ڈاکٹر نذر حافی
انصاف کے نام پر کی جانے والی زیادتی خود انصاف کی نفی بن
جاتی ہے۔عرصۂ دراز سے اسرائیل، امریکہ اور بعض خلیجی ریاستوں کے پالیسی ساز حلقوں
میں ایران میں رجیم چینج کی ایک مشترکہ
خواہش موجودہے۔ ایران کے خلاف حالیہ امریکی
عسکری اقدامات ہوں، ایرانی سیاستدانوں اور سائنسدانوں کی ٹارگٹ کلنگ، یا سائنسی و
تعلیمی مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں، ان سب کے پس منظر میں یہی سوچ کارفرما
دکھائی دیتی ہے۔ حتیٰ کہ غیر فوجی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور ثقافتی ورثے کو
متاثر کرنے جیسے اقدامات بھی اسی بڑے منصوبے کی کڑیاں محسوس ہوتے ہیں۔ یہ ایک ایسا
منصوبہ ہے کہ جس کی تکمیل کیلئے نہ انسانی
حقوق کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا اور نہ ہی عدل و انصاف کی پاسداری کی گئی۔ گزشتہ
پانچ دہائیوں میں تمام تر عالمی و اخلاقی
ضابطوں کو روندتے ہوئے ایران کے اندر جس قدر عدمِ استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اس کے نتیجے میں ایران پہلے سے زیادہ مستحکم ہوتا گیا۔
حالیہ پیش رفت میں اسرائیلی قیادت، بنیامین نیتن یاہو کی سربراہی میں، ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی طاقت کے استعمال پر آمادہ کرنے میں کامیاب دکھائی دیتی ہے۔ تاہم یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ یہ راستہ صرف اسرائیلی دباؤ کا نتیجہ تھا۔ اس بیانیے کی تشکیل اور ترویج میں اُن ایرانی جلاوطن عناصر کا بھی کردار رہا ہے جو کھل کر ایران میں نظام کی تبدیلی کے حامی ہیں۔ یہ افراد امریکی تھنک ٹینکس جیسے ہوور، بروکنگز اور ہیریٹیج وغیرہ سے وابستہ رہ کر نہ صرف ایران کے خلاف فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں بلکہ میڈیا بیانیے کو بھی جہت اور سمت دیتے ہیں۔ یعنی جو لوگ جمہوریت کے داعی ہیں، وہی بیرونی مداخلت کے ذریعے ایران کی جمہوری حکومت کو اُلٹنےکی بات کرتے ہیں۔ ایسی کارروائیوں کے مشکوک ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ ایران میں نظام کی تبدیلی کے دعویداروں نے جمہوریت کے نفاذ کیلئے جمہوریت کا ہی سرکچلنے پر کمر کس رکھی ہے۔
اس مشکوک اور مجرمانہ سوچ کے پیچھے وجہ یہ ہے کہ امریکہ،
اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک ایران کو ایک معمول کے بین الاقوامی کھلاڑی کے
بجائے ایک مستقل مسئلہ اور خطرہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اُن کے لیے ایران کو کسی نہ کسی
شکل میں غیر مؤثر بنانا ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکا ہے۔ اس مقصد کے لیے ایران کے
خلاف سفارتی دباؤ، اقتصادی پابندیاں، عسکری
حکمتِ عملی، رجیم چینج، مخملی انقلاب، حتیٰ کہ بغاوتی اقدامات تک ہر حربہ آزمایا
جا چکا ہے۔ اس کے باوجود ایران اپنی جگہ پر برقرار ہے اور کسی کے کنٹرول میں نہیں آیا۔ ایران
نے حالیہ جنگ میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ
ظلم اور ناانصافی کے ساتھ کسی ریاست
کو کمزور کرنے کی مسلسل کوشش دراصل اسے مزید مضبوط کر دیتی ہے۔ یعنی جبر، مزاحمت و استقامت کو جنم دیتا ہے اور مزاحمت و استقامت ، جبر کو
بے اثر بنا دیتی ہے۔
آج ایران کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی اچانک فیصلے کا
نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل المدتی منصوبہ بندی کا تسلسل ہے۔ اسی تسلسل میں امریکی قیادت
کو ایسی معلومات فراہم کی گئیں جنہوں نے یہ تاثر پیدا کیا کہ ایران پر محدود حملہ
کر کے نظام کی تبدیلی ممکن ہے۔ یہ کوئی پوشیدہ حقیقت نہیں کہ بنیامین نیتن یاہو
اور موساد کی قیادت نے امریکی صدر کو یقین دلایا کہ چند ہی دنوں میں ایران کا نظام
بدلا جا سکتا ہے۔بعد ازاں زمینی
حقائق نے ثابت کیا کہ سچائی اور حقیقت کسی کی خواہش یا سازش کے تابع نہیں ہوتی۔پرچھائیوں کو حقیقت سمجھ
لینا سب سے بڑا فریب ہے۔
پرچھائیوں کو حقیقت بنا کر پیش کرنا یہ کوئی نیا طرزِ عمل نہیں۔
2003 میں عراق پر حملے سے قبل بھی ایسا ہی بیانیہ تشکیل دیا گیا تھا، جب احمد چلبی
اور کنعان مکیہ جیسے افراد نے امریکی پالیسی سازوں کو ایسی معلومات فراہم کیں جو بعد ازاں بے بنیاد
ثابت ہوئیں۔ "عراقی قومی کانگریس"، جو احمد چلبی اور کنعان مکیہ جیسے
افراد پر مشتمل ایک چھوٹا جلاوطن اپوزیشن گروہ تھا، جس نے امریکی پالیسی سازوں کو
عراق پر حملے کے لیے قائل کرنے اور اس سمت میں لے جانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ عراقی اپوزیشن کے دیگر گروہ، خصوصاً کُرد اور شیعہ جماعتیں، جو
زیادہ منظم اور پرانی تھیں، وہ امریکی پالیسی
پر اثر انداز نہ ہو سکیں۔ اس کے برعکس "عراقی قومی کانگریس"، جو نئی، کم
تعداد اور کم تجربہ کار تھی، امریکی پالیسی سازوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔
آج ایک بار پھر ویسا ہی پیٹرن دہرایا جا
رہا ہے، فرق صرف کرداروں کا ہے۔ اس بار احمد چلبی اور کنعان مکیہ کی جگہ رضا پہلوی جیسے افراد کو ایران پر حملے کیلئے نمایاں
کیا جا رہا ہے۔ رضا پہلوی ایک ایسا شخص جو طویل عرصے سے ایران سے باہر ہے اور ایران
کی سرزمین، اس کی مٹی، تہذیب اور سیاست سے
اس کا موجودہ تعلق نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایران کے خلاف احمد چلبی اور کنعان مکیہ کے پیٹرن کو ایک مرتبہ پھر دہرا نے یہ سچ ثابت ہو گیا ہے کہ انسان ماضی سے سبق لینے کا دعویٰ تو کرتا ہے،
مگر اکثر وہی غلطیاں دہراتا ہے۔
ایران میں نظام کی تبدیل کے بیانیے کا آغازمیڈیا اور پروپیگنڈے سے کیا گیا،
جہاں ایران کی ایک مخصوص تصویر پیش کی گئی تاکہ عالمی رائے عامہ کو ہموار کیا جا
سکے۔ بعد ازاں یہی بیانیہ تھنک ٹینکس میں تجزیات کی صورت اختیار کر گیا جہاں غیر جانبداری کے بجائے پالیسی سازوں کی
توقعات کے مطابق نتائج اخذ کیے گئے۔ یہ کس قدر ناانصافی ہے کہ کچھ افراد کی رائے (opinion) کو سچائی کے طور پر پیش کیا گیا۔یہ تو ہم جانتے ہی
ہیں کہ میڈیا جس حقیقت کو دکھاتا ہے، وہی حقیقت بننے لگتی ہے، حالانکہ وہ محض ایک
زاویۂ نظر ہوتی ہے، مکمل سچ نہیں۔
خیر رضا شاہ پہلوی اور اس کے ہمنواوں کے بارے میں کچھ کہنے سے پہلے ہم اپنے قارئین سے یہ سوال
پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا کوئی شخص اپنے ہی
وطن کے خلاف بیرونی فوجی مداخلت کی حمایت کر کے محبِّ وطن کہلا سکتا ہے؟ اور اگر
وہ اپنے آبائی ملک کی تباہی میں بھی اپنا کردار ادا کرے تو کیا وہ اپنی ریاست کا وفادار کہلائے گا یا غدار؟







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں