۵ اگست ۔۔۔ سازش نہیں انصاف:
ڈاکٹر نذر حافی :
سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم:
طاقت زمین پر قبضہ کر سکتی ہے لیکن انسان کے ضمیر پر نہیں۔ہندوستان ابھی تک اس حقیقت سے آنکھیں چرا رہا ہے۔5 اگست 2019 جنوبی ایشیا کی تاریخ میں ایک غیر معمولی دن تھا۔ اسی روز بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو منسوخ کیا۔ بھارت نے اس فیصلے کو آئینی اصلاح، قومی یکجہتی اور ترقی کی جانب قدم قرار دیا، جبکہ پاکستان، کشمیری قیادت اور متعدد ناقدین نے اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیر کی متنازع حیثیت کے منافی قرار دیا۔آج چھ برس کے بعد بھی ۵ گست کی یہ تاریخ انتہائی متنازعہ ہے۔مقبوضہ کشمیر کی تاریخ مسلسل گولیوں کی آواز ، بند دروازوں، سنسان گلیوں اور خاموش کھڑکیوں سے لکھی جارہی ہے۔ کتنے ہی بچوں کی مائیں اپنے بچوں کی واپسی کی دعا کرتی اس دنیا سے چلی گئی ہیں اور کتنی ہی آنکھیں اس انتظار میں بند ہو گئی ہیں کہ وہ آزادی کا رنگ دیکھیں، عالمی برادری برف کی طرح خاموش ہے۔ یہی کشمیر کی وہ المیہ داستان ہے جہاں موسم بدلتے ہیں لیکن آزادی کا انتظار نہیں بدلتا۔ جنت کہلانے والی سرزمین برسوں سے جہنم بنی ہوئی ہے۔ریاست کی اصل بنیاد آزادی اور استقلال ہے، جہاں آزادی اور استقلال نہ ہو وہاں اقتدار بھی اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔
5 اگست 2019ا کے بعد وادی میں غیر معمولی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ مواصلاتی نظام معطل رہا، سیاسی قیادت کو نظر بند کیا گیا اور معمولاتِ زندگی طویل عرصے تک متاثر رہے۔ انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں اور کشمیری ذرائع نے ان اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا، جبکہ بھارتی حکومت کا مؤقف رہا کہ یہ اقدامات امن و امان برقرار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری تھے۔ یعنی امن کے نام پر جبر مسلط کیا گیا۔
شمشاد احمد جیسے سابق سفارت کاروں اور متعدد بین الاقوامی قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو خطے کے امن اور کشمیریوں کے حقوق کے تناظر میں تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف بھارت کا اصرار ہے کہ آئینی تبدیلیاں اس کا داخلی معاملہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب کسی تنازع پر قانون، سیاست اور اخلاقیات تین مختلف زبانیں بولنے لگیں تو عدالتیں بھی اور تاریخ بھی چکرا جاتی ہے۔ اس مسئلے کا ہر فریق قانون کی بات کرتا ہے تاہم قانون کی تعبیر سب کے لیے مختلف ہے۔
بھارت کے اندر بھی اس فیصلے پر یکساں رائے موجود نہیں تھی۔ کانگریس سمیت بعض سیاسی رہنماؤں نے اسے وفاقی ڈھانچے اور آئینی روایت کے لیے نقصان دہ قرار دیا،لیکن حکمران جماعت نے اسے قومی وحدت کی تکمیل کہا۔ بھارتی جمہوریت کی یہی خوبصورتی ہے کہ اختلاف کو بھی اپنے اندر جگہ دیتی ہے۔ تاہم بھارتی جمہوریت کا مسئلہ یہ ہے کہ اس میں سب کو بولنے کا حق تو ہوتا ہے لیکن اربابِ اقتدار و اختیار کو سب کی آواز برابر نہیں سنائی دیتی۔ یقین جانئے بھارتی جمہوریت میں اختلاف کی گنجائش تو موجود ہے لیکن اس جمہوریت کا سب سے بڑا المیہ اختلاف رائے کو تسلیم کرنے سے خوف کھانا ہے۔
حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک سمیت متعدد کشمیری رہنماؤں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے حوالے سے مؤثر کردار ادا کرے۔ ان کے نزدیک قربانیوں کی طویل داستان اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری عوام اپنی شناخت اور سیاسی مستقبل کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اب بھارت کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ماضی میں جتنی طویل کشمیریوں کی آزمائش ہوتی گئی، آزادی کی تحریک بھی اتنی ہی مضبوط ہوتی گئی۔
گزشتہ چند برسوں میں نئی حلقہ بندیوں، ڈومیسائل قوانین، اراضی اور انتظامی اصلاحات کے حوالے سے بھی کشمیریوں کو شدید تحفظات ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے خطے کے آبادیاتی اور سیاسی توازن پر اثر پڑاہے، جبکہ بھارتی حکومت انہیں بہتر حکمرانی، سرمایہ کاری اور ترقی کے لیے ضروری اصلاحات قرار دیتی ہے۔ ایک ہی پالیسی ہندوستان کے لیے ترقی کا راستہ ہے اور کشمیریوں کے لیے شناخت کا بحران۔
قانونی نقطۂ نظر سے 5 اگست 2019 کو بھارتی چال اور مکروفریب سے جموں و کشمیر کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کے مطابق ایک متنازع علاقے کی حیثیت کو ختم کرنا مقصود تھا، تاکہ مستقبل میں حقِ خودارادیت کی بات ہی نہ کی جا سکے۔ اس تناظر میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35A کی یک طرفہ منسوخی اور ریاست کی آئینی حیثیت میں تبدیلی در اصل ریاست جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو یک طرفہ طور پر تبدیل کرنے کی ایک مذموم کوشش تھی۔
اسی طرح بین الاقوامی انسانی قانون کے ماہرین جنیوا کنونشن (1949) کے چوتھے کنونشن کے آرٹیکل 49 کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ کسی قابض طاقت کو اپنے مقبوضہ علاقے میں اپنی شہری آبادی منتقل کرنے یا مقبوضہ علاقے کی آبادیاتی ساخت میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی اجازت نہیں ۔ ان کے مطابق بھارت کی جانب سے کشمیر میں ڈومیسائل قوانین، اراضی کی منتقلی یا آبادیاتی تبدیلیوں کے اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون کے سراسر خلاف ہیں۔
بھارت کی تمام تر کوششوں اور چالوں کے باوجود کشمیر آج بھی جنوبی ایشیا کا سب سے پیچیدہ تنازعہ ہے۔ چھ برس بعد بھی کشمیر عالمی سفارتی مباحث، انسانی حقوق کی رپورٹس اور علاقائی سلامتی کی بحث کا حصہ ہے۔ کشمیر میں مواصلاتی پابندیوں، سیاسی قیادت کی نظربندی اور شہری آزادیوں پر عائد پابندیوں نے بھارت کے بین الاقوامی تشخص کو شدید مجروح کیا ہے۔گزشتہ چھ برس گواہ ہیں کہ کشمیریوں نے اپنی جہد مسلسل یہ منوایا ہے کہ انصاف کے بغیر کشمیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بھارت جس سازش کے ساتھ حقِ خود ارادیت سے کشمیریوں کو پیچھے لے جانا چاہتا تھا ، اس کی یہی سازش کشمیریوں کو بہت آگے لے گئی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ صرف سرحدوں کا نہیں بلکہ انسانی وقار اور انصاف کا ہے۔ جغرافیہ تو نقشوں سے بدل جاتا ہے لیکن تاریخ صرف انصاف سے بدلتی ہے۔ کشمیر کے مسئلے کا حل طاقت نہیں انصاف ہے۔یاد رکھئے کہ طاقت کی عمر محدود ہوتی ہے اور انصاف کی خواہش لا محدود۔ بھارت کے عوام کو بھی یہ جاننا اور ماننا چاہیے کہ کشمیریوں کی شناخت، آزادی یا حقِ خودارادیت کا مسئلہ صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ کشمیریوں کی تاریخی اقدار، تہذیب و ثقافت، دین و اخلاق اور انسانی اقدار کا مسئلہ ہے۔







0 comments:
ایک تبصرہ شائع کریں
اپنا پیغام لکھیں