زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

ہفتہ، 10 جنوری، 2026

امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل اسٹریٹیجی Regime Change

امریکی رجیم چینج پالیسی کے مقابل  اسٹریٹیجی

 ڈاکٹر نذر حافی

بغیر ایک گولی چلائے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کر لیا گیا۔ وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کوکچھ نے حیرت سے اور کچھ نے  عبرت کے طور پر دیکھا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ  امریکہ کی عالمی حکمت عملی میں رجیم چینج ایک مستقل ہتھیار ہے۔ اس وقت  ایران،چین،روس،عراق،مشرق وسطیٰ،شمالی کوریا،اس کے علاوہ، افریقہ کے کئی ممالک جیسے صومالیہ، سوڈان، نائجر، برونڈی، ایریٹیریا اور دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی امریکہ کے تعلقات میں سفارتی اختلافات، پابندیاں، اور سلامتی کے ایشوز  کھڑے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ حالیہ دنوں میں گرین لینڈ-ڈنمارک اورامریکہ کے تعلقات میں ایک غیر معمولی کشیدگی اور شدید سفارتی تناؤ چل رہا ہے۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اِن دِنوں  میں چند بار کھل کر کہا ہے کہ امریکہ کو گرین لینڈ اپنے ساتھ  "ملانے" کی ضرورت ہے۔ گرین لینڈ میں نایاب معدنیات ہیں  اور یہ  آڑیک کے راستوں پر کنٹرول کا بہترین مقام ہے ۔ لہذا  امریکی صدر نے یہ بھی کہا ہے کہ گرین لینڈ پر قبضہ  اگر آسان طریقہ سے  ممکن نہ ہوا تو  مشکل طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے امریکہ کی ماضی قریب کی تاریخ کے چند رجیم چینج آپریشنز پر بھی ایک نظر ڈالئے۔ ایران میں 1953 میں منتخب وزیر اعظم محمد مصدق کو ہٹا کر شاہ محمد رضا پہلوی کو بحال کیا گیا، جس میں CIA اور برطانوی خفیہ ادارے MI6 کی مشترکہ کارروائی نے واضح کردار ادا کیا۔ اسی طرح 1954 میں گواٹے مالا میں خاویر أربنز کو امریکہ کی حمایت یافتہ فوجی بغاوت کے ذریعے برطرف کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک طویل فوجی حکومت قائم ہوئی۔ چلی میں 1973 میں صدر سلیم آلینڈ کی حکومت کو فوجی بغاوت کے ذریعے ہٹایا گیا اور جنرل آگوستو پینوشے کا اقتدار قائم ہوا، جبکہ کانگو میں 1960 کی دہائی میں وزیر اعظم پاتریس لومومبا کی برطرفی اور قتل امریکہ کی مداخلت کا حصہ تھی۔ ویتنام میں جنوبی ویتنام کی حکومتوں کو امریکی حمایت یافتہ بغاوتوں اور فوجی مداخلتوں کے ذریعے کمزور کیا گیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد کی جانیں ضائع ہوئیں اور ایک طویل خانہ جنگی شروع ہوئی۔ ہاؤتی میں امریکہ کی مداخلت کے ذریعے منتخب حکومتوں کی تبدیلی اور فوجی دباؤ معمول رہا، جبکہ عراق میں 2003 میں صدام حسین کو ہٹا کر ملک میں سیاسی انتشار اور دہشت گردی کے پھیلاؤ کا راستہ کھولا گیا۔

 لیبیا میں 2011 میں معمر قذافی کا تختہ الٹا گیا، جس میں NATO بمباری اور امریکہ کی حمایت یافتہ باغیوں کی شمولیت نے ملک کو خانہ جنگی اور انسانی بحران میں دھکیل دیا۔ شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف امریکی حمایت یافتہ باغیوں اور دہشت گرد گروہوں کے ذریعے جاری مداخلت نے خانہ جنگی کو طول دیا اور انسانی حقوق کے بحران کو بڑھایا۔

وینزویلا میں 2002 میں صدر ہگو چاویز کے خلاف فوجی بغاوت کی امریکی حمایت ایک اور مثال ہے، جہاں اقتدار کی عارضی تبدیلی کی کوشش کی گئی۔ اور حالیہ برسوں میں پاکستان میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے مبینہ طور پر امریکی اثر و رسوخ، سفارتی دباؤ، سیاسی اور میڈیا مہمات استعمال کی گئیں، جس کے نتیجے میں منتخب حکومت برطرف ہوئی ۔ ایسے واقعات اس سچ کو بے نقاب کرتے ہیں کہ ریاستیں اس دن کمزور نہیں ہوتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس دن ٹوٹتی ہیں جب دشمن کو حملے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ ایران میں بار بار ہنگامہ آرائیاں اور  ہنگاموں میں ٹرمپ انتظامیہ کی براہِ راست مداخلت اور بلوائیوں کی حوصلہ افزائی یہ سب  رجیم چینج آپریشن کا حصّہ  ہے ،اس آپریشن کی ہر بار ناکامی امریکہ کیلئے یہ پیغام ہے کہ   ہر روز ایران ماضی کی نسبت مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔

دوسری طرف  امریکہ کے اندر داخلی سطح پر پناہ گزینوں، سرخ فاموں، سیاہ فاموں، زرد فاموں، غرباء اور قیدیوں کے حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں، جیلخانوں کی غیر انسانی اور دگرگون حالت، فوجداری قوانین کی خامیاں، اور ملزموں پر پولیس کے غیر قانونی تشدد کے مظاہر بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔۔۔تو اب یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ کیا امریکہ دن بدن طاقتور ہو رہا ہے یا کمزور؟ اب تو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا دنیا کے  دیگر ممالک کے پاس امریکہ کی رجیم چینج حکمت عملی کو سمجھنے والا  کوئی قاسم سلیمانی موجود ہے یا نہیں؟ شہید سلیمانی کا فن جنگ جیتنا نہیں بلکہ جنگ کو دشمن کے دروازے پر ہی روکنا تھا۔ انہوں نے  امریکہ سے دفاع کیلئے ایران کے گرد ایسا علاقائی اتحاد وجود میں لایا کہ امریکہ کیلئے ہر ممکنہ مداخلت ایک نہیں، کئی محاذ کھولنے کے مترادف تھی۔

 عراق میں عوامی اتحاد، شام میں مقاومت کی موجودگی، لبنان میں حزب اللہ کا توازن اور یمن میں اصولی موقف ۔۔۔یہ سب عسکری فتوحات نہیں بلکہ عسکری انشورنس تھیں۔ ان کے ہوتے ہوئے امریکہ کیلئے ایران میں کسی گرفتاری کی کوشش، کسی رجیم چینج یا کسی براہِ راست مداخلت کا مطلب فوری انتقام تھا ۔ یہی فرق ہے ایران اور وینزویلا میں۔ وینزویلا کے پاس تیل اور دیگر معدنی وسائل تو ہیں مگر ایک قاسم سلیمانی نہیں، معدنیات ہیں مگر سوچ نہیں، جغرافیہ ہے مگر حکمتِ عملی نہیں۔ چنانچہ اس کی دولت نے اسے طاقتور بنانے کے بجائے دشمن کیلئے لقمہ بنا دیا ہے۔ وینزویلا کی جغرافیائی حیثیت، کیریبین کا ساحل، پاناما نہر کی قربت اور امریکی منڈیوں سے نزدیکی، اسے عالمی توانائی کا مرکز بنا سکتی تھی لیکن قاسم سلیمانی جیسی بصیرت نہ ہونے کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔

 وینزویلا کا تیل، گیس، سونا اور معدنیات محض نام کی حد تک فائدہ مند ہیں، اگر انہیں قومی استعمال میں لانے اور عوام کیلئے مفید بنانے والا کوئی دماغ موجود ہوتا تو وینزویلا خود ایک بڑی طاقت بن چکا ہوتا ۔ ایک اچھی پلاننگ کی کمی کے سبب وسائل کی فراوانی کے باوجود وینزویلا امریکہ کی گرفت میں آ گیا، جبکہ پابندیوں کے باوجود ایران ناقابلِ گرفت رہا۔

رجیم چینج جیسے واقعات ہر اُس ریاست کے لیے وارننگ ہیں جو یہ سمجھتی ہے کہ قدرتی وسائل اور عسکری ہتھیاروں سے کسی ریاست کا دفاع کیا جا سکتا ہے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اصل طاقت وہ ہتھیار نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں بلکہ وہ قیمتی دماغ ہوتے ہیں جو دشمن کو اُلجھائے رکھتے ہیں۔ جہاں دشمن کو اُلجھانے والے دماغ ختم ہو جائیں ، وہاں دشمن کو ایک گولی چلانے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس وقت  دنیا میں ہر جگہ جنگ گولی کی نہیں دماغ کی ہے۔لہذا دنیا میں ہر جگہ ضرورت بھی گولی کی نہیں قاسم سلیمانی جیسے دماغوں کی ہے۔ یہ وقت کی پکار بھی ہے اور دنیا کی ضرورت بھی کہ ہتھیاروں سے زیادہ قاسم سلیمانی جیسے دماغ پیدا کرنے پر توجہ دیجئے۔

آپ کی پسند 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...