زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

پیر، 2 مارچ، 2026

شہید سید رضی حیدر سے ایک ملاقات

شہید سید رضی حیدر سے ایک ملاقات
چکوال سے ملک توقیر عباس کی ڈائری
چکوال سے مجھے ایک دوست کی کال آئی کہ آپ کے پاس آئی ایس او کے دو نوجوان بطورِ مہمان آ رہے ہیں۔مغرب کی اذان میں چند ہی منٹ باقی تھے۔ دو نوجوان اپنے وطن سے کئی سو کلومیٹر دور ایک اجنبی پہاڑی علاقے کے گاؤں میں سڑک پر اجنبیوں کی طرح کھڑے تھے۔انہیں کال پر یہ امید دلائی گئی تھی کہ جلد ہی گاؤں کا ایک بزرگ آپ سے ملنے آئے گا۔پھر بھی ان لڑکوں کو یقین نہیں تھا کہ آنے والا بزرگ کون اور کیسا ہوگا؟کیا وہ ان کی قدر کرے گا یا رسمی سلام دعا کے بعد واپس رخصت کر دے گا؟یقیناً وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ہمیں رات کی اس تاریکی میں اس دور دراز علاقے سے واپس جانا پڑا تو گاڑی بھی گاؤں سے رات کو نہیں ملتی، ہم کیسے جائیں گے؟جب میں ان کے سامنے پہنچا تو شاید وہ مزید پریشان ہوئے ہوں گے کہ آنے والا بزرگ تو ایک ٹانگ سے درست چل بھی نہیں سکتا۔
سڑک پر ہی میری دکان تھی۔ میں نے شٹر کھولا اور فوراً سارا معاملہ بھانپ لیا کہ شام، پردیس اور اجنبیت نے ان کے چہروں پر پریشانی طاری کر رکھی ہے۔مگر شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان سے ملنے والا بزرگ ان کی توقع سے زیادہ قدردان ہوگا۔نوجوان فیڈبیک لینے کی جلدی میں تھے کہ اگر واپس ہی جانا پڑا تو وقت ضائع نہ ہو۔ مگر میں نے ان کے اضطراب کو کم کرنے کی پوری کوشش کی۔حالانکہ میں نے واضح الفاظ میں انہیں یقین دلایا کہ پریشان نہ ہوں، پھر بھی میرے اندر کا پیغام ان تک پہنچنے میں کچھ وقت لگا۔
تعارف پر معلوم ہوا کہ ایک کا نام عقیل حیدر اور دوسرے کا نام سید رضی حیدر نقوی ہے، اور یہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن ہیں۔اب یہ میرے لیے محض لڑکے نہیں رہے تھے۔ میرے دل نے ان کے دلکش نام محفوظ کر لیے تھے۔تھوڑا ہی وقت لگا کہ وہ بھی مجھے پہچان گئے، اور اچانک اجنبیت نے انس، محبت اور اپنائیت کی شال اوڑھ لی۔
میری آئی ایس او اور امامینز سے میل ملاقات کئی دہائیوں سے رہی ہے، مگر سید رضی جیسا دھیما لہجہ شاید ہی پہلے سنا ہو۔اذان ہو گئی۔ عزیزان امامِ جماعت کے ساتھ مسجد چلے گئے۔میں گاؤں کی رات کے پیشِ نظر ان کے طعام و قیام کے بندوبست میں مصروف ہو گیا، پھر نماز میں جا ملا۔اتفاق سے مسجد میں نیاز ملی۔ مومنین نے سید رضی اور عقیل حیدر سے حال احوال کیا۔پھر وہ میرے گھر آئے۔ سردی کافی تھی۔ میں نے ہمسائے سے ہیٹر مانگا، مگر سید رضی بار بار اصرار کرتے رہے:"آغا، رہنے دیں۔"مجھے محسوس ہوا شاید وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کہیں ان کی وجہ سے میرا بجلی کا بل زیادہ نہ ہو جائے۔
کھانے کے بعد کچھ دیر تنظیمی امور پر بات ہوئی۔ میں نے بتایا کہ تیس سال پہلے قائدِ شہید کے لیے چند سطریں لکھی تھیں، شاید کچھ یاد ہوں۔سید نے کہا: "سنائیں۔"
میں نے جو یاد تھا سنایا:
قسمِ خدا کی اے عارف! چین سے ہم سوتے نہیں
وہ محفل اب بھاتی نہیں جس محفل میں آپ ہوتے نہیں
سوگوار ہیں ہم، پر عزم ارادے وہی ہیں
تیری قبر پہ آ کے روتے ہیں، دشمن کے سامنے روتے نہیں
جب تاجِ شہادت سج گیا، جب رسمِ شہادت ہو چکی
طاغوت کا زلزلہ تھم گیا ہے، قرآن کے آنسو تھمتے نہیں
توقیر صد حسرتیں لیے آتا ہے تیری قبر پہ
شاید آپ اکثر نجف چلے جاتے ہو
قبر میں آپ ہوتے نہیں
سید رضی خاموش ہو گئے۔
کچھ سوچ کر بولے:
"آغا جی، ایک بار پھر سنا سکتے ہیں؟"میں نے جائے نماز اور پانی رکھا۔سید رضی نے قبلہ کی سمت پوچھی، پھر میں اپنے کمرے میں چلا گیا۔فجر کے لیے میں کچھ دیر سے جاگا۔ نماز کے بعد جب مہمان خانے میں گیا تو دونوں عزیز رضائی اوڑھے ڈائری لکھنے میں مصروف تھے۔ان کی اگلی منزل مسجد جمکران، چکوال تھی، جہاں میری ایک عزیزہ معلمہ تھیں۔ میں نے رابطہ کر کے انہیں موٹر سائیکل پر بٹھایا اور مین اسٹاپ کی طرف چل پڑا جو سات کلومیٹر دور تھا۔
راستے میں جب سید رضی کو اندازہ ہوا کہ میں خاص طور پر انہیں چھوڑنے جا رہا ہوں تو سختی سے بولے:"آغا، ہمارے لیے اتنی زحمت نہ اٹھائیں، ہمیں یہیں اتار دیں۔"اصرار کر کے جب میں نے انہیں گاڑی میں بٹھایا تو کہنے لگے:"انکل، جن خالہ نے ہمارے لیے کھانا بنایا، ان کا شکریہ ضرور کہنا۔"
شام کو سید کا پیغام آیا:"انکل، مسجد جمکران والوں نے ضرورت سے زیادہ میزبانی کی۔ پلیز ان سے کہہ دیجیے گا کہ اگر پھر اتفاق ہو تو ایسا نہ کریں۔ ہم پورا دن نہ کھانے کے عادی ہیں۔ آسائشیں ہمارے مقصد میں حائل ہوتی ہیں۔"
مختصر یہ کہ میں ان سے بہت متاثر ہوا۔ دل میں خوشی بھی تھی کہ برسوں بعد تنظیم کو راہ پر چلانے کی کوشش کرنے والے دو بااخلاص نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔کچھ دن بعد سید کو پیغام کیا، جواب نہ آیا۔گزشتہ جمعرات کو ان کی آواز سنی — بڑا عرصہ بعد وہی دھیما لہجہ۔
مگر کیا خبر تھی کہ آخری بار سن رہا ہوں۔کل بیٹے نے چکوال ریلی سے واپسی پر بتایا:"ابو، وہ دوست جو آپ کی غیر موجودگی میں ہمارے گھر مہمان آئے تھے، ان میں سے ایک اسلام آباد ریلی میں شہید ہو گئے۔"وہ انہیں "دوست" کہہ رہا تھا، شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ بابا سید رضی اور سید رضی جیسے بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہے۔

ملک توقیر عباس



نوٹ : رضی حیدر شہید ، آئی ایس او بٹل یونٹ ہجیرہ آزاد کشمیر کے سابق یونٹ صدر تھے۔  بعد ازاں اسسٹنٹ چیف سکاوٹ بھی بنے اور   آئی ایس او پاکستان اپر پنجاب ریجن کے فنانس سیکرٹری کے طور پر اپنی زمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے اپنے رہبر پر قربان ہو گئے۔ یہی تو وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ رہبر ِ معظم پر  ہماری جان بھی قربان ہے۔

تاریخ شہادت: 1/3/26 بمطابق 11/9/1447

11 رمضان المبارک  بعد از نماز ظہرین  بمقام   اسلام آباد 


آپ کی پسند 

0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...