بسم اللہ الرحمن الرحیم
جنگ رکوانے کیلئے بجٹ کے ہمراہ بصیرت بھی خرچ کیجئے
ڈاکٹر نذر حافی
جنگ ایک منافع بخش کاروبار ہے۔جنگ کے دوران خون بہنے سے کہیں زیادہ انسانی دماغ اور سرمائے کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔دوسری طرف مذاکرات بھی مفادات کے حصول اور تحفظ کیلئے کئے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جنگ گرم اسلحے سے اور مذاکرات قلم، کاغذ، زبان، بیان اور دماغ کے اسلحے سے لڑے جاتے ہیں۔ جنگ میں گولیوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے اور میزِ مذاکرات پر جملوں کا تبادلہ ۔ سچ بات تو یہ ہے کہ مذاکرات کی میز پربیٹھا ہوا انسان اُس شخص سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو میدان جنگ میں ڈٹا ہوا نظر آتا ہے۔ میدان میں لڑنے والا تو صاف دشمن نظر آتا ہے لیکن میز پر بیٹھا ہوا دشمن ، دوست بن کر بم گرا رہا ہوتا ہے، یوں مسکراہٹ میں چھپی حکمت تلوار سے زیادہ کارگر ہوتی ہے۔
امریکا اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت نے ایشیا کے معمولاتِ زندگی کے ساتھ ساتھ یورپی عوام کے پٹرول پمپس، ہوائی اڈوں، فیکٹریوں، کھیتوں اور گھریلو اشیائے خوردونوش تک کو متاثر کیا ہے۔دمِ تحریر برسلز آج ایک ایسے بحران میں گھرا ہے جو قیمتوں کے اضافے سے شروع ہو کر اشیا کی قلت میں اضافے کا سبب بن چکا ہے، ایندھن مہنگا، کھاد کم، خوراک نایاب اور عوام بےتاب۔ یورپی مفکرین آج اس مخمصے میں ہیں کہ جو براعظم خودمختاری کا دعویدار تھا وہ کمزور ہو کر واشنگٹن اور تل ابیب کی شروع کردہ جنگ کی قیمت آخر کب تک ادا کرتا رہے گا؟ معاشی توازن بگڑ چکا، نظامِ معیشت ڈگمگا چکا، اور اس بگاڑ کے اثرات آبنائے ہرمز سے اٹھ کر عوام کے گھریلو معاملات تک آ چکے ہیں۔ ایران کی استقامت کے امریکہ و یورپ پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اصل آزادی وسائل میں نہیں بلکہ فیصلوں میں ہوتی ہے، اور جب فیصلے دب کر کئے جائیں تو ایسی طاقت بھی ادھاری ہو تی ہے۔ اس وقت یورپ کے اضافی طور پر اربوں یورو صرف اس لیے خرچ ہو رہے ہیں کہ منڈیاں بے قابو اور راستے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ یورپ میں وسائل کی کثرت کے باوجود تحفظ کی قلت اور اشیا کی فراوانی کے باوجود قحط کا خوف نمایاں ہے۔
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور صہیونی جارحیت
نے یورپ کے اقتصادی و معاشی توازن کو اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ یورپ کا استحکام
اضطراب میں اور خوشحالی بے حساب اخراجات میں بدل گئی ہے۔ اس وقت یورپ کا معاشی بخار آبنائے ہرمز سے اٹھ کر ایندھن کی درآمدی لاگت، گیس کے ذخائر، جیٹ فیول،
پٹرول، کھاد اور خوراک تک پھیلتا ہوا مہنگائی، جمود اور گھریلو معیشت پر سایہ فگن
ہو چکا ہے۔ ایرانی مزاحمت و مقاومت اور امریکی و یورپی معاشی جھٹکوں سے سب کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ معیشتیں
صرف وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ معاشی استحکام کے تسلسل سے زندہ رہتی ہیں، اور جب یہ
تسلسل ٹوٹ جائے تو فراوانی بھی محرومی کا روپ دھار لیتی ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کی ناامنی نے یورپ کو قیمتوں کے
ایسے صدمے سے دوچار کیا ہے کہ ثبات، اضطراب میں اور اعتدال، زوال میں بدل گیا ہے۔
رپورٹوں کے مطابق برینٹ تیل 106.06 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس 96.56 ڈالر فی بیرل تک
پہنچ گیا، جبکہ ہفتہ وار اضافہ نمایاں رہا۔ اس کے ساتھ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل
اور ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق جنگ کے پہلے 50
دنوں میں تقریباً 24 ارب یورو اضافی خرچ صرف ایندھن کی مہنگائی کی وجہ سے ہوا۔مسئلہ
صرف موجودہ قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ یورپ اپنی سردیوں کی حفاظتی گنجائش بھی کھو
رہا ہے۔ گیس ذخائر مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہے اور اس وقت کم سطح پر ہیں، جس
سے مستقبل میں مزید نقصانات کا خطرہ بڑھ گیا
ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ راستے سمٹیں تو منڈیاں رونق پیدا کرتی ہیں، اور اگر رسد گھٹے تو قیمتیں چڑھتی ہیں۔ اس وقت امریکہ و
یورپ میں تجارت میں تعطل اور معیشت میں
تزلزل نمایاں ہے۔
یورپ اپنی بڑی مقدار میں جیٹ فیول درآمد کرتا ہے، جس کا ایک
بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور بعض مقامات پر
راشن بندی جیسے اقدامات اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔تیل کی قیمتوں اور ٹیکسوں
کے باعث یورپ میں پٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہری
پر پڑ رہا ہے، چاہے وہ ٹرانسپورٹ ہو، ہوائی سفر یا روزمرہ اخراجات۔مہنگی توانائی
نے کھاد کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی
ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور غربت میں اضافہ
ہو سکتا ہے۔توانائی اور خوراک کے بحران نے یورپ کی معیشت پر واضح اثر ڈالا ہے۔ پیداواری
لاگت بڑھ رہی ہے، طلب کم ہو رہی ہے، اور کئی صنعتی شعبے غیر یقینی صورتحال کا شکار
ہیں، خاص طور پر جرمنی میں۔
یہ بحران اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ یورپ کی “اسٹریٹجک
خودمختاری” ابھی ناقص ہے، مضبوطی کے نعروں
سے زیادہ محتاجی اور فقر کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ بڑی مقدار میں درآمدی ایندھن
پر انحصار اسے بیرونی جھٹکوں کے سامنے بے بس بنا دیتا ہے۔ برسلز کے اقدامات زیادہ
تر ہنگامی نوعیت کے ہیں، جیسے سبسڈی، ٹیکس میں کمی اور ذخائر کا انتظام۔۔۔ جو طویل
مدتی حل نہیں۔یورپ کے اندر عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے، کیونکہ شہری سوال اٹھا رہے ہیں
کہ جنگ کا فیصلہ تو امریکہ و اسرائیل کا تھا لیکن اب وہ اس جنگ
کی قیمت کیوں ادا کر رہے ہیں؟
ہماری دانست میں یورپ
کے لیے اس بحران سے نکلنے کا راستہ ذخائر
اور خزانے لُٹانا نہیں بلکہ سفارتکاری و حکمت کے دروازے کھولناہے ۔ اگر یورپ اس صورتحال
کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتا ہے تو اسے بجٹ کے ساتھ بصیرت بھی خرچ کرنی ہوگی۔ یہ
مسئلہ فقط ایران کو دبانے سے حل نہیں ہونے
والا چونکہ پائیدار امن توپوں کی خاموشی سے نہیں بلکہ شعور کی بیداری سے جنم لیتا
ہے، اور جب فیصلے بصیرت اور جرات سے کیے
جائیں تو طوفانوں میں بھی راستہ بن جاتا ہے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں