بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک کتاب جو ہتھیار ہے۔۔۔
وقت اُن پرندوں کی مانند ہے جو کبھی لوٹ کر نہیں آتے۔ اگرچہ
انسان اور وقت ایک ہی دھارے میں بہنے پر مجبور ہیں، تاہم کبھی کبھی وقت کے دامن میں
ایسی بلند قامت ہستیاں بھی جنم لیتی ہیں جو وقت کی اسیری قبول نہیں کرتیں بلکہ خود
وقت کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں اور اپنے عہد کی تاریخ کا رُخ موڑ دیتی ہیں۔ ایسی
شخصیات اپنے زمانے سے بہت زیادہ بلند ہو کر استقامت، مزاحمت، تبدیلی اور انقلاب
کی علامت بن جاتی ہیں۔ یوں وہ اپنے دور میں انسانیت کے لیے ایک زندہ اسوہ قرار پاتی
ہیں۔ اُن کی حیات ایک داستان بھی ہوتی ہے اور ایک دستاویز بھی، حکایت بھی اور حقیقت
بھی، روایت بھی اور دلیل بھی۔ بلاشُبہ ایسی
ہی ایک عظیم شخصیت کا نام شہید رہبر سید علی خامنہ ای ہے۔
شہید رہبر سید علی خامنہ ای کی بابرکت حیاتِ مبارکہ ہمارے عہد
کے لیے انقلاب، استقامت، مزاحمت، جرأت، شجاعت، بصیرت، تقویٰ اور شہادت کا ایسا
جامع آئینہ ہے جس میں عصرِ حاضر کی تمام ضرورتیں منعکس ہوتی ہیں۔ آپ نے بحیثیت
رہبرِ ملتِ اسلامیہ ساری دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ انسان اپنی بصیرتِ ایمانی اور تقویٰ کی بدولت
اُس مقامِ رفیع پر فائز ہو سکتا ہے کہ جہاں سے اس کا سایہ بھی زمین پر نہ پڑے، اور وہ
اپنے لہو میں ڈوب کر زمانے کیلئے آفتابِ ہدایت بن جائے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ برادرِ عزیز توقیر ساجد کھرل نے اس سے پہلے شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے
موقع پر بھی ایک لاجواب کتاب تالیف کی تھی۔ اس مرتبہ شہید رہبرِ معظم کی شہادت کے
بعد انہوں نے ایک بار پھر وقت کی صدا پر
لبیک کہتے ہوئے شہید رہبر کی حیاتِ مبارکہ
کے متفرق گوشوں اور متنوع زاویوں کو نہایت سلیقے اور عرق ریزی کے ساتھ ایک کتابی
صورت میں ڈھال دیا ہے۔ کتاب کا نام بھی
انہوں نے" شہید رہبر " ہی رکھا ہے۔ المختصر یہ کہ اُن کی محنتِ شاقہ کے نتیجے میں شہید رہبر کے
حوالے سے ایک مربوط، سنجیدہ اور فکر انگیز
دستاویز وجود میں آ گئی ہے۔
یہ حقیقت مسلم ہے کہ تالیف و تحقیق کی دنیا میں مواد جمع کرنا
نسبتاً آسان ہے، لیکن اسی مواد کو معنویت، تسلسل اور فکری ہم آہنگی کے ساتھ ایک
بامعنی بیانیے میں ڈھال دینا نہایت کٹھن اور صبر آزما عمل ہے۔ مؤلف نے منتشر متون،
حوالہ جات، معلومات اور اقتباسات کو یکجا کر کے ایک ایسا فکری تسلسل قائم کیا ہے
کہ جس میں ترتیب بھی ہے اور تاثیر بھی، ربط بھی ہے اور ضبط بھی۔ بلا شبہ اس تالیف
میں مؤلف کا شہید رہبر سے عشق، محنت، ذوق اور احساسِ ذمہ داری پوری طرح جھلکتا
ہے۔
اس کتاب کا ایک نہایت اہم اور قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ یہ کتاب
شہید رہبر کی نجی زندگی کے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ اُن کی عہد ساز شخصیت کے بے شمار
گوشوں پر بھی روشنی ڈالتی ہے۔ اس کے مطالعے سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ شہید رہبر کی زندگی ایک طرف قانون کی سخت پابندی
سے عبارت تھی تو دوسری طرف اس میں فکر کی وسعتوں کا بے کنار سمندر بھی موجزن تھا۔
شہید پر ایک جانب اقتدار و ذمہ داریوں کا
بوجھ تھا تو دوسری جانب زہد و سادگی کی
دلآویز جھلکیاں بھی موجود تھیں۔ ایک طرف ریاستی اختیار و قوت تھا تو دوسری طرف
خلوص، یادِ خدا اور انکسار کی نورانی کیفیت بھی نمایاں تھی۔اُن کی شہادت نے سارے
عالم پر یہ سچ ثابت کر دیا ہے کہ شہید کی
جوموت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔
یہ کتاب اس عظیم حقیقت کو بھی بے نقاب کرتی ہے کہ قیادت و رہبری
آرام دہ مسندوں پر بیٹھنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے وجود کو اپنے ہدف پر قربان کر دینے
کا نام ہے۔ شہید رہبر کی عظیم قربانی نے جہاں ملت اسلامیہ ایران کے وقار میں بے پناہ
اضافہ کیا ہے وہیں دنیا بھر کے باوقار انسانوں کے درمیان قربت اور وحدت کے نئے در بھی وا کیے ہیں۔ خصوصاً ملتِ اسلامیہ کے اندر
اخوت و محبت کے رشتوں کو نئی حیات بخشی ہے۔ اس تناظر میں یہ کتاب محض ایک تصنیف نہیں
بلکہ جغرافیائی سرحدوں، فکری خلیجوں اور مسلکی فاصلے کم کرنے کا ایک مؤثر ہتھیار
بھی ہے۔ اس کے صفحات میں جہاں شہید رہبر کی حیات کا بحرِ بیکراں موجزن ہے، وہیں
اجتماعی شعور کا ایک روشن اور تابناک جزیرہ بھی موجودہے۔ یوں یہ تصنیف سوانح نگاری
کے دائرے سے بلند ہو کر ایک عہد ساز شخصیت کے روحانی و فکری سفر کی سند کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک ایسا سفر جو پاکیزہ نسب
سے شروع ہو کر علم و عرفان، دینی تربیت، انقلابی جدوجہد، قید و بند کی صعوبتوں اور
عظیم قیادت و رہبری کی ذمہ داریوں تک پھیلا ہوا ہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ عزیزم توقیر ساجد کھرل کی یہ کتاب شہید
رہبرِ معظم کے عشّاق کے لیے ایک انمول تحفہ ہے۔ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ
احساسات، نظریات اور فکری توانائیوں کا سمندر بھی ہے۔ اس میں ہر لفظ کبھی پھول کی
مانند مہکتا ہے اور کبھی کانٹے کی طرح دل میں اتر جاتا ہے، کبھی چراغ بن کر راہیں
روشن کرتا ہے اور کبھی آنسو بن کر دل کو نم کر دیتا ہے۔ ہر جملہ ذہن کو جھنجھوڑتا
ہے اور ہر لفظ احساس کے بند دروازوں پر دستک دیتا ہے۔شہید رہبر کی علمی، فکری،
اخلاقی، سیاسی اور اجتماعی شخصیت کے مختلف زاویوں نے اس کتاب کو جہادِ تبیین کا ایک
مؤثر فکری ہتھیار بنا دیا ہے۔ اسے کتاب نہیں ایک فکری ہتھیار سمجھ کر اپنے ساتھ
رکھئے ، یہ کتاب مظلوموں کے دفاع کی جنگ کے محاذ پر اور فکری مغالطوں کے اس دور میں آپ کے ایمان کی حفاظت کرے گی۔ اس کتاب میں سیاست، اختیار کے ہمراہ انکساری لئے نظر آئے گی، فوج و پولیس، جیسے ادارے تقویٰ کے ساتھ قانون کے
نفاذ کے ذمہ دار دکھائی دیں گے، علما بصیرت کے افق پر جگمگاتے نظر آئیں گے، اور پالیسی ساز شہادت کے لیے ہمہ وقت تیار ملیں گے۔ آپ جس بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، یہ
کتاب آپ کی تنہائیوں کی رفیق ہے چونکہ جب
بھی آپ توقیر ساجد کھرل کی اس تصنیف کی ورق گردانی کریں گے،تو شہید رہبر کی
مظلومانہ شہادت آپ کے سامنے مجسّم ہو جایا کرے گی۔
امید ہے کہ یہ کتاب اہلِ علم اور عام قارئین دونوں کے لیے فہم و
آگہی کا چراغ ثابت ہو گی اور ملت اسلامیہ کے درمیان بصیرت، بھائی چارے اور رواداری
کے نئے آفاق روشن کرے گی۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں