زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

اتوار، 7 ستمبر، 2025

ہفتہ وحدت اور وحدت کے جدید آفاق

ہفتہ وحدت اور وحدت کے جدید آفاق
:ڈاکٹر نذر حافی :
ہفتہ وحدت کا پیغام صرف مذہبی اتحاد  تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہفتہ ہمیں اپنے فکری، علمی، سائنسی  اور اقتصادی  اتحاد کیلئے نئے زاویے تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ کیا یہ مقامِ تعجب نہیں کہ  اپنے خون سے دفاع، مزاحمت، اور قربانی کی  لازوال داستانیں رقم کرنے والی مسلمان   قوم کے جوان آج یہ نہیں جانتے کہ وہ اس جدید عہد میں کیسے زندہ رہیں۔  
مذکورہ بالاعبارت میں نے اپنے حالیہ تجزیے میں بیان کی تھی۔ راقم الحروف نے  یہ تجزیہ حالیہ  دنوں میں وائس آف نیشن کے پلیٹ فارم سےایک آنلائن کانفرنس کے دوران  پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے ۔ سیشن کے دوران ہفتہ وحدت اور مسلم دنیا کی موجود صورتحال پر   گفتگو کرنے کیلئے بنگلہ دیش ﴿ڈھاکہ ﴾سے  مفتی ہمایوں فیروز پوری صاحب بھی آنلائن تھے۔ سیشن کا افتتاحی خطبہ محترم منظوم ولایتی صاحب نے بیان کیا اور نظامت کے فرائض  منظور حیدری صاحب نے انجام دئیے۔
مفتی ہمایوں فیروز پوری صاحب نے اپنی گفتگو میں اہلِ سنّت اور اہلِ تشیع کی داخلی وحدت اور پھر باہمی وحدت کے حوالے سے بہت مفید گفتگو کی۔ ان کی گفتگو کے بعد  میں نے کانفرنس کے شرکا کے سامنے ہفتہ وحدت اور مسلم دنیا کی موجود صورتحال پر   جو تجزیہ پیش کیا اس میں ایک زاویہ یہ تھا کہ  کہ ہم مسلمانوں  نے اپنے نوجوانوں کو دین کیلئے جان دینے اور شہید ہونے کیلئے  تو تیار کیا ہے لیکن دین کی بالا دستی کیلئے  اپنے جوانوں کی  زندگیوں کو منشیات ،جہالت، بیروزگاری، اور فحاشی سے  محفوظ بنانے کا شعور ہم میں آج تک نہیں ۔ ہمیں ہفتہ وحدت میں اس حوالے سے بھی متحد ہونے کی ضرورت ہے۔  ہم  سب نے  مل کر  اپنے اپنے ملک کے  اندر مسلمان جوانوں کو جنت کے حصول کا مشترکہ خواب تو  دکھایا، لیکن  ہم نے اس دنیا کو  جوانوں کیلئے جنت بنانے کی مشترکہ طور پر  آرزو نہیں کی ۔ آج  ہمارے جوانوں کو دشمنوں کی گولیوں سے زیادہ  سوشل میڈیا، منشیات، ملاوٹ شدہ غذاوں، زہریلے پانی اور  جہالت سے خطرہ ہے۔ ایسا اس لئے ہے کہ ہم نے لوگوں کو قبر میں جنت کے باغات تو بتائے لیکن  اس دنیا کی نعمتوں اور اس  زندگی کی سرسبز وادیوں سے انہیں غافل کر دیا؟ ہم نے محض مرنے کے بعد جنّت کی تعلیم  تو دی ، لیکن  جیتے جی اس دنیا  کو ریاستِ مدینہ کی مانند  جنت بنانے  کی تعلیم کو نظرانداز کیا۔
دوسری طرف مجھے مختصراً یمن کا تذکرہ بھی کرنا تھا چنانچہ میں یہ کہہ کر آگے بڑھ گیا کہ آج یمن کے سمندروں سے اٹھتی ہوئی آگ ہمیں یہ سمجھا رہی ہے کہ اسلام کا پیغام فرد کی روحانیت اور عبادات تک محدود  نہیں بلکہ اسلام کا مقصد کمزور، مستضعف اور مظلوم کا ساتھ دیناہے۔ یہ گفتگو کا دوسرا زاویہ تھا۔ یہیں پر ہفتہ وحدت اور بلیک ستمبر کا ذکر بھی ضروری تھا۔اس حوالے سے میں فقط اتنا ہی کہہ سکا کہ   یہ ستمبر کا مہینہ ہے اور یہ مہینہ ہمیں بلیک ستمبر کی یاد دلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم نے سلطانِ جابر کے سامنے کلمہ حق کہنے کو تو ایمان کا تقاضا کہا لیکن جہالت کے جبر کے خاتمے کو اپنے ایمان کا تقاضا نہیں سمجھا۔ یہ کیسی جہالت ہے کہ اس مہینے میں خود اُردن کے مسلمان فوجیوں نے ہی  بیس ہزار فلسطینیوں کا قتلِ عام کیا؟
اب گفتگو کا ایک اور باب کھلا اور وہ یہ کہ ہم ایک صادق اور امین نبیؐ کی اُمّت ہیں لیکن اس کے باوجود سچائی سے آنکھیں چرانے کو گناہ نہیں سمجھتے۔ سچائی تو یہ ہے کہ    سائنس اور ٹیکنالوجی کے اس دور میں  ہم نے کشمیر و فلسطین کے اندر اپنے ہی بچوں  کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے اورانہیں زندہ رکھنے  کیلئے  ہمارے پاس کوئی  منصوبہ بندی  نہیں  ۔ ہم نے ان کے دلوں میں شجاعت اور قربانی کی آرزو تو پیدا کی، مگر انہیں زندگی کی پیچیدہ راہوں کو طے کرنے کیلئے کوئی پناہ گاہ  نہ دے سکے۔
ہم نے ساری دنیا میں  نامحرم کو نہ دیکھنے کو تو  اپنے ایمان سے جوڑا لیکن جدید زمانے کے تقاضوں کو نہ دیکھنے کو بھی اپنا ایمان بنا لیا ہے۔ گویا  جدید تعلیم، اور سائنس و ٹیکنالوجی بھی ہمارے لئے نامحرم کا درجہ رکھتی ہے۔ اب مسلمانوں کے موجودہ حالات کے حوالے سے مجھے فلسطین کا ذکر بھی کرنا تھا۔ مجھے اس امر کا اعتراف کرنا پڑا کہ ایک طرف تو  واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولاتفرقوا  کے قرآنی حکم پر ہم عمل کرنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ہماری  آنکھوں میں ان فلسطینی مہاجرین  کیلئے کوئی آنسو نہیں۔  ایک اندازے کے مطابق ان  کی تعداد 7 سے 8 ملین کے درمیان ہے۔ ان بے چاروں کو آخر کب تک یونہی مہاجر رہنا ہوگا۔  یہ مہاجرین 1948 کے "نکبہ" (The Nakba) کے دوران فلسطین سے اپنے گھروں اور علاقوں سے بے دخل ہوئے تھے، اس وقت کی فلسطینی مہاجرین کی ابتدائی تعداد تقریباً 750,000 تھی۔ آج یہ مہاجرین مختلف ممالک اور پناہ گزینی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اردن میں سب سے زیادہ فلسطینی مہاجرین موجود ہیں، جہاں تقریباً 2.2 ملین فلسطینی آباد ہیں، جن میں سے کئی مہاجر کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ لبنان میں بھی تقریباً 450,000 سے 500,000 فلسطینی مہاجرین موجود ہیں، جنہیں مختلف پناہ گزین کیمپوں میں رکھا گیا ہے، اور ان کی زندگی انتہائی دشوار ہے۔ مصر، شام اور دیگر عرب ممالک میں بھی فلسطینی مہاجرین کی موجودگی ہے، اور ان کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (UNRWA) کے مطابق، 2021 تک فلسطینی مہاجرین کی تعداد تقریباً 5.7 ملین تک پہنچ چکی تھی۔  
کیا ان مہاجرین کو واپس ان کے گھروں تک پہچانا بھی دعوت و اصلاح کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟ ہمیں آج سوچنا چاہیے کہ ہم کیسے اے آئی کے ذریعے اپنے مظلوم فلسطینی بھائیوں کی مدد کر سکتے ہیں؟ کیا ہم آئندہ بھی دنیا سے کشمیریوں و فلسطینیوں کیلئے  آزادی کی بھیک مانگتے رہیں گے؟  یا ہم خود اپنی تقدیر بدلنے کے لیے کچھ عملی اقدامات کریں گے؟ خصوصی طور پر،   مصنوعی ذہانت (AI)   جیسے جدید ٹولز کو دیکھتے ہوئے  ہمیں سوچنا چاہیے کہ کیا ہم  بھی کبھی اِن ٹولز کو اپنے حقوق کے حصول کیلئے استعمال کرنا سیکھیں گے۔ ہمیں آج یہ سوچنا ہوگا کہ  اے آئی کی مدد سے ہم  مسلمانوں کی  بہتر زندگی کے مواقع کیسے پیدا کر سکتے ہیں۔ اس کے ذریعے ہم مسلمان جوانوں  کے لیے کون سی  منصوبہ بندی کر سکتے ہیں،  اور انہیں روزگار کے کون سے مواقع دے سکتے ہیں، اور جدید عہد میں  انہیں  انسانی اقدار کا پابند کیسے بنا سکتے ہیں؟
ہفتہ وحدت میں  ہمیں مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو اپنی  وحدتو فلاح و بہبود   کے لیے استعمال کرنے کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ ہمیں یہ منوانا ہوگا کہ ہمارے  دین کی سچائی صرف آخرت کے افق پر نہیں چمکتی  بلکہ اس دین پر عمل کر کے ہم   دنیا  میں بھی ایک کامیاب زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ ہم نے ہمیشہ دعوت و اصلاح کو صرف عبادات  اور آخرت کے دائرے تک محدود سمجھا اور یہی ہماری ناسمجھی ہے۔
میرے تجزیے کا مرکزی خیال یہ تھا کہ ہفتہ وحدت ہمیں یہ بتاتا ہے کہ دعوت و اصلاح کا دائرہ صرف عبادات تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنے مظلوم بھائیوں کی نجات کے لیے  مصنوعی ذہانت   اور جدید ٹیکنالوجی  کی مدد سے وحدت کے نئے طریقے تلاش کرنا ہوں گے ۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو  ہم جہانِ اسلام میں ایک نئی وحدت  کا آغاز کر سکتے ہیں اور اگر ہم نے اس پر عمل نہ کیا تو یاد رکھیں کہ  کوئی بھی نظریہ چاہے وہ کتنا ہی مفید کیوں نہ ہو، اگر اس پر عمل نہ کیا جائے تو وہ بے فائدہ ہی ہوتا ہے۔
مسلمانوں کیلئے  فلاح  و بہبود کی  نئی راہیں تب ہی کھل سکتی ہیں جب ہم ٹیکنالوجی،دین  اور اخلاقیات کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کریں۔ اس سیشن میں ہم نے کچھ تجاویز پیش کرنی تھیں جو  وہاں تو پیش نہ کر سکے البتہ  اس وقت پیشِ خدمت ہیں۔  ہماری تجویز ہے کہ ہفتہ وحدت کی برکت سے  مسلمان  AI اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے دنیا بھر میں جدید تعلیم تک اپنی رسائی کو بڑھانے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں، اس سلسلے میں نوجوانوں کو سکالرشپ،  آگاہی ، شعور اور حوصلہ دیں۔ اسی طرح مسلم دنیا میں صحت کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی جیسے AI اور بایوٹیکنالوجی کا استعمال بیماریوں کی تشخیص، علاج اور ادویات کی پیداوار میں انقلاب لا سکتا ہے۔ غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے لیے بھی AI کو معیشت میں بہتری لانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔ مزید براں کرپشن اور بدعنوانی  کے خاتمے کیلئے  ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔  ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی جدید ٹیکنالوجی جیسے AI کو استعمال کر کے آلودگی اور موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ ضروری ہے۔ہمیں  گلوبل یونٹی اور امن کے قیام کے لیے، AI اور سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف قوموں اور مذاہب کے درمیان بات چیت اور تعاون بڑھانا چاہیے۔  پائیدار ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد سے ہمیں کسٹمر اور کنزیومر کے بجائے پروڈکشن کے میدان میں اپنا لوہا منوانا چاہیے۔ یہ سب تبھی ممکن ہے کہ جب مسلمان جوانوں کو   فرقہ واریّت، علاقائیت اور لسانیّت کے بجائے اجتماعی فلاح و بہبود  کی سوچ اپنانے کی ترغیب دی جائے، اگر ایسا ہوجا ئے تو  مسلمان  ممالک  کے وسائل آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں گے۔ بصورت دیگر ہماری آئندہ نسلوں کو دینے کیلئے ہمارے پاس کچھ بھی نہیں رہے گا۔اے آئی میں مہارت کے بغیر  ہماری آئندہ نسلوں کو ہر قدم پر ایک پاسورڈ کی ضرورت ہوگی اور وہ پاس ورڈ انہیں مفت میں نہیں ملے گا۔  حتی کہ انہیں  ہر سانس کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ ہمیں اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ  اس مرتبہ ہفتہ وحدت اپنے ہمراہ جدید دنیا کے ماڈرن چیلنجز کو لئے ہوئے ہے۔    ہمیں  اسلامی دنیا کے درمیان وحدت، ہم آہنگی، تعاون، مواخات، ہمدردی  اور اتحاد کے لئے  آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی وساطت سے وحدت کے نئے آفاق  تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ جی ہاں! ہفتہ وحدت کا پیغام صرف مذہبی اتحاد  تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ہفتہ ہمیں اپنے فکری، علمی،سائنسی اور اقتصادی  اتحاد کیلئے نئے زاویے تلاش کرنے کی دعوت دیتا ہے۔


یومِ دفاع کے موقع پر جامعۃ الرضا کے طلبا کی تقریب

6 ستمبر یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر  جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق نے  ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا ۔  تقریب  کا مرکزی عنوان تھا: "وطن سے محبت کر کے ہی اسے ترقی دی جا سکتی ہے"۔ 
تقریب کا آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک سے ہوا، جس کے بعد چھ ستمبر کے حوالے سے طلبا کو ایک ڈاکومنٹری بھی دکھائی گئی۔ڈاکومنٹری کے بعد الرضا سوسائٹی کے مسئولین اور دیگر طلبا نے کہا کہ یومِ دفاع ہمیں اس قربانی کی یاد دلاتا ہے جو ہمارے جوانوں نے وطن کے تحفظ کے لیے دی۔ اگر ہم واقعی پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں نہ صرف اپنے فرض نبھانے ہوں گے بلکہ دل سے اپنے ملک سے محبت کرنی ہوگی۔
انہوں نے اس موقع پر عید میلادالنبی ﷺ اور ہفتہ وحدت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے   کہا کہ قومیں صرف ہتھیاروں سے نہیں، جذبے اور عزم سے ترقی کرتی ہیں۔ ہمارے جوانوں نے 1965ء میں جس بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب قوم متحد ہو، تو کوئی دشمن اسے زیر نہیں کر سکتا۔
یاد رہے کہ جامعۃ الرضا کے طلبا پر مشتمل الرضا سوسائٹی کا شعبہ ایسی قومی و اجتماعی سرگرمیوں کیلئے پلاننگ اور نظارت کرتا ہے۔ ایسے پروگرام طلبا کو جنرل نالج، قومیات اور تاریخ سے اگاہ رکھنے کیلئے منعقد کئے جاتے ہیں۔ یہ تقریب اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی کہ وطن کی خدمت اور اس کی ترقی کے لیے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ قومیں محبت، اتحاد اور قربانی سے ہی آگے بڑھتی ہیں۔یہ یومِ دفاع، عید امیلادالنبی ؐ اور ہفتہ وحدت کا تقاضا ہے۔

ہفتہ، 6 ستمبر، 2025

خدا پر توکل ہی دینی طلبا کا ہتھیار ہے۔ مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب

جامعۃ الرضا اسلام آباد کے نئے تعلیمی سال کے آغاز پر طلبا کی مدیرِ محترم کے ساتھ خصوصی نشست رکھی گئی۔ نشست میں مدیرِ جامعہ حجۃ الاسلام سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے جہاں نئے طلبا کو خوش آمدید کہا وہیں دینی طلبا کی خصوصیات  اور اہمیّت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ خدا پر توکل ہی دینی طلبا کا ہتھیار ہے۔ ویسے تو ہر شخص کو ہر کام فقط خدا کیلئے ہی کرنا چاہیے لیکن دینی طلبا کو اس حوالے سے اپنے امور پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ خدا سے محبت، خدا کیلئے علم کا حصول اور اس راستے میں خدا کی ذات پر بھروسہ ہی دینی طلبا کا ہتھیار ہے۔اس نشست میں طلبا کو ادارے کے قواعدو ضوابط کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ ۴/۹/۲۵
کونسی تعلیم سے دور رہیں؟

جمعرات، 4 ستمبر، 2025

دینی تعلیم کے ہمراہ کالج و یونیورسٹی کی تعلیم کیسے حاصل کریں؟ جامعۃ الرضا شعبہ تعلیم و تربیّت

دینی تعلیم کے ہمراہ کالج و یونیورسٹی کیسے پڑھیں؟  : 
جامعۃ الرضا میں نئے تعلیمی سال اور نئی تعلیمی ٹرم کے آغاز میں دینی تعلیم کے ہمراہ ریگولر ایف اے کرنے والے  طلبا کی کونسلنگ اورکیئریئرگائڈنس کے حوالے سے شعبہ تعلیم و تربیّت کی پہلی  نشست منعقد ہوئی۔ جس میں طلبا کو  جہاں دینی و عصری تعلیم کے امتزاج کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا وہیں  انفرادی طور پر طلبا کے ذہنی، جذباتی،  اور نفسیاتی مسائل کو سمجھنے اور حل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔اس کے علاوہ اس  نشست میں طلبا کو یہ رہنمائی بھی  فراہم کی گئی کہ وہ  کس طرح خود شناسی ،جذباتی دباؤ سے اجتناب، کسی قسم کے  اضطراب  یا پریشانی  کو اساتذہ کرام کے ساتھ بیان کر کے اپنے  تعلیمی، پیشہ ورانہ اور ذاتی مستقبل کو کیسے بہتر طریقے سے تراش سکتے ہیں۔اس نشست میں یہ واضح کیا گیا کہ  خوداعتمادی، وقت کا بہتر استعمال، اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ ہی کامیابی کی کنجی ہیں۔
طلبا کرام کو بتایا گیا کہ دینی تعلیم انسان کو اخلاقی، روحانی اور فکری بنیاد فراہم کرتی ہے اور عصری تعلیم عملی زندگی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت دیتی ہے۔ دونوں کا امتزاج ہی ایک متوازن اور کامیاب شخصیت کی ضمانت ہے۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا اسلام آباد میں  طلبا کو  دینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم کی سہولت بھی   فراہم کی جاتی ہے۔  ادارے میں داخلے کیلئے میٹرک پاس ہونا شرط ہے اور اس کے بعد دینی تعلیم  کے ہمراہ  ایف اے کی تعلیم ریگولر دلائی جاتی ہے۔ اساتذہ نے اس نشست میں انسان میں پائی جانے والی لاتعداد صلاحیتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے طلبا سے کہا کہ  وہ صرف ایک رخ پر توجہ نہ دیں بلکہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم، تحقیق و خطابت اور کمپیوٹر کورسز میں بھی مہارت حاصل کریں ۔ قابلِ ذکر ہے کہ یہاں کمپیوٹر کلاسز بھی  ایک باقاعدہ شیڈول کے مطابق  منعقد ہوتی ہیں۔ 
اس موقع پر طلبا نے اپنے کیرئر کے حوالے سے  ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات  اور درپیش مشکلات پر بھی  کھل کر بات کی۔
جامعۃ الرضا کے منتظمین نے نشست میں  اس عزم کا اظہار کیا کہ اس طرح کی نشستیں آئندہ بھی جاری رکھی جائیں گی تاکہ طلبا کو تعلیم و تربیّت  کے میدان میں حسبِ توفیق  بہترین امکانات فراہم کئے جائیں۔



منگل، 2 ستمبر، 2025

The Shanghai Cooperation Organization Summit: Is Pakistan Ready to Transform Its Fate in South Asia?

شنگھائی تعاون تنظیم   کا اجلاس اور  کیا جنوبی ایشیا میں پاکستان  اپنی حالت بدلنے کیلئے تیار ہے؟
ڈاکٹر نذر حافی  :
The Shanghai Cooperation Organization Summit:Is Pakistan Ready to Transform Its Fate in South Asia?
ماہرین کا خیال ہے کہ آگے چل کر  چین  کی وساطت سے  یک قطبی نظام کے مدِّمقابل کوئی نیا نظام جنم لے سکتا ہے۔  خصوصاً انڈیا و پاکستان کے عوام کی شدید خواہش ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے سربراہانِ مملکت کی شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے اجلاس میں شرکت  فقط ایک سرکاری دورہ ثابت نہیں ہونی چاہیے۔  پاکستان کے حوالے سے ایک موہوم سی  امید کی جا سکتی ہے کہ  اجلاس میں ہونے والی کارروائی   صرف سیر سپاٹے اور  وقت گزاری کیلئے  ہر گز نہیں تھی۔ اتوار کے روز افتتاحی گفتگو میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ عالمی منظرنامہ تبدیل ہو رہا ہے اور بین الاقوامی صورتحال افراتفری کی شکار ہے۔ ان کا یہ جملہ دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتا ہے کہ سرد جنگ کے بعد پیدا ہونے والا یک قطبی نظام اب اپنی گرفت کھو رہا ہے اور دنیا میں طاقت کے کئی مراکز ابھر رہے ہیں۔ چین اور انڈیا مشرق کی دو قدیم ترین تہذیبیں ہیں اور آج یہ دونوں دنیا کے سب سے بڑے جغرافیائی و آبادیاتی بلاک کے وارث ہیں۔ یہ خطہ تقریباً 2.8 ارب انسانوں کے مستقبل کا امین ہے، جو پوری دنیا کی آبادی کا ایک تہائی بنتا ہے۔
چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے، جس کا حجم تقریباً 18 ٹریلین ڈالر ہے، جبکہ انڈیا تیزی سے بڑھتی ہوئی 4 ٹریلین ڈالر کی معیشت کے ساتھ دنیا کی پانچویں بڑی اقتصادی طاقت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات 135 بلین ڈالر سے تجاوز کرچکے ہیں اور اندازہ ہے کہ 2030ء تک یہ حجم 300 بلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔ مگر اس معاشی وسعت کے باوجود بداعتمادی کی دیواریں دونوں کے درمیان حائل ہیں۔ لداخ اور اروناچل پردیش کے سرحدی تنازعات، دریائے برہم پتر پر چین کا میگا ڈیم، تبت اور دلائی لاما کے مسائل، یہ سب ایسے عوامل ہیں، جو بیجنگ اور نئی دہلی کو ایک دوسرے سے محتاط رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ بحرِ ہند اور بحرالکاہل میں امریکی موجودگی اور انڈیا کو QUAD (امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، انڈیا) کا حصہ بنانا، اس خطے کو ایک نئے اسٹریٹیجک تناؤ سے دوچار کر رہا ہے۔ عالمی ادارۂ دفاعی تجزیات (SIPRI) کے مطابق انڈیا دنیا میں اسلحہ درآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جبکہ چین دفاعی پیداوار میں خود کفالت حاصل کرچکا ہے۔ یہ فرق بھی دونوں کے درمیان طاقت کا توازن بگاڑ رہا ہے۔
ایسے میں پاکستان کے لیے امکانات کے دروازے وسیع ہو رہے ہیں۔ اپنی جغرافیائی پوزیشن کی بدولت پاکستان نہ صرف جنوب ایشیاء کا مرکز ہے، بلکہ مشرقِ وسطیٰ، وسط ایشیاء اور چین کے بیچ ایک قدرتی پل بھی ہے۔ اگر پاکستان دانشمندی سے قدم بڑھائے تو وہ "ریجنل کنیکٹیویٹی" کا ایسا ماڈل تخلیق کرسکتا ہے، جو خطے کے لیے نئی اقتصادی اور سفارتی حقیقت بن جائے۔ پاکستان کے پاس وہ امکانات موجود ہیں، جو نہ چین کے پاس ہیں، نہ انڈیا کے۔ ساٹھ فیصد سے زیادہ نوجوان آبادی، زرخیز زمین اور وافر پانی، تھر کول، ہائیڈل، سولر اور ونڈ جیسے توانائی کے متنوع ذخائر اور گوادر، کراچی و پورٹ قاسم جیسی گہری سمندری بندرگاہیں۔۔۔۔ یہ سب عوامل پاکستان کو خطے کی فوڈ پاور، انرجی ہب اور ٹرانزٹ اکنامی بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ عالمی ادارۂ خوراک (FAO) کے مطابق 2050ء تک دنیا کو اپنی موجودہ زرعی پیداوار میں 60 فیصد اضافہ کرنا ہوگا، تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ ایسے میں پاکستان اگر جدید آبپاشی نظام اور AI-based زراعت کو فروغ دے تو ایشیاء کے لیے گندم، چاول اور دالوں کا مرکزی سپلائر بن سکتا ہے۔
سی پیک کو صرف سڑکوں تک محدود رکھنے کے بجائے، اگر اسے توانائی کاریڈور اور ڈیجیٹل کاریڈور میں ڈھالا جائے تو پاکستان پورے خطے کو توانائی اور ٹیکنالوجی کی نئی سطح تک لے جا سکتا ہے۔ چین پہلے ہی پاکستان میں ٹیکنالوجی پارکس قائم کر رہا ہے۔ اگر نوجوانوں کو AI، روبوٹکس اور بایوٹیکنالوجی میں تربیت دی جائے تو پاکستان جنوبی ایشیا کا ڈیجیٹل دل بن سکتا ہے۔ چین اور انڈیا کے درمیان پانی کی جنگ شدت اختیار کر رہی ہے، ایسے میں پاکستان اگر "ریجنل واٹر کنسورشیم" تجویز کرے تو وہ خطے کا امن پرور ثالث بھی بن سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اپنے اسلامی ورثے، صوفیانہ تہذیب اور ثقافتی تنوع کو بھی بطور "سافٹ پاور" استعمال کرکے خطے میں اعتماد سازی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر پاکستان نے اپنی جغرافیائی برتری، نوجوان قوت اور فکری ورثے کو صحیح طور پر بروئے کار لایا تو وہ مشرق میں ایک اقتصادی تحریک کا مرکز بن جائے گا، ایک ایسی تحریک جو چین و انڈیا کی رقابت کے بیچ امن کا توازن اور تجارت کا پُل ہوگی۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں تینوں ممالک کی رکنیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان ممالک کے درمیان توانائی، ماحولیاتی چیلنجز، علاقائی سلامتی اور تجارت جیسے موضوعات پر مشترکہ بنیادیں تلاش کی جا سکتی ہیں۔ اگر مستقبل میں چین، بھارت اور پاکستان اپنے سرحدی و سیاسی تنازعات کو کم کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو پاکستان اپنی جغرافیائی پوزیشن کی بنا پر ایک نئے اقتصادی قطب کا مرکز بن سکتا ہے۔ پاکستان، اپنی جغرافیائی اسٹریٹجک لوکیشن اور سی پیک جیسے ٹرانزٹ راہداریوں کے باعث، خطے میں ایک ابھرتے ہوئے معاشی قطب کے طور پر سب کی ضرورت ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے فریم ورک میں پاکستان ایک جیو اکنامک مرکز کے طور پر یہ کردار حاصل کرسکتا ہے۔ اس تناظر میں کشمیر کے بارڈرز کھولنے اور وہاں تجارتی راہداریاں قائم کرنے کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ اگر پاکستان اور بھارت اس خطے کو معاشی تعاون کے لیے کھول دیتے ہیں تو نہ صرف باہمی تجارت میں اضافہ ہوگا بلکہ وسطی ایشیاء، چین اور جنوبی ایشیا کے درمیان روابط کو بھی نئی جہت ملے گی۔
کشمیر کی راہداریاں پاکستان اور بھارت کے معاشی حالات میں زبردست اقتصادی  انقلاب لاسکتی ہیں۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت کے پالیسی ساز اپنی نااہلیوں پر قابو پائیں اور طویل المدتی وژن کے ساتھ خطے میں امن و تعاون کی راہیں ہموار کریں۔ ہمیں افسوس کے ساتھ یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان کے پالیسی ساز اکثر غیر مستقل مزاجی، وقتی مفادات اور کمزور منصوبہ بندی کے باعث مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ یہی نااہلی پاکستان کی جغرافیائی برتری کو مکمل طور پر بروئے کار آنے نہیں دیتی۔ اگر پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کی دیرینہ روش برقرار رہی تو خطے کے ممکنہ معاشی اتحاد میں پاکستان محض ایک راہداری تک محدود ہو کر رہ جائے گا۔ بدلتے حالات کے ساتھ ہمارے پالیسی سازوں کو بھی اپنے آپ کو بدلنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ بقول شاعر:
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اتوار، 31 اگست، 2025

جامعۃ الرضا میں بلیک ستمبر اور فلسطین

 جامعۃ الرضا میں مجلسِ مذاکرہ بعنوان  بلیک ستمبر اور فلسطین :    
رپورٹ  مزمل حسین متعلم جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق :  
جامعہ الرضا میں  30 اگست 2025  کو "بلیک ستمبر اور فلسطین " کے موضوع پر ایک فکری و تاریخی نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس میں طلبا کو مسئلہ فلسطین کے مختلف زاویوں سے آشنا کیا گیا۔ پروگرام کا آغاز بلیک ستمبر پر مبنی ایک خصوصی ڈاکیومنٹری سے ہوا، جس میں 1970 میں اردن میں پیش آنے والے خونریز واقعے کو  اچھے انداز میں بیان کیا گیا تھا۔ اس نشست کا مقصد فلسطین کے بلیک ستمبر کے  تاریخی واقعے  سے سیکھنا اور اس سے عبرت حاصل کرنا تھا۔  ڈاکومنٹری  ملاحظہ کرنے کے بعد اساتذہ کرام کی طرف سے طلبا کو بلیک ستمبر کے حوالے سے مختصراً بریفنگ بھی دی گئی۔ اس موقع پر طلبا نے  بلیک ستمبر کے حوالے سے طلبا نے اپنی اپنی معلومات بھی بیان کیں ۔ نشست میں یہ حقیقت سامنے آئی کہ  ۱۹۷۰ میں   اردن کی حکومت اور فلسطینی تنظیموں (خصوصا PLO) کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں ایک خانہ جنگی جیسا ماحول بن گیا۔ اس واقعے میں اندازاً 20,000 فلسطینیوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا، اور ہزاروں دیگر کو ملک بدر کر دیا گیا۔
نشست میں موجود طلبا و اساتذہ نے اپنے  خیالات کا اظہار کرتے ہوئے "بلیک ستمبر" کے مختلف پہلوؤں کو زیر بحث لایا اور مختلف معلومات کی جمع بندی کی۔یاد رکھیں کہ جامعۃ الرضا اسلام آباد میں دینی طلبا کو معاصر بدلتے ہوئے حالات اور تاریخی حقائق سے آگاہ رکھنے کیلئے ایسی تجزیاتی نشستوں کا آغاز شعبہ تربیّت و تحقیق کے زیرِ انتظام  ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے۔   جاری نئی  تعلیمی ٹرم میں یہ اس سلسلے کی پہلی نشست تھی۔

کالا ستمبر اور سفید خون

کالا ستمبر اور سفید خون :
ڈاکٹر نذر حافی : 
ایک ایسا پاکستانی جرنیل، جو اپنے فیصلوں کے ذریعے پاکستان، فلسطین، لبنان، شام اور افغانستان یعنی پانچ ممالک پر اثر انداز ہوا۔ اس کا ہاتھ بلیک ستمبر میں بھی دنیا کو نظر آیا۔ یوں تو بلیک ستمبر اردن کے شاہ حسین کے فلسطینیوں کے قتلِ عام کے لیے معروف ہے۔ تاہم برادر کُشی کی اس واردات بمیں پاکستان نے بھی سفید خون کا مظاہرہ کیا۔ 

قصہ کچھ یوں ہے کہ ستمبر 1970ء میں شروع ہونے والی یہ قتل و غارت جولائی 1971ء تک جاری رہی اور اس لڑائی نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کی کمر توڑ دی۔ بعد ازاں یہی واقعہ بلیک ستمبر کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ بلیک ستمبر کے حوالے سے حیران کن بات یہ ہے کہ اس المناک واقعے کا تعلق پاکستان سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جون 1967ء کی چھ روزہ عرب-اسرائیل جنگ کے بعد فلسطینی عوام مغربی کنارے سے اردن کی جانب پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اس ہجرت سے پہلے بھی تقریباً 650,000 فلسطینی اردن میں آباد تھے۔ اسرائیلی قبضے کے بعد اس علاقے کا نام مشرقی فلسطین کی بجائے اردن رکھ دیا گیا۔ گویا کہ یہ بالکل ایسا ہی ہے، جیسے کسی نے مقبوضہ کشمیر کا نام بھارت رکھ دیا ہو۔

فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیل کے ظلم و ستم اور کشمیری عوام کے ساتھ بھارتی مظالم میں کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ دونوں میں غیر قانونی قبضہ، پناہ گزینوں کی بربادی، انسانی حقوق کی پامالی اور عسکری دباؤ کے ذریعے مقامی آبادی پر کنٹرول شامل ہے۔ جیسے فلسطینیوں کو اپنے گھروں سے نکالا گیا اور اردن میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا، بالکل اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی بھارتی افواج کے دباؤ میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی اس باشعور دنیا میں عالمی سطح پر فلسطینی مظالم پر تو بات ہوتی ہے، مگر کشمیری مظلوموں کے حق میں کوئی نہیں بولتا۔ اگرچہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا انسانی شعور کی سب سے بڑی علامت ہے۔
1959ء میں یاسر عرفات اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) نے فتح تنظیم قائم کی، جس کا مقصد فلسطین کو اسرائیلی قبضے سے آزاد کرانا تھا۔ دیگر مزاحمتی تحریکیں بھی فعال تھیں، جو دریائے اردن کے پار سے اسرائیلی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتی رہتی تھیں۔ مہاجر فلسطینی اردن میں اس طرح آباد تھے، جیسے کشمیر کے کشمیری پاکستان کے زیرِانتظام علاقے آزاد کشمیر میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ فلسطینی مہاجرین نے اردن میں سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ حاصل کر لیا۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ان علاقوں کو آزادی کی جدوجہد کے لیے بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ صورتحال اردن کی بادشاہت کے لیے سنگین خطرہ بنی، خصوصاً یاسر عرفات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے شاہ حسین کو بے چینی میں مبتلا کر دیا۔
25 ستمبر 1970ء کو اردن میں مارشل لاء نافذ کیا گیا۔ دو دن تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اردن کی فوج کے درمیان خونریز لڑائی جاری رہی۔ جنگ بندی کے باوجود جولائی 1971ء تک بادشاہ نے فلسطینی تنظیموں کے ارکان کو اردن بدر کرکے شام اور لبنان منتقل کر دیا۔ وہ دن تھا اور آج کا دن۔ اس کے بعد آج تک شام اور لبنان میں فلسطینی عوام کی مکمل آبادکاری نہیں ہوسکی اور یہ علاقے مستحکم نہیں ہوسکے۔ مقبوضہ کشمیر کی طرح یہاں بھی دنیا خاموش رہتی ہے، گویا اُسے کچھ دکھائی اور سُنائی ہی نہیں دیتا۔ اس دوران جنرل ضیاء الحق "جنگی تربیتی مشن" کے کمانڈر کے طور پر اردنی فوجیوں کی تربیت کر رہے تھے۔ بلیک ستمبر کی کارروائیوں میں وہ بھی  شریک ہوئے اور اردن کی فوج کے اقدامات میں اہم کردار ادا کیا۔ ایک سال کے دوران تقریباً بیس ہزار فلسطینی مارے گئے۔ اس تجربے نے ضیاء الحق کو ایک مضبوط اور سخت گیر فوجی رہنماء کے طور پر تیار کیا اور اردن کے شاہ نے انہیں اعلیٰ اعزاز ’’کوکب استقلال‘‘ سے نوازا۔ 1975ء میں وہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔
ضیاء الحق کا ایسا ہی کردار بعد میں افغانستان کے ساتھ بھی سامنے آیا اور اس کے اثرات آج بھی افغانستان میں قابلِ مشاہدہ ہیں۔ یہاں یہ قابلِ ذکر ہے کہ فلسطین کی طرح، مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی بعض پاکستانی حکمرانوں کا کردار افسوسناک رہا ہے، البتہ پاکستانی عوام ہمیشہ سے فلسطین اور کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے مخلص اور بے لوث رہے ہیں اور ان کے حق میں آواز بلند کرنے میں آج بھی پیش پیش ہیں۔ دنیا آج بھی بلیک ستمبر کی لپیٹ میں ہے اور مظلوم اقوام کے حق میں کہیں کوئی نہیں اٹھتا۔ دین اور قانون کے نام پر عالمِ بشریّت کو آج بھی صرف دھوکہ دیا جاتا ہے اور انصاف کی راہ پر کوئی قدم بڑھانے کی ہمت نہیں کر پاتا۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت یہ تینوں طاقتیں دنیا کے ہر کونے سے حمایت یافتہ ہیں اور مظلوم کی آہ، درد کی صدا، محض تاریخ کے صفحات میں دبی ہے۔
اس وقت ساری دنیا میں ایک ملک اسلامی جمہوریہ ایران اندھیروں سے لڑ رہا ہے، جو ظلم کے خوف کے سامنے ابھی تک بے بس نہیں ہوا۔ بلیک ستمبر کی لپیٹ میں آئے ہوئے اذہان کے مقابلے میں ایران کا بصیرت مندانہ کردار ہمیں یہ سمجھا رہا ہے کہ دلوں کی امید اور انسانی شعور کی صدا، ہر زمانے میں انصاف کی راہ پر گامزن رہتی ہے، چاہے دنیا مظلوموں کیلئے بولے یا خاموش  رہے۔ یہی وہ کردار ہے کہ جو یہ ثابت کرتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی ایک کمزور اور تاریک سا پردہ ہے اور اس پردے سے حقیقت کی روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی۔

جمعہ، 29 اگست، 2025

علم صرف،اسم فعل اور حرف کی تمرین


📑 تمرين: أقسامُ الكَلِم (اسم – فعل – حرف)
✍️ ہدایت:
مندرجہ ذیل عبارات پڑھیں اور ہر لفظ کے سامنے یہ لکھیں کہ یہ اسم ہے، فعل ہے یا حرف۔

🟢 عبارت 1
جاءَ الطالبُ إلى المدرسةِ مبكِّراً.
(طالب علم صبح سویرے اسکول آیا)

جاءَ = ______

الطالبُ = ______

إلى = ______

المدرسةِ = ______

مبكِّراً = ______

🟢 عبارت 2
الكتابُ على الطاولةِ في الصفِّ.
(کتاب کلاس میں میز پر ہے)

الكتابُ = ______

على = ______

الطاولةِ = ______

في = ______

الصفِّ = ______

🟢 عبارت 3
كتبَ عليٌّ رسالةً إلى صديقهِ.
(علی نے اپنے دوست کو خط لکھا)

كتبَ = ______

عليٌّ = ______

رسالةً = ______

إلى = ______

صديقهِ = ______

🟢 عبارت 4
المعلِّمُ يشرحُ الدرسَ للطلابِ.
(استاد طلبہ کو سبق سمجھا رہا ہے)

المعلِّمُ = ______

يشرحُ = ______

الدرسَ = ______

لِـ = ______

الطلابِ = ______

🟢 عبارت 5
لا تلعَبْ في الشارعِ!
(گلی میں مت کھیل)

لا = ______

تلعَبْ = ______

في = ______

الشارعِ = ______

✅ حل کا نمونہ (مثال کے طور پر عبارت 1 کا جواب)
جاءَ = فعل

الطالبُ = اسم

إلى = حرف

المدرسةِ = اسم

مبكِّراً = اسم (حال)

بدھ، 27 اگست، 2025

نئے تعلیمی سمیسٹر کا پہلا درس اخلاق آج منعقد ہوگا۔ جامعۃ الرضا اسلام اباد

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں طلبا کی روحانی و معنوی تربیّت کیلئے ہفتہ وار درسِ اخلاق کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس درسِ اخلاق میں جیّد علمائے کرام جامعۃ کے طلبا کو اپنے مواعظِ حسنہ سے مستفید کرتے ہیں۔ جامعۃ الرضا کے شعبہ تربیّت کے مطابق نئے تعلیمی سمیسٹر کا  پہلا ہفتہ وار درسِ اخلاق آج ۲۸ اگست ۲۰۲۵ بروز جمعرات جامعۃ الرضا میں دن ساڑھے گیارہ بجے منعقد ہوگا۔  آج کے درسِ اخلاق کا موضوع  "علمِ نافع کے حصول میں پیش مطالعہ، مطالعہ اور مباحثہ کرنے کی اہمیّت" ہے۔
جامعۃ الرضا کے بارے میں ڈاکومنٹری

ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی۔ جامعۃ الرضا اسلام آباد

ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کی حوصلہ افزائی۔
 جامعۃ الرّضا اسلام آباد  میں دینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم کا بھی انتظام موجود ہے۔ گزشتہ روز ایف اے کے سالانہ امتحانات میں کامیابی حاصل کرنے والے طلبا کو اساتذہ ِکرام اور دیگر ہم مکتب ساتھیوں کی طرف سے مبارکباد دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ صبح سویرے اسمبلی کے موقع پر بھی ان طلبا کی تعلیمی میدان میں محنت اور ثابت قدمی کو سراہا گیا۔ یاد رہے کہ جامعۃ الرضا کے  طلبا کودینی تعلیم کے ہمراہ عصری تعلیم سے بھی مزیّن کرنے کیلئے باقاعدہ کلاسز ہوتی ہیں۔ یہاں طلبا ریگولر بنیادوں پر کلاسز میں شمولیت کرتے اور امتحانات دیتے ہیں۔لائق اور ہونہار طلبا کو  انٹر میڈیٹ کے بعد دینی تعلیم کے ہمراہ بی ایس ﴿ بیچلر﴾ ڈگری کیلئے بھی مقدّمات فراہم کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کو اپنا تعلیمی دورانیہ مکمل کرنے پر اور  ادارے سے فارغ التحصیل ہونے پر ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی سے اسلامیات میں بیچلرکی ڈگری حاصل کرنے کی سہولت بھی موجود ہے ۔

جمعرات، 21 اگست، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کیلئے ٹیسٹ و انٹریو کا مرحلہ مکمل

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں نئے داخلوں کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو کا مرحملہ مکمل ۔ تفصیلات کے مطابق داخلہ ٹیسٹ کی مقررہ تاریخ یعنی ۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو  ملک کے چاروں صوبوں اور آزادکشمیر و گلگت و بلتستان سے طلبا نے داخلے کا امتحان دیا۔ بعض آفت زدہ اور دور دراز علاقوں کے رہنے والے طلبا کے لئے  آنلائن امتحان کی سہولت بھی موجود تھی۔ اس موقع پر بعض طلبا کے سرپرست حضرات بھی  جامعۃ الرضا اسلام آباد تشریف لائے تھے۔ تحریری امتحان کے بعد طلبا سے شفاہی امتحان بھی لیا گیا۔ 

منگل، 19 اگست، 2025

In August 2025, there will be a test and interview for admission to Jamia-tur-Raza. An online test and interview facility is also available for students from remote areas.اگست ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کے طلبا کیلئے آنلائن ٹیسٹ و انٹرویو کی سہولت بھی موجود ہے۔

۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے ٹیسٹ اور انٹرویو ہوگا۔ دور دراز کے علاقوں کے طلبا کیلئے آنلائن ٹیسٹ و انٹرویو کی سہولت بھی موجود ہے۔ تفصیلات کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام اباد کے مسئول تعلیم ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب  کے مطابق جن طلبا نے جامعۃ الرضا میں داخلے کیلئے رجسٹریشن کروائی تھی ان سے ۲۱ اگست ۲۰۲۵ کو  داخلہ ٹیسٹ اور انٹرویو لیا جائے گا۔ 
یاد رہے کہ  ڈاکٹر نذیر اطلسی صاحب  اگست 2023 سے جامعۃ الرضا اسلام آباد میں مسئولِ تعلیم ہیں۔ وہ  اگست 2021 میں بطورِ استاد جامعہ الرضا اسلام آباد کی ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ جامعہ الرضا کے نصابِ تعلیم کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ جامعہ الرضا کا نصابِ تعلیم مختلف معتبر تعلیمی اداروں کے نصاب کو مدِنظر رکھ کر نہایت غوروخوض کے بعد مرتّب کیا گیا ہے۔ اس نصاب کی تدوین میں  مدیرِ محترم حجۃ الاسلام والمسلمین آقای سید حسنین عباس گردیزی صاحب کی زیرِ نظارت  جیّد اساتذہِ کرام پر مشتمل ایک  نصاب کمیٹی نے حصّہ لیا ۔ مذکورہ نصاب کی جامعیّت  کی خاطر  جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ ، وفاق المدارس ، دائرۂ امتحانات، وفاقی تعلیمی بورڈ  کے نصاب اور مختلف  ماہرین تعلیم کی تجاویز کو مدِّنظر رکھا گیا ہے۔ چنانچہ جامعۃ الرضا کا  نصاب تعلیم دینی و عصری تعلیم کا حسین امتزاج ہے۔
یہ ادارہ اسلام آباد فیڈرل بورڈ سے باقاعدہ طور پر ملحق ہے۔ یہاں کے طلباء ریگولر اسٹوڈنٹس کی حیثیت سے فیڈرل بورڈ کے تحت امتحانات میں شریک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ  اس جامعہ کو یہ شرف بھی حاصل ہے کہ یہ جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کا رجسٹرڈ ادارہ ہے، جس کے تحت ہر سال 6 سے 8 طلباء کو مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعۃ المصطفیٰ میں داخلہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح جامعہ الرضا کے طلباء وفاق المدارس اور دائرہ امتحانات  کے امتحانات میں بھی شرکت کرتے ہیں، جس سے ان کی علمی استعداد اور تعلیمی ظرفیّت میں مزید وسیع ہوتا ہے۔


پیر، 18 اگست، 2025

جامعۃ االرضا ؑ کے نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، جامعۃ المصطفیؐ کے حوالے سے حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری کی بریفنگ

جامعۃ االرضا ؑ کے  نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، جامعۃ المصطفیؐ کے حوالے سے  حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری کی بریفنگ
جامعۃ االرضا ؑ کے  نئے تعلیمی سیشن کا آغاز، طلبا کی صلاحیتوں کو نکھارنے، نصابِ تعلیم میں جِدّت اور نوآوری، اساتذہ ِ کرام سے مزید بہتر استفادے نظم و ضبط و تربیت کے طریقہ کار کا جائزہ لینے  اور تدریس کے جدید اسالیب سے آشنائی کیلئے خصوصی نشست۔ تفصیلات کے مطابق موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد جامعۃ الرضا اسلام آباد میں تعلیم و تربیّت کا نیا سیشن شروع ہو گیا ہے۔ نئے سیشن کے آغاز سے ایک دن پہلے جامعۃ الرضا کے پرنسپل حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب کے ساتھ جامعۃ کے اساتذہ کی ایک نشست رکھی گئی۔ 
اس نشست میں ادارے کی گزشتہ کارکردگی، نصابِ تعلیم کے تقاضوں،  اساتذہ و طلبا کو درپیش مشکلات اور آئندہ کیلئے نئی حکمتِ عملی کو زیرِ بحث لایا گیا۔ اس موقع پر اساتذہ کرام نے اپنے اپنے مضامین اور تخصص کے پیشِ نظر  مختلف آراء، امکانات اور تجاویز کو مدیرِ مدرسہ کے سامنے رکھا۔
یاد رہے کہ جامعۃ الرضا اسلام آباد کے نصابِ تعلیم کی ایک نمایاں خصوصیّت یہ ہے کہ یہاں  طلبا کو دائرہ امتحانات، کالج و یونیورسٹی، وفاق المدارس اور جامعۃ المصطفیؐ میں تعلیم حاصل کرنے و  امتحانات دینے کے یکساں مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔   چنانچہ اس نشست کے دوسرے حصّے میں   اساتذہِ کرام کو  جامعۃ المصطفی یونیورسٹی کی طرف سے حجۃ الاسلام ڈاکٹر اعجاز نگری نے جامعۃ المصطفی  کے نصاب تعلیم کے حوالے سے مکمل  بریفنگ  بھی دی ۔ انہوں نے جامعۃ المصطفی ؐ کے نصاب ِتعلیم کی اہمیت، خصوصیات، انفرادیت اور  تدریس کے طریقہ کار  کی وضاحت کی۔ 
اس موقع پر انہوں نے جامعۃ المصطفی کے نصاب تعلیم اور عصرِ حاضر کے تقاضوں سے لے کر اس کے نصاب کے طریقہ تدریس اور درسی منصوبہ بندی سے بھی اساتذہ کو مفصّل آگاہ کیا۔ 

اتوار، 17 اگست، 2025

آزاد کشمیر کی ڈیموگرافی کو لاحق خطرات Threats to the Demography of Azad Kashmir

آزاد کشمیر کی ڈیموگرافی کو لاحق خطرات 
ڈاکٹر نذرحافی :
مقبوضہ کشمیر کے مقابلے میں آزاد کشمیر  واقعتاً آزاد ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں حکومت پر تنقید یا احتجاج صرف جرم ہی نہیں بلکہ غداری کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ  آزاد کشمیر میں طلبا، صحافی، اور سیاسی کارکن ریاستی پالیسیوں کے خلاف لکھنے، تنقید کرنے اور جلسے منعقد کر نے میں آزاد ہیں۔اسی طرح فوجی موجودگی کی نوعیت بھی یکسر مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی نقل و حرکت کو کنٹرول کرنے کیلئے  ہر گلی کوچے، اسکول، اسپتال اور مسجد کے باہر بندوق بردار کھڑے  رہتےہیں۔قابض فورسز کیلئے  ہر کشمیری مشکوک، جاسوس اور  دہشت گرد ہے۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر میں تعینات فوجیوں اور عام کشمیریوں کے درمیان   بھائی چارے اور محبّت کی فضا ہے۔ خاص جگہوں پر عسکری موجودگی غیر محسوس ہے، اور شہری زندگی نسبتاً معمول پر چلتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو انٹرنیٹ اور مواصلاتی آزادی کا ہے۔ مقبوضہ کشمیر دنیا کا وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں انٹرنیٹ کی بندش کو ریاستی پالیسی کا درجہ حاصل ہے۔ وہاں عوامی رابطہ ایک جرم بن چکا ہے۔ اس کے برعکس، آزاد کشمیر میں انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پر عام آدمی بلا خوف و خطر اپنے مسائل بیان کرنے میں آزاد ہے، اس آزادی کے ذریعے آزاد کشمیر کے  نوجوان مسلسل جدیدتعلیم اور شعور کی  نئی راہیں تلاش کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کا عدالتی نظام بھی یہاں کے عوام کے نزدیک معتبر ہے۔ آزاد کشمیر کا اپنا سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ موجود ہے، جہاں شہری آئینی تحفظ کا مطالبہ کرتے نظر آتےہیں۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر میں آئینی تحفظات 2019 میں آرٹیکل 370 اور 35A کے خاتمے کے ساتھ ہی  مکمل طور پر دفن ہو چکے ہیں۔میڈیا کی آزادی کا حال بھی دونوں طرف مختلف ہے۔ آزاد کشمیر میں اگرچہ تنقید کی حدیں موجود ہیں، لیکن صحافیوں کو غائب نہیں کیا جاتا، اور نہ ہی ان پر انسداد دہشت گردی جیسے سخت قوانین کا اطلاق ہوتا ہے، جیسا کہ مقبوضہ کشمیر میں عام ہے۔
سول سوسائٹی کا کردار آزاد کشمیر میں بہت تسلّی بخش ہے۔ مقامی و بین الاقوامی NGOs، تعلیمی اور فلاحی تنظیمیں، اور کمیونٹی گروپس تعلیم، صحت اور انسانی حقوق پر کام کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں ایسے اداروں کو یا تو بند کر دیا گیا ہے یا ان پر ایسی کڑی نگرانی مسلط ہے کہ وہ بے جان ہو چکے ہیں۔
آزاد کشمیر میں  رواداری نیز مذہبی اور ثقافتی آزادی بھی موجود ہے۔ اگرچہ ماضی میں مجاہدین کے جتھے بنا کر عام آدمی کی زندگی  کو خطرے میں ڈال دیا گیا تھا، اس کے علاوہ عباسپور اور مظفرآباد میں کالعدم تنظیموں کی طرف سے ٹارگٹ کلنگ و قتل و غارت کی کارروائیاں بھی کی گئیں  تاہم اس کے باوجود  مساجد آباد ہیں، مذہبی تہوار بغیر کرفیو کے منائے جا تے ہیں، اور کشمیری زبانوں، خاص طور پر پہاڑی، گوجری اور کشمیری کو عوامی سطح پر بولنے پر کوئی قدغن نہیں۔
لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف تعلیم کی صورتحال بھی مختلف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اسکولوں پر تالے، طلبا پر تشدد، اور اساتذہ کی گرفتاریاں ایک المیہ بن چکی ہیں۔ آزاد کشمیر میں، باوجود انتظامی مسائل کے، تعلیمی ادارے  بہترین انداز میں چل رہے ہیں اور نوجوان نسل تعلیمی سرگرمیوں میں مشغول ہے۔
اسی طرح  آزاد کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں اور منظم عسکری جبر جیسی وہ ہولناکیاں موجود نہیں جن کا سامنا مقبوضہ کشمیر کے عوام کو کرنا پڑتا ہے۔اگرچہ آزاد کشمیر میں آزادی کی صورتحال تسلّی بخش ہے تاہم  اس کے باوجود  حکومت پاکستان اور آزادکشمیر حکومت کو کچھ نکات کی طرف فوری توجہ دینی چاہیے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی اپنی سیاسی ساکھ کافی خراب ہو چکی ہے اور اس کے اثرات آزادکشمیر میں بھی قابلِ مشاہدہ ہیں۔ پاکستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی سیاسی  وڈیروں کی مداخلت، اقتدار پر مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری، اور مقتدر برادریوں کی دھونس ایک عام سی بات  ہے۔ اس سب کے باوجود آزاد کشمیر میں سکھ کا  سانس لینے،  انسانی حقوق کی علمبرداری،ہر فورم پر  سچ بولنے، معیاری تعلیم حاصل کرنے، اور نقل و حرکت کی جو آزادی موجود ہے وہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ تصوّر بھی نہیں کر سکتے۔
بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کے خطے کی آبادیاتی، ثقافتی اور سیاسی ساخت کو  بتدریج بدلنے کی کوشش مسلسل جا رہی ہے۔بھارت کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر میں آئینی حیثیت کی منسوخی اور نئے ڈومیسائل قوانین کے نفاذ کے بعد ریاستی پالیسی نے واضح طور پر آبادیاتی تبدیلی کو ریاستی ہدف بنا لیا ہے۔ لاکھوں غیر مقامی افراد کو بھارت سے لا کر  کشمیر میں بسانے کی پالیسی اور مقامی مسلم اکثریت کی زمینوں، ملازمتوں اور شہریت کے حقوق پر قدغن دراصل اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان دنوں یہ اقدام ایک منظم عمل کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کا مقصد صرف سیاسی قبضہ نہیں بلکہ ثقافتی اور تہذیبی تسلط بھی ہے۔
مقبوضہ  کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالیاں، گرفتاریوں، ماورائے عدالت کارروائیوں، اور میڈیا کی سنسرشپ سے واضح ہے کہ بھارت کی ریاست اب اس خطے کو جغرافیائی وحدت کے بجائے ہندوتوا کے قومی بیانیے کو نافذ کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔
تاہم یہ کشمیریوں کیلئے آزاد کشمیر میں بھی کچھ تشویشناک تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان، میں بھی سیاسی، انتظامی اور آبادیاتی سطح پر ایسے اقدامات دیکھنے کو ملتے ہیں جو کشمیری شناخت اور کشمیری تہذیب و ثقافت سے متصادم ہیں۔ آزاد کشمیر میں غیر ریاستی افراد کو زمینوں کی فروخت، شناختی کارڈز کا اجرا، اور مقامی صنعت و حرفت کو تعلیمی و سرکاری ڈھانچوں سے نکال دینے کی پالیسیاں ایک ایسے خاموش مگر باقاعدہ منصوبے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں جس کا مقصد اس خطے کو مکمل طور پر مرکزی ریاستی کنٹرول کے تابع بنانا ہے۔
یہ عمل صرف آبادیاتی نہیں بلکہ سیاسی نوعیت کا بھی ہے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نظریاتی سیاست کا زوال، کلائنٹ پترونج  (Client-Patronage) ﴿سیاسی طاقت یا اثرورسوخ رکھنے والے افراد  اپنے سہولتکاروں کو ذاتی فوائد، مراعات اور وسائل فراہم کرتے ہیں،مثلاً نوکریاں، سرکاری ٹھیکے یا پروٹوکول وغیرہ اور بدلے میں ان سے سیاسی وفاداری، ووٹ یا حمایت حاصل کرتے ہیں﴾کی سیاست کا فروغ، اور مقتدرہ کے منظورِ نظر افراد کی حکمرانی نے جمہوری  شعور کو محدود کر دیا ہے۔ ایسے میں جو بھی آواز حقِ خودارادیت، شفاف حکمرانی یا  عوامی حقوق کیلئے بلند ہوتی ہے اس پر کان دھرنے کے بجائے  اسے ریاست مخالف  کہہ دیا جاتا ہے۔ یہی وہ طرزِ حکمرانی ہے جو مقبوضہ کشمیر میں بھارت اختیار کرتا ہے، اور یہی انداز آزاد کشمیر کے حکمران بھی اپنائے ہوئے ہیں۔ سیاسی کارکنوں، سول سوسائٹی، اور میڈیا کو ریاستی مفادات کے بجائے حکمرانوں کے مفادات  بیان کرنے تک محدود کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ عمل صرف عوامی شناخت یا  برادریوں کی سیاست تک محدود نہیں بلکہ معیشت اور وسائل کے استحصال کی صورت میں بھی سامنے آ رہا ہے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بینکاری، سرمایہ کاری،  پن بجلی، معدنیات، اور سیاحت کے منصوبوں پر غیر مقامی یا وفاقی اداروں کا قبضہ اور مقامی آبادی کو مشاورت یا شراکت سے محروم رکھنا، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ حکمرانوں کی مفاد پرستی  نے ان علاقوں کے عوام  کو محض مزدور بنا دیا ہے  نہ کہ سیاسی اور معاشی شراکت دار۔
آزاد کشمیر کے عام لوگوں کی جانب سے کبھی کبھار اس بارے میں جو ردّعمل سامنے آتا ہے  وہ نہایت سطحی اور غیر مؤثر ہوتاہے۔ آزاد کشمیر میں رائج برادریوں کا سیاسی  نظام صرف طاقتور سیاسی گھرانوں  کے مفادات کی حفاظت کرتا ہے، نہ کہ مقامی و پسماندہ  لوگوں و  برادریوں  کے حقوق کی۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ موجودہ حالات میں کشمیری عوام کے اندر ایک نیا سیاسی شعور ابھر رہا ہے، جو مساوات کی بنیاد پر  سارے  کشمیریوں کے حقوق کی بات کرتا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیر کے دونوں جانب کے حکومتی ڈھانچے ایسے افراد پر مشتمل ہیں جو اپنے اپنے خاندانوں کے  مفادات کے محافظ ہیں اور کشمیری عوام کی حقیقی امنگوں سے کوسوں دور ہیں۔
اس پورے سیاسی منظرنامے میں جو پہلو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ آبادیاتی ساخت کی تبدیلی ہے۔ چاہے وہ بھارت کے تحت غیر کشمیریوں کو بسانے کی صورت میں ہو یا پاکستان کے تحت غیر ریاستی لوگوں کی تعداد کو بڑھا کر مقامی آبادی کو تعداد و تجارت ، ملازمتوں و سیاسی حوالے سے سے  کمزور کرنا ہے۔ آبادی کے تناسب میں یہ تبدیلی  ایک ایسے تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی وجود کو مٹانے کی کوشش ہے جو صدیوں پر محیط ہے۔ کشمیری زبانیں، رسم و رواج، رہن سہن، اور قدرتی وسائل اب بتدریج معدومی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ آج یہ خطرہ جتنا مقبوضہ کشمیر کو لاحق ہے اتنا ہی آزاد کشمیر کو بھی۔
ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہو گیا ہے کہ کشمیر کا تنازع اب محض جغرافیائی حدود یا ریاستی بالادستی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک قوم کے تاریخی وجود، اس کی تہذیبی بقا، سیاسی خودمختاری، اور انسانی حقوق کی جدوجہد کا مسئلہ ہے۔ آزاد کشمیر میں موجود غیر ریاستی  سہولتکار عناصر یہ نہیں چاہتے کہ  کشمیری عوام کو  قومی دھارے میں رکھا جائے، اور کشمیریوں کی قومی  شناخت، اور حقِ خودارادیت کو بنیاد بنا کر پاکستان و آزاد کشمیر کے درمیان جدید تعلقات کو فروغ دیا جائے۔ سہولتکاروں کو صرف  اپنے مفادات سے غرض ہے ، انہیں پاکستان یا آزاد کشمیر سے یا آزاد کشمیر کی تبدیل ہوتی ڈیموگرافی سے  کوئی مطلب نہیں۔
Threats to the Demography of Azad Kashmir

پیر، 11 اگست، 2025

The condition of various underprivileged communities of Fatahpur Thakiala.فتح پور تھکیالہ کی مختلف پسماندہ اقوام کا احوال

فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

پی ڈی ایف ڈاون لوڈ کرنے کیلئے کلک کریں

بسم اللہ الرحمن الرّحیم

فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

راقِم    میجر﴿ر﴾گل  اختر جنجوعہ ولد غلام حسین جنجوعہ مرحوم و مغفور کی مختلف ذرائع سے حاصل شدہ تحقیقی معلومات۔ مزید برآں " تاریخ اقومِ پونچھ  مصنّف محمّد الدّین فوق تشکیلِ نو محمد بابر جاوید  ﴿ایم اے تاریخ﴾ سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انتساب!

اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے نام کہ جنہوں نے ذات پات کے سارے فرق ختم کر دئیے

 فتح پور تھکیالہ  کی مختلف پسماندہ  اقوام کا احوال 

مصنّف: میجر﴿ر﴾گل  اختر جنجوعہ

نظر ثانی: ڈاکٹر نذر حافی

اشاعتِ اوّل: نومبر ۲۰۲۵

ناشر: وائس آف نیشن ریسرچ کمیونٹی

آنلائن ورژن و  فیڈ بیک دینے کیلئے کلک کریں

۔۔۔۔۔۔۔۔

 دیباچہ

راقِم   کو   15فروری 1977ء سے 15دسمبر  1997 تک   یعنی دو دہائیوں کے لگ بھگ اپنے منصبی فرائض کے دوران خطۂ پونچھ و کوٹلی کے سرحدی مواضعات میں رہنے اور عوام کے درمیان زندگی بسر کرنے کا طویل تجربہ حاصل ہوا۔ ضلع پونچھ کی تحصیل ہجیرہ کے دیہات دواراندی، تیتری نوٹ، بٹل، سہڑہ اور اسی طرح ضلع کوٹلی کی تحصیل فتح پور تھکیالہ کے مواضعات  راج محل، جندروٹ، ڈبسی، موہڑہ دھروتی، اولی، کریلہ  علاوہ ازیں تحصیل کھوئیرٹہ کے علاقے متھرانی، پھلنی نندی سوہانہ، کٹہڑہ ، چتر، ٹائیں اور گاہی میں لائن آف کنٹرول  پر اور لائن آف کنٹرول سے  نزدیکی فاصلوں پر  آباد مختلف پیشہ ور اقوام  کے چیدہ چیدہ کئی افراد سے  فرداً فرداً  ملاقات کے مواقع میسّر آئے، جن سے ان پیشہ ور اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے توہین آمیز سلوک پر  ایک سیر حاصل گفتگو کا تبادلہ ہوا۔

مختلف پیشہ ور طبقات سے بالمشافہ ملاقاتوں اور روزمرہ میل جول کے دوران میں نے اُن دُکھوں اور محرومیوں کو نہ صرف دیکھا بلکہ محسوس بھی کیا جو اعداد و شمار میں نہیں  بلکہ دلوں کی دھڑکنوں میں پائی جاتی ہیں۔ راقِم    نے اپنی ملازمت کا تقریبا ۹۵٪ عرصہ انہی مواضعات میں گزارا۔  اس دوران میں نے محسوس کیا کہ ان اقوام کے ساتھ معاشرتی رویّوں میں جو تحقیر و تفریق پنہاں تھی، وہ محض ظاہری ناانصافی نہ تھی بلکہ ایک نفسیاتی غلامی کا تسلسل تھی۔ انہیں توہین آمیز ناموں سے پکارنا، ان کے طبقاتی وقار کو مجروح کرنا، اور انہیں اپنے برابر کُرسی پر بھی نہ بیٹھنے دینا وغیرہ ۔۔۔ یہ سب زخم تھے جو الفاظ سے نہیں، احساس سے محسوس ہوتے ہیں۔

راقِم   کا بیشتر وقت انہی پہاڑوں، وادیوں اور بستیوں میں گزرا، یہاں کی مٹی سے مانوسیت اور یہاں کے اِنسانوں سے انسیت ایک فطری جذبہ بن گئی۔ مگر اس انسیت کے ساتھ ایک درد بھی جڑا رہا ، دردِ محرومی، دردِ  عدمِ مساوات، اور دردِ بے بسی۔ میں اکثر سوچ میں گم رہتا کہ آخر وہ کون سا جُرم ہے جس کے سبب ان لوگوں کو ان کی اپنی زمین پر اجنبی سمجھا جاتا ہے۔

یہی سوالات رفتہ رفتہ وجدان کا حِصّہ بن گئے، اور یہی اِضطِراب میرے قلم کی روانی کا سبب  بنا۔ اندر ہی اندر سلگتی ہوئی اس آگ نے ایک فکری اور اخلاقی ذمہ داری کی صورت اختیار کر لی  کہ ان مظلوم اِنسانوں کی  روداد تحریر کی جائے تاکہ تاریخ کے صفحات میں سچائی  کی گُونج باقی رہے۔ میرا مقصود صرف رنج و الم کا بیان نہیں بلکہ اس خواب کی تعبیر بھی ہے جو برابری،  عِزّت  اور اِنسانی وقار کی اساس پر کھڑا ہو۔

تھے  مُلک جن کے زیرِ نگیں، صاف مِٹ گئے

تم اس خیال میں ہو کہ نام و نشاں رہے

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فہرست

دیباچہ 5

سخنِ مُصَنِّف 8

پسماندہ  اقوام کا احوال 12

ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز 18

موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا 20

موہڑہ دھروتی مواضعات 21

حرفِ آخر! 24

۔۔۔۔۔۔۔

 سخنِ مُصَنِّف

زیر نظر دستاویز ﴿ فتح پور تھکیالہ کی پسماندہ اقوام کا احوال﴾ میں راقِم   کی ذاتی دلچسپی اور جُستجو اس امر کی غمّاز ہے کہ راقِم   کا ان متاثرہ اور پس ماندہ اقوام کے ساتھ روا رکھے گئے متعصّبانہ  اور غیر منصفانہ سوچ و فکر رکھنے والے قبائل اور افراد سے متعلق آئندہ کی نسلوں کو آگاہی دینا اور ِاس کے سدِّ باب  کیلئے غور و فکر کرنا مقصود ہے۔

دستاویزِ ہذا میں رقم بعض معلومات عام قارئین کیلئے چونکا دینے والی ہیں کہ اگر کہیں کسی   ایک فرد نے زمین داری کے علاوہ با عِزّت  گزر و اوقات کیلئے  کوئی اپنا اضافی پیشہ اختیار کیا تھا مثلاً وہ  کپڑا بنُنے کا کام  بھی کرنے لگا تھا تو اُسے بندو بست اراضی میں جو لاہا  لکھ دیا گیا حالانکہ اگر اسطرح  کرنا لازم تھا تو اُسے زمین دار جولاہا کیوں نہ لکھا گیا۔ اس کے علاوہ محمّد الدّین فوق نے نومبر 1934ء میں اپنی کتاب "تاریخ اقوام پونچھ" لکھنا شروع کی۔ جسے پڑھ کر  راقِم   کے ذہن میں اُس دور کے عوام سے متعلق با الخصوص مسلمانوں کے ہاں  مذہبی نالج سے متعلق کمی کے بارے میں کئی شکوک و شہبات نے جنم لیا کیونکہ ابتدائے آفرینش سے تمام انبیاء کی شریعتوں اور مذہب اسلام یعنی سردار الانبیا  حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت مقدسہ تک حلال رزق کمانے سے متعلق واضح ارشادات موجود ہیں لیکن ان تمام کے باوجود رُعُونت پسند اور بالخصوص پِدرم سُلطان بُود کا راگ الاپنے والی اقوام نے  کمین" کام کرنیوالوں کو ذلیل و حقیر سمجھے رکھا ۔

حالانکہ اگر یہ پیشہ ور اقوام نہ ہوں تو نظام عالم تہ و بالا ہو جائے۔ قرآن و احادیث پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صاف اور واشگاف الفاظ میں  ثابت ہے کہ جو حِرفت   کار کو حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے وہ جہنمی ہے قرآن پاک کی صریحاً مخالفت کرتا ہے بلکہ بتایا گیا  ہے کہ انبیاء اور اللہ  تعالیٰ  کےدیگر برگزیدہ بندوں نے اکثر حرفتی کام حلال اور طیّب سمجھ کر کئے ہیں ۔ دستاویز ِ ہذا  کے مقدمے میں ہم اللہ  تعالیٰ ٰ کی کچھ برگزیدہ ہستیوں  کا ذکر  بھی کر دیتے ہیں کہ جو عالمِ اِنسانیت کیلئے بالعموم اور مُسلِم اُمّہ کیلئے با الخصوص نَمُونَۂ عَمَل ہیں۔مثلاً  خُداوَنْدِ مُتَّعال کی طرف سے سب سے پہلے حضرت آدم علیہ السلام کو کپڑا بُننے اور پھر کھیتی باڑی کا کام سکھایا اور بتایا گیا، علاوہ ازیں حضرت شیثؑ  بھی کپڑا بنتے تھے، حضرت نوح ؑ تجارت بھی کرتے تھے اور بڑھئی یعنی ترکھان کا کام بھی کرتے تھے ، حضرت ادریس علیہ السلام  خیاطی کا کام کرتے تھے حضرت صالح  ؑ اور حضرت ہود علیہ السلام دکانداری کیا کرتے تھے، حضرت شعیب علیہ السلام چراگاہوں میں مویشی چرایا کرتے تھے،  حضرت موسیٰ علیہ السلام بھیڑیں اور بکریاں چرایا کرتے۔حضرت داؤد علیہ السلام زرہ بنایا کرتے تھے ،حضرت سلیمان علیہ السلام نے پوری دنیا پر بادشاہت کی اور ہوا بھی اُن کے ماتحت تھی۔

چنانچہ !  اے فرمان الہی اور حکم رسول ؐسے  منہ موڑنے اور سرکشی کرنے  اور اپنے بھائیوں پر ظلم کرنے اور اُن کو صرف اُن کی غریبی کی وجہ سے حقارت کی نظر سے  دیکھنے والو! 

تمہیں کچھ  معلوم ہے کہ وہ اپنے اہل و  عیال کا پیٹ کسی طرح پالتے تھے،  وہ صنعت و حرفت  اور  دستکاری سے کماتے تھے،   برگِ خُرما (کجھور کے پتوں) کے پنکھے اور چٹائیاں بنا کر بیچتے تھے اور اس سے  جو اُجرت ملتی تھی اُس پر ان کا اور ان کے کنبے کا گزارہ ہوتا تھا۔سردارُ الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سالہا سال تک تجارت کرتے اور بکریاں چراتے رہے، بعد ازاں سردارُ الاولیاء مولا علی علیہ السلام اور آئمہ اطہارؑ نے مختلف ذرائع سے رزقِ حلال کما کر اپنی اور اپنے اہل و عیال کی پرورش کی۔

راقِم   نے دستاویز ہذا میں ان پسماندہ  اقوام  میں پائی جانے والی صلاحیتوں پر اختصار سے روشنی ڈالی ہے تاکہ ایک عام فہم معاشرے کا فرد ان اقوام کے  اندر پیشے سے لگن اور محنت کے جذبہ سے سرشار ان کی  مثالی اور سبق آموز   جدوجہد  سے آشنا ہو سکے۔ یہ تاریخ ساز لوگ  معاشرتی تفریق اور نفرتوں کے سائے میں دوسری اقوام کے زیر نگیں رہتے ہوئے بھی اپنے مقصد اور مشن سے نہ ہٹے۔ انہیں حالات اور زمانے کے کٹھن اور مشکل ادوار کی فکر دامن گیر نہ ہوئی اور آخر کار یہ  اپنے عظیم مقصد کو حاصل کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ یہ اپنی  آئندہ نسلوں کیلئے مشعل راہ  بنے اور اپنے بعد  والوں کیلئے  ایک  انمول اِنسانی ورثہ  چھوڑ گئے  ۔ اسی اِنسانی ورثے کے باعث  آج اُن کی نسلیں معاشرے میں  عِزّت  و  عروج  کے مقام پر سرفراز ہیں  اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر اپنی عظیم منزل کی طرف گامزن ہیں جسکی بدولت یہ اقوام ترقی کے ہر میدان میں اگر دوسروں سے آگے نہیں تو پھر پیچھے بھی نہیں ہیں۔

ربِّ زِدنی علما

۔۔۔۔۔۔۔۔ 

پسماندہ  اقوام کا احوال

تحصیل ہیڈ کواٹر نکیال ( فتح پور تھکیالہ﴾  ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر کوٹلی سے 37 کلومیٹر مشرق کی جانب سطح سمندر سے تقریبا 4650 فٹ بلندی پر واقع ہے۔ جس کے شمال میں سنوٹ بالا کوٹ، دو ٹِھلّہ (ٹوپیاں) نارہ موہڑہ ، دھروتی موہڑہ  و دیگر مواضعات و قصبات گِنمب ، چہڑاں ناڑ ملکاں ، ستان بگلہ ، رَمتکہ ، بالا کوٹ مروٹیاں قابل ذکر ہیں۔ مذکورہ مواضعات میں آباد اقوام میں تھکیال ، ڈومال ،  سادات ،بھٹی ، جنجوعه را جپوت، منها س راجپوت،کھو کھر راجپوت، خواجہ کشمیری ، گھکھڑ ، گوجر، مغل،  سُدھن، پٹھان، اعوان  اور مَنیال راجپوت کا تذکرہ ہے۔ 

علاقہ تھکیالہ میں چند گھر ایسے ہیں جو اپنے آپ کو اعوان کہتے ہیں۔ یہ سب لوگ اپنے ہاتھ سے کھیتی باڑی کرنے کے علاوہ کمہاروں کا کاروبار بھی کرتے ہیں لیکن بندوبست والوں نے ان کو  کاغذاتِ مال میں پیشہ کے لحاظ سے کمہار تو لکھ دیا  تاہم کاشتکار اور زمیندار نہ لکھا۔  اس برادری کا ایک شخص جو پشاور میں فوجی ملازم ہے، اس کے مطابق " غریب مسلمان کو سب سے زیادہ نقصان اُن مسلمانوں کے ہاتھوں پہنچ رہا ہے جو اپنے زعم میں "خاندانی"بنے ہوئے ہیں"۔

اسی طرح  علاقہ تھکیالہ میں باغ علی سکنہ بالاکوٹ اپنی ذات کھوکھر قطب شاہی بتاتا ہے۔ اس کے اسلاف میں ولی محمد خاں نے پارچہ بائی کا کام شروع کر دیالیکن بندوبست والوں نے اس کی اولاد کو جولاہا درج کر رکھا ہے۔ حالانکہ اُس کی اولادکپڑا بُننے  کی وجه سے جولاہا  اور  زمینداری کرنےکی وجہ سے زمیندار تھی ۔ تعجب یہ ہے کہ بندوبست والوں نے اُن کو فقط جولاہا لکھنے کے بجاے  زمیندار جولاہا کیوں نہ لکھ دیا۔ تاہم  باغ علی،شیر محمد و امام دین وغیرہ بڑی جدو جہد کے بعد چیف ریونیو افسر کے ایک حکم 14 جیٹھ 1989 بکرمی کے مطابق آخر کار کھوکھر قرار دئے گئے۔

دھروتی تھکیالہ میں بھی  ایک ایسا ہی کنبہ ہےکہ جس کے فقط چھ گھر ہیں ۔ یہ کنبہ اپنے آپ کو گھکھڑ کہتا ہے لیکن بند و بست والوں نے ان کی ایک نہ سنی ۔ انہوں نے اُس کُنبے کو کاسبی درج کر دیا۔ اس میں کچھ شک  نہیں کہ اس کنبے کے ایک بزرگ " شکرا خان "نے جولاہوں کا کام بھی شروع کر دیا تھا لیکن وہ  اپنی قومیّت  گھکھڑ ہی بتاتا رہا۔ اس کنبے نے بھی کوشش کر کے 17 کاتک 1989 بِکرمی کے سرکاری حکم کے مطابق آپنے آپ کو گھکھڑتسلیم کرالیا۔

1928 بکرمی ﴿ 1872ء﴾ کے بندوبست کی تشخیصِ اقوام میں ان مواضعات کے لوگوں کو جو   ز راعت   کے علاوہ بافندگی کا کام بھی کیا کرتے تھے انہیں کا سبی لکھا گیا ہے لیکن 1960 بکرمی (1904ء ﴾کے آئینی بند و بست میں ان لوگوں نے بعض مواضعات میں اپنے آپ کو مَلَک لکھوا دیا اور بعض نے مَنیال۔ 

 گویا بافندگی کا لفظ اُڑا دیا جبکہ ڈبسی والوں نے اپنے آپ کو مَلک  مَنہاس اور موہڑہ  والوں نے اپنے آپ کو مَنیال راجپوت لکھوایا ہے  حالانکہ یہ سب لوگ ایک ہی پیشہ سے تعلق رکھتے تھے ، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ابھی تک کسی صحیح  مرکز پر نہیں آئے ۔ کسی نے کوئی ذات قائم کرلی اور کسی نے کوئی ۔ اس لحاظ سے تاریخ اقوامِ پونچھ جلد اوّل میں اس کے متعلق ان کے کسی نمائندہ نے اُن کو خوش کرنے کیلئے راجپوت یا ملک کا خطاب عطا کیا ہے وہ بھی صحیح نہیں ۔

تحصیل نکیال کے شمال میں واقع مذکورہ بالا علاقوں میں چونکہ زمین پہاڑی تھی اور پیداوار زیادہ نہیں ہوتی تھی اور ان کی تعداد  روز بروز بڑھ رہی تھی اس لیے ان علاقوں کی اقوام نے  عِزّت  کے ساتھ اپنی گزر اوقات کیلئے  زراعت کے علاوہ بھی مختلف کاروباروں میں حصہ لینا شروع کیا۔کسی نے گھراٹ چلانے کا کام شروع کیا، کسی نے بڑھئی کا  کام، کسی نے کپڑا بُننے کا ، کسی نے لوہار کا ، کسی نے درزی  کا اور کسی نے نائی کا ۔  ان پیشوں کے باوجود بھی زمین داری کا کام سب کیا کرتے تھے اور اپنے ہاتھ سے ہل چلاتے تھے ۔اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔ حضرت محمد مصطفیٰﷺ کا فرمان ہے کہ اَلکاسِبُ حَبِیبُ اللہ : کسب کرنے والا اللہ کا دوست ہے۔ علاوہ ازیں خالقِ کائنات اپنی مقدّس کتاب  قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: إِنَّ اللّهَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى یُغَیِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِهِمْ بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے﴿رعد۱۱﴾۔

بقول حالی ؎ 

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں

اب   ٹھہرتی   ہے    دیکھئے     جا      کر   نظر      کہاں

۔۔۔۔۔۔۔

جب 1960 بِکرمی کا بندو بست آیا تو اُس زمانے میں جس طرح کمزور، غریب اور ان پڑھ اور زمانہ کے حالات سے بے خبرقوموں نے نقصان اُٹھایا اسی طرح ہوشیار، زمانہ شناس، حکام رس، اور کھاتے پیتے لوگوں ، با الخصوص ان قوموں نے جن میں نمبرداریاں بھی تھیں، انہوں نے  نہ صرف خود خوب  فائدہ  اُٹھایا بلکہ دوسری قوموں کو اس قدر نقصان پہنچایا کہ وہ  بے چاری اب تک سنبھلنے میں نہیں آتیں اور ان سرمایہ داروں کی خود غرضیوں کی وجہ سے کئی پیشہ ورقومیں جن کی گزر و اوقات کا سب سے زیادہ تر  انحصار صرف اور صرف  زراعت پر ہی  تھا وہ  غیر زراعت پیشہ قرار دی گئیں ۔

1960 بکرمی کے بندو بست اراضی میں مختلف پیشوں سے وابستہ افراد  جوکہ کمزور اور  غریب تھے ، ان کیلئے اُن کے پیشوں کو  بطورِ قوم ذکر کر کے آبادی کے اکثریتی حصّے کو ایک نئی تفریق اور تقسیم سے دو چار کر دیا گیا  جس کی  بازگشت آج تک سنائی دے رہی ہے ۔ یوں ان پیشوں سے متاثرہ خاندانوں نے اپنی  اصل قوم کو کسی اور نام سے تبدیل کر دیا مثلاً‎ ان  علاقوں میں آباد جنجوعہ راجپوت ، منہاس راجپوت اور گھکھڑوں نے اپنے آپ کو مَلک قوم کے طور پر متعارف کرایا ۔ گو کہ اب ان اقوام میں قومی بیداری پیدا ہو چکی ہے اور وہ اپنا اصل حسب و نسب یا پہچان کرانے میں کوئی عار محسوس نہیں کر رہے ہیں بلکہ فخریہ انداز میں اپنی پہچان اپنی اصل قوم کے حوالے سے کرارہے ہیں۔

 اپنے اصل مقام اور پہچان کیلئے ان متاثرہ اقوام کو کئی عرصہ تک عدالتوں کے چکر بھی لگانے پڑے  تب کہیں جا کر یہ اپنے اصل نام و نشان کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ظلم اور سماجی ناانصافی کی شکار یہ اقوام بعد ازاں اللہ  تعالیٰ ٰکے فضل و کرم سے اپنے اصل مقام و رُتبہ کو حاصل کرنے میں ایسی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوئیں کہ گویا پوری تاریخ عالم اُن کے کارناموں کو رہتی دنیا تک یاد رکھے گی۔ ان اقوام کے عظیم سپوتوں نے اپنے خون سے  ایسی تاریخ رقم کی کہ جس کی ایک چھوٹی سی جھلک  تحریرِ ہذا میں درج زیل اعزازات حاصل کرنے والے شہدا کی وجہ سے ہمیشہ کیلئے پائندہ و تابندہ رہے گی۔

ان اقوام کے نشانِ حیدر حاصل کرنے والے ہیروز

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں

شاہین کا جہاں اور ہے کرگس کا جہاں اور

۔۔۔۔۔۔ 

راقِم  ، تاریخ کا ادنیٰ سا طالب علم ہونے کے ناطے اور علمِ تاریخ کا متلاشی ہوتے ہوئے، تحریر ِ ہذا  میں بَرملا اس حقیقت کا اظہار کرنے کی جسارت کرتا ہے کہ پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے سے لے کر آج تک وطنِ عزیز پر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرنے پر کُل گیارہ شہداء کو ملک کے سب سے بڑے فوجی اعزاز "نشانِ حیدر" سے نوازا گیا ہے، جن میں سے سات کا تعلق مختلف راجپوت خاندانوں سے ہے۔ 

ان میں نائیک سیف علی جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، لانس نائیک محمد محفوظ جنجوعہ شہید نشانِ حیدر، اور سوار محمد حسین شہید نشانِ حیدر کا تعلق جنجوعہ راجپوت خاندان سے ہے۔علاوہ ازیں، کیپٹن محمد سرور شہید نشانِ حیدر، میجر عزیز بھٹی شہید نشانِ حیدر، اور میجر شبیر شریف شہید نشانِ حیدر کا تعلق بھٹی راجپوت خاندان سے ہے۔پاکستان کی تاریخ کے سب سے کم عمر نشانِ حیدر کا اعزاز حاصل کرنے والے پائلٹ آفیسر راشد منہاس کا تعلق منہاس راجپوت خاندان سے ہے۔

 اِن تاریخی حقائق کی روشنی کے بعد  اب شک و شبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی کہ راجپوت قبائل جن میں جنجوعہ راجپوت، بھٹی راجپوت، اور منہاس راجپوت سرفہرست ہیں ،اِن کے سپوتوں نے اپنے وطنِ عزیز کے دفاع  اور حفاظت کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرکے اہلِ وطن  اور  اہلِ قبیلہ کے سَر فخر سے بلند کر دیے ہیں۔ ان کی شجاعت اور بہادری کے یہ کارنامے پاکستان کی تاریخ میں رہتی دنیا تک سنہرے حروف میں لکھے اور یاد رکھے جائیں گے۔ 

قفس میں مُجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم

 گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو

موضع موہڑہ میں معروف اولیائے خدا 

موضع موہڑہ  نارہ میں پِیر سَيِّد باقِر حُسَینؒ شاه صاحب کا آستانہ عالیہ بھی واقع ہے جہاں ہر سال  باقاعدگی سے عُرْس کی تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے اور ملک کے دور دراز علاقوں سے اُن کے مرید ین خاص عُرْس کی تقریبات میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔  علاوہ ازیں تقسیم برصغیر سے قبل مینڈھر کے پولیس اسٹیشن واقع موہڑہ دھروتی سے  ڈیڑھ میل کے فاصلے  پر  علاقہ زیریں میں موضع موہڑہ ہے۔  یہاں سائیں کملا ؒبادشاہ کا  مقبرہ ہے یہ  مقبرہ پہلے بمقام وِہڑه  واقع مَیرہ میں تھا جو کھنڈیل پہاڑی سے مُتّصِل ہے۔

  آج سے تقریبا  سوا صدی  پیشتر کا ذکر ہے کہ سائیں کملا ؒبادشاہ کی صاحبزادی جو نہائیت عابدہ اور زاہدہ تھیں اور جنہوں  نے تمام عمر شادی نہیں کی تھی ، انہوں نے سائیں صاحب کے غیبی اشارےکے مطابق عدالت سے قانونی مجوَّز ﴿اجازت نامہ﴾لے کر  اُن کی نعش موہڑہ میں منتقل کر دی۔  اُس وقت جب  25 سال کے بعد نعش قبر سے نکالی گئی تو ہر قسم کی آلائش سے پاک تھی،  25 سال کے بعد اُن کی نماز جنازہ دوبارہ پڑھائی گئی۔ آج اُن کی صاحبزادی کی قبر بھی اُن کے پہلو ہی میں ہے ۔

۔۔۔۔۔ 

موہڑہ دھروتی مواضعات

 رَمتکہ ستان بگلہ :      رَمتکہ ستان بگلہ میں آباد خاندان کھوکھر راجپوت ، جنجوعه راجپوت اور منہاس راجپوت سے تعلق رکھتے تھے اور تھکیال خاندان کے گھر تین چار سے زیادہ نہ تھے ،ستان بگلہ دھروتی میں آباد تمام گھر جنجوعہ خاندان کے تھے،  ان میں ملک محبت خان مرحوم کی اولا دیں محمد حسین اور صوبیدار نیک محمد شامل ہیں،  ستان بگلہ کے چیدہ چیدہ افراد میں شاہ ولی ، علی اکبر ، علی محمد، عبدالکریم ولد ڈاکٹر حسن محمد ﴿ حکومت برطانیہ کے ملازم ﴾اور محمد یعقوب ولد عطا محمد شامل ہیں۔

رَمتکہ دھروتی: رَمتکہ دھروتی میں ملک بہادر علی خان جنجوعہ (مرحوم) موجودہ گرڈ اسٹیشن کوٹلی اور کار پنٹر ملک عبدالحسین مرحوم ولد علم دین جنجوعه موجوده محله بلیاه صادق آباد چوک کے علا وہ چند ایک گھر جنجوعہ خاندان کے تھے ، باقی تمام کا تعلق منہاس راجپوت اور کھو کھر راجپوت سے تھا ۔ملک بہادر علی،  ملک عبدالحسین جنجوعہ کے حقیقی ماموں تھے۔ ملک عبدالحسین کا ر پنٹر نے مورخہ 12 فروری 2017 ء بروز اتوار تقریباً 80 برس کی عمر میں وفات پائی جن کا مدفن کو ٹلی بلیاہ قبرستان میں ہے۔ چند منہاس راجپوت جن کا تعلق رَمتکہ دھروتی سے تھا  ان میں سے میر محمد ، سید محمد،  فتح محمد ، محمد اسماعیل اور میر علی وغیرہ زیاد مشہور تھے۔

 اِس کے علاوہ  رَمتکہ کے کھو کھر راجپوت مند و خان، شاہ محمد، سخی محمد، لال خان، بشیر خان اور مندی خان وغیرہ تھے۔ رَمتکہ میں تھکیال برادری کے دو تین گھر تھے لیکن نمبرداری تھکیال قبیلے کے پاس تھی۔ رَمتکہ کا نمبردار شیر خان تھا جس کے کزن کا نام شیر محمد تھا ۔

رَمتکہ دھروتی کا ایک خونی واقعہ

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران رَمتکہ دھروتی میں انڈین آرمی کے ہاتھوں ایک بہت بڑا خونی واقع پیش آیا۔ ایک تحقیق کے مطابق اس واقع میں 70 کے لگ بھگ افراد کو شہید کر دیا گیا تھا، سفّاک انڈین آرمی نے یہ ہولناک کھیل رات کی تاریکی میں کھیلا۔ رَمتکہ دھروتی کے گھروں میں ہر طرف نعیش بکھری پڑی تھیں اور ہر طرف خون ہی خون تھا ۔

اِس سفّاکی کے واقعہ کے بعد 1971ء اور 1998/99ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران اور بارڈر لائن پر آئے روز کی کشیدگی کے باعث موہڑہ  دھروتی اور بالاکوٹ بارڈر اور دیگر ملحقہ مواضعات میں آباد افراد نے رفتہ رفتہ نقل مکانی شروع کر دی اور  یوں موہڑہ کا لونی ، نکیال ، کوٹلی،  میر پور گجرانوالہ اور دیگر مختلف علاقوں میں مستقل بنیادوں پر آباد ہو کر اپنی آئندہ کی  نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنا لیا ۔

اک خونچکاں کفن میں کروڑوں بناؤ ہیں۔۔۔پڑتی ہے آنکھ تیرے شہیدوں پہ حور کی  

حرفِ آخر!

تعلیماتِ نبوی ﷺ نے اِنسان کو اس کی اصل پہچان عطا کی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ سب اِنسان ایک ہی آدم کی اولاد ہیں، نہ کسی عربی کو عجمی پر فضیلت اور  نہ کسی گورے کو کالے پر اور  فضیلت صرف تقویٰ میں ہے۔ یہی وہ صدائے عدل تھی جس نے اِنسانیت کے بکھرے قافلے کو ایک منزل دی۔ یہ مساوات ایک ازلی منطق ہے، اس کے مطابق  اگر خالق ایک ہے تو مخلوق میں امتیاز کی کوئی گنجائش نہیں۔ جو دماغ اس منطق کو سمجھ لیتا ہے، وہ کسی کو کمتر نہیں سمجھتا، اور جو دل اس سے غافل ہو، وہ خود شرفِ  اِنسانیت سے کوسوں دور  رہتا ہے۔

راقِم   نے اِس کتاب میں جن اقوام، علاقوں اور کرداروں کا ذکر کیا ہے، وہ اسی عدمِ مساوات کے خاموش مگر جیتے جاگتے گواہ ہیں۔ یہ چند اوراق میرے تجربے کا ماحصل ہیں، ان کا مقصود ماضی کا نوحہ سنانا نہیں، مستقبل کی راہ  دکھاناہے۔ ایک ایسا مستقبل جہاں اِنسان ، اِنسان کو حقیر نہ سمجھے۔  پس یہ حرفِ آخر درحقیقت ایک نئی صبح کیلئے  آغازِ فکر ہے ۔ ایک  ایسی فکر کا آغاز  کہ  ایک دن ہر  اِنسان، اللہ کے آخری نبی ﷺ کی تعلیمات کے فیض سے خود اپنی ذات اور دوسروں  کا احترام کرنا  سیکھ لے گا ۔ یہی اِنسانیت کی معراج ہے : "اَلنَّاسُ سَوَاءٌ كَأَسْنَانِ الْمُشْطِ" سب اِنسان برابر ہیں، جیسے کنگھی کے دندانے برابر ہوتے ہیں۔﴿ یہ تشبیہ عربی بلاغت کی خوبصورت مثال ہے، جس میں انسانی مساوات کو نہایت سادہ مگر گہرے استعارے سے واضح کیا گیا ہے۔ ﴾

﴿یہ تحریر راقِم   نے مورخہ 13 مارچ 2024ء بروز بدھ بمطابق 2 رمضان المبارک 1445ھ کو مکمل کی ﴾



 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...