بسم اللہ الرحمن الرحیم
🏴
شہید رہبر سید علی حسینی
خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اب کس کی تقلید کریں 🏴
خلاصہ: ہماری تحقیق کے
مطابق آیت اللہ العظمی شہید بزرگوار نائب
برحق امام زمان علیہ السلام کی شہادت کے بعد ان کے مقلدین مراجع کرام کے فتاویٰ کے
مطابق حضرت آقا کی تقلید پر باقی رہ سکتے
ہیں حتیٰ جن مسائل پر ان کی زندگی میں عمل کیا تھا یا نہیں ، ان میں بھی ان کے
فتاویٰ پر عمل کر سکتے ہیں ۔ صرف نئے مسائل میں زندہ مجتہد کی طرف رجوع کیا جائے ۔
تفصیل:آیت اللہ العظمیٰ امام شہید سید علی حسینی خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین کیلئے مراجعِ عظام کے جوابات:
آیت اللہ سیستانی:
آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص
جو انہیں اعلم سمجھتا تھا اور ان کے فتوے کی پیروی کا پابند اور متعہد تھا، اس پر
واجب ہے کہ ان کی تقلید پر باقی رہے اور اسے ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں،
سوائے مسائلِ مستحدثہ کے۔
آیت اللہ مکارم شیرازی:آیت
اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص جو انہیں اعلم سمجھتا
تھا، اس پر واجب ہے کہ جن مسائل میں اس نے ان کے فتوے پر عمل کیا ہے، ان میں ان کی
تقلید پر باقی رہے اور اسے ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں، سوائے مسائلِ مستحدثہ
کے۔
آیت اللہ نوری ہمدانی:آیت
اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص جو انہیں اعلم سمجھتا
تھا اور بعض مسائل میں ان کے فتوے پر عمل کر چکا ہے، اس پر واجب ہے کہ تمام مسائل
میں ان کی تقلید پر باقی رہے اور اسے ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں، سوائے
مسائلِ مستحدثہ کے۔
آیت اللہ شبیری زنجانی:آیت
اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص جو انہیں اعلم سمجھتا
تھا یا مساوات کی صورت میں ان کے فتوے پر — خواہ بعض مسائل ہی میں — عمل کر چکا
ہو، اس کے لیے لازم ہے کہ تمام مسائل میں ان کے فتوے پر باقی رہے اور اسے ہماری
تقلید کرنے کی اجازت نہیں، سوائے مسائلِ مستحدثہ کے۔
آیت اللہ جوادی آملی:آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای
(قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص جو انہیں اعلم سمجھتا تھا، اس کے لیے احتیاطاً
واجب ہے کہ ان کی تقلید پر باقی رہے اور اسے ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں،
سوائے مسائلِ مستحدثہ کے۔
آیت اللہ وحید خراسانی:آیت
اللہ العظمیٰ خامنہ ای (قدس سرہ) کے مقلدین اور ہر وہ شخص جو انہیں اعلم سمجھتا
تھا، حتیٰ کہ وہ مکلفین جن پر ان کی تقلید واجب تھی، سب پر لازم ہے کہ ان کے فتوے
پر عمل کریں اور انہیں ہماری تقلید کرنے کی اجازت نہیں، سوائے مسائلِ مستحدثہ کے؛
خواہ ان کی حیات میں ان کے فتوے پر عمل کا التزام رکھتے تھے یا نہیں، خواہ ان کے
فتوے پر عمل کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور خواہ ان کا فتویٰ سیکھا ہو یا نہ سیکھا ہو۔
⭕
✍️ مومنین
کرام ایک مرتبہ پھر تواجہ فرمائیں ⭕
✍️
ہماری تحقیق کے مطابق تقلید تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔فی الحال اگر
کوئی نیا فقہی مسئلہ پیش نہیں آتا تو رہبر کی تقلید پر باقی رہیں دوسری صورت میں دیگر
مراجع عظام کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔ ذاتی رائے یہ ہے کہ صبر کریں جلد جانشین ولی
فقیہ کا اعلان ہوجائے انشا اللہ ایسا انتخاب ہوگا جو شہید اسلام رہبر کا ہر لحاظ
سے وارث و علمدار ہوگا اور تمام دینی معیار پر پورا اترے گا ۔ان شا اللہ
ہم نے نظریہ ولایت فقیہ کی پیروی کرنی ہے لہذا اسی نظریہ کے
تابع رہیں گے اور پروردگار کی مدد سے بہتر انتخاب عمل میں آئے گا جیسے امام خمینی
و امام خامنہ ای کے انتخاب کی شکل میں پیش آیا تھا۔رہبر معظم کا امور فقہ کا دفتر
باقاعدہ کررہا ہے اور وہاں سے ابھی رہبر کے مقلدین کو تقلید کی تبدیلی کے لئے
اعلان نہیں کیا گیا ہے لہذا اگر خمس کی ادائیگی سے متعلق بھی سوال ہو جب تک دفتر کی
تعطیل کا اعلان نہیں ہوجاتا خمس رہبر کے دفتر میں ہی دیا جائے گا۔
واللہ اعلم باثواب
اللھم عجل لولیک الفرج
وائس آف نیشن شعبہ مطالعات و تحقیقات
3/3/26
ہمیں جوائن کریں







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں