زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

اتوار، 26 اپریل، 2026

جنگ رکوانے کیلئے بجٹ کے ہمراہ بصیرت بھی خرچ کیجئے

بسم اللہ الرحمن الرحیم

جنگ رکوانے کیلئے  بجٹ کے ہمراہ بصیرت بھی خرچ کیجئے

ڈاکٹر نذر حافی

جنگ ایک  منافع بخش کاروبار ہے۔جنگ کے دوران خون بہنے سے کہیں زیادہ انسانی دماغ اور سرمائے کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے۔دوسری طرف مذاکرات بھی مفادات کے حصول  اور تحفظ  کیلئے کئے جاتے ہیں۔ فرق  صرف اتنا ہے کہ جنگ گرم اسلحے سے اور مذاکرات قلم، کاغذ، زبان، بیان اور دماغ کے اسلحے سے لڑے جاتے ہیں۔ جنگ میں گولیوں کی خریدوفروخت ہوتی ہے   اور میزِ مذاکرات پر جملوں کا تبادلہ ۔  سچ بات تو یہ ہے کہ مذاکرات کی میز  پربیٹھا ہوا  انسان اُس شخص سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتا ہے جو میدان جنگ میں ڈٹا ہوا نظر آتا ہے۔ میدان میں لڑنے والا تو صاف  دشمن نظر آتا ہے لیکن میز پر بیٹھا ہوا دشمن  ، دوست بن کر بم گرا رہا ہوتا ہے، یوں مسکراہٹ میں چھپی حکمت  تلوار سے زیادہ  کارگر ہوتی ہے۔


امریکا اور صہیونی حکومت کی ایران کے خلاف جارحیت نے  ایشیا کے معمولاتِ زندگی کے ساتھ  ساتھ  یورپی عوام کے پٹرول پمپس، ہوائی اڈوں، فیکٹریوں، کھیتوں اور گھریلو اشیائے خوردونوش  تک کو متاثر کیا ہے۔دمِ تحریر برسلز آج ایک ایسے بحران میں گھرا ہے جو قیمتوں کے اضافے سے شروع ہو کر  اشیا کی قلت میں  اضافے کا سبب بن چکا ہے، ایندھن مہنگا، کھاد کم، خوراک نایاب اور عوام بےتاب۔ یورپی مفکرین آج اس مخمصے میں ہیں کہ جو براعظم خودمختاری کا دعویدار تھا وہ  کمزور ہو کر واشنگٹن اور تل ابیب کی شروع کردہ جنگ کی قیمت آخر کب تک  ادا کرتا رہے گا؟ معاشی توازن بگڑ چکا، نظامِ معیشت ڈگمگا چکا، اور اس بگاڑ کے  اثرات آبنائے ہرمز سے اٹھ کر عوام کے  گھریلو معاملات  تک آ چکے ہیں۔ ایران کی استقامت کے امریکہ و یورپ پر یہ واضح کر دیا ہے کہ اصل آزادی وسائل میں نہیں بلکہ فیصلوں میں ہوتی ہے، اور جب فیصلے دب کر کئے جائیں  تو  ایسی طاقت بھی ادھاری ہو تی ہے۔ اس وقت یورپ کے  اضافی طور پر  اربوں یورو صرف اس لیے خرچ ہو رہے ہیں کہ منڈیاں بے قابو اور راستے غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ یورپ میں وسائل کی کثرت کے باوجود تحفظ کی قلت  اور  اشیا کی فراوانی کے باوجود قحط کا خوف نمایاں  ہے۔

عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق امریکا اور صہیونی جارحیت نے یورپ کے اقتصادی و معاشی توازن کو اس طرح بگاڑ دیا ہے کہ یورپ کا استحکام اضطراب میں اور خوشحالی بے حساب اخراجات میں بدل گئی ہے۔ اس وقت یورپ کا معاشی بخار آبنائے ہرمز سے اٹھ کر  ایندھن کی درآمدی لاگت، گیس کے ذخائر، جیٹ فیول، پٹرول، کھاد اور خوراک تک پھیلتا ہوا مہنگائی، جمود اور گھریلو معیشت پر سایہ فگن ہو چکا ہے۔ ایرانی مزاحمت و مقاومت اور امریکی و یورپی معاشی جھٹکوں  سے سب کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ معیشتیں صرف  وسائل کی فراوانی سے نہیں بلکہ معاشی  استحکام کے تسلسل سے زندہ رہتی ہیں، اور جب یہ تسلسل ٹوٹ جائے تو فراوانی بھی محرومی کا روپ دھار لیتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش یا اس کی ناامنی نے یورپ کو قیمتوں کے ایسے صدمے سے دوچار کیا ہے کہ ثبات، اضطراب میں اور اعتدال، زوال میں بدل گیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق برینٹ تیل 106.06 ڈالر اور ویسٹ ٹیکساس 96.56 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جبکہ ہفتہ وار اضافہ نمایاں رہا۔ اس کے ساتھ تقریباً 20 فیصد عالمی تیل اور ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ یورپی کمیشن کے مطابق جنگ کے پہلے 50 دنوں میں تقریباً 24 ارب یورو اضافی خرچ صرف ایندھن کی مہنگائی کی وجہ سے ہوا۔مسئلہ صرف موجودہ قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ یورپ اپنی سردیوں کی حفاظتی گنجائش بھی کھو رہا ہے۔ گیس ذخائر مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ پا رہے اور اس وقت کم سطح پر ہیں، جس سے مستقبل میں مزید نقصانات  کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ راستے سمٹیں تو منڈیاں رونق پیدا کرتی ہیں، اور اگر  رسد گھٹے تو قیمتیں چڑھتی ہیں۔ اس وقت امریکہ و یورپ میں  تجارت میں تعطل اور معیشت میں تزلزل نمایاں ہے۔

یورپ اپنی بڑی مقدار میں جیٹ فیول درآمد کرتا ہے، جس کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور بعض مقامات پر راشن بندی جیسے اقدامات اس بحران کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔تیل کی قیمتوں اور ٹیکسوں کے باعث یورپ میں پٹرول کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام شہری پر پڑ رہا ہے، چاہے وہ ٹرانسپورٹ ہو، ہوائی سفر یا روزمرہ اخراجات۔مہنگی توانائی نے کھاد کی قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جس سے زرعی پیداوار متاثر ہو رہی ہے۔ عالمی ادارے خبردار کر چکے ہیں کہ اس سے خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اور غربت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔توانائی اور خوراک کے بحران نے یورپ کی معیشت پر واضح اثر ڈالا ہے۔ پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے، طلب کم ہو رہی ہے، اور کئی صنعتی شعبے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، خاص طور پر جرمنی میں۔

یہ بحران اس حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ یورپ کی “اسٹریٹجک خودمختاری” ابھی ناقص ہے، مضبوطی  کے نعروں سے زیادہ محتاجی اور فقر کی گھٹائیں چھائی ہوئی ہیں۔ بڑی مقدار میں درآمدی ایندھن پر انحصار اسے بیرونی جھٹکوں کے سامنے بے بس بنا دیتا ہے۔ برسلز کے اقدامات زیادہ تر ہنگامی نوعیت کے ہیں، جیسے سبسڈی، ٹیکس میں کمی اور ذخائر کا انتظام۔۔۔ جو طویل مدتی حل نہیں۔یورپ کے اندر عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے، کیونکہ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ  جنگ کا فیصلہ تو  امریکہ و اسرائیل کا تھا لیکن اب وہ   اس جنگ کی قیمت کیوں ادا کر رہے ہیں؟

ہماری دانست میں  یورپ کے لیے اس بحران سے نکلنے کا راستہ  ذخائر اور خزانے لُٹانا  نہیں بلکہ سفارتکاری و  حکمت کے دروازے کھولناہے ۔ اگر یورپ اس صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکنا چاہتا ہے تو اسے بجٹ کے ساتھ بصیرت بھی خرچ کرنی ہوگی۔ یہ مسئلہ فقط ایران کو دبانے سے حل  نہیں ہونے والا  چونکہ پائیدار امن توپوں  کی خاموشی سے نہیں بلکہ شعور کی بیداری سے جنم لیتا ہے، اور جب فیصلے بصیرت اور  جرات سے کیے جائیں تو طوفانوں   میں بھی راستہ بن جاتا ہے۔

 

 


0 comments:

ایک تبصرہ شائع کریں

اپنا پیغام لکھیں

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...