شہید سید رضی حیدر سے ایک ملاقات
چکوال سے ملک توقیر عباس کی
ڈائری
چکوال سے مجھے ایک دوست کی کال آئی
کہ آپ کے پاس آئی ایس او کے دو نوجوان بطورِ مہمان آ رہے ہیں۔مغرب کی اذان میں چند
ہی منٹ باقی تھے۔ دو نوجوان اپنے وطن سے کئی سو کلومیٹر دور ایک اجنبی پہاڑی علاقے
کے گاؤں میں سڑک پر اجنبیوں کی طرح کھڑے تھے۔انہیں کال پر یہ امید دلائی گئی تھی
کہ جلد ہی گاؤں کا ایک بزرگ آپ سے ملنے آئے گا۔پھر بھی ان لڑکوں کو یقین نہیں تھا
کہ آنے والا بزرگ کون اور کیسا ہوگا؟کیا وہ ان کی قدر کرے گا یا رسمی سلام دعا کے
بعد واپس رخصت کر دے گا؟یقیناً وہ سوچ رہے ہوں گے کہ اگر ہمیں رات کی اس تاریکی میں اس
دور دراز علاقے سے واپس جانا پڑا تو گاڑی بھی گاؤں سے رات کو نہیں ملتی، ہم کیسے
جائیں گے؟جب میں ان کے سامنے پہنچا تو شاید وہ مزید پریشان ہوئے ہوں گے کہ آنے
والا بزرگ تو ایک ٹانگ سے درست چل بھی نہیں سکتا۔سڑک پر ہی میری دکان تھی۔ میں نے شٹر کھولا اور فوراً سارا معاملہ بھانپ لیا کہ شام، پردیس اور اجنبیت نے ان کے چہروں پر پریشانی طاری کر رکھی ہے۔مگر شاید انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان سے ملنے والا بزرگ ان کی توقع سے زیادہ قدردان ہوگا۔نوجوان فیڈبیک لینے کی جلدی میں تھے کہ اگر واپس ہی جانا پڑا تو وقت ضائع نہ ہو۔ مگر میں نے ان کے اضطراب کو کم کرنے کی پوری کوشش کی۔حالانکہ میں نے واضح الفاظ میں انہیں یقین دلایا کہ پریشان نہ ہوں، پھر بھی میرے اندر کا پیغام ان تک پہنچنے میں کچھ وقت لگا۔
تعارف پر معلوم ہوا کہ ایک کا نام عقیل حیدر اور دوسرے کا نام سید رضی حیدر نقوی ہے، اور یہ امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کارکن ہیں۔اب یہ میرے لیے محض لڑکے نہیں رہے تھے۔ میرے دل نے ان کے دلکش نام محفوظ کر لیے تھے۔تھوڑا ہی وقت لگا کہ وہ بھی مجھے پہچان گئے، اور اچانک اجنبیت نے انس، محبت اور اپنائیت کی شال اوڑھ لی۔
میری آئی ایس او اور امامینز سے میل ملاقات کئی دہائیوں سے رہی ہے، مگر سید رضی جیسا دھیما لہجہ شاید ہی پہلے سنا ہو۔اذان ہو گئی۔ عزیزان امامِ جماعت کے ساتھ مسجد چلے گئے۔میں گاؤں کی رات کے پیشِ نظر ان کے طعام و قیام کے بندوبست میں مصروف ہو گیا، پھر نماز میں جا ملا۔اتفاق سے مسجد میں نیاز ملی۔ مومنین نے سید رضی اور عقیل حیدر سے حال احوال کیا۔پھر وہ میرے گھر آئے۔ سردی کافی تھی۔ میں نے ہمسائے سے ہیٹر مانگا، مگر سید رضی بار بار اصرار کرتے رہے:"آغا، رہنے دیں۔"مجھے محسوس ہوا شاید وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کہیں ان کی وجہ سے میرا بجلی کا بل زیادہ نہ ہو جائے۔
کھانے کے بعد کچھ دیر تنظیمی امور پر بات ہوئی۔ میں نے بتایا کہ تیس سال پہلے قائدِ شہید کے لیے چند سطریں لکھی تھیں، شاید کچھ یاد ہوں۔سید نے کہا: "سنائیں۔"
وہ محفل اب بھاتی نہیں جس محفل میں آپ ہوتے نہیں
سوگوار ہیں ہم، پر عزم ارادے وہی ہیں
تیری قبر پہ آ کے روتے ہیں، دشمن کے سامنے روتے نہیں
جب تاجِ شہادت سج گیا، جب رسمِ شہادت ہو چکی
طاغوت کا زلزلہ تھم گیا ہے، قرآن کے آنسو تھمتے نہیں
توقیر صد حسرتیں لیے آتا ہے تیری قبر پہ
شاید آپ اکثر نجف چلے جاتے ہو
قبر میں آپ ہوتے نہیں
سید رضی خاموش ہو گئے۔
کچھ سوچ کر بولے:
راستے میں جب سید رضی کو اندازہ ہوا کہ میں خاص طور پر انہیں چھوڑنے جا رہا ہوں تو سختی سے بولے:"آغا، ہمارے لیے اتنی زحمت نہ اٹھائیں، ہمیں یہیں اتار دیں۔"اصرار کر کے جب میں نے انہیں گاڑی میں بٹھایا تو کہنے لگے:"انکل، جن خالہ نے ہمارے لیے کھانا بنایا، ان کا شکریہ ضرور کہنا۔"
مگر کیا خبر تھی کہ آخری بار سن رہا ہوں۔کل بیٹے نے چکوال ریلی سے واپسی پر بتایا:"ابو، وہ دوست جو آپ کی غیر موجودگی میں ہمارے گھر مہمان آئے تھے، ان میں سے ایک اسلام آباد ریلی میں شہید ہو گئے۔"وہ انہیں "دوست" کہہ رہا تھا، شاید اسے اندازہ نہیں تھا کہ بابا سید رضی اور سید رضی جیسے بیٹوں کو سلام پیش کرتا ہے۔
| ملک توقیر عباس |
تاریخ شہادت: 1/3/26 بمطابق 11/9/1447
11 رمضان المبارک بعد از نماز ظہرین بمقام اسلام آباد
آپ کی پسند







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں