تو کیا میں ٹرمپ کو خدا مان لوں!
ڈاکٹر نذر حافی
تقریباً بائیس سال پہلے کی بات ہے۔میں ایک دوست کے لبوں پر اخبار پڑھتے ہوئے مسکراہٹ دیکھی۔ میں نے پوچھا کہ کیا کوئی لطیفہ پڑھ رہے ہیں؟وہ بولے نہیں ایک تصویر دیکھ رہا ہوں۔ میں نے بھی اُن کی طرف جھک کر تصویر کو دیکھا تو اُس میں مسکرانے والی کوئی بات نہیں تھی۔ تصویر میں ایک امریکی صدر کے ساتھ کوئی ہاتھ ملا رہا تھا۔ میں نے پوچھا اس میں ہنسنے والی کیا بات ہے؟ وہ بولے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ یہ لوگ اس طرح جھک جھک کر امریکیوں سے مصافحہ کرتے ہیں کہ جیسے یہ کوئی عزت والی بات ہو۔
مسٹر ٹرمپ کے بارے میں ہم کوئی زیادہ بات نہیں کرتے صرف
یہی کہنا چاہتے ہیں کہ اُس نے جنگ کے دسویں روز یہ اعلان کیا تھا کہ جنگ مکمل طور پر ختم ہو چکی
ہے۔ پھر گیارہویں دن فرمایا کہ بہت جلد
اختتام پذیر ہو جائے گی۔بارہویں روز دعویٰ کیا کہ ہم فتح یاب ہو چکے ہیں۔ اکیسویں
دن کہا کہ ہم کامیابی کے نہایت قریب ہیں۔۔۔۔بتیسویں روز بیان دیا کہ عنقریب وہاں
سے نکل جائیں گے۔چالیسویں دن اعلان ہوا کہ ہم نے مکمل اور فیصلہ کن فتح حاصل کر لی
ہے۔۔۔اور انچاسویں روز یہی صدا بلند ہوئی کہ ایران نے تنگہ ہرمز کھول دیا ہے۔۔۔اب
آپ ہی بتائیں جس شخص کا ہر نیا اعلان اُس کے
پچھلے بیان کی نفی کرتا ہو کیا اُس پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟
آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ ٹرمپ کا سب سے پہلا دعویٰ یہ ہے کہ ایران امریکہ کے لیے
فوری اور قریب الوقوع خطرہ تھا اور اسی بنیاد پر حملہ ضروری سمجھا گیا۔ تاہم یہ
دعوی کسی بھی طور سچ ثابت نہیں ہو سکا۔اسی طرح ٹرمپ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ایران کے پاس بین البراعظمی بیلسٹک
میزائل موجود ہیں جو امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں، لیکن امریکی انٹیلی جنس اداروں نے
ہی اس دعوے کو مسترد کر دیا۔مزید یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ ایران ایٹمی ہتھیار
بنانے کے قریب تھا۔ تاہم بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے اس حوالے سے مکمل تردید کی۔ٹرمپ نے جنگ کے مقاصد کے حوالے سے
بھی کبھی اسے امریکی عوام کے تحفظ کے لیے دفاعی اقدام کہا ، اور کبھی ایران میں “رجیم چینج” اس جنگ کا ہدف قرار
دیا۔اسی طرح ٹرمپ نے یہ دعوی بھی کیا کہ حملے صرف فوجی اہداف تک محدود ہیں لیکن عملاً غیر فوجی تنصیبات اور شہری ڈھانچے پر بمباری کی
گئی۔اس کے علاوہ ٹرمپ نواز میڈیا کی طرف سے یہ الزام بھی سامنے آیا کہ ایران مصنوعی
ذہانت (AI) کے ذریعے جعلی ویڈیوز اور پروپیگنڈا مواد تیار
کرتا ہ جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مزید ٹرمپ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ امریکی بحریہ کے تمام اثاثے مکمل طور
پر محفوظ اور ناقابل نقصان ہیں، جبکہ دوسری جانب ایران نے امریکی بحریہ پر کاری
ضربیں لگائیں۔ اسی طرح ٹرمپ کی طرف سے ایران
کی بحری طاقت کو مکمل طور پر ختم شدہ قرار دینے کا دعویٰ بھی کیا گیا، لیکن زمینی حقائق آپ کے سامنے مختلف ہیں۔
گزشتہ چند دنوں میں ٹرمپ اور امریکی میڈیا نے پاکستان کے اسلام آباد
کے مبینہ دورے کے حوالے سے مختلف دعوے کیے، جس میں یہ کہا گیا کہ ونس پاکستان میں
ایرانی وفد سے مذاکرات کے لیے جائیں گے، تاہم بعد میں یہ بات غیر مصدقہ ثابت ہوئی۔
اسی طرح یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ وِٹکاف اور کوشنر بھی عراقچی کے ساتھ پاکستان آئیں
گے تاکہ براہِ راست مذاکرات میں شریک ہوں۔اس دوران بعض علاقائی ذرائع ابلاغ نے بھی
ان خبروں کو اس انداز سے پیش کیا کہ گویا ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور
مذکورہ امریکی شخصیات کے درمیان براہِ راست مذاکرات متوقع ہیں، جس سے عوامی سطح پر
ابہام اور تذبذب پیدا ہوا۔تاہم عراقچی کا اسلام آباد کا دورہ مکمل ہوا اور کسی قسم
کی باضابطہ ملاقات یا مذاکرات منعقد نہیں ہوئے۔ ایرانی حکام اور میڈیا ابتدا ہی سے
یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے تھے کہ اس موقع پر کسی قسم کی مذاکراتی نشست زیرِ غور نہیں
ہے، اس کے باوجود امریکی میڈیا اور بعض بیانات میں اس کے برعکس تاثر دیا جاتا رہا۔
آخر میں ہم مسٹر ٹرمپ کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں
کہ وہ بیوقوف ہے یا شریر۔ ہم کوئی فیصلہ تو نہیں کر سکتے لیکن اتنا جانتے ہیں کہ انسانِ
شریر کم از کم اپنے مفاد کی پہچان رکھتا ہے، یہی شعورِ منفعت کبھی کبھار اس کے قدموں کو لگام
دیتا ہے، اور اس کی سرکشی کو کسی حد تک مہار کرتا ہے۔ مگر حماقت۔۔۔نہ اس کی کوئی
حد ہوتی ہے اور نہ اس کا کوئی کنارہ۔ حماقت
آغاز ہی میں احمق کے دماغ میں یہ فریبِ
کامل پیدا کرتی ہے کہ گویا ہر سوال کا جواب اُس کے پاس ہے، اور ہر مشکل کا حل وہی
جانتا ہے۔ آئیے آخر میں یہ فیصلہ کرنے کی کوشش کریں کہ سچائی کیا ہے؟ حقیقت میں ٹرمپ شریر ہے یا بیوقوف یا کچھ لوگوں
کے نزدیک خدا؟ جن لوگوں نے ٹرمپ کو شریر
یا بیوقوف سمجھنے کے بجائے خدا سمجھ رکھا ہے اُن کی خدمت میں یہ عرض ہے کہ کوشش کے
باوجود سچائی کو نہ سمجھ پانا یہ کوئی
بیوقوفی نہیں بلکہ بیوقوفی تو یہ ہے کہ انسان سچائی کو جان کر بھی جھوٹ کی پرستش کرے۔
یہاں پہنچ کر مجھے وہی تقریباً بائیس سالہ پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے کہ جس
میں ایک امریکی صدر کے ساتھ کسی کے ہاتھ
ملانے کی تصویر تھی۔ میں نے دوست سے
پوچھا کہ اس تصویر کو دیکھ کر ہنسنے والی کیا بات ہے؟ وہ بولے ہنسی اس بات پر آ رہی ہے کہ یہ لوگ اس
طرح جھک جھک کر امریکیوں سے مصافحہ کرتے
ہیں کہ جیسے یہ کوئی عزت والی بات ہو۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں