبول کرنے اور ماننے سے پہلے سمجھنا، اُنہیں
رد کرنے سے پہلے تحقیق کرنا اور کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے عقائد کو پرکھنا ہی وہ
طریقہ ہے جو انبیا نے انسان کو سکھایا ہے۔
یہی انداز فکر انسان کو سچائی اور انصاف کی سمت
لے جاتا ہے۔ نئی نسل اس پر توجہ رکھے کہ دنیا کا ہر مؤثر نظام، چاہے وہ مصنوعی
ذہانت ہو یا انسانی معاشرہ، وہ دو سطحوں پر کام کرتا ہے۔ اُس کے پاس کچھ
اصول﴿عقائد﴾ ایسے ہوتے ہیں جو تبدیل نہیں ہوتے اور کچھ فیصلے حالات کے مطابق کیے
جاتے ہیں۔ اسلامی فکر میں قیادت اور عقیدہ بھی اسی اصول پر قائم ہیں۔ کچھ چیزیں نص
کی صورت میں بنیادی اور غیر متبدل رہنمائی فراہم کرتی ہیں اور کچھ امور انسانی
عقل، مشاورت اور اجماع کے ذریعے آگے بڑھتے ہیں۔
اسی فریم ورک میں شیعہ اور اہل سنت کے تصورِ
قیادت کو سمجھا جائے تو اختلاف اپنی شدت کھو دیتا ہے اور ایک منظم فکری فرق کی
صورت میں منسجم ہو جاتا ہے۔ شیعہ اثنا عشری فکر کے مطابق امامت ایک ایسا منصب ہے
جو براہِ راست الٰہی ہدایت اور نبی ﷺ کی نص سے طے ہوتا ہے۔یعنی اُن کے ہاں امام کا
انتخاب انسانی رائے یا لوگوں کے اجتماعی دباؤ کے بجائے اللہ اور رسول ﷺ کی طرف سے
ہوتا ہے ۔
اس نص کے ساتھ علم، تقویٰ اور اخلاقی بلندی امام
کے لازمی اوصاف ہیں تاکہ قیادت صرف منصب نہ رہے بلکہ فکری اور اخلاقی رہنمائی بھی
بنے۔ جدید زبان میں کہا جائے تو شیعہ اثنا عشری حضرات عقائد کے مطابق امامت و
قیادت ایک ایسا نظام ہے جو انسانی ان پٹ سے تبدیل نہیں ہوتا ۔ دوسری طرف اہل سنت
کے نزدیک خلافت امت کی اجتماعی ذمہ داری ہے اور خلیفہ کا انتخاب براہِ راست کسی
مخصوص نص کے ذریعے نہیں بلکہ امت کی رائے، مشاورت اور اجماع کے ذریعے ہوتا ہے۔
خلفائے راشدین کا انتخاب اس کی عملی مثال ہے، جہاں
نص کے بغیر قیادت کو معیّن کیا گیا۔ اس نظام میں بھی نص کی حیثیت ختم نہیں ہوتی
البتہ انسانی اِن پُٹ کو نص کے مقابل اہمیت دی گئی ہے۔ جب ہم عقائد کی جگہ تعصب سے
کام لینے لگتے ہیں تو پھر دلائل کے بجائے الزامات پر بحث ہونے لگتی ہے۔ جیسے اہلِ
تشیع کی جنم بھومی اور ان کا مرکز و محور ایران کو قرار دے دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ
شیعہ کے تمام آئمہ عرب، قریشی اور ہاشمی تھے اور عرب معاشرے کے مرکز سے تعلق رکھتے
تھے۔ اس کے برعکس اہل سنت کے بڑے علما میں ایرانی اور فارسی النسل شخصیات کی بڑی
تعداد موجود ہے۔ اہلِ تشیع کے ہاں نص کے بغیر کوئی عقیدہ بنا لینا ایسا ہے جیسے
بغیر تصدیق کئے اور فیکٹ چیکنگ کے بغیر خام ڈیٹا پر فیصلہ سازی کر دینا۔ تلاوتِ
قرآن اور نماز و روزہ اپنی جگہ عظیم عبادات ہیں، مگر یہ قیادت کا معیار یا خلافت
کی کسوٹی نہیں۔ اہلِ تشیع کے نزدیک اسلام صرف کتابِ خدا اور سُنّتِ مصطفیٰ ﷺ کے
ساتھ مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے، تاکہ انسان ہر معاملے میں درست فیصلہ کر سکے۔
نبی ﷺ نے دین کو محض عبادات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ حکمت اور دلیل کے الگورتھمز سے اسے سنوارا، عملی تدابیر کے loop کے ذریعے عام کیا، اور فیصلہ سازی کے ہر مقام پر عمی و فکری رہنمائی مہیا کی۔ اسی لیے اہلِ تشیع کے فریم ورک میں عقائد اور مواقف کو قرآن و سُنّت کے فلٹر سے گزارنا ضروری ہے، تاکہ سچ واضح ہو اور غلط فہمیاں ختم ہوں۔ AI کے دور میں نئی نسل کے لیے سبق یہی ہے کہ عقائد پر مکالمہ کسی کو نیچا دکھانے کے بجائے حقائق کی validation یعنی تصدیق اور حقیقت کی تلاش کے logical process کے ذریعے ہونی چاہیے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں