تحریرمنظوم ولایتی:
غزہ کی افسوسناک صورتحال پر ہر مسلمان ہی نہیں ہر انسان دل گرفتہ ہے۔اس عنوان سے کل پاکستان میں مجلسِ اتحادِ امت پاکستان نامی پلیٹ فورم کے زیر انتظام ایک قومی کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ جس کے اعلامیہ میں الاقرب فالاقرب کے تحت مسلمانوں پر اسرائیل کے خلاف جہاد کے واجب ہو جانے کا فتویٰ صادر کیا گیا ہے۔
آج صبح کی نماز کے بعد مفتی منیب الرحمان صاحب, مفتی تقی عثمانی صاحب اور مولانا فضل الرحمان صاحب کے خطابات سنے۔
مفتی منیب صاحب نے تو اعلامیہ پیش کیا جس میں جہاد کا فتویٰ دیا گیا ہے۔ مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنی گفتگو کے شروع میں احساسِ شرمندگی کا اظہار کیا کہ ہم ایک سال بعد دوبارہ صرف کانفرنس پر بات ہی کر رہے ہیں۔ تقی عثمانی صاحب نے جذباتی تقریر کی ہے۔حاضرین, ,نعرہ تکبیر۔۔ اللہ اکبر اور سبیلنا سبیلنا۔۔ الجہاد الجہاد' کے نعرے لگاتے رہے۔ آپ نے مسلم امت سے اسرائیلی پراڈکٹتس کا پر امن بائیکاٹ کرنے پر زور دیا اور کانفرنس کے اعلامیہ کی تائید کی۔ اسی طرح سے اسلامی ریاست کے خلاف مسلح کاروائیوں کی حرمت پر بھی بات کی۔ شاید یہ اشارہ تحریک طالبان پاکستان، بی ایل پی جیسے مسلح جتھوں کی طرف تھا۔
مولانا فضل الرحمان صاحب نے کہا کہ مسلم امہ فلسطینیوں کے ساتھ ہے رکاوٹ مسلم حکمران ہیں۔مولانا فضل الرحمان صاحب نے ایک مقام پر مسلمانوں کے اُن ممالک کے نام لیے جو مولانا کی نظر میں جو مل کر اسرائیل کا مقابلہ کرسکتے ہیں لیکن خوشگوار حیرت تب ہوئی جب ایران کا نام نہیں لیا حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ایران وہ واحد ملک ہے جو ریاستی سطح پر حماس کو ہر طرح کی امداد دیتا ہے۔ دوست و دشمن سب معترف ہیں۔
اس سے بھی حیرت تب ہوئی جب کچھ اُن ممالک کا نام لیا جنہوں نے اسرائیل کو سفارتی سطح پر باقاعدہ قبول کرلیا ہے۔ اب نہیں معلوم وہ کیسے مسلم ممالک کا اتحاد بنا سکتے ہیں؟ ترکی اس کی ایک مثال ہے۔
مزید اینکہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اِس کانفرنس میں شیعہ قیادت کہیں نظر نہیں آئی، جبکہ بریلوی,دیوبندی ، وھابی (اہلحدیث) اور جماعت اسلامی کی قیادت اسٹیک پر موجود تھی، حتی تکفیری اورنگزیب فاروقی بھی اِدھر اُدھر پھرتے نظر آئے۔ معروف ناصبی تکفیری مفتی ابو محمد اسٹیک پر پہرا دیتے دکھائی دییے۔ شیعہ قیادت کا نہ ہونا ایک بڑا سوال ہے۔ وجوہات کا نہیں پتہ!! جبکہ دنیا میں فلسطین کاز کو سب سے زیادہ سپورٹ کرنے والوں میں شیعہ تحریکیں سرِفہرست ہیں۔دوست و دشمن سب جانتے ہیں۔
بہرحال اِن بزرگواران کی گفتگو سن کر یوں لگا کہ غیرمعمولی کچھ بھی نہیں تھا سب معمول کی تقریریں کی گئیں، اگرچہ دورانِ خطابت کہتے رہے کہ یہ ایک غیرمعمولی کانفرنس ہے۔ اور یہی کیفیت اِن کے فتویٰ کی بھی ہے۔ ہوسکتا ہے آپ کو مجھ سے اختلاف ہو ۔بہرحال مجھے اِن احباب کی گفتگو کو سُن کر کم از کم ایسا لگا۔








ان کے فتویٰ کی اوقات بھی دیکھ لیں
جواب دیںحذف کریںدو ٹکے کی بھی اوقات نہیں
فتویٰ کی طاقت دیکھنی ہو تو آیت اللہ العظمی السید علی الحسینی سیستانی صاحب کے دو لائن کے فتویٰ کی دیکھیے
عراق کے شیعوں پر جہاد۔۔۔۔۔۔ اور پھر داعش کی کمر ٹوٹ گئی
شیعیوں کو نکال کر ان کے پاس میدان جہاد میں جانے کے لیے خیبر کا ڈنڈا تو ہے پر جھنڈا نہیں
عصر حاضر کے دروازے خیبر کو انشاء اللہ علی کے شیعہ ہی فتح کریں گے