زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

اتوار، 15 فروری، 2026

سانحہ ترلائی۔۔۔کیا حقیقی ذمہ داروں کو سزا ملے گی؟

سانحہ ترلائی۔۔۔کیا  حقیقی ذمہ داروں کو سزا ملے گی؟
ڈاکٹر نذر حافی :
سانحہ ترلائی سے ہم نے کچھ سیکھا بھی یا نہیں؟ کہتے ہیں کہ جو شخص راستے کے کانٹوں کو  نظر انداز کردے، وہ اپنے ہی پیروں کو زخمی کر بیٹھتا ہے۔ ویسے یہ پوچھنے اور سوچنے میں حرج ہی کیا ہے کہ کیا خودکش حملہ آور کی کامیابی میں ترلائی مسجد کی انتظامیہ کی غفلت اور ریاستی سیکورٹی اداروں کی  لاپرواہی کا کوئی حصہ نہیں؟ 
چلیں یہ سب بعد میں، پہلے سوشل پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر صدر مملکت آصف علی رداری صاحب  کے بیان سے اقتباس  ملاحظہ فرمائیں:
پاکستان عالمی رہنماؤں، حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کے جذبات پر ممنون ہے۔ یہ پیغامات اس امر کی توثیق کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور پرتشدد نظریات کے خلاف جدوجہد مشترکہ ہے۔ ہمارا موقف بہت واضح ہے کہ کوئی ایک ملک تنہا دہشت گردی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان میں ہونے والے واقعات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب دہشت گرد گروہوں کو بیرونی مدد اور سہولت کاری حاصل ہو، تو اس کے نتائج معصوم شہریوں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
ہمارے محترم صدر مملکت صاحب  کا یہ بیان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن ترلائی کا یہ واقعہ گواہ ہے کہ  گویا پاکستان میں عوام کی حفاظت کسی  ادارے، تنظیم یا  کمیٹی کی  ذمہ داری ہی  نہیں۔  اس سے بڑھ کر مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس طرح کے سانحات کے بعد ہمیشہ سیاسی  و مذہبی بیانات، وعدے، اور حفاظتی کمیٹیوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے لیکن عملی اقدامات اکثر ناقص رہتے ہیں۔ ہم صدرِ مملکت صاحب  کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ سانحہ ترلائی کے ذمہ داروں کے خلاف حقیقی کارروائی وہی ہے جو غفلت کرنے والوں کے خلاف کی جائے تاکہ  عوام کو یہ یقین دلایا جائے  کہ جو بھی عوام کی جان و مال کی حفاظت میں غفلت برتے گا، اُسے سزا ملے گی۔
جنابِ صدر! ہم تو اِن مسائل کو زیادہ نہیں سمجھتے ، آپ ہی بتا دیں کہ کیا یہ سچ نہیں کہ  خودکش حملہ آور کی کامیابی کا اصل سبب ترلائی مسجد کی انتظامیہ اور حکومت کے سیکورٹی اداروں کی کوتاہی اور غفلت ہے؟ جب سیکورٹی کے  انتظامات ہی نہ ہوں یعنی جو لوگ حفاظت، احتیاط اور ذمہ داری کے ٹھیکدار ہوں، جب وہ اپنی ذمہ داری نبھانے کے لیے موجود نہ ہوں تو عوام کا خون تو بہے گا۔ سرکاری انتظامیہ کی عدم موجودگی، مسجد انتظامیہ کی طرف سے سیکورٹی انتظامات کا فقدان، مشتبہ افراد کی شناخت کا انتظام نہ ہونا، اور ہنگامی حالات کے لیے تیاری نہ ہونا ایسے زخم ہیں جو شہداء کے ورثا کو ہمیشہ رلاتے رہیں گے۔
ہماری دانست میں کہیں پر بھی مسجد انتظامیہ کو سارا کام سرکاری انتظامیہ پر نہیں چھوڑنا چاہیے۔ جب اپنے گھر کا دروازہ اندر سے کھلا ہو تو باہر سے دروازہ بند رہنے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی۔ ترلائی میں حادثے کے روز ریاست کی طرف سے نمازیوں کی حفاظت اور خودکش کو روکنے کے انتظامات کا فقدان، انٹیلیجنس سہولیات کا نہ ہونا، اور بروقت حفاظتی اقدامات کی غیر موجودگی جیسی نالائقی کسی سے چھپی نہیں۔ یہ سراسر غفلت ہے۔ یہی غفلت خاموش قاتل ہے، اور اسی نے ان نمازیوں کو خون میں نہلا دیا ہے۔ جو اس غفلت کو دیکھ رہا ہے اور خاموش ہے، وہ بھی جرم میں شریک ہے۔ اگر مسجد انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اپنی  ذمہ داری نبھاتے، تو یہ قیمتی انسانی جانیں بچ سکتی تھیں۔ قارئین محترم !صدر مملکت نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ "بعض ہمسایہ ممالک بدقسمتی سے دہشت گرد عناصر کو اپنی سرزمین سے پاکستان مخالف کارروائیوں کی اجازت دے کر اس جرم میں شریک ہیں۔ ان کی جانب سے مالی معاونت کے ساتھ دہشت گردوں کو تکنیکی اور عسکری وسائل بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔" صدر مملکت نے افغانستان کی صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون کی طرح یا اس سے بھی بدتر ہیں۔ اس وقت بھی دہشت گرد تنظیمیں عالمی امن کے لیے خطرہ بنی ہوئی تھیں اور اس کا انجام 11 ستمبر کے سانحے کی صورت میں سامنے آیا۔ آصف علی زرداری نے مزید کہا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ طالبان رجیم کی معاونت کر کے پاکستان کے ساتھ علاقائی اور عالمی امن کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔
آئیے اس موقع پر صدر مملکت سے ایک سوال بحیثیتِ پاکستانی ہم بھی پوچھ لیتے ہیں کہ کیا ہم صرف بیان بازی اور سیاسی و مذہبی جُملوں  کے ذریعے اس مسئلے کو حل کر پائیں گے؟ ہرگز نہیں !  جب تک ہم اپنا گھر صاف نہیں کرتے اور اپنے اقدامات، اصلاحات، اور ٹھوس عزم کے ساتھ دہشت گردوں سے نہیں نمٹتے تو ہمارا مُلک  ہمیشہ اپنی ہمسایہ ریاستوں کی پراکسی وارفیئر کا  شکار رہے گا۔ یہ بجا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف داخلی یا ملکی نوعیت کا نہیں، لیکن اس کا حل بھی صرف بیان بازی نہیں ہے۔
مانا کہ داخلی اصلاحات اور آپریشنل اقدامات جیسے کہ نیشنل ایکشن پلان، مدارس کی اصلاحات، اور دہشت گرد مالی معاونت کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن ان پر عملدرآمد کا فقدان پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ خودکش حملے صرف قانون کی طاقت سے نہیں روکے جا سکتے؟ قومیں اپنی بقاء کے لیے قوانین کے ساتھ شعور اور ذمہ داری کی بھی محتاج ہیں۔ اس کے باوجود افسوس صد افسوس کہ ہم اپنے سیکورٹی اداروں کے اندر  اسی شعور اور ذمہ داری  میں اضافے کیلئے ہر گز کوشاں نہیں۔
ہماری عوام سے بھی یہ گزارش ہے کہ مساجد اور دیگر عبادت گاہوں کی انتظامیہ کا فرض صرف مذہبی رسومات کی نگرانی تک محدود نہیں۔ جہاں انسان اپنی ذمہ داری بھول جائے، وہاں تقدیر بھی اُس کا ساتھ نہیں دیتی۔ انتظامیہ کی چھوٹی چھوٹی غفلتیں، جیسے مسجد میں داخلے کے مقام پر نگرانی کا فقدان، مشکوک افراد پر نظر نہ رکھنا، یا رش کے اوقات میں اضافی حفاظتی انتظامات نہ کرنا، حملہ آور کے لیے راہیں ہموار کرتی ہیں۔ کہیں پر بھی ایسی غفلت  کو دیکھتے ہوئے مساجد و عبادت گا ہوں کی انتظامیہ کو بیدار کرنا ہر شہری کا اوّلین فریضہ ہے۔
سیکورٹی ادارے، جو ریاستی حفاظت کے علمبردار ہیں، اگر پیشگی اقدامات میں سستی دکھائیں تو دہشت گردانہ منصوبے کامیاب ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں کمزور ہونا دراصل کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔ کہیں اطلاعات کی غلط فراہمی، کبھی حساس مقامات کی نگرانی کا ناکافی ہونا، اور بعض اوقات سیکورٹی اداروں کے عوام کے ساتھ رابطے میں خلا کا رہ جانا۔۔۔یہ سب عوامل مل کر حملہ آور کے لیے موقع فراہم کرتے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ امن صرف طاقت سے نہیں بلکہ حکمت اور بیداری سے قائم رہتا ہے۔
خودکش حملوں کا گہرائی سے جائزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی کا مسئلہ صرف دہشت گردوں تک محدود نہیں۔ صرف وہی  مُلک و شہر محفوظ ہوتا ہے جس کے باسی اپنی خامیوں کو پہچان کر اُنہیں سدھارنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ کہیں بھی، کسی بھی معبد، چاہے چرچ ہو، مسجد ہو، مندر ہو یا گوردوارہ، اُس کی انتظامیہ اور ریاستی اداروں کی مشترکہ غفلت حملہ آور کے لیے سازگار ماحول پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں ہم کئی جانیں گنوا چکے ہیں، لیکن ابھی تک ہمیں یہ سمجھ نہیں آئی کہ بروقت اقدامات، واضح ذمہ داریوں کی تقسیم، اور موثر رابطہ کاری سے ان حملوں کو روکا جا سکتا ہے۔ بہرحال حساس مقامات پر غفلت، چاہے لاشعوری ہو یا شعوری، انسانی جانوں کو اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔
ترلائی میں بھی ہزاروں ممکنہ اقدامات، بروقت احتیاط اور ذمہ داری کے ذرائع موجود تھے، لیکن غفلت کی بدولت انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ دہشت گرد حملوں کے بعد صرف حملہ آور کو مورد الزام ٹھہرانا، جبکہ انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا، ایک غیرعاقلانہ اور غیر منطقی رویہ ہے۔ انسان کا حقیقی امتحان دکھوں، پریشانیوں اور بحرانات میں ہوتا ہے۔ اس بحران میں ہمارے لیے یہ درس موجود ہے کہ اس ملک میں منصوبہ بندی، ذمہ داری اور عملی اقدامات کے بغیر انسانی جانیں دوبارہ ضائع ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہے گا، اور معاشرتی اعتماد کی بنیادیں لرزتی رہیں گی۔
دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ  جہاں بیرونی دشمن سے ہے وہیں  ہماری اپنی کمزوریوں، غفلت اور بے عملی سے بھی ہے۔ سانحہ ترلائی کے خون میں نہائے  شہدا اور زخمی ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ رونے دھونے یا بے بسی میں بیٹھنے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں چپ رہیں گے، وہاں خون بہتا رہے گا، اور جہاں بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کیے جائیں گے، وہاں قاتل اپنے قدم  آگے ہی بڑھاتے رہیں گے۔ ہمیں اب اگلے سانحے کا  انتظار کرنے کے بجائے  قبل از وقت  اپنے دفاع کیلئے مضبوط دیواریں کھڑی کرنی ہوں گی  تاکہ  کسی نئے سانحے کو  وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکا جا سکے۔
کیا سانحہ ترلائی نے ہمیں کچھ سکھایا، یا ہم پھر بھی اپنی آنکھیں بند کیے کانٹوں پر چل رہے ہیں؟ جہاں حفاظت کی ذمہ داری سنبھالنے والے غافل ہوں، وہاں خون کے  دریا  رُکنا محال ہیں۔  لہذا اربابِ دانش کے نزدیک جو ذمہ دار اپنی ذمہ داری کو بھول جائیں، وہ بھی شریکِ جُرم ہُوا کرتے  ہیں۔ قارئین محترم! اب آپ خود سوچیں کہ کیا  سانحہ ترلائی کے شریکِ جُرم حقیقی ذمہ داروں کو سزا ملے گی؟ اگر آپ کا جواب نہیں ہے تو پھر ان سانحات کو تکرار ہونے سے روکنا بھی ممکن نہیں۔

دروس/ علمِ رجال/ ڈاکٹر نذر حافی


 سوال 1: علمِ رجال (ʿIlm al-Rijāl – Science of Narrator Evaluation) کیا ہے؟

جواب:
علمِ رجال حدیث شناسی کی وہ شاخ ہے جو راویوں (Narrators) کے احوال کا جائزہ لیتی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کی روایت قابلِ قبول (Acceptable) ہے یا نہیں۔ اس میں عدالت (ʿAdālah – Moral integrity)، وثاقت (Thiqqah – Reliability) اور ضبط (Ḍabt – Accuracy/Precision) جیسے اوصاف کو پرکھا جاتا ہے۔

---

 سوال 2: علمِ رجال کا بنیادی مقصد کیا ہے؟

جواب:
اس کا مقصد یہ طے کرنا ہے کہ کوئی روایت معتبر (Authentic) ہے یا مردود (Rejected)۔ اس کے ذریعے فقہ (Fiqh – Islamic jurisprudence) اور استنباطِ احکام (Istinbāṭ al-Aḥkām – Derivation of legal rulings) میں صحیح بنیاد فراہم کی جاتی ہے۔

---

 سوال 3: علمِ رجال اور علمِ تراجم (ʿIlm al-Tarājim – Biographical Studies) میں کیا فرق ہے؟

جواب:
علمِ تراجم شخصیات کی سوانح حیات (Biography) پر بحث کرتا ہے، چاہے وہ راوی ہوں یا نہ ہوں۔
جبکہ علمِ رجال صرف ان افراد کے حالات کا جائزہ لیتا ہے جو سند (Isnad – Chain of transmission) میں واقع ہوئے ہوں، اور وہ بھی ان کی وثاقت (Reliability) اور عدالت (Moral integrity) کے اعتبار سے۔
ان دونوں کے درمیان عموم و خصوصِ من وجہ (Partial overlap in scope) کا تعلق ہے۔

---

 سوال 4: علمِ رجال اور علمِ درایہ (ʿIlm al-Dirāyah – Hadith Methodology) میں کیا فرق ہے؟

جواب:
علمِ درایہ حدیث کے متن (Matn – Text of Hadith) اور سند (Isnad – Chain of transmission) کے اصولی مباحث سے متعلق ہے، جیسے اقسامِ حدیث اور روایت کے آداب۔
جبکہ علمِ رجال کا موضوع افراد (Narrators) ہیں اور ان کی قابلِ اعتماد حیثیت کا جائزہ لینا ہے۔

---

 سوال 5: علمِ رجال کی نمایاں خصوصیات کیا ہیں؟

جواب:

1. اس کا موضوع صرف وہ افراد ہوتے ہیں جو سندِ حدیث (Chain of transmission) میں شامل ہوں۔
2. اس میں صرف ان صفات پر بحث کی جاتی ہے جو روایت کی قبولیت (Acceptability) یا عدمِ قبولیت (Unacceptability) پر اثر انداز ہوں۔

---

 سوال 6: علمِ رجال کے اولین مصنف کون تھے؟

جواب:
شیعہ منابع کے مطابق، علمِ رجال میں سب سے پہلے کتاب لکھنے والے عبیداللّه بن ابی رافع تھے، جو علی بن ابی‌طالب کے کاتب تھے۔

---

 سوال 7: علمِ رجال کے مشہور علما کون ہیں؟

جواب:
شیعہ علما میں:

 احمد بن علی نجاشی
 محمد بن عمر کشی
 محمد بن حسن طوسی

اہلِ سنت میں:

 شمس الدین ذهبی

معاصر علما میں:

 سید ابوالقاسم خوئی
 سید ہادی غضنفری خوانساری
 سید محمد علی موحد ابطحی

---

 سوال 8: علمِ رجال کا عملی استعمال کیا ہے؟

جواب:
اس علم کے ذریعے معصومین (Maʿṣūmīn – Infallibles) سے منسوب روایات کی صحت (Authenticity) کا تعین کیا جاتا ہے تاکہ انہیں عقائد (Creed/Theology) یا فقہی عمل (Legal practice / Fatwa basis) کی بنیاد بنایا جا سکے۔

---

 سوال 9: سندِ روایت (Isnad – Chain of transmission) کے معتبر ہونے کی شرائط کیا ہیں؟

جواب:

1. روایت کسی معتبر کتاب (Authoritative source) میں موجود ہو۔
2. اس کتاب کی نسبت (Attribution) اپنے مصنف کی طرف صحیح ہو۔
3. مصنف ثقہ (Thiqqah – Reliable) ہو۔
4. روایت مسند (Musnad – With full chain) اور متصل (Muttasil – Uninterrupted chain) ہو۔
5. سند کے تمام راوی ثقہ (Reliable) ہوں۔

اگر یہ تمام شرائط پوری ہوں تو روایت معتبر (Authentic) شمار کی جاتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
متنِ درسی

علمِ رجال (ʿIlm al-Rijāl – Science of Narrator Evaluation) حدیث شناسی کی ایک شاخ ہے جو دینی روایات کے راویوں کی خصوصیات اور حالت کا جائزہ لیتی ہے تاکہ ان کی نقل کی صحت یا کمزوری کو پرکھا جا سکے۔ یہ علم اپنے موضوع کے طور پر خود احادیث نہیں بلکہ راویوں کے احوال کا مطالعہ کرتا ہے اور عدالت (ʿAdālah – moral integrity)، وثاقت (Thiqqah – reliability) اور نقل میں دقت (Precision in transmission) جیسے معیارات کا جائزہ لیتا ہے۔ نتیجتاً علمِ رجال اس بات میں مدد دیتا ہے کہ دینی روایات کو راویوں پر اعتماد کی بنیاد پر قابلِ استناد (Authentic/Authoritative) یا مردود (Rejected) قرار دیا جائے، اور فقہ (Fiqh – Islamic jurisprudence) و استنباطِ احکام (Istinbāṭ al-Aḥkām – derivation of legal rulings) کے اصول میں اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔

پس علمِ رجال دراصل "سلسلۂ راویانِ حدیث" (Chain of Narrators / Isnad) کی شناخت کا علم ہے، خصوصاً ان صفات کی پہچان جو ان کی احادیث کے قابلِ اعتماد ہونے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

---

 علمِ رجال اور علمِ تراجم (ʿIlm al-Tarājim – Biographical Studies) میں فرق

علمِ تراجم (ʿIlm al-Tarājim – Biographical Studies) نمایاں شخصیات جیسے علما، ادبا، دانشوروں، فنکاروں وغیرہ کے حالاتِ زندگی پر بحث کرتا ہے، خواہ وہ احادیث کے راوی ہوں یا نہ ہوں۔

جبکہ علمِ رجال (ʿIlm al-Rijāl – Science of Narrator Evaluation) صرف اسلامی روایات کے راویوں اور محدثین (Muḥaddithīn – Hadith scholars) کے احوال کو ان کی وثاقت (Reliability) اور عدالت (Moral integrity) کے اعتبار سے زیرِ بحث لاتا ہے، چاہے وہ مشہور و معروف شخصیات ہوں یا نہ ہوں۔

لہٰذا ان دونوں علوم کے درمیان "عموم و خصوصِ من وجہ" (Partial overlap in scope) کا تعلق پایا جاتا ہے۔

---

 علمِ رجال اور علمِ درایہ (ʿIlm al-Dirāyah – Hadith Methodology) میں فرق

علمِ درایہ (ʿIlm al-Dirāyah – Hadith Methodology) اس علم کو کہا جاتا ہے جو احادیثِ اسلامی کے متون (Matn – text of Hadith) اور سند (Isnad – chain of transmission) کے اصولی پہلوؤں کے بارے میں بحث کرتا ہے تاکہ ان کی حقیقت، اقسام، احکام، اور حدیث لینے اور نقل کرنے کے طریقوں و آداب کو پہچانا جا سکے۔

اس کے برخلاف، علمِ رجال (ʿIlm al-Rijāl – Science of Narrator Evaluation) کا موضوع اشخاص ہیں، یعنی راوی (Narrator) اور محدثین (Hadith scholars)۔

علمِ رجال کی دو خصوصیات جو اسے علمِ تراجم جیسے علوم سے ممتاز کرتی ہیں:

1. اس کا موضوع صرف وہ افراد ہوتے ہیں جو احادیث کی سند (Chain of transmission) میں موجود ہوں۔
2. ان صفات پر توجہ دی جاتی ہے جو ان کے کلام کی قبولیت (Acceptability) یا عدمِ قبولیت (Unacceptability) پر اثر انداز ہوں، نہ کہ ان کی دیگر صفات پر۔

مزید یہ کہ معلوم ہوتا ہے کہ علمِ رجال اسلامی دور کی پیداوار ہے، جبکہ علمِ تراجم اسلام سے پہلے بھی موجود تھا۔

---

 علمائے رجال

شیعہ منابع کے مطابق، علمِ رجال میں کتاب لکھنے والے پہلے شخص عبیداللّه بن ابی رافع تھے، جو علی بن ابی‌طالب کے کاتب تھے۔ انہوں نے اپنی کتاب کا نام «تسمیة من شهد مع امیرالمؤمنین علیه السلام الجمل و الصفین و النهروان من اصحاب رسول اللّه صلی اللّه علیه و آله» رکھا۔

شیعہ کے نزدیک علمِ رجال کے مشہور ترین علما میں احمد بن علی نجاشی، محمد بن عمر کشی اور محمد بن حسن طوسی شامل ہیں۔ اسی طرح اہلِ سنت کے نزدیک شمس الدین ذهبی کو اہم راوی شناسوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

معاصر علمائے رجال میں سید ابوالقاسم خوئی، سید ہادی غضنفری خوانساری اور سید محمد علی موحد ابطحی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ موحد ابطحی نے متعدد رجالی کتب تصنیف کیں، جیسے: جامع الرواة، طبقات الرواة، قواعد الرجال اور جامع الاخبار۔ ان کی پہلی کتاب «تهذیب المقال فی تنقیح کتاب الرجال» ہے، جو کتاب رجالِ نجاشی کی نہایت دقیق تصحیح شمار ہوتی ہے اور اب تک اس کی پانچ جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔

---

 علمِ رجال کا استعمال

علمِ رجال کا استعمال معصومین (Maʿṣūmīn – Infallibles) سے منسوب روایات کی صحت (Authenticity) یا عدمِ صحت (Inauthenticity) کے تعین میں ہوتا ہے۔ یعنی اگر درج ذیل رجالی شرائط پوری ہوں تو اس بات کو قبول کیا جا سکتا ہے کہ یہ قول معصوم سے صادر ہوا ہے، ورنہ اسے قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی اسے عقائد (Creed/Theology) یا فقہی عمل (Legal practice / Fatwa basis) کی بنیاد بنایا جا سکے گا۔

 سندِ روایت (Isnad – Chain of Transmission) کے معتبر (Authentic) ہونے کی شرائط:

1. مطلوبہ روایت محدثین (Hadith scholars) یا ہمارے علما کی کسی معتبر کتاب (Authoritative source) میں موجود ہو۔
2. اس کتاب کی نسبت (Attribution) اپنے مصنف کی طرف معتبر (Authentic) ہو۔
3. مصنف روایت نقل کرنے میں ثقہ (Thiqqah – Reliable) ہو۔
4. روایت کتاب میں مسند (Musnad – supported with full chain) اور متصل (Muttasil – uninterrupted chain) صورت میں موجود ہو۔
5. سند (Isnad – chain) کے تمام راوی ثقہ (Reliable) ہوں۔

اگر کوئی روایت ان تمام شرائط پر پوری اترتی ہو تو اسے معتبر (Authentic) شمار کیا جاتا ہے۔



معروضی سوالات

 1. علمِ رجال کا بنیادی موضوع کیا ہے؟

A) احادیث کا متن (Matn – Text of Hadith)
B) راویوں کے احوال (Narrators’ Evaluation)
C) فقہی مسائل (Legal Issues)
D) تاریخِ اسلام

درست جواب: B

---

 2. عدالت (ʿAdālah – Moral Integrity) سے کیا مراد ہے؟

A) علمی قابلیت
B) مالی حیثیت
C) اخلاقی دیانت داری
D) کثرتِ روایت

درست جواب: C

---

 3. وثاقت (Thiqqah – Reliability) کا تعلق کس چیز سے ہے؟

A) راوی کی شہرت سے
B) راوی کے حافظے اور اعتماد سے
C) راوی کے نسب سے
D) راوی کے پیشے سے

درست جواب: B

---

 4. علمِ رجال اور علمِ تراجم (ʿIlm al-Tarājim – Biographical Studies) میں بنیادی فرق کیا ہے؟

A) دونوں کا موضوع ایک ہی ہے
B) علمِ تراجم صرف فقہ پر بحث کرتا ہے
C) علمِ رجال صرف سند میں موجود راویوں پر بحث کرتا ہے
D) علمِ رجال تاریخِ انبیا پر مشتمل ہے

درست جواب: C

---

 5. علمِ درایہ (ʿIlm al-Dirāyah – Hadith Methodology) کا تعلق زیادہ تر کس سے ہے؟

A) راویوں کی شخصیت سے
B) حدیث کے متن اور اقسام سے
C) اسلامی سیاست سے
D) علمِ کلام سے

درست جواب: B

---

 6. شیعہ کے نزدیک علمِ رجال کے اولین مصنف کون تھے؟

A) احمد بن علی نجاشی
B) محمد بن حسن طوسی
C) عبیداللّه بن ابی رافع
D) شمس الدین ذهبی

درست جواب: C

---

 7. اہلِ سنت کے معروف رجالی عالم کون ہیں؟

A) محمد بن عمر کشی
B) شمس الدین ذهبی
C) سید ابوالقاسم خوئی
D) سید محمد علی موحد ابطحی

درست جواب: B

---

 8. مسند (Musnad – With full chain) روایت سے کیا مراد ہے؟

A) جس میں متن موجود نہ ہو
B) جس میں مکمل سند موجود ہو
C) جس میں راوی نامعلوم ہو
D) جو ضعیف ہو

درست جواب: B

---

 9. متصل (Muttasil – Uninterrupted chain) سند کا مطلب کیا ہے؟

A) سند میں راویوں کا تسلسل قائم ہو
B) سند مختصر ہو
C) روایت مشہور ہو
D) روایت قدیم ہو

درست جواب: A

---

 10. اگر سند کے تمام راوی ثقہ (Reliable) ہوں تو روایت کو کیا کہا جائے گا؟

A) موضوع (Fabricated)
B) ضعیف (Weak)
C) معتبر (Authentic)
D) مرسل (Mursal)

درست جواب: C

رمضان المبارک سے پہلے موبائل سِم پر گانے بند کریں

🔮 رمضان المبارک سے پہلے موبائل سِم پر گانے بند کریں۔ خود بھی گناہ سے بچیں دوسروں کو بھی بچائیں🔮
اگر آپکی موبائل سم پر گانے لگے ہوئے ہیں تو ان کو بند کروا دیں اس میں آپ کے دو فائدے ہیں ۔ایک تو آپکے جو فضول پیسے ضائع ھوتے ہیں وہ بچ جائیں گے اور دوسرا یہ کہ جتنے لوگ گانا سن کر گنہگار ہوتے ہیں وہ سب گناہ بھی آپ کو نہیں ملے گا۔
جزاک اللّٰہ خیرا
تمام نیٹ ورکس کے کوڈ یہ ہیں۔
 زونگ سے UNR لکھ کر 230 پر بھیج دیں
ٹیلی نار سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں
موبی لنک سے UNSUB لکھ کر 230 پر بھیجیں
 یوفون سے UNSUB لکھ کر 666 پر بھیجیں
 وارد سے RBT OF لکھ کر 7171پر بھیجیں
یہ معلومات سب کو سینڈ کریں۔جتنے لوگ اس پر عمل کر کے اپنی سم سے گانے بند کریں گے ان سب کا ثواب آپ کو بھی ملے گا
اور آپ کے لیے صدقہ جاریہ کا سبب بنے گا اور آخرت میں نجات کا ذریعہ ہوگا۔۔

منگل، 10 فروری، 2026

کتاب "اقبالُ الاعمال" کا تعارف

  کتاب "اقبالُ الاعمال"  کا تعارف

سید ابن طاؤوس رحمۃ اللہ علیہ پوری تاریخِ تشیع میں ایک ممتاز، نہایت عالی مرتبہ اور بے حد محترم شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا روحانی مقام اور معنوی حیثیت بہت بلند ہے۔ وہ عابدین و زاہدین کے راہنما، اعلیٰ کمالات کے مالک، مکاشفات و کرامات کے حامل، اور عارفوں کے پیشوا تھے۔ بزرگ علماء نے ان کی فضیلت و عظمت کی بھرپور تصدیق کی اور ان کے مقام کی بے پناہ تعریف کی ہے۔" اقبالُ الاعمال" دعاؤں اور اعمال کی ایک مستند اور جامع ترین کتاب ہے اور اکثر دعاؤں کا ماخذ یہی کتاب ہے۔ دعاؤں کی کوئی بھی کتاب اس قدر وسعت و تفصیل سے نہ لکھی گئی ہے نہ موجود ہے۔ اس کتاب میں کئی دعائیں ایسی ہیں جو مفاتیح الجنان میں بھی ذکر نہیں ہوئیں۔  اس کتاب کی چند خصوصیات یہ ہیں۔

۱۔کتاب کا اعتبار مصنف کی اعلیٰ  شخصیت اور اعتبار کی  وجہ سے بہت اعلیٰ اور بلند ہے۔

۲۔ اس کتاب میں دعاؤں و اعمال کے ساتھ ساتھ اولیاء کے مقامات اور روحانی اسرار پر ذاتی مشاہدات و نکات درج ہیں۔ مصنف نے عبادات میں اخلاص، اعمال کی پاکیزگی کے طریقے ،  اعمال کے باطل  ہونے اور معصیت میں  بدلنے کے اسباب، حضور قلب اور غفلت سے بچنے کی اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔ نماز، دعا اور دیگر اعمال کے معنوی آداب و اسرار بھی اجاگر کیے گئے ہیں، جو عموماً نظر انداز کیے جاتے ہیں۔"

۳۔ مصنف کی باتیں محض نقل یا تقلید نہیں بلکہ ذاتی تجربہ و مشاہدہ اور دل و جان سے اخذ شدہ ہیں۔

۴۔مصنف کی کتابوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں عقل، نقل اور عرفان باہم یکجا ہیں، یعنی وہ علمی، عملی اور عرفانی تمام مقامات پر فائز تھے۔ حضرت آیت اللہ العظمی شیخ محمد تقی بھجت قدس سرہ فرماتے تھے کہ جس طالب علم نے سیدؒ کی کتابیں نہ پڑھیں، اس نے کچھ نہیں پڑھا۔ خاص طور پر 'اقبالُ الاعمال' کے بارے میں فرماتے جس کے پاس سیدؒ کی کتاب اقبالُ الاعمال نہ ہوتی ہمارے اساتید انہیں اپنا ساتھی نہیں سمجھتے تھے۔ ۔۔۔ جب کبھی کوئی ان سے ماہ رجب، شعبان اور ماہ مبارک رمضان  میں دستور العمل کے بارے میں پوچھتا تو وہ فرماتے تھے:"  اقبال، اقبال، اقبال " اور کہتے تھے :اقبالُ الاعمال سے  بڑھ کر کوئی کتاب نہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کتاب کا تازہ ترجمہ  کیا گیا ہے جوکہ ماہِ مبارک رمضان سے پہلے جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد  سے حاصل کیا جا سکے گا۔ کتاب کے سلسلے میں آپ اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں: 03455398135

آپ کی پسند

پیر، 9 فروری، 2026

سانحہ اسلام آباد۔۔۔ ہم قوم ہیں یا ہجوم؟

سانحہ اسلام آباد۔۔۔ ہم قوم ہیں یا ہجوم؟

ڈاکٹر نذر حافی :

ابھی ۶ فروری کے زخم تازہ ہیں۔ گزشتہ کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ متشدد ملّا اور کمپرومائزڈ ملّا حقیقت میں ایک ہی منصوبے کے دو منظم کردار ہیں۔ آج پھر ان دونوں کرداروں پر مزید کچھ بات کرنی پڑے گی۔ جب تک ہم ان فنکاروں کو نہیں پہچانیں گے، تب تک ہم یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ ہم ایک قوم ہیں یا ہجوم؟۔  یاد رکھئے کہ ایک خنجر ہے تو دوسرا نیام، ایک قتل کرتا ہے، تو دوسرا قتل کو چھپاتا ہے۔ یہ ایسے ایکٹر ہیں جنہیں بظاہر مختلف کردار سونپے گئے ہیں لیکن ان کا مقصد مختلف نہیں۔ دونوں کا ہدف و مقصد ایک ہی ہے کہ  خوف و دہشت کو پھیلانا اور سوال و احتجاج کو روکنا  اور  دبانا۔

ایک طرف متشدد ملّا نفرت کو نعرہ بنا کر، تکفیر اور تشدد کو عبادت اور قاتل کو ہیرو قرار دیتا ہے۔ وہ مذہب کو ہتھیار اور لوگوں کو ایندھن بناتا ہے۔ دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا اسی تشدد کے بعد منظرِ عام پر آتا ہے۔ وہ قتل کو جرم نہیں بننے دیتا، قاتل کے خلاف احتجاج نہیں ہونے دیتا، اور دھڑلے سے شہدا کے خون کو مصلحت، تاویل اور خاموشی کے پردوں میں لپیٹ دیتا ہے۔ وہ قاتلوں کا نام لینے سے واضح طور پر گریز کرتا ہے، قاتلوں کے سرپرستوں اور سہولتکاروں کی خوشامد و چاپلوسی کرتا ہے، اور سوال پوچھنے و احتجاج کرنے کو فتنہ و سیاست قرار دیتا ہے۔ صرف یہی نہیں، وہ احتجاج کو “لاشوں پر سیاست” کہہ کر احتجاج کرنے والوں کو بدنام کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ قاتلوں کے بجائے مقتولین کے لیے آواز اٹھانے والوں کو کوسنے میں جُت جاتا ہے۔

 آپ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا سیاق و سباق ڈھونڈیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف کچھ متشدد ملّا کچھ ہی فاصلے پر میدان گرم رکھے ہوئے ہونگے ، جبکہ دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا کسی پُر تشدد کارروائی کے بعد سماجی فضا کو قاتلوں کے لیے نرم اور قابلِ قبول بنانے میں مصروف نظر آئیں گے۔ ایک حملہ کرتا ہے، دوسرا اُس کی مکروہات کو نارملائز کرتا ہے۔ ایک ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرتا ہے، دوسرا عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ رِٹ پر سوال اٹھانا ہی ریاست دشمنی ہے۔ یوں اس عمل کے نتیجے میں تشدد ایک قابلِ تکرار اور قابلِ ہضم واقعہ بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جنازے پڑھے جاتے ہیں اور لاشیں دفن ہوتی ہیں، لیکن احتجاج نہیں ہوتا۔ اس کے بعد عدل و انصاف کے مطالبے کے بجائے شہدا کے ورثا کو معاوضے کا مطالبہ زور پکڑ لیتا ہے۔

آپ عقل و منطق کو استعمال کریں۔ تھوڑی دیر غور و فکر کریں۔ سوچیں تو سہی۔ ریاستی سلامتی کے تناظر میں یہ دونوں ایک ہی تلوار کی دو دھاریں ہیں کہ  متشدد ملّا لوگوں کو ہلاک کرتا ہے، جبکہ کمپرومائزڈ ملّا اس ظلم کے خلاف بے حسی پھیلاتا ہے۔ ایک جسم کو نشانہ بناتا ہے، دوسرا شعور کو۔ ایک خوف پیدا کرتا ہے، دوسرا خوف کو معمول بنا دیتا ہے۔ جب تک متشدد ملّا کو صرف قاتل اور کمپرومائزڈ ملّا کو اس کا سہولت کار نہیں سمجھا جائے گا، تب تک اس ملک میں کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور ہر بار نئی لاشیں۔ اس دائرے کو توڑنے کے لیے صرف آپریشن نہیں، دماغوں، دلوں اور نیتوں کی صفائی درکار ہے، ورنہ پرانا زہر ہر بار نئی خوراک میں ڈال کر دیا جاتا رہے گا۔یہ واضح سی بات ہے کہ جب متشدد اور کمپرومائزڈ ملّا ایک دوسرے کے لیے منظم طور پر کام کرتے ہیں، تو ریاست سیکیورٹی محاذ کے ساتھ ساتھ اخلاق کے میدان میں بھی ہار جاتی ہے۔ جب دھماکوں کے بعد خاموشی کو حُب الوطنی، اور احتجاج نہ کرنے کو ثوابِ عظیم کہا جاتا ہے، تو اس پر دہشت گرد ہنستے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ریاست کتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ اپنے مظلوم شہریوں کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔

اس تناظر میں متشدد اور کمپرومائزڈ ملاؤں کا سب سے خطرناک فریب یہ ہے کہ وہ ہر ناکامی، ہر سانحے اور ہر سوال کا بوجھ خود قوم پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ  یہ قوم اچھی نہیں، یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، یہ قوم بے شعور ہے، اسے سمجھ ہی نہیں۔” بظاہر یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک منظم چال ہے جس کا مقصد اپنے کرتوت چھپانے کے لیے عوام کی قومی حیثیت کو مجروح کرنا ہے۔ متشدد ملّا اس بیانیے کو اس لیے استعمال کرتا ہے کہ تشدد کو “اصلاح” کہہ سکے۔ جب قوم کو بے شعور ثابت کر دیا جائے تو پھر اس پر لاٹھی، گولی اور دھماکہ بھی “ضرورت” بن جاتا ہے۔ یوں قاتل خود کو منجی اور مقتول کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ یہ وہ منطق ہے جہاں ظلم، علاج اور خون اُس کی دوا قرار پاتا ہے۔

کمپرومائزڈ ملّا اسی بیانیے کو ایک اور سطح پر استعمال کرتا ہے۔ وہ قوم کو نااہل اور ناپختہ قرار دے کر کہتا ہے کہ اسے احتجاج کا حق نہیں، چونکہ اس میں سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں، اور اسے اختلاف کرنے کی تربیت نہیں دی گئی۔ نتیجتاً خاموشی کو دانش، اور اطاعت کو استحکام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں عوام کو سیاسی اور اخلاقی طور پر گرا دیا جاتا ہے۔اس سے عوام بااختیار شہری کے درجے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں جب عوام کو “نہ سمجھنے والا ہجوم”، “جذباتی مجمع” یا “نااہل قوم” قرار دیا جاتا ہے، تو دراصل انہیں شعوری فریق ماننے سے انکار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ان سے احتجاج کرنے اور ریاستی یا مذہبی اختیار سے جواب طلب کرنے کی اہلیت چھین لی جاتی ہے۔ یوں عوام کو مشاورت میں شریک کرنے کے بجائے چند کرپٹ خواص انہیں اپنا مطیع، تابع اور فرمانبردار بنا لیتے ہیں۔

یہ سب زبان اور قلم کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ چند جملے، کچھ لطیفے، چند خطابات اور چند فتوے عوام کو اس مقام سے گرادیتے ہیں جہاں وہ احتساب کر سکتے ہوں۔ نتیجتاً اختیار رکھنے والا فریق خود کو واحد عقلِ کل اور واحد نجات دہندہ کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ عوام کو خاموش رہنے کے قابل یا جانوروں کی طرح نااہل سمجھا جاتا ہے۔اس عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ حقوق کی نفی کو معمول بنا دیتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ بے شعور ہیں، تو ان کے سوال بدتمیزی، ان کا احتجاج فتنہ، اور کہیں پر اُن کا جمع ہونا خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ سادہ لفظوں میں، عوام کو بے شعور اور ایک قوم کے بجائے ہجوم کہنا دراصل ان کے شہری، اخلاقی اور سیاسی حقوق کی بیخ کنی کا حربہ ہے۔

 یہ دعویٰ کہ “قوم بے شعور ہے” دراصل ایک سیلف سروسنگ لیبل ہے۔ اگر قوم کو بے شعور مشہور کر دیا جائے، تو پھر قوم کچھ پوچھنے کا حق ہی نہیں رکھتی، خطیب جواب دہ نہیں رہتا، قاتل ذمہ دار نہیں رہتا، اور سہولت کار بے قصور بن جاتا ہے۔ یہی وہ فریب ہے جو احتساب کو ناممکن اور اصلاح کو غیر ضروری بنا دیتا ہے۔ سیلف سروسنگ لیبل سے مراد وہ نام، الزام یا شناخت ہے جو کوئی طاقت ور فریق دوسروں پر اس نیت سے چسپاں کرتا ہے کہ اس کا فائدہ خود اٹھا سکے اور جواب دہی سے بچ نکلے۔ یہ لیبل کسی سماجی حقیقت کی وضاحت نہیں کرتا بلکہ ایک منظم بیانیاتی حربہ ہوتا ہے، جس کا مقصد اپنی پوزیشن کو محفوظ اور مضبوط رکھنا ہوتا ہے۔اسی تناظر میں جب متشدد یا کمپرومائزڈ ملّا یہ کہتا ہے کہ “قوم اچھی نہیں”، “یہ قوم نہیں ہجوم ہے” یا “یہ لوگ بے شعور ہیں”، تو یہ الفاظ کسی تجزیے کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ ایک سیلف سروسنگ لیبل ہوتے ہیں۔ اس لیبل کے ذریعے خرابی کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے تاکہ اپنی ناکامی، اپنی خاموشی یا اپنی چالوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

یہ لیبل سب سے پہلے ذمہ داری کو منتقل کرتا ہے۔ جب قوم ہی کو نااہل ثابت کر دیا جائے، تو پھر نہ خطیب جواب دہ رہتا ہے، نہ قاتل، نہ سہولت کار۔ ہر خرابی عوام کی قرار پاتی ہے اور ہر اختیار خود ساختہ نجات دہندگان کے ہاتھ میں محفوظ ہو جاتا ہے۔دوسرے مرحلے میں یہی لیبل جبر کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر قوم “بے شعور” ہے، تو اس پر سختی، خاموشی اور کنٹرول ظلم نہیں بلکہ ضرورت بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ اختلاف فتنہ اور سوال بدتمیزی قرار پاتا ہے، جبکہ ظالموں کی اطاعت کو دانش اور استحکام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آخرکار یہ بیانیہ احتساب کے پورے تصور کو باطل کر دیتا ہے۔ اگر عوام سمجھ ہی نہیں سکتے، تو پھر جواب دینے، وضاحت کرنے اور اصلاح کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یوں طاقت ور خواص خود کو اخلاقی اور عملی طور پر احتساب سے بالاتر ثابت کرنے لگتے ہیں۔

 سادہ لفظوں میں، سیلف سروسنگ لیبل وہ آئینہ ہے جو دوسروں کو نالائق اور خود کو معصوم دکھانے کے لیے گلی گلی میں گھمایا پھرایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ قوم ہجوم نہیں ہے، اسے جان بوجھ کر ہجوم کہا جاتا ہے۔ نیز اسے مسلسل دہشت گردی، مسلسل خاموشی، اور مسلسل تضحیک کے ذریعے ہجوم ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جب سوال دبایا جائے، معلومات روکی جائیں اور اختلاف کو گناہ بنا دیا جائے، تو شعور نہیں مرتا، شعور کو منجمد کر دیا جاتا ہے۔ پھر اسی منجمد شعور کو دلیل بنا کر مزید جبر کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔عوام کے بے شعور ہونے کا بیانیہ کرپٹ خواص اور عوام کے درمیان آخری پل کو بھی گرا دیتا ہے۔ جب عوام کو نااہل ثابت کر دیا جائے، تو خواص خود کو جواب دہ سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں، اور جب خواص جواب دہ نہ رہیں، تو کرپشن کی اصلاح ہونے کے بجائے اُسے ایک نظام کی شکل مل جاتی ہے۔ عوام کو بے شعور ثابت کر کے متشدد اور کمپرومائزڈ ملّا ہر دھماکے کے بعد اپنے اصل مقصد میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

ایک بات سمجھ لیجئے کہ  جو قوم کو ہجوم کہتا ہے، وہ دراصل خود کو احتساب سے بالاتر کرنا چاہتا ہے,  اور جو پاکستان جیسی شہدا پرور قوم کے ملی شعور کا انکار کرتا ہے، وہ درحقیقت مزید ظلم کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومیں دھماکوں سے کم، اور بے حسی سے زیادہ مرتی ہیں۔

آپ کی پسند

اتوار، 8 فروری، 2026

سانحہ ترلائی اور کمپرومائزڈ مُلّاں

سانحہ  ترلائی  اور کمپرومائزڈ  مُلّاں:
ڈاکٹر نذر حافی :
برسوں سے پاکستان میں عبادت گاہیں محفوظ نہیں۔ انہیں ہائی رسک ٹارگٹس کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس کے باوجود  سانحات کو روکنے میں ہم مسلسل ناکام چلے آ رہے ہیں۔ آج ہر شخص کے ذہن میں یہ سوال سُلگ رہا  ہے کہ اگر  پاکستان میں عبادت گاہیں پہلے ہی حساس مراکز میں شمار ہوتی  ہیں تو پھر کیا ترلائی جیسے علاقے  میں نماز جمعہ کے اجتماع کے  حوالے سے انٹیلی جنس ادارے لاعلم تھے؟  اور اگر  انہیں معلومات تھیں تو اضافی سیکیورٹی کا بندوبست کس نے کرنا تھا؟  
 ہمارے نزدیک اصل  مسئلہ سیکیورٹی بندوبست کی کمی کے بجائے پاکستان کے دارالحکومت میں  افغانستان اور ہندوستان کے کارندوں کی کامیاب کارروائی کا ہے۔یقیناً پاکستان کے  مختلف  سیکورٹی اداروں کے  پاس یا تو معلومات نہیں تھیں اور یا پھر ان کے درمیان  یہ معلومات بروقت اور مکمل طور پر شیئر  نہیں ہوئیں۔  اگر کسی ایک ادارے کے پاس جزوی معلومات تھیں بھی  تو کیا وہ باقی نظام تک مؤثر انداز میں پہنچیں؟  اور یا ہمارا انٹیلی جنس سسٹم  آج بھی  فرسودہ اور کہنہ طریقوں پر گامزن  ہے۔ یہ بھی  سوچنے کی بات ہے کہ دارالحکومت جیسے شہر میں سیکیورٹی کا تصور آخر کس چیز کے گرد گھومتا ہے؟ کیا یہ ایک حقیقت ہے کہ  ہمارے سیکورٹی اداروں کی  اصل توجہ “اہم شخصیات” پر ہے اور ان کیلئے  “پبلک مقامات” ثانوی حیثیت رکھتے ہیں؟  کہیں عبادت گاہوں اور پبلک مقامت کو  سیکورٹی کے حوالے سے  اس لیے تو نظرانداز نہیں کر دیا جاتا ہے کہ  وہاں سیکیورٹی ناکامی سیاسی بحران میں تبدیل نہیں ہوتی؟  وہاں سادہ لوح لوگوں کو یہ کہہ کر لاشیں دفنا دی جاتی ہیں کہ  احتجاج کرنا  تو لاشوں پر سیاست کرنا  ہے لہذا اپنی  اپنی لاشوں کو دفناو اور گھروں میں دبک کر بیٹھ جاو۔
لاشوں پر سیاست کے حوالے سے دو طرح کے مُلّاوں کو  بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے کافر کافر کے نعرے لگا کر ملک کے گلی کوچوں کو خون سے رنگین کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے اس خون پر پردہ ڈالا۔ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے جٹے بٹے  اور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔  یہ ایک ہی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ایک خون بہاتا ہے اور دوسرا خون چھپاتا ہے۔ ایک کو خون بہانے کا معاوضہ ملتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے کا ۔ ایک کو قاتلوں   کے  نیٹ ورکس کا قائد بنایا جاتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے والے گروہ کا قائد۔ ان کمپرومائزڈ ملاوں  کے گٹھ جوڑ سے انتہا پسندی کو نظریاتی غذا ملتی ہے، فرقہ واریت جڑیں پکڑتی ہے، اور معاشرہ مستقل عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام ریاست پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور  دشمن قوتوں کو اندرونی کمزوریوں اور باہمی عدمِ اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا  بار بارموقع ملتا ہے۔
ملکی سیکورٹی کے لیے یہ  متشدد اور کمپرومائزڈ مُلّاں   ایک ہی زہر کی دو خوراکیں ہیں۔ ایک زہر کا انجکشن ہے اور دوسرا کیپسول۔  ایک تشدد کو مذہبی نعرے دے کر کھلے عام پھیلاتا ہے، اور دوسرا اسی تشدد کو خاموشی، تاویل اور مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام لوگوں کا  ریاست  اور مُلک سے اعتماد ہی اُٹھ جاتا ہے۔ یہ دونوں گروہ عوام اور ریاست کو مکالمہ ہی نہیں کرنے دیتے۔ایک تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا خاموش ہوجاو! خاموش ہو جاو! کی تلوار لہراتا ہے۔ واضح بات ہے کہ جب لوگوں کو زبردستی خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ مطمئن بھی نہیں ہوتے۔  سوال اٹھانے والے اور احتجاج کرنے والے کو جب لاشوں پر سیاست کرنے والا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ کسی خاموش آتش فشاں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔
خون پر پردہ ڈالنے والا طبقہ انصاف کے پورے نظام کو بدنام  کر دیتا ہے۔ جب لوگوں کو احتجاج ہی نہیں کرنے دیا جاتا تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ساری ریاست ہی اُن کے خلاف ہے۔ جب یہ عدمِ اعتماد جنم لیتا ہے تو پھر  ریاست اندر سے ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے۔یوں قوم کسی ایک حملے سے نہیں بکھرتی لیکن  حقِ احتجاج چھین لینے سے کھوکھلی ہوکر بکھر جاتی ہے۔ مُتشدد  مُلّا  عام لوگوں کا  خون بہاتا ہے، اور  کمپرومائزڈ مُلا اسی خون کو  قابلِ ہضم بناتا ہے۔  
ہماری رائے یہ ہے کہ سانحہ ترلائی کے شہدا کے خون کو "قابلِ ہضم" بنانے کے بجائے  عوام کو اپنی  ریاست سے یہ پوچھنے دیجئے کہ  کیا ہماری سیکیورٹی حکمتِ عملی صرف ردِعمل تک محدود ہے یا حملے سے پہلے مداخلت اور نیٹ ورک توڑنے کی حقیقی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟ حملوں کے بعد ہونے والی گرفتاریاں کیا واقعی دشمن کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں یا ہمیشہ کی طرح نچلی سطح کے کردار ہی سامنے آتے ہیں؟ اسی طرح دہشت گردوں و سہولت کاروں کے سماجی، فکری اور نظریاتی پس منظر کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟
ہمارے سیکورٹی اداروں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ جیسےنفرت انگیز خطبات اور تقاریر ملک کیلئے خطرہ ہیں، اُسی طرح عوام کو ناراض کرنے کیلئے   خوشامدی و چاپلوس  ملاوں کا  بیانیہ بھی کم خطرناک نہیں؟  لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر بڑے حملے کے بعد یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور سبق سیکھا جائے گا لیکن  کیا واقعی آزاد، شفاف اور غیر رسمی پوسٹ ایونٹ ریویو ہوتا ہے؟ کیا ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا چند بیانات کے بعد معاملہ فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے؟ اور سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اپنی پالیسی مفروضات کو چیلنج اور چینج کرنے کے لیے تیار بھی ہیں؟
ترلائی کے خودکش دھماکے کو  اگر محض ایک سیکیورٹی واقعہ سمجھا جائے تو یہ تجزیہ ادھورا رہے گا۔ اس واقعے نے در اصل ہماری ریاست پاکستان کی  ساکھ  کو نقصان پہنچایا ہے۔ دارالحکومت میں یہ  حملہ ہر پاکستانی پر حملہ ہے۔ دشمن نے اس حملے کے ذریعے یہ  پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کی رِٹ ہمہ گیر نہیں رہی۔ یہ کم وسائل کے ذریعے زیادہ خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی لیے ایسے حملے جانی نقصان تو کرتے ہی ہیں ساتھ  ریاستی اعتماد کو بھی زِک پہنچاتے ہیں۔دارالحکومت میں ایک عبادت گاہ کا انتخاب بھی  حساب شُدہ  ہے۔ وہ تشدد جو حساب شُدہ  بنیادوں  پر کیا جائے، معاشرے میں دیرپا دراڑیں پیدا کرتا ہے۔ ایسی دراڑیں ریاست کی توجہ کو بیک وقت کئی سمتوں میں بانٹ دیتی ہیں اور اُس کی  فیصلہ سازی کی صلاحیّت کو کمزور بنا دیتی ہیں۔
 اس تناظر میں سانحہ ترلائی  ایک اسٹریٹجک ٹول ہے، جس کا مقصد ریاستِ پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنا ہے۔پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے حوالے سے کمپرومائزڈ اور خوشامدی ملاؤں کا کردار انتہائی اساسی نوعیت کا ہے۔ تشدد ہونے کے بعد  کمپرومائزڈ  ملاوں کا طبقہ تشدد کے لیے  دینی و اخلاقی جواز کی فضا تیار کرتا ہے۔ منطقی طور پر، کوئی بھی پُرتشدد تحریک اس وقت تک پنپ نہیں سکتی جب تک اسے سماج میں کم از کم خاموش قبولیت حاصل نہ ہو۔ معاشرے میں تشدد کی  یہ قبولیت اکثر کھلی حمایت سے نہیں بلکہ میٹھی خاموشی، مبہم بیانات اور غیر متوازن مذمت سے پیدا ہوتی ہے۔یہ مذہبی بیانیہ جب تشدد کو صراحتاً رد کرنے کے بجائے اسے عقیدے، تاریخ یا مظلومیت کے مبہم حوالوں میں لپیٹ دیتا ہے تو وہ فرد  اور ریاست کے اخلاقی و قانونی  فیصلے کو معطل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً تشدد معاشرے میں  ایک غیر معمولی جرم کے بجائے ایک “قابلِ ہضم فعل” کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔
ہائبرڈ وار کے نظریے کے مطابق خوشامدی ملّا اسی چین کا وہ حلقہ ہے جو تشدد کو سماج میں رواج دینے کیلئے قابلِ ہضم بناتا  ہے اور اِسے قابلِ ہضم بنانے کے عمل کو ثواب اور عظیم عبادت گردانتا ہے۔  اس طرح شدت پسندی حاشیے سے نکل کر معاشرے کی رگ رگ میں دوڑنی لگتی ہے۔ایسے مواقع پر ریاست کا ذمہ دارانہ  ردِعمل عوام کیلئے  خود ایک دلیل ہوتا ہے۔ عوام کو احتجاج کرنے دیں، سوال اٹھانے دیں اور ریاست کو دلائل سے عوام کو قائل کرنے دیں۔ اسی سے عوام اور ریاست ایک دوسرے کے  نزدیک ہونگے جبکہ دشمن ناکام اور دور۔   کہیں پر بھی ایک پائیدار ریاستی رِٹ صرف  اس وقت قائم ہوتی ہے جب  ریاست، اور عوام  ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں۔ جہاں ان میں تضاد ہو، وہاں شدت پسند  فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ترلائی کا سانحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی نہ تو محض ایک دن کا واقعہ ہے اور نہ ہی صرف خود کُش دھماکوں کا مسئلہ۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے جسے زبردستی کے بجائے سوچ سمجھ کر روکنے کی ضرورت ہے۔  اگر ریاست اس عمل کو صرف ردِعمل کے دائرے میں رکھے گی تو نتائج بھی وقتی ہوں گے۔  دیرپا نتائج کیلئے ہمیں متشدد ملاوں کی طرح کمپرومائزڈ ملاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے ورنہ  ہر خود کُش دھماکے کے بعد ہم  اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جسے دشمن نے دھماکے سے  پہلے ہمارے لئے  کھینچا تھا۔
بقولِ اقبال:
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
 

جمعرات، 5 فروری، 2026

۵ فروری۔۔۔پاکستان کے تاریخی کردار کو سلام


۵ فروری۔۔۔پاکستان کے تاریخی کردار کوسلام  :
ڈاکٹرنذر حافی  :
آج دنیا میں نہ ہندوستان سے کوئی پوچھنے والا ہے اور نہ اسرائیل سے۔ کشمیر فلسطین سے بھی زیادہ مظلوم واقع ہوا ہے۔ دنیا میں اسرائیل کے مظالم پر تو بات ہوتی ہے لیکن ہندوستان کے جبرواستبداد  پر کوئی بات نہیں کرتا۔ ایسے میں پاکستانی ہر سال ساری دنیا میں  ۵ فروری کویومِ یکجہتی کشمیر مناتے ہیں۔ یہ دن ملتِ پاکستان  کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ایک عہد کی تجدید کے طور پر منایا جاتا ہے۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانے، اور ظلم کے مقابلے میں  خاموش نہ رہنے کے عہد کی تجدید۔  کشمیر اور فلسطین یہ دونوں خطے جغرافیائی طور پر ایک دوسرے سے دور ہیں لیکن  مقبوضہ ہونے کے ناتے، جبر کے رائج طریقوں اور عالمی بے حسی کے رویّوں  کے تناظر میں حیرت انگیز حد تک ان کے درمیان مماثلت پائی جاتی ہے۔ ایک المیہ پہاڑوں کی خاموش وادیوں میں رقم ہوا ہے، اور دوسرا سمندر کے کنارے ملبے اور لاشوں کے درمیان۔ ان دونوں خِطّوں میں انصاف کو مؤخر کرنے کا نام امن رکھ دیا گیا ہے  ۔
فلسطین کی مانند گزشتہ دہائیوں میں مقبوضہ کشمیر میں تشدد کو  طاقت کے  کے طور پر  ایک منظم حکمتِ عملی کے طور پر مسلسل اپنایا جارہا ہے۔آئے روز  پیلٹ گنز کے ذریعے آنکھوں کو نشانہ بنایا گیا تاکہ سچ دیکھنے والی آنکھ ہی باقی نہ رہے۔ نوجوانوں کو گھروں سے اٹھا کر نامعلوم ٹارچر سیلوں میں منتقل کیا گیا، جہاں جسمانی اذیت، ذہنی دباؤ اور جبری اعترافات روزمرہ کا معمول ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات  سے  خوف کو لوگوں پر مسلط کیا گیا  تاکہ ہر  شخص خود کو گولی کا اگلا ممکنہ نشانہ سمجھے۔
بظاہر  غزہ میں تشدد کی نوعیت کچھ مختلف ہے لیکن  مقصد وہی ہے۔ وہاں  ٹارچر سیلوں کے ہمراہ  کھلے آسمان تلے بمباری بھی ہوتی ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ میزائلوں کی بارش بھی ہوتی ہے۔ وہاں بھی پورے کے  پورے خاندان کو ایک ہی حملے کے ساتھ ختم کیا جاتا ہے، اور اجتماعی قتل کو دفاعی حکمتِ عملی کا نام دے دیا جاتا ہے۔ نہ واردات تبدیلی ہوتی ہے اور نہ طریقہ واردات۔ پوچھنے اور  روکنے و ٹوکنے  والا جو کوئی نہیں۔
ان دونوں خطوں میں جبر کا ایک اور مشترک پہلو اطلاعات و معلومات کا قتل ہے۔ کشمیر میں طویل عرصے تک انٹرنیٹ کی بندش، صحافیوں کی گرفتاری، اخبارات پر پابندیاں اور پریس کو خاموش رکھنے کے حربے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہاں گولی کے ساتھ سچائی کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ بالکل جیسے غزہ میں صحافی براہِ راست نشانہ بنتے ہیں، میڈیا دفاتر تباہ کیے جاتے ہیں، اور مواصلاتی نظام کو مفلوج کر دیا جاتا ہے تاکہ لاشوں کی گنتی بھی دنیا تک مکمل نہ پہنچ سکے۔ اسی طرح کشمیر میں بھی یہ سب جاری ہے۔  انٹرنیٹ، پریس، میڈیا اور صحافیوں کا ناطقہ بند کر کے ہندوستانی مظالم کو  جائز قرار دیتے ہوئے مقبوضہ وادی میں موجود گھٹن کو آسانی سے “پیچیدہ صورتحال” قرار دے  دیا جا تاہے۔
ہندوستانی میڈیا اور  اداروں کا سب سے خطرناک ہتھیار اِن کے وہ جُملے ہوتے جن میں  ریاستی تشدد، ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی سزا کو “دونوں فریقوں کی کشیدگی” کہہ دیا جاتا ہے۔ جب ان کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ “دونوں جانب سے تحمل کی ضرورت ہے” تو دراصل قابض فورسز  اور محصور آبادی کو ایک ہی  سطح پر لا کھڑا کیا جاتا ہے۔ ایسی بولی جانے والی یہ  زبان خود ایک آلہ قتل ہے۔یہ بیانیہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بارہا آزمایا گیا۔ جب ماورائے عدالت قتل ہوئے تو کہا گیا “سکیورٹی خدشات” ہیں۔ جب ٹارچر سیلوں کی شہادتیں سامنے آئیں تو “ثبوت ناکافی” قرار دیے گئے۔ جب انٹرنیٹ بند کر کے پوری وادی کو دنیا سے کاٹ دیا گیا تو اسے “عارضی انتظام” کہا گیا۔ سوال یہ ہے کہ آخر لاش، اندھی آنکھ اور انٹرنیٹ پر پابندی سے بڑھ کر  دنیا کو بھارتی مظالم کا اور کون سا ثبوت درکار ہے؟
دوسری طرف آج غزہ ایک کھلے قبرستان کی صورت اختیار کر چکا ہے، جس پر سفارت کاری کی ایک دبیز چادر تان دی گئی ہے۔ یہ نام نہاد امن بورڈ درحقیقت وقفۂ قتل کی کمیٹیاں ہیں جو تشدد کو روکتی نہیں بلکہ اس کی رفتار کو اس انداز سے منظم کرتی ہیں کہ عالمی میڈیا اور عالمی ضمیر دونوں باری باری سانس لے سکیں۔
یہی پسِ منظر  “غزہ امن بورڈ”  کا بھی ہے۔ یہ ادارہ  امن کا علمبردار  دکھائی تو دیتا ہے لیکن در حقیقت  طاقتوروں کے بیانیے کا منتظم ہے۔  ایسے ادارے خون کے دریا کے کنارے بیٹھ کر پانی کی سطح ماپتے ہیں، اور ٹارچر سیلوں، اجتماعی قبروں اور مسخ شدہ لاشوں کا ذکر ان کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہوتا۔ ہر بڑے سانحے کے بعد ایک اجلاس، ہر اجلاس کے بعد ایک بیان، اور ہر بیان کے بعد وہی خاموشی یہی ان کی راہ و روش  ہے۔
ایسے ماحول میں پاکستان کا ریاستی مؤقف ایک نمایاں اخلاقی فرق کے طور پر سامنے آتا ہے۔ پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے معاملے میں مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ یہ محض سرحدی تنازعات نہیں بلکہ انسانی حقوق، ریاستی تشدد اور حقِ خودارادیت کا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پیلٹ گنز، کرفیو، ٹارچر سیلوں اور پریس بلیک آؤٹ کو پاکستان نے ہمیشہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پاکستان کیلئے ہمیشہ  اقوامِ متحدہ کی قراردادیں رسمی کاغذات کے بجائے  اصولی جدوجہد کی بنیاد رہی ہیں۔
فلسطین کے معاملے میں بھی پاکستان ان چند ممالک میں شامل رہا ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی سیاسی و معاشی قیمت ادا کی لیکن اخلاقی مؤقف ترک نہیں کیا۔ جب غزہ میں ٹارگٹ کلنگ اور اجتماعی بمباری کو “دفاع” کہا گیا، تو پاکستان نے اسے واضح طور پر جارحیت قرار دیا۔ مسئلہ فلسطین و کشمیر پر  جب بھی قاتل اور مقتول کو ایک ہی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تو  پاکستان نے واضح کیا کہ ظلم کے معاملے میں غیر جانبداری ممکن نہیں۔
تاہم یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت اختیار کر کے پاکستان نے کیا کھویا اور کیا پایا۔ اربابِ اقتدار کو  اس بورڈ میں اپنی  شمولیت کا از سرِ نو جائزہ لینا چاہیے۔  اس شمولیت نے پاکستانی کی اخلاقی حیثیت  کو دھندلا دیا ہے جو برسوں سے پاکستان کے مؤقف کی شناخت تھی۔ ایک ایسا فورم جو ٹارچر، ٹارگٹ کلنگ اور میڈیا بلیک آؤٹ جیسے جرائم کو محض “تشویشناک صورتحال” کہتا  ہے، اُس کا حصّہ بننے سے پاکستان کی تاریخی  آواز بورڈ کے اجتماعی بیانات کے شور میں گم ہوتی محسوس ہو رہی ہے۔ اس فیصلے کے بدلے  میں پاکستان کی وہ اخلاقی برتری خطرے میں پڑ گئی ہے  جو اس کا اصل سرمایہ تھی۔
یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کےریاستی مؤقف کے ساتھ ساتھ کشمیر اور فلسطین کے معاملات میں پاکستانی عوام کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عوامی سطح پر احتجاج، دعائیں، امدادی مہمات، اور اظہارِ یکجہتی اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی عوام نے ریاستی تشدد، ٹارچر سیلوں اور میڈیا خاموشی کو کبھی معمول نہیں مانا۔ ان مسائل کو جہاں حکومت نے  خارجہ پالیسی کے طور پر اٹھایا وہیں عوام نے بھی ہمیشہ  ان مسائل کو اجاگر کرنے کو  ایک اخلاقی فریضہ سمجھا۔
یقیناً پاکستان  میں بھی حالات ایک جیسے نہیں رہتے۔ یہاں بھی سیاسی تضادات، سفارتی  کمزوریاں اور وقتی مصلحتیں موجود رہتی ہیں،لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ پاکستان کی ریاست اور عوام دونوں کی سطح پر پاکستانیوں نے کشمیر اور فلسطین کو کبھی تجارتی یا نمائشی مسئلہ نہیں بنایا۔ نہ ہی ان مسائل کو لے کر این جی او صنعت کھڑی کی گئی، نہ امن کانفرنسوں کو کاروبار بنایا گیا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان نے اسلامی جمہوریہ ایران کی مانند  کشمیر اور فلسطین کے معاملات کو کبھی مالی یا تجارتی مواقع بنانے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ بعض ممالک یا تنظیمیں ان مسائل پر کام کو ایک فلاحی یا امدادی صنعت میں تبدیل کر دیتی ہیں جہاں این جی اوز (غیر سرکاری تنظیمیں) بس فنڈز اکٹھا کرنے، کانفرنسیں منعقد کرنے، یا میڈیا میں سرگرم رہنے کے لیے کام کرتی ہیں، اور اُن کا  اصل مقصد انسانی حقوق یا انصاف کی جدوجہد نہیں  ہوتا۔ دنیا میں بعض ممالک اور بین الاقوامی ادارے ایسے ہیں جو پروپیگنڈا یا نمائشی کانفرنسیں منعقد کر کے پیسہ کماتے ہیں، میڈیا میں موجودگی بڑھاتے ہیں، یا سیاسی اثر و رسوخ حاصل کرتے ہیں، لیکن اصل انسانی مسئلہ یا انصاف پس پشت رہ جاتا ہے۔ہم  نے ان مسائل کو اخلاقی، انسانی اور اصولی معاملہ سمجھا، نہ کہ تجارتی یا پیشہ ورانہ مواقع پیدا کرنے والا کوئی موقع۔ ہمارے اور دنیا کے دیگر “ ممالک” کے درمیان یہ ایک  واضح فرق ہے۔ ایک طرف قانون،  اصول اور اخلاق ہے جبکہ  دوسری طرف ظاہر سازی اور سودے بازی۔
بڑی طاقتوں اور اقوامِ متحدہ کا طرزِ عمل بھی کسی سے ڈحکا چھپا نہیں۔ ہر لاش پر ایک بیان، ہر ٹارچر سیل پر خاموشی، ہر صحافی کی موت پر رسمی افسوس، اور ہر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ پر “صورتحال کا جائزہ”۔  بہر حال یہ بیانات محض لفظی کفن ہیں جو لاشوں کو ڈھانپتے ہیں، انصاف کو نہیں۔حقیقت یہی ہے کہ جہاں انصاف طاقت کے تابع ہو جائے، وہاں امن قائم ہونے کے بجائے لاشیں گرنے کا درمیانی  وقفہ بن جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار اسلامی جمہوریہ ایران کی مانند ان ممالک میں ہوتا ہے جنہوں  نے کم از کم یہ جرم نہیں کیا کہ تشدد، ٹارچر اور قتل کو غیر جانبداری کا نام دے اور پاکستانی عوام نے بھی ان جرائم کو قبول کرنے سے ہمیشہ انکار کیا ہے۔جب بھی  کوئی   ایمانداری سے تاریخ کا مطالعہ کرے گا تو  وہ اسلامی جمہوریہ  پاکستان اور اسلامی جمہوریہ ایران  کے اس  انکار کو مظلوموں کے حق میں سب سے بڑی اخلاقی گواہی قرار دے گا۔
شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی مسئلہ  کشمیر زندہ ہے اور مسئلہ  فلسطین سانس لے رہا ہے  چونکہ پاکستان اور پاکستانی  عوام،کبھی بھی  کشمیر اور فلسطین کی حمایت سے دستبردار نہیں ہوئے۔۵ فروری کا دن جہاں مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا دِن ہے وہیں مظلوموں کی حمایت میں پاکستان کے تاریخی کردار کو سلام پیش کرنے کا دن بھی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستانی ریاست اور عوام نے ہمیشہ انسانی حقوق، انصاف اور مظلوموں کے حق میں اپنی آواز بلند رکھی، چاہے عالمی دباؤ کتنا بھی شدید ہو۔ یہ دن صرف ایک تاریخ  ہی نہیں  بلکہ  پاکستانیوں کی طرف سے مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ایک عہد بھی ہے۔ انصاف کے لیے آواز اٹھانے، اور ظلم کے مقابلے میں  خاموش نہ رہنے کا عہد۔

بدھ، 4 فروری، 2026

اتوار، 1 فروری، 2026

ہفتہ، 31 جنوری، 2026

امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟

امریکہ و ایران  سے ہم نے کیا سیکھا؟
ڈاکٹر  نذر حافی :
دنیا کو  ٹرمپ پر  اعتماد نہیں کہ وہ  ایران پر حملہ کرے گا۔ یہ سب جانتے ہیں کہ امریکہ کی سیاست  اصولوں پر نہیں، مفادات اور سرخیوں پر کھڑی ہے۔ امریکی سیاستدان   جنگ کو بھی کاروباری سودے کی طرح دیکھتے ہیں،  فائدہ ہوتا نظر آئے  تو بیان بازی میں آگے آگے، نقصان کا اندیشہ ہو تو پیچھے پیچھے۔  البتہ  ایران کے بارے میں  یہ  یقین  سب کو ہے  کہ ایران اپنی خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں  کر ے گا۔ جمہوری اسلامی ایران نے انقلاب کے بعد اپنی خودمختاری پر کسی سودے بازی کے بغیر  پابندیاں جھیلیں، اور سیاسی و سفارتی  تنہائی برداشت کی ۔ اس کی ریاستی سوچ جہاں  دفاعی ہے وہیں غُلامی  سے کوسوں دور۔ جہاں  دنیا کی دیگر ریاستیں دباؤ کے آگے جھک کر وقتی مفادات خرید لیتی ہیں، وہاں ایران نے اپنی مزاحمت و مقاومت سے دنیا کو  مسلسل یہ پیغام دیا ہے کہ خودداری کی قیمت ہوتی ہے، یہ بے قیمت نہیں ہوتی ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کی سیاست فوری  معاشی مفادات  کی اسیر ہے اور  ایران کی سیاست طویل المدت مزاحمت کی قائل۔ ایک طرف ٹوئٹس ہیں جو پالیسی بن جاتے ہیں اور  دوسری طرف نظریہ ہے جو نسل در نسل  منتقل ہورہا ہے۔ ایک طرف  امریکی  ریاست  دوسروں پر دباؤ  ڈال کر  اپنی ساکھ بچانے کی خاطر   طاقت کا ڈھول پیٹنے میں مصروف ہے اور طرف ایرانی ہیں جو مقاومت و مزاحمت سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
صورتحال یہ ہے کہ   اس وقت امریکہ  اپنے گرم و نرم اسلحے کے ساتھ ایران کے سامنے آ چکا ہے۔ جنگ کا یہ ماحول گرم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ سرد جنگ کے بعد امریکہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ وہ ریاستیں ہیں  جو اس کے سیاسی، معاشی اور نظریاتی غلبے کو قبول کرنے سے انکار کرتی ہیں اور اب  ایران اسی انکار کی علامت بن گیا ہے۔
امریکہ کے لیے ایران ایک مسلسل چیلنج  کی حیثیت اختیار کر چکاہے۔ ایران کا علاقائی اثرورسوخ چاہے وہ عراق، لبنان، فلسطین، شام یا یمن میں ملیشیا کے ذریعے ہی  ہو بہر حال  امریکی اثر و رسوخ کے لیے مستقل دھچکا ہے۔ ایرانی مقاومتی اتحاد ی صرف  مقامی تنازعات تک محدود نہیں وہ  امریکہ کے عالمی مفادات، اس کے اتحادیوں اور بین الاقوامی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
  1979 کے بعد  کی  تاریخ اٹھاکر دیکھیں۔ اسلامی جمہوریہ  ایران نے اسلامی انقلاب کے بعد کسی دوسرے ملک کے خلاف براہِ راست جارحانہ جنگ کا آغاز نہیں کیا۔ اس کے باوجود یران ،  امریکہ  اور اس کے حاشیہ برداروں کی زد پر ہے۔ ان کی طرف سے صبح و شام  یہ راگ الاپا جاتا ہے کہ ایران  دوسرے ممالک  پر اپنا انقلاب نافذ کرنے کے درپے ہے۔وہ ایران کو مسلسل دہشت گرد اور دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔
  اس کے   برعکس  امریکہ نہ صرف دوسری جنگِ عظیم میں جاپان پر دومرتبہ  ایٹم بم استعمال کر چکا ہے نیز کوریا، ویتنام، عراق، افغانستان، پانامہ، یوگوسلاویہ اور لیبیا سمیت کئی ممالک میں براہِ راست فوجی حملے بھی کر چکا ہے۔ یہ سب کرنے کے باوجود امریکہ نواز  عناصر کی طرف سے  امریکی جارحیت کو قابلِ قبول، جائز اور  اخلاقی عمل کے طور پر پیش کرنا ایک معمول کی بات ہے۔
ایران کا قصور یہ ہے کہ  ایران کا میزائل اور بیلسٹک پروگرام امریکہ کے دفاعی ڈھانچے کے لیے ایک مسلسل ہراساں کرنے والا عنصر ہے۔ ہر میزائل ٹیسٹ، ہر راکٹ لانچ، امریکی فوجی اور نیوی کی حکمت عملی کو ایک قدم پیچھے ہٹنے پر مجبور کرتا ہے، اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کر کے رکھ دیتا ہے۔ ایران کی ممکنہ نیوکلیئر صلاحیتیں تو اس خطرے کو عالمی پیمانے پر بڑھا دیتی ہیں، کیونکہ  اس سے امریکہ کے لیے ایٹمی توازن کے اصول کو ہر وقت چیلنج کا سامناہے۔
ایران کا یہ جرم بھی کوئی کم نہیں کہ  سائبر اور ٹیکنالوجیکل محاذ پر بھی ایران امریکہ کے لیے ایک حقیقی رقیب ثابت ہواہے۔وہ امریکہ جو ساری دنیا کی ٹیکنالوجی کی قیادت کرنے کا دعوے دار ہے اسے  ایرانی ہیکرز اور ریاستی سپانسرڈ کی طرف سے گونا گوں پریشانیوں کا سامنا ہے۔ ایرانی سائبر مہمات کے ماہرین  امریکی انفراسٹرکچر، مالیاتی نظام اور دفاعی معلومات پر براہِ راست حملے کرنے کی صلاحیّت رکھتے ہیں، اور اسے ثواب اور دفاعی جہاد بھی سمجھتے ہیں  جس سے امریکہ کو اپنے دفاعی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کیلئے  شب و روز  اضطراب کا سامناہے۔
سب سے بڑھ کر یہ کہ   ایران کی خارجہ پالیسی کا  خود مختاری پر مبنی انداز امریکہ کی بالادستی کو ٹھکراتا ہے۔ خلیج فارس میں کسی چھوٹی کشیدگی کی ایک جھڑپ بھی عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کر سکتی ہے، امریکی اتحادیوں کو دباؤ میں ڈال سکتی ہے، اور امریکی عسکری کارروائی کے لیے محاذ کھول سکتی ہے۔ ایران کی مستقل حیثیت اور اس کا سفارتی و سیاسی نیٹ ورک، امریکہ کے لیے یہ پیغام ہے  کہ  امریکی ریاست ہر لمحے ایک ایسے  نازک توازن پر کھڑی ہے  جسے ایران اپنے ایک اشارے سے درہم برہم کر سکتا ہے۔ظاہر ہے اس ساری صورتحال کا مقابلہ امریکہ جرات، بہادری، شجاعت اور جوانمردی سے نہیں کر سکتا۔ چنانچہ اگر آپ تجزیہ و تحلیل کریں تو آپ دیکھیں  گے کہ  امریکی  جبر و استبداد نیز مکروہات  کیلئے اخلاقی جواز تراشنا باقاعدہ  ایک اکیڈمک کارروائی ہے۔
امریکی مظالم کو خوبصورت بیانیوں میں ڈھالنے کیلئے وائٹ ہاؤس، محکمۂ دفاع ﴿پینٹا گون﴾اور محکمۂ خارجہ  جیسے اداروں میں موجود تھنک ٹینکس  امریکی تسلط نیز جنگ و جبر  کو الفاظ کی تراش خراش سے مہذب، اور مداخلت کو اصطلاحات کی آرائش سے معقول بنانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ ایسے تھنک ٹینک امریکی حملوں کو دہشت گردی کا  ردِعمل اور  امریکی سایسی و سفارتی نیز عسکری  و نفسیاتی تشدد کو  استحکام کا ذریعہ  قرار دیتے ہیں۔  یہ تھنک ٹینکس  بیانیہ بنانے کیلئے  مین اسٹریم مغربی میڈیا  کو استعمال میں لاتے ہیں جو کہ  اسٹرٹیجک ابلاغ  کا خاموش مگر مؤثر ہتھیار ہے۔امریکی تھنک ٹینکس کے فراہم کردہ قالب کے اندر رہتے ہوئے  میڈیا  امریکی تشدد کو تکنیک میں، جنگ کو ضرورت میں، اور ہلاکتوں کو اعداد و شمار میں بدل دیتا ہے۔ پھر لوگ امریکی جارحیّت و جبر پر سوال اٹھانے کے بجائے  اعدادوشمار گننے  اور جنگ کو ایک  اسٹرٹیجک آپریشن سمجھنے لگتے ہیں۔یوں  رائے عامہ  ،    سُر پاورز کے مفاد کی ہم آواز ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی  کالجز و یونیورسٹیز نیز پالیسی ریسرچ اداروں کا کردار شروع ہو جاتاہے۔یہ  ایسے ادارے ہیں  جو اسٹرٹیجک تھنکنگ  کی پیداوار  کے مراکز کہلاتے ہیں۔ یہ ادارے غیر جانبداری کے لبادے میں جغرافیائی سیاست ، طاقت کے خلا  اور عالمی استحکام کے بیانیے تراشتے ہیں، جن کے ذریعے مداخلت کو ناگزیر اور جارحیت کو عقلی بنایا جاتا ہے۔  البتہ سیاسی معیشت  کا تنقیدی مطالعہ واضح کرتا ہے کہ یہ علم اکثر ریاستی ڈھانچوں اور دفاعی صنعت کے مفادات سے ہم آہنگ ہوتا ہے۔  ان اداروں کی تحقیقات میں تجزیہ  و تحلیل کا عنصر کم اور تاویل و  توجیہ کا مادہ زیادہ ہوتا ہے۔
بالاخر یہ سب عناصر مل کر ایک  بین الاقوامی قانونی و ادارہ جاتی نظام  کو تشکیل دیتے ہیں۔ ایک ایسا نظام جو اقوامِ متحدہ، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کے طور پر نظر اتا ہے۔ یہ  نظام عملاً طاقت کے عالمی عدم توازن  کے تابع ہونے کے باوجود   بظاہر ضابطۂ قانون اور ریاستی خودمختاری کا امین  ہوتاہے ۔ اس نظام کے تحت  ویٹو پاور  اور سفارتی دباؤ کے ذریعے بڑی طاقتیں قانون کو اپنے مفادات کے حق میں موڑ لیتی ہیں لیکن  کمزور ریاستوں پر یہی قوانین بے رحمانہ انداز میں  فوری اور سختی سے نافذ ہو جاتے ہیں۔
ہماری آج کی دنیا میں اگر فلم، ٹیلی وژن ، ناول ، افسانہ، ڈرامہ، سوشل میدیا اور پاپولر کلچر نہ ہوتو عام آدمی یہ سب ہضم نہ کر سکے۔ لہذا کیمرے اور قلم کی مدد سے  عسکری جبر و استبداد کو نجات، اخلاق اور استحکام کے استعاروں میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ثقافتی بیانیہ  غلاموں کو غلامی پر رضامند کرنے  کا فریضہ انجام دیتا ہے، جس کے نتیجے میں تشدد اور جبر ایک فطری ضرورت، دوسروں پر ناجائز  غلبہ جائز، اور جنگ و جارحیّت  قابلِ قبول محسوس ہونے لگتی ہے۔
بالآخر، اکیڈمیا (علمی دنیا) اور لبرل بین الاقوامی اخلاقیات بھی اسی اسٹرٹیجک بیانیے کا حصہ بن جاتی ہیں، جہاں جنگ کو جمہوریت اور انسانیت کے اخلاقی پردوں میں لپیٹ کر جنگ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ امریکہ کے ایٹمی حملے، جن میں لاکھوں شہری ہلاک ہوئے، آج بھی اکثر تاریخی مجبوری یا جنگی ضرورت کے طور پر بیان کیے جاتے ہیں، نہ کہ ریاستی دہشت گردی کے طور پر۔
اکیڈمیا (علمی دنیا) امریکی اسٹرٹیجک بیانیے میں ایک نمایاں کردار ادا کرتی ہے، جہاں جنگ اور عسکری مداخلت کو اخلاقی اور نظریاتی رنگ دیا جاتا ہے۔ یونیورسٹی پروفیسرز، تحقیقی مراکز اور علمی جرائد نہ صرف نظریاتی فریم ورک (فکری ڈھانچہ) فراہم کرتے ہیں بلکہ ان کے تجزیے  امریکی پالیسی سازوں کے لیے جواز بن جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، عراق اور افغانستان میں امریکی مداخلت کے دوران بعض محققین نے اسے "انسانی ہمدردی پر مبنی مداخلت" اور "جمہوریت کے فروغ"  کے عنوانات  سے  پیش کیا، جس سے عوامی اور بین الاقوامی رائے میں اسے جائز اور اخلاقی قرار دینے کی بنیاد رکھی گئی۔
مزید برآں، کئی تحقیقی ادارے جیسے بروکنگز انسٹیٹیوٹ اور کارنیگی اینڈاؤمنٹ، بظاہر غیر جانبدار علمی رپورٹیں شائع کرتے ہیں لیکن ان میں  تحقیقی تجزیات  طاقت کے مفادات کے مطابق رنگین ہو جاتے ہیں۔امریکی اکیڈمیا (علمی دنیا) نہ صرف دنیا بھر میں  امریکی عسکری مداخلت کے لیے نظریاتی جواز فراہم بھی کرتی ہے اور  عوام اور پالیسی سازوں کے ذہن میں جنگ کو اخلاقی اور فطری عمل کے طور پر قبول کروانے میں بھی  مدد دیتی ہے۔ یہ علمی دائرہ بیانیاتی غلبےکی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، جہاں اخلاقی اور فکری زبان طاقتوروں کیلئے ہتھیاربن جاتی ہے۔
پس " امریکی جارحیت کی دنیا میں مقبولیت" کسی ایک ادارے کے بجائے  ایک ہمہ گیر اسٹرٹیجک و سیاسی نظام کا ثمرہے۔یہ  ایسا نظام  ہے جو کمالِ مہارت کے ساتھ عوامی  زبان سے  اپنے لئے جواز، عالمی قانون سے تحفظ، علمی مراکز سے توثیق، میڈیا سے اشاعت اور ثقافت سے قبولیت حاصل کرتاہے۔یہی وجہ ہے کہ  آپ کو دنیا میں ہر جگہ امریکی بندوق کے ہمراہ  مفہوم، معنی اور تشریح کی نرم جنگ نظر آئے گی۔
اب دوسری طرف  ایران امریکی بیانیہ ساز اداروں کا  بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ریاست، میڈیا، تھنک ٹینکس اور اکیڈمیا—کا مقابلہ متبادل بیانیہ (CounterNarrative) کی تشکیل کے ذریعے جاری ہے۔ جہاں امریکہ اپنی طاقت کو “عالمی نظم” اور “ذمہ دار قیادت” کے طور پر پیش کرتا ہے، وہاں ایران نے لمحہ بھر کیلئے بھی  “مزاحمتی سیاست” اور “خودمختاری کی حفاظت” سے غفلت نہیں کی۔ جس کی وجہ سے ایران کی عسکری حیثیت کو دنیا میں  اخلاقی طاقت بھی مل چکی ہے۔
ریاستی سطح پر ایران کا سب سے بڑا ہتھیار اس کا انقلابی و سامراج مخالف بیانیہ ہے۔ ایرانی قیادت امریکہ کو ایک مداخلت پسند، سامراجی اور دوہرے معیار رکھنے والی طاقت کے طور پر  بے نقاب کرتی ہے، خاص طور پر فلسطین، عراق اور افغانستان کی مثالوں کے ذریعے۔ یہ بیانیہ امریکی خارجہ پالیسی کے اخلاقی دعوؤں کو ملیامیٹ کرتا ہے اور یہ واضح کرتا ہے کہ امریکہ قانون نہیں بلکہ مفادات کی پیروی کرتا ہے۔
میڈیا کے محاذ پر بھی  ایران مغربی مین اسٹریم میڈیا کا مقابلہ ریاستی و نیم ریاستی بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے کرتا ہے، جیسے پریس ٹی وی اور العالم۔ یہ میڈیا ادارے امریکی خبروں کے پس پردہ حقائق کو سامنے لاتے ہیں۔ جہاں امریکہ “سکیورٹی” کی بات کرتا ہے، وہاں یہ میڈیا “تباہی” کے حقیقی مناظر دکھاتا ہے،  جہاں امریکہ “مداخلت” کو ناگزیر کہتا ہے، وہاں یہ “خودمختاری کی پامالی” کے دلائل بیان کرتا ہے۔ ایرانی  چینلز  عالمی رسائی محدود  ہونے کے باوجود  امریکی بیانیے کی اجارہ داری کا مکمل توڑ کرتے ہیں ۔
امریکی تھنک ٹینکس اور علمی اداروں کے مقابلے میں ایران روایتی مغربی اکیڈمیا کا حصہ بننے کے بجائے نظریاتی مزاحمت کی حکمت عملی اپناتا ہے۔ ایرانی دانشور اور ادارے بین الاقوامی تعلقات کو لبرل یا ریئلسٹ فریم کے بجائے سامراج مخالف، تہذیبی اور تاریخی تناظر میں بیان کرتے ہیں۔ اس زاویے سے امریکہ  ایک جمہوری  ریاست کے بجائے  ایک  استبدادی نظام کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہ طریقہ کار مغربی اکیڈمک معیار پر پورا نہ بھی اترے، تب بھی وہ ایک متبادل فکری میدان قائم کر دیتا ہے۔
ثقافتی سطح پر ایران فلم، ادب، مذہبی خطابت اور علامتی سیاست کے ذریعے امریکی بیانیے کا مقابلہ کرتا ہے۔ “شہادت”، “مزاحمت” اور “قربانی” جیسے تصورات کو مرکزی مقام دے کر ایران طاقت کے مغربی تصور کو چیلنج کرتا ہے، جہاں کامیابی کا معیار عسکری برتری ہوتی ہے۔ اس سے موت  بھی زندگی  بن جاتی ہے۔آخرکار، ایران کی سب سے مؤثر حکمت عملی یہ ہے کہ وہ امریکی بیانیے کو شکست دینے کے ساتھ ساتھ اسے متنازع  و منفور بنا دیتا ہے۔ ایران اپنے محدود وسائل کے ساتھ امریکی بیانیے کی  عالمگیریت کو توڑنے میں بڑی حد تک کامیاب چلا آ رہا ہے۔  ایران اور امریکہ کی معاصر تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ بیدار اقوام صرف  گرم اسلحے سے جنگیں نہیں لڑتیں  بلکہ  میدان جنگ میں اترنے کے ساتھ ساتھ وہ  بیانیہ سازی کیلئے مقالات بھی لکھتی ہیں اور  اصطلاحات کے معنی بھی طے کرتی ہیں۔
آئیے آخر میں ہم یہ دیکھتے ہیں بحیثیتِ پاکستانی  ہم نے امریکہ و ایران کے باہمی خلفشار سے کچھ سیکھا ہے یا نہیں؟ کیا ہمیں یہ بات سمجھ آئی ہے کہ  دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے مفادات کی خاطر زمین و آسمان کو خاک میں ملانے سے دریغ نہیں کرتیں، اور ہم جیسے لوگ ان جنگوں میں غلیل کے پتھروں کی مانند استعمال ہوتے ہیں۔ نیز  کیا ہمیں یہ حقیقت سمجھ آئی ہے کہ اندرونی سیکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ واحد دیواریں ہیں جو عالمی طوفان کے توپ خانے کے اثرات سے بچا سکتی ہیں، اور اگر یہ ٹوٹ جائیں تو ہمیں چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا جائے گا۔
پاکستانی قوم کے لیے سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ بیانیہ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، جذبات اور خوف کی آگ میں بہنا موت کے منہ میں کودنے کے مترادف ہے، ہر خبر اور ہر تصویر کو دھواں سمجھ کر پرکھنا شعور کی تیز دھار ہے، اپنے موقف کو دلیل، حقائق اور قومی مفاد کی بنیاد پر ڈھانپنا اور عالمی سطح پر مستقل انداز میں پیش کرنا حکمت کا سب سے بڑا ہتھیار ہے، اندرونی سیکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی وہ دیواریں ہیں جو ہمیں عالمی طوفان کے توپ خانے سے بچا سکتی ہیں، جذبات کی جھیل میں ڈوبنے کے بجائے عقل اور منصوبہ بندی کی تلوار تھامنا، دباؤ کے آگے نہ جھکنا، اور اپنی تاریخ  خود لکھنا یہی دانش و بقاء کی نشانی ہے، یاد رکھیں  کہ دنیا  کو بڑی طاقتیں صرف گرم اسلحے سے  نہیں چلاتیں، اس کیلئے  سوچنے، سمجھنے اور ثابت قدم رہنے  والے اداروں کی ضرورت ہوتی ہے، جنگ کا خوف محض دھواں ہے لیکن علم و دانش کی تیز دھار ہر طوفان کو چیر کر راستہ روشن کر سکتی ہے۔

 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...