Voice for Nation
Contact us...
The importance of Kashmir and Palestine
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice for Nation
Contact us...
Voice of Nation
Contact us...
Voice of Nation
Organized by Dr. Nazar Hafi
Voice of Nation
Mail us...
Voice of Nation
Write us...
اتوار، 15 فروری، 2026
سانحہ ترلائی۔۔۔کیا حقیقی ذمہ داروں کو سزا ملے گی؟
دروس/ علمِ رجال/ ڈاکٹر نذر حافی
رمضان المبارک سے پہلے موبائل سِم پر گانے بند کریں
منگل، 10 فروری، 2026
کتاب "اقبالُ الاعمال" کا تعارف
سید ابن طاؤوس رحمۃ اللہ علیہ پوری تاریخِ تشیع میں ایک ممتاز، نہایت عالی مرتبہ اور بے حد محترم شخصیت کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کا روحانی مقام اور معنوی حیثیت بہت بلند ہے۔ وہ عابدین و زاہدین کے راہنما، اعلیٰ کمالات کے مالک، مکاشفات و کرامات کے حامل، اور عارفوں کے پیشوا تھے۔ بزرگ علماء نے ان کی فضیلت و عظمت کی بھرپور تصدیق کی اور ان کے مقام کی بے پناہ تعریف کی ہے۔" اقبالُ الاعمال" دعاؤں اور اعمال کی ایک مستند اور جامع ترین کتاب ہے اور اکثر دعاؤں کا ماخذ یہی کتاب ہے۔ دعاؤں کی کوئی بھی کتاب اس قدر وسعت و تفصیل سے نہ لکھی گئی ہے نہ موجود ہے۔ اس کتاب میں کئی دعائیں ایسی ہیں جو مفاتیح الجنان میں بھی ذکر نہیں ہوئیں۔ اس کتاب کی چند خصوصیات یہ ہیں۔
۱۔کتاب کا اعتبار مصنف کی اعلیٰ شخصیت اور اعتبار کی وجہ سے بہت اعلیٰ اور بلند ہے۔
۲۔ اس کتاب میں دعاؤں و اعمال کے ساتھ ساتھ اولیاء کے مقامات
اور روحانی اسرار پر ذاتی مشاہدات و نکات درج ہیں۔ مصنف نے عبادات میں اخلاص،
اعمال کی پاکیزگی کے طریقے ، اعمال کے
باطل ہونے اور معصیت میں بدلنے کے اسباب، حضور قلب اور غفلت سے بچنے کی
اہمیت کو بھی بیان کیا ہے۔ نماز، دعا اور دیگر اعمال کے معنوی آداب و اسرار بھی
اجاگر کیے گئے ہیں، جو عموماً نظر انداز کیے جاتے ہیں۔"
۳۔ مصنف کی باتیں محض نقل یا تقلید نہیں بلکہ ذاتی تجربہ و
مشاہدہ اور دل و جان سے اخذ شدہ ہیں۔
۴۔مصنف کی کتابوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ ان میں عقل،
نقل اور عرفان باہم یکجا ہیں، یعنی وہ علمی، عملی اور عرفانی تمام مقامات پر فائز
تھے۔ حضرت آیت اللہ العظمی شیخ محمد تقی بھجت قدس سرہ فرماتے تھے کہ جس طالب علم
نے سیدؒ کی کتابیں نہ پڑھیں، اس نے کچھ نہیں پڑھا۔ خاص طور پر 'اقبالُ الاعمال' کے
بارے میں فرماتے جس کے پاس سیدؒ کی کتاب اقبالُ الاعمال نہ ہوتی ہمارے اساتید انہیں
اپنا ساتھی نہیں سمجھتے تھے۔ ۔۔۔ جب کبھی کوئی ان سے ماہ رجب، شعبان اور ماہ مبارک
رمضان میں دستور العمل کے بارے میں پوچھتا
تو وہ فرماتے تھے:" اقبال، اقبال،
اقبال " اور کہتے تھے :اقبالُ الاعمال سے
بڑھ کر کوئی کتاب نہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اس کتاب کا تازہ ترجمہ کیا گیا ہے جوکہ ماہِ مبارک رمضان سے پہلے
جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد سے حاصل
کیا جا سکے گا۔ کتاب کے سلسلے میں آپ اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں: 03455398135
پیر، 9 فروری، 2026
سانحہ اسلام آباد۔۔۔ ہم قوم ہیں یا ہجوم؟
سانحہ اسلام آباد۔۔۔
ہم قوم ہیں یا ہجوم؟
ڈاکٹر نذر حافی :
ابھی ۶ فروری کے زخم تازہ ہیں۔ گزشتہ کالم میں ہم نے عرض کیا تھا کہ متشدد ملّا اور کمپرومائزڈ ملّا حقیقت میں ایک ہی منصوبے کے دو منظم کردار ہیں۔ آج پھر ان دونوں کرداروں پر مزید کچھ بات کرنی پڑے گی۔ جب تک ہم ان فنکاروں کو نہیں پہچانیں گے، تب تک ہم یہ نہیں سمجھ پائیں گے کہ ہم ایک قوم ہیں یا ہجوم؟۔ یاد رکھئے کہ ایک خنجر ہے تو دوسرا نیام، ایک قتل کرتا ہے، تو دوسرا قتل کو چھپاتا ہے۔ یہ ایسے ایکٹر ہیں جنہیں بظاہر مختلف کردار سونپے گئے ہیں لیکن ان کا مقصد مختلف نہیں۔ دونوں کا ہدف و مقصد ایک ہی ہے کہ خوف و دہشت کو پھیلانا اور سوال و احتجاج کو روکنا اور دبانا۔
ایک طرف متشدد ملّا نفرت کو نعرہ بنا کر، تکفیر اور تشدد کو
عبادت اور قاتل کو ہیرو قرار دیتا ہے۔ وہ مذہب کو ہتھیار اور لوگوں کو ایندھن
بناتا ہے۔ دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا اسی تشدد کے بعد منظرِ عام پر آتا ہے۔ وہ قتل
کو جرم نہیں بننے دیتا، قاتل کے خلاف احتجاج نہیں ہونے دیتا، اور دھڑلے سے شہدا کے
خون کو مصلحت، تاویل اور خاموشی کے پردوں میں لپیٹ دیتا ہے۔ وہ قاتلوں کا نام لینے
سے واضح طور پر گریز کرتا ہے، قاتلوں کے سرپرستوں اور سہولتکاروں کی خوشامد و
چاپلوسی کرتا ہے، اور سوال پوچھنے و احتجاج کرنے کو فتنہ و سیاست قرار دیتا ہے۔
صرف یہی نہیں، وہ احتجاج کو “لاشوں پر سیاست” کہہ کر احتجاج کرنے والوں کو بدنام
کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے۔ یعنی وہ قاتلوں کے بجائے مقتولین کے لیے آواز اٹھانے
والوں کو کوسنے میں جُت جاتا ہے۔
آپ کسی بھی دہشت گردانہ کارروائی کا سیاق و سباق
ڈھونڈیں۔ آپ دیکھیں گے کہ ایک طرف کچھ متشدد ملّا کچھ ہی فاصلے پر میدان گرم رکھے
ہوئے ہونگے ، جبکہ دوسری طرف کمپرومائزڈ ملّا کسی پُر تشدد کارروائی کے بعد سماجی
فضا کو قاتلوں کے لیے نرم اور قابلِ قبول بنانے میں مصروف نظر آئیں گے۔ ایک حملہ
کرتا ہے، دوسرا اُس کی مکروہات کو نارملائز کرتا ہے۔ ایک ریاست کی رِٹ کو چیلنج
کرتا ہے، دوسرا عوام کو یہ باور کراتا ہے کہ رِٹ پر سوال اٹھانا ہی ریاست دشمنی
ہے۔ یوں اس عمل کے نتیجے میں تشدد ایک قابلِ تکرار اور قابلِ ہضم واقعہ بن جاتا
ہے۔ اس کے بعد جنازے پڑھے جاتے ہیں اور لاشیں دفن ہوتی ہیں، لیکن احتجاج نہیں
ہوتا۔ اس کے بعد عدل و انصاف کے مطالبے کے بجائے شہدا کے ورثا کو معاوضے کا مطالبہ
زور پکڑ لیتا ہے۔
آپ عقل و منطق کو استعمال کریں۔ تھوڑی دیر غور و فکر کریں۔
سوچیں تو سہی۔ ریاستی سلامتی کے تناظر میں یہ دونوں ایک ہی تلوار کی دو دھاریں ہیں
کہ متشدد ملّا لوگوں کو ہلاک کرتا ہے،
جبکہ کمپرومائزڈ ملّا اس ظلم کے خلاف بے حسی پھیلاتا ہے۔ ایک جسم کو نشانہ بناتا
ہے، دوسرا شعور کو۔ ایک خوف پیدا کرتا ہے، دوسرا خوف کو معمول بنا دیتا ہے۔ جب تک
متشدد ملّا کو صرف قاتل اور کمپرومائزڈ ملّا کو اس کا سہولت کار نہیں سمجھا جائے
گا، تب تک اس ملک میں کچھ اچھا نہیں ہوگا۔ وہی پرانا اسکرپٹ، وہی پرانے کردار، اور
ہر بار نئی لاشیں۔ اس دائرے کو توڑنے کے لیے صرف آپریشن نہیں، دماغوں، دلوں اور نیتوں
کی صفائی درکار ہے، ورنہ پرانا زہر ہر بار نئی خوراک میں ڈال کر دیا جاتا رہے گا۔یہ
واضح سی بات ہے کہ جب متشدد اور کمپرومائزڈ ملّا ایک دوسرے کے لیے منظم طور پر کام
کرتے ہیں، تو ریاست سیکیورٹی محاذ کے ساتھ ساتھ اخلاق کے میدان میں بھی ہار جاتی
ہے۔ جب دھماکوں کے بعد خاموشی کو حُب الوطنی، اور احتجاج نہ کرنے کو ثوابِ عظیم
کہا جاتا ہے، تو اس پر دہشت گرد ہنستے ہیں۔ انہیں اندازہ ہو جاتا ہے کہ ریاست کتنی
کمزور ہو چکی ہے کہ وہ اپنے مظلوم شہریوں کا سامنا کرنے سے کترا رہی ہے۔
اس تناظر میں متشدد اور کمپرومائزڈ ملاؤں کا سب سے خطرناک فریب یہ ہے کہ وہ ہر ناکامی، ہر سانحے اور ہر سوال کا بوجھ خود قوم پر ڈال دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “یہ قوم اچھی نہیں، یہ قوم نہیں، ہجوم ہے، یہ قوم بے شعور ہے، اسے سمجھ ہی نہیں۔” بظاہر یہ باتیں درست معلوم ہوتی ہیں، لیکن درحقیقت یہ ایک منظم چال ہے جس کا مقصد اپنے کرتوت چھپانے کے لیے عوام کی قومی حیثیت کو مجروح کرنا ہے۔ متشدد ملّا اس بیانیے کو اس لیے استعمال کرتا ہے کہ تشدد کو “اصلاح” کہہ سکے۔ جب قوم کو بے شعور ثابت کر دیا جائے تو پھر اس پر لاٹھی، گولی اور دھماکہ بھی “ضرورت” بن جاتا ہے۔ یوں قاتل خود کو منجی اور مقتول کو مجرم ثابت کرتا ہے۔ یہ وہ منطق ہے جہاں ظلم، علاج اور خون اُس کی دوا قرار پاتا ہے۔
کمپرومائزڈ ملّا اسی بیانیے کو ایک اور سطح پر استعمال کرتا
ہے۔ وہ قوم کو نااہل اور ناپختہ قرار دے کر کہتا ہے کہ اسے احتجاج کا حق نہیں،
چونکہ اس میں سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں، اور اسے اختلاف کرنے کی تربیت نہیں دی
گئی۔ نتیجتاً خاموشی کو دانش، اور اطاعت کو استحکام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یوں
عوام کو سیاسی اور اخلاقی طور پر گرا دیا جاتا ہے۔اس سے عوام بااختیار شہری کے
درجے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ اس تناظر میں جب عوام کو “نہ سمجھنے والا ہجوم”،
“جذباتی مجمع” یا “نااہل قوم” قرار دیا جاتا ہے، تو دراصل انہیں شعوری فریق ماننے
سے انکار کیا جا رہا ہوتا ہے۔ ان سے احتجاج کرنے اور ریاستی یا مذہبی اختیار سے
جواب طلب کرنے کی اہلیت چھین لی جاتی ہے۔ یوں عوام کو مشاورت میں شریک کرنے کے
بجائے چند کرپٹ خواص انہیں اپنا مطیع، تابع اور فرمانبردار بنا لیتے ہیں۔
یہ سب زبان اور قلم کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ چند جملے، کچھ لطیفے،
چند خطابات اور چند فتوے عوام کو اس مقام سے گرادیتے ہیں جہاں وہ احتساب کر سکتے
ہوں۔ نتیجتاً اختیار رکھنے والا فریق خود کو واحد عقلِ کل اور واحد نجات دہندہ کے
طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ عوام کو خاموش رہنے کے قابل یا جانوروں کی طرح نااہل
سمجھا جاتا ہے۔اس عمل کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ حقوق کی نفی کو معمول بنا
دیتا ہے۔ جب عوام کو یہ یقین دلا دیا جائے کہ وہ بے شعور ہیں، تو ان کے سوال بدتمیزی،
ان کا احتجاج فتنہ، اور کہیں پر اُن کا جمع ہونا خطرہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ سادہ
لفظوں میں، عوام کو بے شعور اور ایک قوم کے بجائے ہجوم کہنا دراصل ان کے شہری،
اخلاقی اور سیاسی حقوق کی بیخ کنی کا حربہ ہے۔
یہ لیبل سب سے پہلے ذمہ داری کو منتقل کرتا ہے۔ جب قوم ہی
کو نااہل ثابت کر دیا جائے، تو پھر نہ خطیب جواب دہ رہتا ہے، نہ قاتل، نہ سہولت
کار۔ ہر خرابی عوام کی قرار پاتی ہے اور ہر اختیار خود ساختہ نجات دہندگان کے ہاتھ
میں محفوظ ہو جاتا ہے۔دوسرے مرحلے میں یہی لیبل جبر کو جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر
قوم “بے شعور” ہے، تو اس پر سختی، خاموشی اور کنٹرول ظلم نہیں بلکہ ضرورت بنا کر پیش
کیے جاتے ہیں۔ اختلاف فتنہ اور سوال بدتمیزی قرار پاتا ہے، جبکہ ظالموں کی اطاعت
کو دانش اور استحکام کا نام دے دیا جاتا ہے۔ آخرکار یہ بیانیہ احتساب کے پورے تصور
کو باطل کر دیتا ہے۔ اگر عوام سمجھ ہی نہیں سکتے، تو پھر جواب دینے، وضاحت کرنے
اور اصلاح کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ یوں طاقت ور خواص خود کو اخلاقی اور عملی
طور پر احتساب سے بالاتر ثابت کرنے لگتے ہیں۔
ایک بات سمجھ لیجئے کہ جو قوم کو ہجوم کہتا ہے، وہ دراصل خود کو احتساب
سے بالاتر کرنا چاہتا ہے, اور جو پاکستان جیسی شہدا پرور قوم کے ملی شعور کا انکار
کرتا ہے، وہ درحقیقت مزید ظلم کے لیے راستہ ہموار کرتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی
ضرورت ہے کہ قومیں دھماکوں سے کم، اور بے حسی سے زیادہ مرتی ہیں۔
اتوار، 8 فروری، 2026
سانحہ ترلائی اور کمپرومائزڈ مُلّاں
لاشوں پر سیاست کے حوالے سے دو طرح کے مُلّاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے کافر کافر کے نعرے لگا کر ملک کے گلی کوچوں کو خون سے رنگین کیا اور دوسرے وہ جنہوں نے اس خون پر پردہ ڈالا۔ یہ دونوں ایک ہی تھیلی کے جٹے بٹے اور ایک ہی تصویر کے دو رُخ ہیں۔ یہ ایک ہی ایجنڈے پر کام کرتے ہیں۔ ایک خون بہاتا ہے اور دوسرا خون چھپاتا ہے۔ ایک کو خون بہانے کا معاوضہ ملتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے کا ۔ ایک کو قاتلوں کے نیٹ ورکس کا قائد بنایا جاتا ہے اور دوسرے کو خون چھپانے والے گروہ کا قائد۔ ان کمپرومائزڈ ملاوں کے گٹھ جوڑ سے انتہا پسندی کو نظریاتی غذا ملتی ہے، فرقہ واریت جڑیں پکڑتی ہے، اور معاشرہ مستقل عدمِ تحفظ کا شکار ہو جاتا ہے۔ ایسا کرنے سے عوام ریاست پر اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور دشمن قوتوں کو اندرونی کمزوریوں اور باہمی عدمِ اعتماد سے فائدہ اٹھانے کا بار بارموقع ملتا ہے۔
ملکی سیکورٹی کے لیے یہ متشدد اور کمپرومائزڈ مُلّاں ایک ہی زہر کی دو خوراکیں ہیں۔ ایک زہر کا انجکشن ہے اور دوسرا کیپسول۔ ایک تشدد کو مذہبی نعرے دے کر کھلے عام پھیلاتا ہے، اور دوسرا اسی تشدد کو خاموشی، تاویل اور مصلحت کے پردوں میں چھپا دیتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عام لوگوں کا ریاست اور مُلک سے اعتماد ہی اُٹھ جاتا ہے۔ یہ دونوں گروہ عوام اور ریاست کو مکالمہ ہی نہیں کرنے دیتے۔ایک تشدد کا راستہ اختیار کرتا ہے اور دوسرا خاموش ہوجاو! خاموش ہو جاو! کی تلوار لہراتا ہے۔ واضح بات ہے کہ جب لوگوں کو زبردستی خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ مطمئن بھی نہیں ہوتے۔ سوال اٹھانے والے اور احتجاج کرنے والے کو جب لاشوں پر سیاست کرنے والا کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے تو پھر لوگ کسی خاموش آتش فشاں کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔
خون پر پردہ ڈالنے والا طبقہ انصاف کے پورے نظام کو بدنام کر دیتا ہے۔ جب لوگوں کو احتجاج ہی نہیں کرنے دیا جاتا تو لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ ساری ریاست ہی اُن کے خلاف ہے۔ جب یہ عدمِ اعتماد جنم لیتا ہے تو پھر ریاست اندر سے ٹوٹنا شروع ہوجاتی ہے۔یوں قوم کسی ایک حملے سے نہیں بکھرتی لیکن حقِ احتجاج چھین لینے سے کھوکھلی ہوکر بکھر جاتی ہے۔ مُتشدد مُلّا عام لوگوں کا خون بہاتا ہے، اور کمپرومائزڈ مُلا اسی خون کو قابلِ ہضم بناتا ہے۔
ہماری رائے یہ ہے کہ سانحہ ترلائی کے شہدا کے خون کو "قابلِ ہضم" بنانے کے بجائے عوام کو اپنی ریاست سے یہ پوچھنے دیجئے کہ کیا ہماری سیکیورٹی حکمتِ عملی صرف ردِعمل تک محدود ہے یا حملے سے پہلے مداخلت اور نیٹ ورک توڑنے کی حقیقی صلاحیت بھی رکھتی ہے؟ حملوں کے بعد ہونے والی گرفتاریاں کیا واقعی دشمن کے تنظیمی ڈھانچے کو کمزور کرتی ہیں یا ہمیشہ کی طرح نچلی سطح کے کردار ہی سامنے آتے ہیں؟ اسی طرح دہشت گردوں و سہولت کاروں کے سماجی، فکری اور نظریاتی پس منظر کو مسلسل نظرانداز کرتے ہوئے یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا؟
ہمارے سیکورٹی اداروں کو بھی یہ سمجھنا چاہیے کہ جیسےنفرت انگیز خطبات اور تقاریر ملک کیلئے خطرہ ہیں، اُسی طرح عوام کو ناراض کرنے کیلئے خوشامدی و چاپلوس ملاوں کا بیانیہ بھی کم خطرناک نہیں؟ لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ ہر بڑے حملے کے بعد یہ دعویٰ ضرور کیا جاتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور سبق سیکھا جائے گا لیکن کیا واقعی آزاد، شفاف اور غیر رسمی پوسٹ ایونٹ ریویو ہوتا ہے؟ کیا ناکامی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے یا چند بیانات کے بعد معاملہ فائلوں میں دفن کر دیا جاتا ہے؟ اور سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے ادارے اپنی پالیسی مفروضات کو چیلنج اور چینج کرنے کے لیے تیار بھی ہیں؟
ترلائی کے خودکش دھماکے کو اگر محض ایک سیکیورٹی واقعہ سمجھا جائے تو یہ تجزیہ ادھورا رہے گا۔ اس واقعے نے در اصل ہماری ریاست پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ دارالحکومت میں یہ حملہ ہر پاکستانی پر حملہ ہے۔ دشمن نے اس حملے کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ ریاست کی رِٹ ہمہ گیر نہیں رہی۔ یہ کم وسائل کے ذریعے زیادہ خوف پھیلانے کی ایک کوشش ہے۔ اسی لیے ایسے حملے جانی نقصان تو کرتے ہی ہیں ساتھ ریاستی اعتماد کو بھی زِک پہنچاتے ہیں۔دارالحکومت میں ایک عبادت گاہ کا انتخاب بھی حساب شُدہ ہے۔ وہ تشدد جو حساب شُدہ بنیادوں پر کیا جائے، معاشرے میں دیرپا دراڑیں پیدا کرتا ہے۔ ایسی دراڑیں ریاست کی توجہ کو بیک وقت کئی سمتوں میں بانٹ دیتی ہیں اور اُس کی فیصلہ سازی کی صلاحیّت کو کمزور بنا دیتی ہیں۔
اس تناظر میں سانحہ ترلائی ایک اسٹریٹجک ٹول ہے، جس کا مقصد ریاستِ پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنا ہے۔پاکستان کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں رکھنے کے حوالے سے کمپرومائزڈ اور خوشامدی ملاؤں کا کردار انتہائی اساسی نوعیت کا ہے۔ تشدد ہونے کے بعد کمپرومائزڈ ملاوں کا طبقہ تشدد کے لیے دینی و اخلاقی جواز کی فضا تیار کرتا ہے۔ منطقی طور پر، کوئی بھی پُرتشدد تحریک اس وقت تک پنپ نہیں سکتی جب تک اسے سماج میں کم از کم خاموش قبولیت حاصل نہ ہو۔ معاشرے میں تشدد کی یہ قبولیت اکثر کھلی حمایت سے نہیں بلکہ میٹھی خاموشی، مبہم بیانات اور غیر متوازن مذمت سے پیدا ہوتی ہے۔یہ مذہبی بیانیہ جب تشدد کو صراحتاً رد کرنے کے بجائے اسے عقیدے، تاریخ یا مظلومیت کے مبہم حوالوں میں لپیٹ دیتا ہے تو وہ فرد اور ریاست کے اخلاقی و قانونی فیصلے کو معطل کر دیتا ہے۔ نتیجتاً تشدد معاشرے میں ایک غیر معمولی جرم کے بجائے ایک “قابلِ ہضم فعل” کے طور پر دیکھا جانے لگتا ہے۔
ہائبرڈ وار کے نظریے کے مطابق خوشامدی ملّا اسی چین کا وہ حلقہ ہے جو تشدد کو سماج میں رواج دینے کیلئے قابلِ ہضم بناتا ہے اور اِسے قابلِ ہضم بنانے کے عمل کو ثواب اور عظیم عبادت گردانتا ہے۔ اس طرح شدت پسندی حاشیے سے نکل کر معاشرے کی رگ رگ میں دوڑنی لگتی ہے۔ایسے مواقع پر ریاست کا ذمہ دارانہ ردِعمل عوام کیلئے خود ایک دلیل ہوتا ہے۔ عوام کو احتجاج کرنے دیں، سوال اٹھانے دیں اور ریاست کو دلائل سے عوام کو قائل کرنے دیں۔ اسی سے عوام اور ریاست ایک دوسرے کے نزدیک ہونگے جبکہ دشمن ناکام اور دور۔ کہیں پر بھی ایک پائیدار ریاستی رِٹ صرف اس وقت قائم ہوتی ہے جب ریاست، اور عوام ایک ہی سمت میں کھڑے ہوں۔ جہاں ان میں تضاد ہو، وہاں شدت پسند فائدہ اٹھاتے ہیں۔
ترلائی کا سانحہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ دہشت گردی نہ تو محض ایک دن کا واقعہ ہے اور نہ ہی صرف خود کُش دھماکوں کا مسئلہ۔ یہ ایک تدریجی عمل ہے جسے زبردستی کے بجائے سوچ سمجھ کر روکنے کی ضرورت ہے۔ اگر ریاست اس عمل کو صرف ردِعمل کے دائرے میں رکھے گی تو نتائج بھی وقتی ہوں گے۔ دیرپا نتائج کیلئے ہمیں متشدد ملاوں کی طرح کمپرومائزڈ ملاوں کو بھی پہچاننے کی ضرورت ہے ورنہ ہر خود کُش دھماکے کے بعد ہم اسی دائرے میں گھومتے رہیں گے جسے دشمن نے دھماکے سے پہلے ہمارے لئے کھینچا تھا۔
بقولِ اقبال:
فتنہ ملت بيضا ہے امامت اس کي
جو مسلماں کو سلاطيں کا پرستار کرے
جمعرات، 5 فروری، 2026
۵ فروری۔۔۔پاکستان کے تاریخی کردار کو سلام
بدھ، 4 فروری، 2026
اتوار، 1 فروری، 2026
ہفتہ، 31 جنوری، 2026
امریکہ و ایران سے ہم نے کیا سیکھا؟










