پولیس انسپکٹر عاشق شاہ کی غنڈہ گردی کے خلاف علی مسجد بارہ کہو سے آئندہ جمعۃ المبارک کو احتجاج کرنے کا اعلان
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) بارہ کہو کے علاقے میں متنازعہ گلی کا دیرینہ تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا، جب گزشتہ روز پولیس انسپکٹر عاشق شاہ کی جانب سے عدالتی حکم امتناعی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے گیس کی پائپ لائن بچھانے اور میٹر نصب کرنے کی کوشش کی گئی۔ جامعۃالرضا کی انتظامیہ نے نے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہیلپ لائن 15 پر کال کی اور بارہ کہو تھانے میں باقاعدہ درخواست بھی جمع کرا دی۔
جامعۃالرضا کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو گھنٹے بعد مدرسے کے ایک استاد جب باہر نکل رہے تھے تو پولیس انسپکٹر عاشق شاہ اور ان کے بیٹوں نے ان کا راستہ روک کر الجھنے کی کوشش کی، جس پر استاد صاحب صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے واپس مدرسے کے اندر چلے گئے، جبکہ مذکورہ شخص کافی دیر تک راستہ روکے کھڑا رہا۔
جامعۃالرضا کی انتظامیہ کے مطابق تقریباً دو گھنٹے بعد مدرسے کے ایک استاد جب باہر نکل رہے تھے تو پولیس انسپکٹر عاشق شاہ اور ان کے بیٹوں نے ان کا راستہ روک کر الجھنے کی کوشش کی، جس پر استاد صاحب صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے واپس مدرسے کے اندر چلے گئے، جبکہ مذکورہ شخص کافی دیر تک راستہ روکے کھڑا رہا۔
ایک بار پھر 15 پولیس نے آکر موقع دیکھا، جس کے نتیجے میں فریقین کو گزشتہ شام 7 بجے تھانے میں طلب کیا گیا۔ تاہم ذرائع کے مطابق تھانے میں نہ تو فریق مخالف پیش ہوا اور نہ ہی پولیس کی جانب سے کوئی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔
اس صورتحال پر آج نماز جمعہ کے خطبے میں مسجد علی ابن ابیطالب بارہ کہو کے امام جمعہ والجماعت اور جامعۃ الرضا کے پرنسپل مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے عوام کے سامنے معاملہ اٹھاتے ہوئے آئندہ جمعۃ المبارک کو احتجاج کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دس سالوں کے دوران تھانہ بارہ کہو سے لے کر آئی جی اسلام آباد تک متعدد درخواستیں دی گئیں اور عدالتوں سے بھی رجوع کیا گیا، مگر تاحال کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہوئی، جبکہ فریق مخالف توہین عدالت کا بھی مرتکب ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب اساتذہ کرام کا راستہ روکنے جیسے واقعات نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور سوال اٹھایا کہ متعلقہ ادارے آخر کب حرکت میں آئیں گے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ جمعہ تک مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم ان بے حس اداروں کو بیدار کرنے کیلئے نماز جمعہ کے بعد احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ضرورت پڑی تو پھر ہم دیگر مساجد کے ائمہ، مدارس، کالجز اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ و طلبا کو بھی احتجاج میں شریک ہونے کی دعوت دیں گے۔
مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کا کہنا تھا کہ جب کسی پولیس افسر کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی تو پھر عوام کے پاس احتجاج کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ یاد رہے کہ عوامی حلقوں میں ایک دینی مدرسے اور مسجد کے ساتھ مذکورہ پولیس انسپکٹر حوالے سے شدید غم و غصہ پایا جاتا پایا جاتا ہے ۔ اس احتجاج کی کال کے باوجود اگر متعلقہ اداروں نے اپنی ذمہ داری ادا نہ کی تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی تمام تر ذمہ داری انہی اداروں پر عائد ہو گی۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں