زیرِ ادارت: ڈاکٹر نذر حافی

Most Popular

خصوصی سیریز

عالمی سیاست

سُکُوتِ لالَہ و گُل سے کَلام پَیدا کَر

ہمارے بارے میں

میری تصویر
PHD Jamiat al-Mustafa International University, Qom, Iran

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice for Nation

Contact us...

Voice of Nation

Contact us...

Voice of Nation

Organized by Dr. Nazar Hafi

Voice of Nation

Mail us...

Voice of Nation

Write us...

منگل، 11 فروری، 2025

اسلامی انقلاب کی چھیالیسویں سالگرہ کا ایک ورق

حضرت امام خمینی نے آمریّت اور تھیوکریسی کو رد کر کے اسلامی جمہوریّت کا کامیاب نظریہ پیش کیا۔   یہی  اسلامی جمہوریت ہی حقیقی معنوں میں  جمہوریت ہے ۔ حضرت امام خمینی  سے پہلے مسلمان فرقہ واریّت پر   فخر کرتے تھے  لیکن حضرت خمینی نے  حقیقی معنوں میں قرآنی حکم کے مطابق اسلامی بھائی چارے پر عمل کیا ، آپ نے  یوم القدس  اور مسئلہ کشمیر پر  خالصتا اسلامی موقف اپنایا۔ آپ خالصتا خدا کی وحدانیت اور توحید پر توکل کے پیکر تھے۔ اسلامی انقلاب کی چھیالیسویں سالگرہ سے مقررین کا خطاب۔

جامعہ الرضا  اسلام آباد میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب کا آغاز حافظ اثمار مہدی صاحب نے تلاوت قرآن سے کیا۔ ان کے بعد کے متعلم جامعۃ الرضا    سید حسن رضا  کاظمی نے اپنے  خطاب میں کہا کہ  حضرت امام خمینی نے قرآن اور سنت کی روشنی میں ایک ایسا نظریہ پیش کیا جس میں دین اور سیاست کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے ولایت فقیہ کا نظام تعارف کروایا جو اسلامی قیادت کی بنیاد پر ایک عادلانہ حکومت کا تصور تھا۔  ان کی جدوجہد  بنیادی طور پر  شعور، آگاہی ایثار، مہربانی ، عوامی جدوجہد  اور قربانی پرمشتمل تھی۔ ان کے بعد محترم  آغا نقی حسین جعفری نے اپنی تقریر میں کہا کہ جب اسلامی انقلاب آیا تو  اس وقت استعمار مسلمانوں کو انہی کے مال سے سے خرید کر  اپنا غلام بنا رہا تھا۔  حضرت امام خمینی ؒ نے استعمار کی ساری سازشوں کو ناکام بنا دیا ۔ 

 اس تقریب سے جامعہ المصطفی کے نمائندے  ڈاکٹر اعجاز نگری صاحب نے بھی گفتگو کی۔  انہوں نے انقلاب  اسلامی ایران کے  اسباب  و عوامل میں سے کچھ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایک عامل  ملت ایران کا دیندار ہونا ہے۔ ایرانی  لوگ دیندار تھے اور جو نظام شہنشاہیت تھا اس کو دین کے ساتھ انہوں نے  موازنہ  کیا اور جب یہ دیکھا کہ یہ دین کے ساتھ  سازگار نہیں ہے تو  پھر انہوں نے دل و جان سے اسلامی انقلاب کو اپنا لیا۔ دوسرا عامل انقلابی لوگوں کا بلند حوصلہ ہے۔ ان کے حوصلے کبھی بھی  پست نہیں ہوئے۔  انہوں نے اپنے بلند حوصلے کے ساتھ  امریکہ،  برطانیہ اور  دیگر استعماری ممالک کی غلامی سے نجات حاصل کر لی۔ان کے بعد  جامعہ الرضا کے مدیر علامہ سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے انتہائی دلنشین اور فکر انگیز  خطاب فرمایا۔  انہوں نے  کہا کہ اس انقلاب کی اہمیت، خصوصیات، ثمرات، برکات اور افادیت  کے حوالے سے  بہت کچھ لکھا گیا ہے اور ابھی بھی بہت کچھ اس کے لیے لکھا جانا باقی ہے۔ اس انقلاب، اس کے انقلابی نعروں، مقدس جذبات اور اس سے منسوب شعائر کی قدر کیجئے اور انہیں اگلی نسلوں میں منتقل کیجئے۔  انہوں نے کہا کہ اس انقلاب کا  گہرا اور ہمہ جہتی  مطالعہ کیجئے۔  
رپورٹ: شیخ تاثیر رضا

اسلامی انقلاب اور مقدس جذبات کی قدر کریں، علامہ حسنین عباس گردیزی

رپوٹ: سید قاسم علی کاظمی:متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد:
۱۱ فروری کو پوری دنیا میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر جامعۃ الرضا بہارہ کہو اسلام آباد میں بھی  اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی تقریب منعقد ہوئی۔  مختلف مقامات پر منعقد ہونے والی  تقاریب کی طرح اس تقریب میں بھی اسلامی انقلاب کی مختلف خصوصیات اور اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس نے عالم اسلام کی تاریخ  اور تقدیر بدل دی۔ یہ انقلاب فقط ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی بلکہ ایک معنوی، روحانی اور ثقافتی تحریک  ہے۔ اس نے  ظلم، استبداد، اور استعماری قوتوں کو مسترد کر دیا۔ 
جامعۃ الرضا بہارہ کہو اسلام آباد میں  ہونے والے پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام الہٰی سے محترم  حافظ سید اثمار مہدی نے کیا ۔ ان کے بعد شہدائے انقلاب  کی مناسبت سے محترم  نئیر عباس نے کلام پڑھا اور پھر اہم نکات پر مشتمل  کانفرنس کا افتتاحیہ بیان کیا گیا۔ افتتاحی کلمات میں اسلامی انقلاب کی ایرانی یا شیعہ ہونے کے بجائے  اسلامی اورعالمی و جہانی ہونے پر روشنی ڈالی گئی۔ 

بعد ازاں  جامعۃ الرضا کے طالب علم برادر سید حسن رضا کاظمی نے انقلاب اسلامی ایران کی مناسبت سے ایک جامع تقریر کی جس میں انہوں نے انقلاب اسلامی اور ولایت فقیہ کے بارے میں مختلف زاویوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے بعد  جامعہ کے متعلم  نقی حسین جعفری نے مختصر ، مفید اور دلکش انداز میں تقریر کی۔ حاضرین نے جامعۃ الرضا کے طلبا کی تقاریر کو پوری توجہ سے سُنا اور ان کے حُسنِبیان کو سراہا۔ تقاریر میں طلبا نے حضرت  امام خمینی ؓ  اور اسلامی انقلاب کی بین الاقوامی حیثیت اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ یہ انقلاب فقط ایرانی یا شیعہ انقلاب نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک حیران کن اور خوشگوار عوامی و جمہوری تبدیلی  ہے۔ 
اس موقع پر دانشکدہ مجازی  جامعۃ المصطفیٰ  کے مدیر ڈاکٹر اعجاز حسین نگری صاحب نے بھی حاضرین سے خطاب کیا۔  انہوں نے انقلاب اسلامی کی خصوصیات اور اس  کے آثار اور برکات کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ  آج بھی اسلامی انقلاب تنِ تنہا تمام باطل طاقتوں اور بالخصوص سپر پاور کےمقابلے میں کھڑا ہے۔
 پروگرام کے آخر میں مدیر جامعۃ الرضا مولانا سید حسنین عباس گردیزی صاحب نے اپنے  اختتامی کلمات پر مشتمل  ایک بھرپور فکر انگیز خطاب کیا۔  انہوں نے کہا کہ  تاریخ اسلام  کا سب سے عظیم واقع انقلاب اسلامی ایران ہے۔ جب دنیا دوبلاکوں میں تقسیم تھی اُس وقت حضرت امام خمینی نے لاشرقیہ ولا غربیہ کا نعرہ لگا کر اسلام کا پیغام توحید ساری دنیا تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ  ہم سب کو چاہیے کہ اس انقلاب اور حضرت امام خمینی رضوان اللہ کی زندگی کے بارے میں   گہرا مطالعہ کریں۔انہوں نے طلبا سے کہا کہ انقلابی جذبات اور انقلابی نعروں کی حفاظت کریں اور ان مقدس نعروں و پاکیزہ جذبات کو  اپنی آئندہ نسلوں میں منتقل کریں۔  پروگرام کا  اختتام دعا سلامتی امام زمانہ(عج) سے ہوا۔

پیر، 10 فروری، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ

اسلامی انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر جامعۃ الرضا اسلام آباد کے شعبہ تحقیق و ابلاغِ عامہ کی نشست میں اس انقلاب کو ایک منفرد عوامی انقلاب کے طور پر بیان کیا گیا۔ حضرت امام خمینی نے تاریخ اسلامی میں پہلی مرتبہ آمریت اور تھیوکریسی کو مسترد کرتے ہوئےاسلامی جمہوریت کو متعارف کرایا۔ دنیا میں جمہوریت کی بہترین شکل وہی ہے جو حضرت امام خمینی نے متعارف کرائی ہے۔ اس نشست میں شعبہ تحقیق  و ابلاغِ عامہ سے متعلق طلبا نے اپنے نکتہ نظر کو بھی بیان کیا اور اسلامی انقلاب کی افادیت کو عوامی حلقوں میں تبیین کرنے کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ اس اجلاس میں یہ طے کیا گیا کہ ۱۱ فروری ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا اسلام آباد کے زیری اہتمام اسلامی انقلاب کی چھیالیسویں سالگرہ کی مناسبت سے ایک تحلیلی نشست کا انعقاد کیا جائے۔ 
 
آج ۱۱ فروری ۲۰۲۵ کو جامعۃ الرضا اسلام آباد میں اسلامی انقلاب کی سالگرہ کی مناسبت سے ایک علمی و تحلیلی کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ یہ کانفرنس آج دن کے دس بجے شروع ہوگی۔ اس کانفرنس میں آپ کو بھی شرکت کی دعوت ہے۔ کانفرنس سے خصوصی خطاب مولانا ڈاکٹر اعجاز حسین نگری اور مدیر مدرسہ حجۃ الاسلام حسنین عباس گردیزی صاحب کریں گے۔

جامعۃ الرضا کےشعبہ تحقیق کا غامدی صاحب کے نظریات پر علمی نقد

۸ فروری ۲۰۲۵کے سیشن میں جاوید احمد غامدی صاحب کے فقط ایک نظریے " نظریہ مہدویت" پر گفتگو کی گئی ۔ جس میں سب سے پہلے غامدی صاحب کے امام مہدی ع کے بارے میں نظریے کو تفصیل سے بیان کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دلائل پر منصفانہ انداز میں نقد کیا گیا۔ ان کے بہت سارے نظریات اہل سنت کی عام روش سے ہٹ کر ہیں۔ جیسے سنت سے مراد سنت ابراہیمی ہے، عیسی ع کا نزول نہیں ہونا، امام مہدی کا ظہور نہیں ہونا، زکوٰۃ کا نصاب معین کرنا ریاست کا حق ہے، حلال اور حرام ہونے کا معیار انسانی عقل و فطرت ہے وغیرہ۔


سیشن کے اہم نکات کا خلاصہ حسبِ ذیل ہے:

 1. قرآن میں امام مہدی ع کا عقیدہ صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔

اس کا جواب یہ دیا گیا ۔

الف) عمر بن عبد العزیز جس کے امام مہدی ع ہونے کے آپ قائل ہیں، ان کا ذکر بھی تو قرآن میں نہیں، انہیں آپ نے امام کیسے مان لیا؟

ب) آپ کے بقول ہر مہم مطلب قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہونا چاہیے، تو آپ بھی بہت سے مہم عقیدتی مسائل کے قائل ہیں جو قرآن میں اس صراحت کے ساتھ موجود نہیں۔ جیسے نبی اکرم ص کو دنیا کے معاملات کی بالکل خبر نہیں تھی لوگ پیغمبر سے دنیاوی

معاملات میں اعلم تھے۔

ج) ہر مہم مطلب اگر قرآن میں صراحت کے ساتھ بیان ہونا چاہیے تو یہ نظریہ چونکہ مہم بھی تھا اور مبتلی به اور رائج بھی تو قرآن اور احادیث میں آنا چاہیے تھا کہ کوئی منجی نہیں آئے گا۔

د) مفسرین نے بعض آیات کے ذیل میں رسول خدا سے روایات نقل کی ہیں جو امام زمان کے ظہور اور زمانے  کے بارے میں ہیں۔

2. ساری کی ساری احادیث جو امام مہدی ع کے بارے میں آئی ہیں وہ ضعیف اور من گھڑت ہیں۔اس پر بھی عقلی نقد پیش کیا گیا۔

3 بعض روایات جو قابل قبول ہیں لیکن وہ بعض روایات عمر بن عبد العزیز پر تطبیق کرتی ہیں۔ رسول خدا کی ساری روایات جو امام مہدی ع کے بارے میں آئی ہیں وہ حرف بہ حرف عمر بن عبد العزیز کے بارے میں پوری ہو چکی ہیں۔ اس لیے اب کسی مہدی کے انتظار کی ضرورت نہیں ۔

اس کا جواب نصوص کی بجائے عقلی استدلالات سے دیا گیا۔۔ تقریباً 19 عقلی استدلال غامدی صاحب کے مبانی اور اصولوں کے مطابق کیے گئے جس سے ان کا یہ نظریہ نہ فقط باطل ہو گیا بلکہ ان کے دوسرے نظریات بھی زیر سوال چلے گئے۔ اور یہ استدلال دوسرے محققین کے لیے ایک روش کے طور پر بیان کیے گئے جن کے پیش نظر دوسرے محققین باقی اعتراضات کے جوابات دے سکیں گے۔

جاوید احمد غامدی کی پیدایش 18 اپریل 1951ء کو ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں جیون شاہ کے نواح میں ہوئی۔ آبائی گاؤں ضلع سیالکوٹ کا ایک قصبہ اور آبائی پیشہ زمینداری ہے۔ ابتدائی تعلیم پاک پتن اور اس کے نواحی دیہات میں پائی۔ اسلامیہ ہائی اسکول پاک پتن سے میٹرک اور گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور اس کے ساتھ انگریزی ادبیات میں آنرز (حصہ اول) کا امتحان پاس کیا۔ عربی و فارسی کی ابتدائی تعلیم ضلع ساہیوال ہی کے ایک گاؤں نانگ پال میں مولوی نور احمد صاحب سے حاصل کی۔ دینی علوم قدیم طریقے کے مطابق مختلف اساتذہ سے پڑھے۔ قرآن و حدیث کے علوم و معارف میں برسوں مدرسۂ فراہی کے جلیل القدر عالم اور محقق امام امین احسن اصلاحی سے شرف تلمذ حاصل رہا۔ ان کے دادا نور الٰہی کو لوگ گاؤں کا مصلح کہتے تھے۔ اسی لفظ مصلح کی تعریب سے اپنے لیے غامدی کی نسبت اختیار کی اور اب اسی رعایت سے جاوید احمد غامدی کہلاتے ہیں۔ دانش سرا، المورد، ماہنامہ اشراق، ماہنامہ رینی ساں رینایسینس کے بانی اور برہان، میزان، البیان، اشراق اور خیال و خامہ کے مصنف ہیں۔


جمعہ، 7 فروری، 2025

مہدویت آنلائن تحقیقی سیشن ، جامعۃ الرضا اسلام آباد

:رپورٹ : سبطین حیدر متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد :
 شعبان المعظم کے مہینے کو شبِ برائت اور حضرت امام مہدی علیہ السلام کی مناسبت سے جہانِ اسلام میں ایک خاص شہرت اوراہمیت حاصل ہے ۔ اس شب ہر جگہ ذکر و اذکار، حمد و نعت اور جشن و سرود کی محفلیں سجائی جاتی ہیں۔ جامعۃ الرضا کے شعبہ تحقیق کی طرف سےبھی مہدویت شناسی کیلئے اس مہینے میں 8 فروری کو ایک آن لائن علمی و فکری  نشست کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جامعۃ الرضا کے شعبہ تحقیق نے  سیشن کیلئے  بطورِ موضوع "امام مہدی ؑکے بارے میں جاوید احمد غامدی صاحب کا نظریہ اور اس کی علمی تحلیل" کو انتخاب کیا ہے۔  یاد رہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب عصرِ حاضر کے  معروف نامی گرامی سکالر ہیں ۔ان کے نظریات کا علمی حلقوں میں ایک خاص مقام ہے اور ان کے طریقہ استدلال کو صاحبانِ علم کے ہاں مقبولیت حاصل ہے۔ 
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلامی معاشرے میں علمی نقد اور نظریاتی مکالمے کو بھی فروغ دیا جائے۔ چنانچہ جامعۃ الرضا کے شعبہ تحقیق نے جاوید احمد غامدی صاحب کے نظریہ مہدویت کا تجزیہ کرنے کیلئے  مولانا  ڈاکٹر غلام عباس صاحب  فاضلِ قم کو دعوت دی ہے۔ یاد رہے کہ  ڈاکٹر غلام عباس صاحب درسِ خارج اور پی ایچ ڈی کیلئے  جامعۃ المصطفی قم المقدس ﴿ایران﴾ تشریف لے گئے تھے ، اعلی دینی تعلیم انہوں نے وہیں حاصل کی ہے ۔ یہ آنلائن سیشن۹ فروری ۲۰۲۵ کو گوگل میٹ پر ہوگا اور اس کی میزبانی کے فرائض  جامعۃ الرضا  کے سینئر طالب علم اورشعبہ ابلاغِ عامہ کے مسئول سید حسن رضا کاظمی انجام دیں گے۔  

جمعرات، 6 فروری، 2025

جامعۃ الرضا اسلام آباد میں کشمیر ڈے

ہر سال 5 فروری کو پاکستان اور دنیا بھر میں لوگ   کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے مختلف تقریبات منعقد کرتے ہیں۔ ان تقریبات میں تاریخ کشمیر کے حقائق بیان کرنے کے ساتھ ساتھ  کشمیریوں کے ساتھ ہر طرح کی ہمدردی اور ان کا بازو بن کر کھڑا رہنے کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ 
 رپورٹ: زوہیر حسن:متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد:
خاص طورپرپاکستان کا ہر شہری پرجوش طریقے سے یہ  اعلان کرتا ہے کہ ہم کشمیریوں  کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ کشمیری عوام کے حوصلوں کو بلند رکھنے کے لیے ان کے ساتھ یکجہتی کیلئے یہ دن بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس سال5 فروری کو  ٹھیک رات 9 بجے جامعۃ الرضا شعبہ تحقیق بارہ کہو اسلام آباد کے زیر اہتمام تاریخ کشمیر پر روشنی ڈالنے کیلئے  ایک تقریب منعقد کی گئی۔ اس تقریب میں طلبا نے جہاں تاریخ کشمیر کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی وہیں  کشمیری عوام سے بھی بھرپور انداز سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
جامعۃالرضا کے طلبا نے کہا  کہ پاکستان کا کشمیر پر موقف اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے جب کہ بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو مسلسل نظرانداز کیا ہے۔ مسئلہ کشمیر  کا حل کشمیری عوام کی مرضی سے طے ہونا چاہیے ۔ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا اعلان کر رکھا ہے  لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے  اب تک یہ وعدہ پورا نہیں کیا گیا ۔
جامعۃ الرضا کے طلبا نے اپنی گفتگو میں کہا کہ تاریخ کشمیر کو نوجوانوں اور جوانوں کیلئے بار بار دہرایا جانا چاہیےتاکہ وہ اس مسئلے کی حقیقت اوراہمیت کو فراموش نہ کریں۔یہ حقیقت اظہرمن الشمس ہے کہ پاکستانی  کسی صورت کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دلانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔  ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتی کے طور پر مناتے ہوئے مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز سے بیان کیا جانا چاہیے لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس مسئلے کو اب  سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ۔   اگر پاکستانی اور کشمیری جوانوں کو مسئلہ کشمیر سمجھانے اور تعلیمی درسگاہوں میں کشمیریات کو فروغ دینے کیلئے خصوصی اقدامات نہ کئے گئے  تو  ۵فروری کا دن محض ایک رسم بن کر رہ جائے گا۔
اس دن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ  کشمیر کے حوالے سے ہماری آج انفرادی اور اجتماعی  کیا ذمہ داری ہے ۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیں محض تقریروں اور جلسوں  تک  محدودنہیں رہنا چاہیے بلکہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے کو یقینی بنانے کے لئے کوئی حکمت عملی بنانی چاہیے۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ہمیں چاہیے کہ اپنی آواز  کو موثر بنائیں اور  آج کل کی نوجوان نسل کو آگاہ و بیدار کریں۔ سوشل میڈیا پر مظلوم کی حمایت اور ظالم کے خلاف آواز بلند کریں جتنا ہو سکے اپنا حق ادا کریں تاکہ مظلوم کو اپنا حق مل جائے اور کشمیر میں مظالم کا خاتمہ ہو۔ مظلوم کی حمایت میں اٹھائی جانے والی ہر موثر آواز ظالموں  کی شرمندگی کا باعث ہے لہذا ہمیں  5 فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کو منظم انداز میں منانے کی کوشش کرنی چاہیے۔  

یاد رہے کہ اس تقریب کا اہتمام جامعۃ الرضا اسلام آباد کے شعبہ تحقیق نے کیا تھا۔

۵ فروری کو سپورٹ کشمیر کا اعلامیہ

:رپورٹ: رفیق انجم:
ایران میں یوم یکجہتی کشمیر  ۵فروری ۲۰۲۵ کو قم المقدس میں منایا گیا۔اس موقع پر  سپورٹ کشمیر انٹرنیشنل فورم نے  ایک تجزیاتی و تحلیلی نشست منعقد کی۔ تلاوت قرآن مجید  کے بعد منظوم ولایتی صاحب نے اپنی گفتگو میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے ۵ اگست ۲۰۱۹ کو بھارتی حکومت کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35A کو ختم کرنے کےاقدام سے کشمیر کی خودمختاری کے خاتمے کے  مختلف پہلووں کو اجاگر کیا۔  انہوں نے کہا کہ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں  زمین خریدنے اور مستقل رہائش کا حق ملنے سے مقامی آبادی میں آبادیاتی تبدیلیوں اور ثقافتی شناخت کے خطرات پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی بڑھتی ہوئی موجودگی، کرفیو، انٹرنیٹ بندش، اور گرفتاریوں کے واقعات کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی رپورٹس کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بعد بشیر دولتی صاحب نے اپنی گفتگو میں پاکستان اور اسرائیل کے قیام کے پس منظر کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا قیام دو قومی نظریے پر مبنی ہے، لیکن ان کے مقاصد اور حالات مختلف ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلمانوں کا اخلاقی فریضہ ہے کہ وہ مظلوم کشمیریوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھائیں اور ان کی حمایت کریں۔
دیگر مقررین میں سید پرویز شاہ، سید فراز نقوی، اور مجلس وحدت المسلمین شعبہ قم کے نائب صدر شیخ احسان دانش صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ ایک طویل عرصے سے بین الاقوامی تنازعہ بنا ہوا ہے اور اس کا حل اقوام متحدہ کے قوانین اور قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشمیری عوام کو اپنے حق خودارادیت کا استعمال کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے اور پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
نشست کے اختتام پر شرکاء نے ایک اعلامیہ  جاری کیا جس میں کشمیری عوام کے حقوق کی حمایت اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیا ۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر مثبت کردار ادا کرے اور امن و انصاف کے اصولوں پر مبنی حل کو یقینی بنائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں حق بات کہنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



بدھ، 5 فروری، 2025

علم حجاب یا چراغ ؟

    

علی عسکری:
قران کریم اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم و اہل بیت علیہم السلام کی روایات میں تربیت اور تزک نفس کے مسئلے پر بہت زور دیا گیا ہے ۔اس  سلسلے میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ تربیت کے بغیر علم سراج منیر کے بجائے حجاب بن جاتا ہے اور ترقی و کمال کی راہ میں رکاوٹ قرار پاتا ہے ۔اس لیے تربیت و تزکیہ نفس کو نظام تعلیم میں بنیادی رکن کی حیثیت حاصل ہے اور انہیں نظر انداز کر دینے کی وجہ سے معاشرہ میں بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔
تعلیمات دین میں "تعلیم اور طالب علم"کی بہت اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اور اس میں بہت ساری احادیث بھی وارد ہوئی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ"علم"کتنا ضروری ہے اور اس کی کتنی فضیلت ہے جیسا کہ ایک حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: "یستغفرللعلم ما فی السموت والارض"۱ "زمین و اسمان کی ہر مخلوق عالم کے لیے استغفار کرتی ہے"-
ایسے ہی بہت ساری احادیث بیان کی گئی ہیں اور قران میں بھی ارشاد ہوتا ہے:"الذی علم بالقلم- علم الانسان ما لم یعلم"۲"جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا"اس سے پتہ چلتا ہے کہ انسان کو قلم کے بغیر علم حاصل نہیں ہوتا اور اللہ نے اس قلم میں تمام علوم کو پوشیدہ رکھے ہوئے ہیں ـ جو قلم کے ذریعے سے علم حاصل کرے گا اس کو وہ تمام بتا دیا جائے گا جو وہ نہیں جانتا تھا۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر جو ایت کریمہ سب سے پہلے نازل ہوئی تھی ان میں انسان کے خلقت کے بعد سب سے پہلے جس نے نعمت کا ذکر ہوا وہ "علم" ہے: اقرا بسم ربک الذی خلق ـ خلق الانسان من علق ـ اقرا و ربک الاکرم ـ الذی علم بالقلم ـ علم الانسان ما لم یعلم"۳"اس خدا کے نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا ہے اس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا ہے پڑھو اور تمہارا رب پروردگار بہت کریم ہے جس نے قلم کے ذریعے تعلیم دی ہے اور انسان کو وہ سب کچھ بتا دیا ہے جو وہ نہیں جانتا تھا “اس ایت کے بعد ہمیں پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے تاکہ ہم علم حاصل کر کے عرفان الہی تک پہنچ سکیں اور حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے حدیث فرمائی: طالب العلم فریضۃ علی کل مسلم"۴"علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے"ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں"اطلوب العلم و لوبالعین فریضۃ علی کل مسلم"۵"علم حاصل کرو چاہے چین جانا پڑے کیونکہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے"ـ
خداوند عالم جس کے لیے بھلائی چاہتا ہے اس کو دن قدرک عطا کر دیتا ہے علم کی فضیلت کے بارے میں بہت بتایا گیا ہے ایک حدیث میں اپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں"من تفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ ہمہو ورزقہمن حیث لا یحتسب"۶"جو اللہ کے دین کی راہ میں غور و فکر کرے گا تو خداوند عالم اس کے ہر غم کے لیے کافی ہے اور جس جگہ کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا اسے وہاں سے روز فراہم کر دے گا ایک حدیث میں ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: العلم افضل من عبادت"۷"علم عبادت سے افضل ہے"اس طرح علم کی اہمیت و فضیلت کو بیان کرتے ہوئے ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں"من طلب بابا من العلم لیحیی الاسلام بہ الاسلام کان بینہ و بین الانبیاء درجتہ فی جنتہ"۸"جو شخص اسلام کو زندہ کرنے کے لیے علم حاصل کرے تو جنت میں اس کے اور انبیاء کے درمیان صرف ایک درجہ کا فرق ہوگا ـ
ہر طالب علم کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کا اغاز کرنے سے پہلے اچھی طرح مادہ کرے یعنی اپنا نفس اور دل کو بالکل صاف ستھرا بنا لے اور دل کو پاک و صاف بنانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسان کھیت میں بیج بونے سے پہلے زمین کو کاشت کرنے کے لیے زمین کو صاف کر کے ایسے کرتا ہے اسی طرح علوم الہیہ حاصل کرنے سے پہلے دل کو کینہ اور گناہ وغیرہ سے پاک و صاف کرنا ضروری ہے جیسا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد گرامی ہوتا ہے"ان فی الجسم مضغتہ اذا صلاحت الجسد لکہ واذا فسدت فسد الجسد لکہ الا وھی القلب"۹"جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہ صحیح ہو سالم رہے تو پورا جسم صحیح و سالم رہتا ہے اگر وہ خراب ہو جائے تو جسم بھی خراب ہو جاتا ہے وہ دل ہے"اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر دل صاف ہوگا تو علم بھی اچھی طرح ائے گا ایک اور جگہ پر حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے علم حاصل کرنے کا ایسا بیان کیا وہ یہ ہے۔
"مثل الذی یتعلم العلم فی صغرہ کالنقش علی الحجر و مثل الذی یتعلم فی کبرہ کا کا لذی یکتب علی الما ء"۱۰"
جو شخص بچپنے میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ پتھر کی لکیر کی طرح باقی رہتی ہے اور جو شخص بڑھاپے میں تعلیم حاصل کرتا ہے وہ ایسا ہی ہے جیسے پانی کے اوپر کوئی تحریر بنائی جائے"کیونکہ اس دور میں انسانی جسم کے تمام صلاحیتیں اور قوتیں اپنے عروج پر رہتی ہیں اور وہ معمولی سی محنت بہت زیادہ استفادہ کیا جا سکتا ہے طالب علم کو چاہیے کہ وہ اپنے دوستوں یا دیگر متعلقین سے اپنے روابط کے بارے میں غور کرے اور ان دوستوں کا انتخاب کرے جو علم دوست ہوتے ہیں حوصلے اور ہمت کو بہت بلند رکھے تاکہ اس کے اندر اعلی علم مدراج تک پہنچنے کا جذبہ رہے علمی باتوں میں اس کے اندر لگن اور شوق ہونا چاہیے۔
طالب علم کی فضیلت کے بارے میں بہت سی احادیث بھی وارد ہوئی ہیں اور ان حادث سے پتہ چلتا ہے کہ طالب علم یا الم عام لوگوں اور عابدوں سے بہت زیادہ مقام رکھتے ہیں جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ"علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل"۱۱"میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں"پھر اپ نے ایک اور جگہ پر ارشاد فرمایا"العماء ورثتہ الانبیاء"۱۲"اہل علم انبیاء کے وارث ہیں"ـ پروردگار نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی"یا ابراہیم انی علیم کل علیم"۱۳"میں صاحب علم ہوں اور ہر صاحب علم سے محبت کرتا ہوں"ـ

 اس طرح بہت سے احادیث بیان کی گئی ہیں جس سے طالب علم یا عالم کی اہمیت اور فضیلت کا پتہ چلتا ہے ایک اور حدیث میں اتا ہے"من خرج یطلب بابا من علم لیر دبہ با طالا الی حق او ضلا لتہ الی ھدی کان علمہ ذلک کعبادہ متبعد اربعین عاما"۱۴"جو شخص اس نیت سے علم حاصل کرنے کے لیے نکلے کہ اس کے ذریعے باطل کی جگہ حق اور گمراہی کی جگہ ہدایت کو رواج دے گا تو اس کا یہ علم بد کے 40 سال عبادت کے برابر ہے"یو ہمیں طالب علم یا عالم کے فضیلت پتہ چلتا ہے کیا کیا فضیلت اور اہمیت ہے۔
استاد کے بارے میں طلبہ کا سب سے پہلا فرض یہ ہے کہ نیک اور صالح استاد کے انتخاب کرے کیونکہ ان کی فکری اور روحانی تعلیم و تربیت میں استاد کا بنیادی کردار ہوتا ہے استاد کو اپنے باپ کی طرح بلکہ اس سے بھی برتر سمجھنا چاہیے کیونکہ والدین بچے کے جسمانی نشونما کرتے ہیں لیکن استاد اس کے روحانی تربیت کرتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے استاد کے احترام کے متعلق ایک بیان فرمائی ہے کہ"تعلمو العلم و تعلمو العلم السکینہ وا لوقار و تواضعو المن تتعلمون منہ"۱۵"علم حاصل کرو اور پھر علم کے لیے سنجیدگی اور وقار کا درس حاصل کرو اور جس سے علم حاصل کرو اس کے ساتھ تواضع انکساری سے پیش اؤ"-اپنے استاد کا سامنے تواضع اور انکساری سے پیش اؤ کیونکہ ہر عالم کے سامنے تواضع ضروری ہے لہذا جو شخص عالم بھی ہو اور استاد بھی ہو وہ تواضع کا زیادہ حقدار ہے اور دوسرے یہ کہ تواضع تعلیم کی بنیادی شرط بھی ہے حتی الامکان استاد کو زحمت نہیں دینا چاہیے اور صرف مناسب اوقات میں ہی ان سے ملاقات کرنی چاہیے۔
علمائے اخلاق نے حافظہ کی مضبوطی کے لیے تقوی اختیار کرنے اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی تاکید کی ہے کیونکہ روحانی بیماریاں علوم الہیہ کے دروازے کو بند کر دیتی ہیں اسی لیے مناسب یہی ہے کہ طلبہ کرام حتی لمکان اپنے نفوس و ارواح اور دلوں کو ہر قسم کے گناہ اور برائیوں سے محفوظ رکھیں تعلیم حاصل کرتے وقت عقل و منطق و معیار قرار دے اور صحیح طریقے سے تعلیم حاصل کرے اور جب تک ابتدا یو مقدماتی درجے طے نہ کرے امیر اور پچیدہ مطالب کی طرف قدم نہ بڑھائے کیونکہ بنیاد مضبوط کیے بغیر بڑی بڑی کتابوں میں مشغول ہونا ایک غلط طریقہ کار ہے ـ جس سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے علمی باتوں کے بارے میں اس کے اندر لگن اور شوق ہونا چاہیے اور جہاں بھی کوئی علمی بات نظر ائے اس کے بارے میں کسی قسم کی سستی سے کام نہیں لینا چاہیے اپنے دوستوں اور دیگر متعلقین سے اپنے روابط کہ بارے میں غور کرے اور ایسے دوستوں کا انتخاب کرے جوعلم دوست ہوں۔
حوالہ جات: 
1: سنن ابی داؤد ج2ص285
2: سورہ علق: 4-5 ایت 
3: سورہ علق:1-5 ایت 
4: سنن ابن ماجہ: ج1 باب 17 حدیث 224
5: بہار الانوار: ج1ص180 حدیث 224
6: احیاءلعلوم الغزالی: کتاب العلم 
7: کنز الایمان:حدیث2857
8: کنز الامان:حدیث28833
9: صحیح بخاری: ج1 کتاب الایمان, بہار الانوار: ج57ص23
10: الجامعہ الصغیر: ج2 حرف میم, منیت المرید: ص225
11: بہار الانوار:ج2ص22 باب 8
12: سنن ابن ماجہ: ج1 باب 17ص223
13: احیاءالعلوم غزالی: کتاب العلم 
14: کنز العمال: حدیث 28835
15: کنز العمال:خ28717, منیتہ المرید:ص243

منگل، 4 فروری، 2025

کشمیری بچوں کے حقوق

میرا نام حسین عباس کشمیری ہے۔ میں کلاس ون میں پڑھتا ہوں۔ یوم یکجہتی کشمیر کے روز میں چاہتا ہوں کہ ساری دنیا خصوصاً  
مقبوضہ کشمیر اور فلسطین کے بچوں کے حقوق کا احترام کیا جائے۔ آپ سب کشمیر اور فلسطین کی آزادی کیلئے دعا کریں۔ شکریہ
:کشمیر بنے گا پاکستان:

I LOVE KASHMIR


لیلی خالد کا پیغام کشمیریوں کے نام


نذر حافی:راقم الحروف نے لیلی خالد کے افکار و نظریات کا مطالعہ کیا تو یہ سمجھا کہ ہر انسان  کی زندگی یہ طے کرتی ہے کہ وہ کون ہے؟  زندگی میں مثبت اور منفی دونوں طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ہر واقعے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے  آپ سے پوچھئے کہ  میں اس واقعے  سے کیا سیکھ سکتا ہوں؟ 
 اسی طرح مختلف سیاسی، مذہبی، سماجی اور معاشی تحریکیں بھی ہمارے بارے میں یہ طے کرتی ہیں کہ ہم کون ہیں؟  ہمارے شعور کی سطح کیا ہے؟ اور ہمارا وژن کیا ہے؟ 
فلسطین و کشمیر کی جدید تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب  لیلی خالد اورمقبول بٹ جیسے مزاحمت کاروں نے اپنی جدوجہد سے رقم کیا ہے۔ ان کی جدوجہد کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ظالموں کے مقابلے میں مقاومت اور مزاحمت  صرف زمینوں کو آزاد کرانے کیلئے ہی نہیں بلکہ دماغوں اور سینوں میں افکار و نظریات کو زندہ رکھنے کیلئے بھی ضروری ہے۔ زمینوں کی آزادی کی مانند  افکار و نظریات بھی   آزادی چاہتے ہیں۔
کسے خبر تھی کہ  ۱۹۴۴ میں حیفہ میں متولد ہونے والی  لیلی خالد  ۱۹۴۸ میں "نکبہ" کے دوران مہاجر  ہو جائے گی۔ مہاجرین کے کیمپوں میں پلنے والی لیلی خالد اپنی زندگی میں صرف ایک بار دوبارہ سے  حیفہ کو دیکھ سکیں وہ بھی تب کہ  جب ۱۹۶۹ میں انہوں نے اپنے ہائی جیک کیے گئے طیارے کے پائلٹ کو  حیفہ کے اوپر سے گزرنے کا حکم دیا۔
وہ کہتی ہیں کہ میں مہاجرین کے کیمپ میں  ہمیشہ یہ سوچتی تھی کہ ہم کیوں ایسی زندگی بسر کر رہے ہیں؟  فلسطین لبریشن فرنٹ  کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچانے والی لیلی خالد نے   لبنان کے ایک پناہ گزین کیمپ میں اپنا بچپن گزارا۔
آج بھی   دنیا بھر میں ساٹھ لاکھ سے زائد فلسطینی پناہ گزین اس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب وہ اپنے ملک واپس جا سکیں  اور اپنی ہی چھت کے نیچے ایک رات گزار سکیں ۔ذرا تصوّر کیجئے کہ جب مغوی طیارہ   مقبوضہ فلسطین  کے اوپر سے گزر رہا ہوگا تو لیلیٰ خالد  اور دیگر  فلسطینیوں کے دل پر کیا گزری ہوگی ؟
 طیارہ اُن علاقوں کے اوپر سے پرواز کر رہا تھا  جو ان  فلسطینیوں کی جائے پیدائش اور ان کے آباؤ اجداد  کی ملکیت تھے لیکن اب وہ انہیں دیکھنے کو ترس رہے تھے۔  انہیں ان علاقوں پر قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس کے بعد لیلی گرفتار ہوئی اور پھر ایک ایسے ہی معرکے کے نتیجے میں اُسے رہائی ملی اور رہائی کے بعد اُس نے پھر سے ایک اور طیارہ اغوا کیا۔ اگلے سال، لیلیٰ خالد نے نکاراگون کے جنگجو پیٹرک ارگولو کے ساتھ ایک اور ہائی جیکنگ آپریشن میں حصہ لیا۔ اس آپریشن میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے اسرائیلی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے ایک ساتھ چار طیاروں کو ہائی جیک کیا جانا تھا۔ دوسری مرتبہ لیلی خالد  زخمی ہو گئی اور اس کا ساتھی گولی لگنے سے دم توڑ گیا۔ہوا کچھ یوں کہ   جب دو ہائی جیک طیارے اردن کے ایک صحرا میں اترے تو ایک پھٹ گیا اور دوسرا جس میں لیلیٰ موجود تھی، کو پولیس نے پکڑ لیا۔ اچانک اردن کے دارالحکومت عمان کے ہوائی اڈے کے کنٹرول ٹاور نے اعلان کیا کہ بحرین سے بیروت جانے والے ایک برطانوی طیارے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے اور وہ دو دیگر طیاروں کے ساتھ لینڈ کرنے کی درخواست کر رہا ہے۔ کیا کسی کو معلوم تھا کہ کیا ہو رہا ہے؟ ہائی جیکر بھی حیران رہ گئے۔ 
منصوبے کے مطابق چار طیارے ہائی جیک کر لیے گئے تھے اور کوئی پانچواں  طیارہ ایجنڈے میں شامل نہیں تھا۔ پھر یہ  پانچواں طیارہ کہاں سے آگیا؟  بحرین میں کام کرنے والا ایک فلسطینی کارکن۔ لیلیٰ کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی وہ ایکشن میں آیا اور اکیلے ہی اس نے ایک طیارہ ہائی جیک کر لیا،  اُس نے  اغوا کیے گئے طیارے کے مسافروں کی رہائی کے بدلے لیلیٰ خالد کی رہائی کا مطالبہ شروع کر دیا۔
لیلیٰ خالد نے ۲۸ دن برطانوی پولیس کی حراست میں گزارے ۔ بعد ازاں برطانیہ کے  وزیراعظم نے اسے پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین کے مغربی یرغمالیوں کے بدلے رہا کر دیا۔ دو سال بعد، پیپلز لبریشن فرنٹ آف فلسطین (PFLP) نے ہائی جیکنگ کو اپنے ایجنڈے سے نکال دیا اور اس پر پابندی لگا دی۔ لیلیٰ نے  بھی فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو نئی ہمت اور حوصلے سے جاری رکھا۔ 
لیلی خالد نے  پہلی مرتبہ ۲۹  اگست ۱۹۶۹ کو  ایک اسرائیلی  طیارہ   اغوا کر کے دمشق ائیرپورٹ پر اُتارا۔وہ  پندرہ سال کی عمر سے ہی فلسطین کی آزادی کیلئے مرنے یا مارنے کا ارادہ کر چکی تھیں۔ کسی نوجوان  لڑکی کا ایسا سوچنا عام حالات میں ممکن نہیں۔ البتہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جب قبضہ ہوتا ہے تو پھر  مزاحمت بھی  ہوتی ہے۔ یہ مزاحمت ایک دور سے دوسرے دور اور ایک شکل سے دوسری شکل میں منتقل ہوتی رہتی  ہے۔ 
۵ فروری یومِ یکجہتی کشمیر   کے عنوان سے مجھے مقبول بٹ شہید کی یاد آئی۔ مانا کہ اب ۵ فروری میں اب پہلے سا رنگ نہیں رہا۔یاد رکھیں کہ  جب تحریکیں اپنا اصلی رنگ کھونے لگتی ہیں تو مقبول بٹ اور لیلی خالد جیسے کردار ابھرنے لگتے ہیں۔
۱۹۶۹ میں لیلی خالد نے فلسطین کاز کیلئے  اسرائیلی طیارہ اغوا کیا اور ۱۹۷۱ میں مقبول بٹ کے ساتھیوں نے کشمیر کاز کیلئے ہندوستانی  ائیرلائن کا "گنگا طیارہ " اغوا کر کے لاہور پاکستان لایا۔اس وقت ساری دنیا کی نظریں   مشرقی پاکستان   کے خلفشار پر مرکوز تھیں۔انڈین طیارہ اغوا کرنے والے دونوں کشمیری نوجوانوں کی عمریں انتہائی کم تھیں،  ہاشم قریشی کی صرف ساڑھے سترہ  سال اور اشرف قریشی  ۱۹ سال کے تھے۔
اس اغوا کا پسِ منظر یہ ہے کہ ۱۹۶۸ میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اورتحریکِ آزادی کشمیر   کے روح رواں مقبول بٹ کو انڈیا نے سزائے موت سنائی  تو وہ  جیل توڑ کر آزاد کشمیر پہنچ گئے۔ اس کے تھوڑے دنوں کے بعد ایک سولہ سال  کا نوجوان ہاشم قریشی اپنے عزیزوں سے  ملنے پاکستان آیا اور اس دوران اس کی ملاقات مقبول بٹ سے ہوئی۔وہ مقبول بٹ  کے افکارسے متاثر ہوا اور  وہ واپس مقبوضہ کشمیر چلا تو گیا لیکن وہ پھر غیرقانونی ﴿آف دی ریکارڈ﴾ طریقے سے پاکستان مقبول بٹ سے ملنے لوٹا۔
۱۸ جون ۱۹۶۹ کو ہاشم قریشی ،  امان ﷲ خان ، ڈاکٹر فاروق حیدر  اور مقبول بٹ کی ملاقات  راولپنڈی میں ہوئی۔ یہ ڈاکٹر فاروق حیدر کا گھر تھا جہاں اچانک اریٹریا کی آزادی کیلئے لڑنے والے تین نوجوانوں کی ایک خبر نشر ہوئی۔ انہوں نے کھانے سے ہاتھ کھینچ کر یہ خبر سُننا شروع کر دی کہ  ایتھوپیا کے مسافر طیارے پر تین نوجوانوں نے  ہینڈ گرنیڈ اور ٹائم بموں سے حملہ کر دیا ہے ۔ یاد رہے کہ ان دنوں ایتھوپیا کا  اریٹریا پر قبضہ  تھا اور وہاں آزادی کی تحریک  جاری تھی۔ مقبول بٹ نے اُسی وقت یہ کہا کہ ہمیں بھی اپنی  آزادی کی صدا  اقوامِ عالم تک پہنچانے کیلئے  کچھ ایسا ہی کرنا چاہیے۔ یہیں سے اس منصوبے پر کام شروع ہوا اور ایک کھلونا پستول اور لکڑی سے گرنیڈ کی طرح کا ایک کھلونا بنا کر ۳۰ جنوری ۱۹۷۱ کو ہفتے کے دن  سرینگر سے جموں جانے والے انڈین طیارے کو اغوا کر لیا گیا۔کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی کہ ان دونوں نوجوانوں کے پاس پستول اور گرنیڈ کے بجائے کھلونے ہیں۔بالاخر جہاز کو پاکستان میں لاہور ائیرپورٹ پر اتارا گیا۔لاہور میں جب ہائی جیکروں سے ان کے مطالبات پوچھے گئے تو  انہوں نے کہا کہ  ہماری یہ کارروائی فقط کشمیر کی آزادی کیلئے ہے۔ انہوں نے یہ کہا اور  دو گھنٹے کے اندر ہی تمام عورتوں اور بچوں کو  رہا کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں انہوں نے دیگر مسافروں کو بھی جانے دیا۔ اشرف قریشی کے مطابق  اس کے بعد ان کی مقبول بٹ  سے مختصر ملاقات کرائی گئی جس میں مقبول بٹ نے ان سے  کہا  کہ  آپ لوگ جہاز کے شیشے توڑ کر نیچے آ جائیں  چونکہ جہاز کی مرمت کو چار سے پانچ روز لگیں گے اور اس دوران روزانہ کشمیر کاز کی خبر دنیا تک پہنچتی رہے گی۔وہ کہتے ہیں کہ  جیسے ہی  ملاقات کے بعد  وہ باہر نکلے  تو سکیورٹی اہلکار آگے بڑھے خاص طور پر   ایس ایس پی لاہور عبد الوکیل  نے ہاشم قریشی سے کہا کہ  مقبول بٹ نے طیارے کو آگ لگانے کیلئے  پیٹرول بھیجا ہے ۔ ہاشم قریشی یہ نہیں سوچ سکتے تھے کہ  یہ لوگ ان سے جھوٹ بولیں گے۔ یوں انہوں نے اسّی گھنٹے تک جہاز پر قبضہ رکھنے کے بعد اُسے  پاکستانی سیکورٹی اہلکاروں کے کہنے پر جلادیا۔
یوں اس طیارے کو جلانے کے پیچھے کئی اسباب ہو سکتے ہیں لیکن ایک اہم سبب ہمارے سیکورٹی اداروں کا اپنے فرائضِ منصبی سے جان چھڑانے کا رویّہ بھی ہے۔ جیساکہ لیاقت علی خان کے قاتل کو خود ہی قتل کر دینا اور پاکستان میں اکثر "خود کش حملہ آوروں" کے دھماکے میں ہی اُڑ جانے کی رپورٹ بنا دینا وغیرہ وغیرہ۔۔۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔۔۔
قابض فورسز لیلی خالد اور مقبول بٹ کو دہشت گرد کہتی ہیں۔ یہی سوال جب لیلی خالد سے کہا گیا کہ  قابض طاقتیں آپ کو دہشت گرد کہتی ہیں اس بارے آپ کیا کہیں گی؟ 
لیلی خالد نے جواب میں کہا کہ دہشت گردی کا مطلب ناجائز  قبضہ  کرنا ہے۔ ہر روز آپ فلسطین میں لوگوں کے قتل کا مشاہدہ کرتے ہیں۔  روزانہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں  کو  گولیاں مار رہی ہے۔ صحافیوں کو سچی رپورٹنگ کرنے پر قتل کیا جا رہا ہے۔  دہشت گردی یہ ہے  کہ ہماری زمین، پانی اور گھروں کو لوٹ لیا گیا، اور  قبضہ کرنے والوں  نے  زبردستی ہمیں ہجرت پر مجبور کیا۔ صیہونی غنڈوں نے اپنی بستیوں کی تعمیر کے لیے ہمارا  قتل عام کیا اور اناً فاناً جنت نظیر ۴۶۵   فلسطینی بستیوں کو کھنڈر بنا دیا۔ دہشت گرد تو وہ لوگ ہیں جو یہ سب کر رہے ہیں  جبکہ ہم تو اپنی مقبوضہ سرزمین کو آزاد کرانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔لیلی خالد کی اسی گفتگو میں اُن لوگوں کیلئے بھی جواب موجود ہے جو مقبول بٹ شہید کو دہشت گرد کہتے ہیں۔
لیلی خالد کی جدوجہد آج بھی جاری ہے، اوران کی جدوجہد سے کشمیریوں کو بھی یہ پیغام ملتا ہے کہ افکار و نظریات کی آزادی کی  جدوجہد  کے راستے  میں گزرنے  والا ہر لمحہ  وہ بیج ہے جس سے ظلم کی تیز آندھی کا مقابلہ کرنے کیلئے  مقاومت اور مزاحمت کے دیوقامت درخت اُگتے ہیں۔ آزادی کی جو بھی قسم اور شکل ہو اس کیلئے  جدوجہد عام لوگوں کا کام نہیں بلکہ  یہ صرف وہی کر سکتے ہیں جن کے دماغ  آفاق  کی طرح وسیع اور  دل پہاڑوں کی طرح مضبوط ہوں۔

اتوار، 2 فروری، 2025

وقت کے ساتھ چلئے۔۔۔



کاوشِ فکر: عارف بلتستانی:
مطالعے کی بھی اقسام ہوتی ہیں۔ گزشتہ شب اپنے استاد جناب نذر حافی صاحب کا ایک خوبصورت کالم ”مطالعہ کے نام پر مطالعہ ہی کیجئیے“ پڑھنے کا موقع ملا۔  انہوں نے بہت سادہ اور آسان الفاظ میں مطالعہ کرنے کے بارے میں مفید نکات بیان کئے ہیں۔ مطالعے کی اقسام کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ بنیادی طور پر مطالعہ کرنے کی دو اقسام ہیں:  ایک : عام مطالعہ یا مطالعہ برائے مطالعہ (casual reading) : ایسا مطالعہ جسے یاد رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ جیسے اخبارات و جرائد، ڈائجسٹ و کہانیاں اور روز مرّہ کی خبریں، مضامین اور کالمز وغیرہ۔ یہ مطالعہ مختلف جہتوں سے مفید ضرور ہوتا ہے، لیکن اس کی بنیاد پر آپ کوئی علمی کام انجام نہیں دے سکتے۔
دو : سنجیدہ مطالعہ (serious reading) مطالعہ برائے تو لیدِ نظریات: ایسا مطالعہ جسے حافظے میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب انسان چاہے اسے اپنی ذاتی یادداشت میں محفوظ کرے یا کسی کاپی یا ہارڈ ڈسک میں۔ سنجیدہ اور تولیدی یا پیداواری مطالعے کے کچھ لوازمات ہیں، جن کی رعایت کر کے ہم اپنے مطالعے سے تو لیدِ علم کا کام لے سکتے ہیں ”
  راقم الحروف کو مطالعے سے خاص شغف ہے۔ اس کی خاص وجہ شہداء کے حالاتِ زندگی سے دلچسپی  اور کچھ خاص کتاب دوست، احباب ہیں۔ ساتھ ساتھ  کچھ اساتذہ بھی ایسے ملے جو لکھنے لکھانے، سیکھنے سکھانے اور پڑھنے پڑھانے پر زور دیتے تھے اور دیتے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے مطالعے کی افادیت پر مجھے بھی  ایک کالم لکھنے کا موقع ملا۔ اس کالم  میں  میں نے اس غرض سے مطالعے کی اہمیت اور افادیت پر قلم اٹھایا ہے کہ ہمیشہ چراغ سے چراغ جلتے رہنا چاہیے۔
اس سوشل میڈیا اور اے آئی کے دور میں کسی کے پاس کتابوں کے  مطالعے کے لئے ٹائم ہی کہاں ہے۔ وقت ملے بھی تو ٹِک ٹاک ،   ایکس، انسٹا، فیسبک، واٹس ایپ  پر ہی ساراوقت  گزر جاتا ہے۔ بعد ازاں انسان  ہاتھ ملتا رہ جاتا ہے  کہ مطالعے کے لئے وقت نہیں بچا۔ جو لوگ شادی شدہ ہیں یا جاب پر جاتے ہیں وہ بھی مطالعے کی عادت سے دور رہنے میں مثتثنی نہیں۔
سو میں نے  سوچا کہ کیوں نہ اپنے قلمی دوستوں کو  یہ بتا دوں کہ اگر  آپ لوگ واقعی میں مطالعہ کرنا چاہتے ہیں  تو آپ کے ہاتھ میں موجود یہی موبائل بھی ایک  بہترین کتاب ہے۔ ابھی ایسی ایسی آڈیو بکس  ایپ موجود ہیں، جن کے ذریعے  آپ اپنے من پسند موضوعات پر مشتمل کتابوں کو چند گھنٹوں میں با آسانی  سن سکتے ہیں۔آپ راستہ چلتے ہوئے کنسٹریشن (تمرکز) کو مزید مضبوط کر سکتے ہیں۔ جس زبان میں آپ سن رہے ہیں اس کا بہترین لب و لہجہ اور ذخیرہ الفاظ کا ایک سمندر  ان ایپس کی صورت میں آپ کے ہاتھوں میں ہے۔
میرے مطابق شروع میں داستان، ناولز، کہانیاں، افسانے خاص کر شہداء کے حالات زندگی بہترین انتخاب  ہیں۔ جب کتاب سننے کی عادت ہو جائے تب آسانی سے اپنے موضوعات کی کتابوںاو  فن و ہنر کی کتابوں کو سننا شروع کریں اور وقت ضائع ہونے سے بچائیں۔ جو وقت کو ضائع کرتا ہے وقت  بھی اسے ضائع کردیتا ہے۔
آپ قارئین کی خدمت میں آڈیوز کتابوں کی ایک فہرست پیشِ خدمت ہے۔ آپ پلے سٹور یا ایپ سٹور سے ڈانلوڈ کریں اور اپنی من پسند کتابیں سنیں اور وقت کے ساتھ چلیں۔ Taaghche، Audible، Audiobooks، Fidibo، Play Books، Kindle، Libby، Online Bibiotheek، Read and Listen book، PocketBook Libby، Oodles book، Kobo books
arifbaltistani125@gmail.com



​میں اور جماعتِ اسلامی

​میں اورجماعتِ اسلامی :
محمد بشیر دولتی :
میرا جماعت اسلامی سے نہ مسلکی تعلق ہے اور نہ تنظیمی تعلق ۔مجھے پھر بھی جماعت اسلامی سے محبت ہے۔ یہ تنظیم قرآن مجید کو ایک مکمل ضابطہ حیات سمجھتی ہے۔ اسلام کی حاکمیت پر یقین اور اس یقین کو عملی کرنے کے لئے مسلسل جدو جہد کررہی ہے۔ جماعت اسلامی ایک مضبوط سسٹیمک مذہبی سیاسی تنظیم کا نام ہے۔ تربیت یافتہ ،شائستہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کی کثیر تعداد ان کے پاس موجود ہے۔ اسلامی جمعیت جیسی مذہبی طلبہ تنظیم کے علاؤہ پاسبان اور شباب ملی جیسی کم تربیت یافتہ مگر جوانوں پر مشتمل قوت بھی موجود ہے۔ ملک پاکستان میں بظاہر استعمار مخالف ایک مضبوط قوت ہے۔ جوانوں کو اقبال کا فکری شاہین بنانے کے لئے سوشل میڈیا سمیت حضوری دروس کا ایک تربیتی سلسلہ جاری ہے۔ فلاحی اداروں سے لے کر تعلیمی مراکز تک، پبلشر سے لے کر نصاب سازی تک، ڈاکٹرز سے لے کر وکلا ء تک، دینی طلبا سے لے کر جوانوں تک ان کے پاس ادارے ہیں، افراد ہیں، فکر و شعور کے ساتھ ایک بڑی افرادی قوت ان کے پاس موجود ہے۔
اس جماعت سے میری قربت بیس سال پرانی ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے جلسوں، درسوں اور لانگ مارچ کے احتجاجات میں شامل ہوتا رہا ہوں۔ محترم قاضی حسین احمد اور سابق میئر کراچی نعمت اللہ خان ، پروفیسر غفور احمد مرحوم وغیرہ کو قریب سے سنتا رہا ہوں۔آج بھی جماعت اسلامی کو پاکستان میں مذہبی سیاست کا علمبردار سمجھتا ہوں۔
یہ بات پاکستان بننے سے پہلے کی ہے جب برصغیر کے عظیم مفکر حضرت سید ابوالاعلیٰ مودودی اور ان کے 74 ساتھیوں نے چھبیس اگست انیس سو اکتالیس(26 اگست 1941) کو لاہور میں ایک سیاسی مذہبی تنظیم کی بنیاد رکھی، جسے دنیا جماعت اسلامی کے نام سے جانتی ہے۔میرے خیال میں "حسن بنا" کی تنظیم مصر کے اخوان المسلمین کے بعد یہ عالم اسلام کی دوسری بڑی اور قدیمی جماعت ہے۔اس وقت پاکستان میں کوئی جمہوری تنظیم اگر ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ پی پی ، نون لیگ،جمعیت علمائے اسلام تو موروثی جماعتیں ہیں۔ پی ٹی آئی کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جمعیت علمائے اسلام میں دینی مدارس کے طلبا تو نظر آتے ہیں مگر اس تنظیم اور اس کے آئین میں اسلامی سیاست نظر نہیں آتی۔طاہر القادری کی عوامی تحریک اگرچہ عوامی تھی مگر ان کے پاس ملک سنبھالنے ،نظام چلانے کے لئے تربیت یافتہ افراد کی بھی کوئی کمی نہیں ۔ مگر افسوس کہ وہ اب اس موجودہ نظام سے دل برداشتہ ہوکر صوفی ازم کےشکار ہوگئے ہیں۔ نظام سے مایوس اس عظیم دانشور نے اپنے شہیدوں کو بھی اب تقریبا بھلادیا ہے، ایسے میں اب پورے پاکستان میں جماعت اسلامی ہی اسلامی سیاست کے عاشقوں کے لئے امید کی آخری کرن ہے۔
اب خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑ چکا ہے۔ جماعت پر بھی دوسری تنظیموں کا رنگ چڑھتا دھائی دے رہا ہے۔ اس میں اب قرآن مجید کے آفاقی پیام، مولانا مودودی کی عالمی سیاسی افکار اور قاضی حسین احمد مرحوم کی سنجیدگی و وقار نظر نہیں آتا۔ اس تنظیم میں شدت پسندی نمایاں ہوتی جا رہی ہے۔ اس تنظیم میں اب مولانا مودودی کی قرآنی و فکری افکار کی بجائے کالعدم شدت پسند تنظیموں کی سوچ اور فرقہ پرستی نظر آرہی ہے۔ ان کے نمائندے اب اسلامی انقلاب کی بجائے قومی اسمبلی میں شدت پسندی کا بل لےکے آتے ہیں، اپنا نظام تعلیم و نصاب رکھنے کے باوجود متنازعہ نصاب تعلیم پر خوش نظر آتے ہیں ۔ یہ جماعت بھی اب استعمار مخالف کردار کے نبھانے کے بجائے فرقہ واریت اور نفرتوں کی آگ کو بھڑکانے میں مصروف ہے۔ اسلامی سیاست کا نعرہ اب فقط نعروں اور جلسوں میں ہی بلند ہوتا ہے۔
عملا اب یہ مذہبی انقلابی تنظیم بھی دنیاوی سیاست میں ہی مگن لگتی ہے۔ مصر میں اخوان المسلمین کے خلاف امریکہ و سعودیہ کی ظالمانہ و بےدردانہ عمل پر اس تنظیم نے کوئی خاص رد عمل نہیں دکھایا۔جنرل سیسی کی فوجی جمہوریت اور اخوان مصر پر ہونے والی بربریت پر واجبی سے رد عمل پر اکتفا کیا گیا۔ جنرل سیسی کی فوجی جمہوریت کی طرف سے مظلومین فلسطین پر باڈر پر ہونے والی سختیوں پر گہری خاموشیوں کا پہرہ ہے۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے سفارتی و تجارتی تعلقات پر حالت سکوت میں ہے۔اب تو جماعت اسلامی شیخ نواف تکروری جیسوں کو فلسطین کی آواز بناکر پاکستان میں متعارف کروا رہی ہے۔
ان کے علاؤہ رجیم چینج آپریشن کے وقت استعمار کے ہتھکنڈوں کو روکنے کی اس تنظیم نے کوئی کوشش نہیں کی بلکہ ضمنی الیکشن میں پی ڈی ایم کی اتحادی بن گئی ۔ جماعت نے ملک میں بےتحاشا بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کرپشن پر خاطر خواہ کردار ادا نہیں کیا۔ پاکستان میں کھلم کھلا سیاسی ورکروں اور خواتین پر ہونے والے مظالم پر آنکھیں بند کرلیں۔ اپنے سابق ممبر اور رکن اعظم سواتی کے خلاف ہونے والے ظلم و ذیادتی پر بھی مکمل خاموش رہی۔پاکستان میں استعمار مخالف ابھرتی آواز کو بری طرح دبانے پر کوئی ٹھوس رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔فرقہ واریت سے بھر پور بل ، تحریک انصاف کے ووٹرز توڑنے کے لئے استعمال ہوا، اس کے باوجود کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں تحریک انصاف نے جماعت اسلامی کو سپورٹ کیا لیکن اکثریت میں ہونے کے باوجود ظلم و دھاندلی پر مشتمل نظام نے جماعت اسلامی کو میئرشپ سے بھی محروم کردیا۔ چاہیےتو یہ تھا کہ جماعت اسلامی کی آنکھیں کھل جاتیں لیکن ایسا نہ ہوا۔ غزہ میں جنگ بندی کے لئے لائئ گئی قرار داد پر موجودہ حکومت اقوام متحدہ میں نیوٹرل رہی،رجیم چینج آپریشن کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے درپردہ کوششیں کیں، اس کے علاؤہ لاہور میں حمایت حماس ریلی سے پہلے اس حکومت نے اسے روکنے کی بھر پور کوشش کی، اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر اور تاجر رہنما سمیت کئی کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔اس کے رد عمل میں کوئی خاص قدم جماعت نہیں اٹھایا اور امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب نے یہ بیان دے کر اپنی جان چھڑا لی کہ "ملک میں اب بھی بیرونی کال پر فیصلے ہورہے ہیں"۔
اس پر میں عرض کروں کہ حضور! افسوس اس سنہری دور کی ہم نے قدر ہی نہیں کی کہ جب مغربی میڈیا پر کوئی پاکستانی حکمران سینہ تان کر "ایبسلیوٹلی ناٹ" کہہ رہا تھا، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی باتیں کی جاتی تھیں،امریکن سی آئی اے سربراہ کو ملاقات کا وقت نہیں دیا جاتا تھا،امریکن سفیر اور سفارتی اہلکاروں کو محدود کر دیا گیا تھا۔اب تو امریکن سفیر گوادر اور بلوچستان میں عوامی اجتماعات میں لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں ،ان ملاقاتوں کے بعد ملک میں نہ فقط فرقہ واریت شروع ہوتی ہے بلکہ پاک فوج پر حملوں کا سلسہ بھی تیز ہوجاتا ہے۔
محترم سراج الحق صاحب ہم نے نہ اس دور کی قدر دانی کی اور نہ ہی اس بولنے والے کی قدر کی ۔ سی آئی اے کے سربراہ کو ملاقات کا وقت نہ دینے والے خود دار وزیر اعظم کو تخت سے گرا کر زنداں میں ڈالا گیا، ان کے رہنماؤں اور ورکروں پر بدترین تشدد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ان مظالم پر جماعت باجماعت خاموش ہے۔

اسلامی سیاست کا محور مظلوم کو تلاش کرکے اس کی حمایت کرنا ہے جبکہ دنیاوی سیاست کا محور طاقتور کو تلاش کر کے اس کی مدح سرائی کرنا ہے۔ کسی تعصب کے بغیر اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں فقط مجلس وحدت المسلمین والے اس دینی و اصولی سیاست پر کاربند نظر آتے ہیں ۔ عوامی تحریک کے شہدا ء ہوں یا پاکستان میں استعمار کی کھلی مداخلت فقط راجہ ناصر عباس جعفری صاحب ہی اصولی موقف کو زندہ رکھے ہوئے اور مظلوموں کے ساتھ وفاداری کرتے نظر آتے ہیں۔

بات نعروں کی نہیں، ہم نعرہ کچھ بھی لگائیں،اسٹیج پر کچھ بھی کہیں،ریلیوں میں ،تقریروں میں،درسوں میں ،خطبوں میں کچھ بھی کہیں مگر عملا ہم مظلوم سے چشم پوشی اور ظالم کی مدح سرائی میں لگے ہوں تو یہ نہ قرآنی سیاست ہے اور نہ مودودی کی سیاست ۔
میری جماعت اسلامی کے سربراہوں سے گزارش ہے کہ غزہ کے مظلومین کی حمایت بھی ضروری ہے لیکن اپنے ملک میں استعماری غلبے، عزت نفس سے ہاتھ دھوئے اعظم سواتیوں، غزہ کی طرح محاصرے میں گرفتار پاراچناریوں، بےسبب جیلوں میں سسکتے انصافیوں، خواتین ورکروں،حق گوئی پر دم گٹھتے صحافیوں،کرپشن اور چوروں میں پھنسے پاکستانیوں کے لئے اصولی و منطقی آواز اٹھا لیجئے تاکہ دینی سیاست کے نعرے کا کچھ تو بھرم رہ جائے۔
خدارا اپنی ساکھ اور بساط کے مطابق بصیرت سے کام لیجئے۔استعمار کے آلہ کاروں سے دوری اختیار کیجئے ۔آپ کے پاس افرادی قوت کی کمی نہیں خدارا ہر ظالم سے نفرت ہر مظلوم کی حمایت کا اصولی موقف اختیار کیجئے۔
آخر میں جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے میرے دوستوں سے معذرت کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ
خفا نہ ہونا مری جرأت تخاطب پر
تمہیں خبر ہے مری زندگی کی آس ہو تم

جمعہ، 31 جنوری، 2025

طالبان اور اقتدار کا خُمار


ڈاکٹر نذر حافی:
سارا جھگڑا پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔ طالبان کے  جتھے پاکستان پر حملہ آور ہیں۔ ۲۰۲۲ سے خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان  میں پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔ابھی تک پارہ چنار کاعلاقہ طالبان کے محاصرے میں ہے۔ لوئر کرم میں ڈپٹی کمشنر جاوید محسود کے بعد  آج ۳۱ جنوری ۲۰۲۵ کو اپر کرم کے علاقے بوشہرہ میں اسسٹنٹ کمشنر سعید منان کو فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
  یاد کیجئے !یہ اگست ۲۰۲۱ کی بات ہے کہ جب   طالبان  کو تھالی میں رکھ کر اقتدار دے دیا گیا تھا۔ پاکستان کے اُس وقت کے  وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے طورخم کراسنگ پر طالبان کے ساتھ مل کر  ایک پریس  کانفرنس کی تھی۔ان کی باتوں سے لگتا تھا کہ   گویا طالبان کو یوں تھالی میں رکھ کر  حکومت دلوانا پاکستان کا ہی نقشہ تھا۔ افغان طالبان اقتدار میں آئے تو پاکستانی سقراط  اس وہم میں مبتلا ہو گئے کہ اب خطّے  میں بھارت تنہا ہو جائے گا اور  حالات پر ہماری گرفت مضبوط ہو جائے گی۔ ہمارے سقراط اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ طالبان  ڈیورنڈ لائن کو تسلیم نہیں کرتا چونکہ  یہ لائن پشتونوں کو تقسیم کرتی ہے۔آج طالبان نے اپنی طاقت سے یہ منوا لیا ہے کہ  مضبوط طالبان کیلئے کمزور پاکستان ضروری ہے لہذا پاکستان کو کمزور کرنے کیلئے طالبان بھارت کے ساتھ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔
خیر شیخ رشید صاحب  اینڈ کمپنی کے خواب  خواہ مخواہ نہیں تھے۔ ان کے پیچھے  جہاد کے نام پر جتھہ سازی کی ایک مکمل تاریخ بھی تھی۔ اس سے پہلے  گزشتہ تین دہائیوں میں سارے طالبان رہنماوں اور مجاہدین کو  پاکستان کے  دینی مدارس سے لانچ کیا گیا تھا۔  طالبان تحریک کے بانی ملا محمد عمر  بھی پاکستان کے  دارالعلوم حقانیہ  کے طالب علم تھے۔طالبان کی یوں  حیران کن طور پر  اقتدار میں واپسی کو اس وقت پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے غلامی کی بیڑیاں توڑ دینے  سے تعبیر کیا تھا۔ ہمارے  طالبان بھائیوں  کو اقتدار کا نشہ لگنے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی شرح میں پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ اضافہ ہوا ہے۔   پاکستان سینٹر فار کانفلیکٹ اینڈ سکیورٹی نے  اپنی ریسرچ رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ   سال ۲۰۲۴ میں نومبر کے مہینے میں طالبان جتھوں نے سب سے زیادہ حملے پاکستان میں کئے ہیں۔  
جس وقت ہمارے سقراط طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کا جشن منا رہے تھے۔ اس وقت امریکہ پاکستان کی بربادی کا منصوبہ عملی کر چکا تھا۔   یہ تو بعد میں ۲۰۲۲ میں امریکی محکمہ دفاع کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ۷.۲ ارب ڈالر کا جنگی سازوسامان امریکہ نے افغانستان میں ہی چھوڑ دیا تھا۔  یہ جنگی سازوسامان بعد میں سب سے زیادہ پاکستان ہی  کے خلاف استعمال ہوا اور آج تک پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ قبائلی علاقے مسلسل غیر محفوظ ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کابل کے مشہورِ زمانہ "مجاہدین بازار"  میں امریکہ کے متروکہ عسکری سامان کی جرائم پیشہ عناصر  کھلے عام خریدوفروخت کرتے ہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق امریکہ  تین لاکھ اٹھاون ہزار پانچ سو تیس رائفلیں، چونسٹھ ہزار مشین گنیں،چھبیس ہزار گرینیٹڈ لانچراور تقریبا تئیس ہزار ہمویز(تمام اقسام کی سطحوں پر چلنے والی گاڑیاں) وغیرہ  سے طالبان کو نواز کر افغانستان سے خارج ہوا تھا۔ پاکستان کے عسکری اداروں کو ملک کے اندر جن دہشت گرد نیٹ ورکس کی طرف سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ نیٹ ورکس یہی امریکہ کا متروکہ اسلحہ ہی استعمال کرتے ہیں۔ دوسری طرف پاکستان  کی  سیکورٹی فورسز ، عبادت گاہوں، سکولوں اور پبلک مقامات پر دہشت گردانہ حملوں کے سارے ڈانڈے افغانستان اور طالبان  ہی سے ملتے ہیں۔  افغان حکومت اپنے ملک میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں ہے۔ پاکستان کے ہر مطالبے کے جواب میں طالبان حکومت کا مطالبہ ہے کہ پاکستان تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)  کے مطالبات کو تسلیم کرے۔ اس کے باوجود  پاکستان میں افغان جتھوں کا مضبوط  سے مضبوط تر ہوتے جانا یہ واضح کرتا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جڑیں پاکستان کے سیکورٹی اداروں کے اندر بھی ہیں۔ 
بہر حال حقیقتِ حال یہ ہے کہ  طالبان نے پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات اپنے ملکی مفادات کے مطابق متوازن رکھے ہوئے ہیں جبکہ  پاکستان نے طالبان کے ساتھ اپنے تعلقات کو محض جذباتی انداز میں پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے۔ پاکستانی خارجہ پالیسی تشکیل دینے والے اس سچائی سے فرار کر رہے ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات صرف طالبان کیلئے ضروری نہیں بلکہ ہندوستان کیلئے بھی ضروری ہیں چونکہ ہندوستان بھی یہ نہیں چاہتا کہ افغانستان کے جتھے اور افغانستان کی سرزمین ہندوستان کے خلاف استعمال ہو۔ اب بیچ میں رہ گیا ہے پاکستان اور اس کی ٹھنڈی ٹھار جہاد انڈسٹری ۔  
تین اطراف سے افغانستان سے متصل ضلع کرّم  کو طالبان نے گھیر رکھا ہے۔ پشاور سے پاراچنار کے درمیانی علاقے پر ہماری قیمتی ایسٹس یعنی ناراض طالبان کا قبضہ ہے۔  یہ قبضہ اس لئے بھی ختم نہیں کرا جا سکتا چونکہ ماضی کے قیمتی ایسٹس نئی مارکیٹ میں بِک چکے ہیں۔  پاکستان کی ریاستی پالیسیاں بنانے والوں   کی خدمت میں بس اتنی ہی عرض ہے کہ جو آنکھ راستے اور کھائی میں فرق نہ کر سکے اُسے دوسروں کو راستہ دکھانے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے۔ کُرم کا  جھگڑا  سُنّی اور شیعہ کا نہیں بلکہ سارا جھگڑا ہمارے ریاستی اداروں کی طرف سے  پگڈنڈی اور کھائی میں فرق نہ کرنے کی وجہ سےہے۔











جمعرات، 30 جنوری، 2025

تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں


 رپورٹ: حسن کاظمی متعلم جامعۃ الرضا اسلام آباد: رسول اللّٰہ  ؐکی بعثت کا عالی ترین  ہدف   انسانوں کا تذکیہ نفس کرنا تھا ۔  آیات الہی کی تلاوت ، کتاب و حکمت کی تعلیم اور عبادات  کو تذکیہ نفس کے بغیر  خدا کی بارگاہ میں قبولیت حاصل نہیں ہوتی۔ ایک عالم دین وہی ہے جو اپنے نفس کی غلامی کرنے کے بجائے  اپنا  تذکیہ نفس اور اپنا مجاسبہ کرتا رہتا ہے۔ امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں جو شخص ہر روز اپنے نفس کا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ۔اسی طرح امام خمینی ؒ نے علماء کی محفل میں اپنے درس میں فرمایا تھا کہ کوئی چاہے  جتنا بڑا عالم ہی کیوں نہ ہو اگر اس نے تذکیہ نفس نہ کیا ہو تو پھر وہ بات نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر سے شیطان بولتا ہے۔
تفصیل کے مطابق جامعۃ الرضا اسلام آباد کے ہفتہ وار درس اخلاق سے حجۃ الاسلام مولانا حسنین عباس گردیزی صاحب نے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے درس میں طلبا کو اپنی تمام تر توجہ معنویت، خدا کی رضایت اور معصومینؑ سے توسّل کرنے پر مرکوز کرنے کی نصیحت کی۔ انہوں نے کہا کہ تذکیہ نفس کے بغیر دینی تعلیم کا تصوّر ہی ممکن نہیں، انبیا اور معصومین فقط ہماری دنیاوی حاجات کو پورا کرنے کیلئے اس دنیا میں تشریف نہیں لائے تھے بلکہ ہمیں اپنی روحانی مشکلات، گناہوں سے نجات اور تعلیم کے حصول میں آسانی کیلئے بھی اُن سے توسّل کرنا چاہیے۔  انہوں نے کہا کہ  دینی طالب علموں کیلئے اپنی تربیت ، خود احتسابی اور اپنے اندر خوفِ خدا پیدا کرنا ان کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے۔  

بدھ، 29 جنوری، 2025

کیا ہم خدا پر یقین رکھتے ہیں؟


 ڈاکٹر نذر حافی:
جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔ ۵ فروری نزدیک ہے۔ تمام عزیز ہم وطن اس روز چھٹی منائیں گے۔ کچھ کو اس روز کشمیر کی آزادی کے نعرے لگانے کا شوق بھی ہے ۔ ان نعرے لگانے والوں میں سے اکثر کو یہ خبر بھی نہیں ہو گی  کہ ابھی چند دن پہلے تاریخ میں پہلی باربھارتی  ٹرین دہلی سے  کشمیر کے سری نگر ریلوے اسٹیشن پہنچ گئی ہے۔ کبھی ہم کہتے تھے کہ  کشمیر اور ہندوستان   کے درمیان صرف جغرافیائی فاصلہ ہی نہیں بلکہ  تاریخ،  زبان، کلچر اور تہذیب و ثقافت کا  فرق بھی قابلِ مشاہدہ ہے۔ ہم آج بھی  باتیں کرنے  تک ہی محدود ہیں  جبکہ بھارت ان فاصلوں کو سمیٹتا جا رہا ہے۔بہر حال مذکورہ فاصلہ اور تفریق مطالعہ پاکستان کے علاوہ اب اور  کہیں بھی حائل نہیں۔
یہ کریڈٹ اہلِ کشمیر کو جاتا ہے کہ وہ جدوجہدِ آزادی کو اپنی بصیرت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کی تیسری نسل میدان میں تنِ تنہا  کھڑی ہے اور اس کے چہرے  پرتھکاوٹ اور خوف  کے کوئی آثار نہیں۔  ضرورت اس امر کی ہے کہ اُن کی  جرات  و بصیرت کے ساتھ پاکستانی سفارتکاری ہم آہنگ ہوجائے ۔ 
اپنے ماضی کی تاریخ میں کشمیریوں نے اقوامِ عالم پر یہ ثابت کیا ہے کہ مظلوم کی طاقت  اُس کی جدوجہد میں مضمر  ہوتی ہے۔ جب کوئی مظلوم ہوتا ہے، تو اس کی جدوجہد سے اُس کی بصیرت،  ایمانداری، ہمت، اور عزم کا پتہ چلتا ہے۔ مظلوم اپنی مشکلات  کے باوجود سخت اور نامساعد حالات میں صبر کرتا ہے اور اپنے حقوق کے لئے  سچائی کے ساتھ کھڑا رہتا ہے، اسی کھڑے رہنے کا نام ہی جدوجہد اور اسی کا نام مظلوم کی طاقت ہے۔
کشمیر  کے لوگ دہائیوں سے ظلم، جبر، روزانہ کی بنیاد پر تشدد، گمشدگیوں، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا شکار ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے ١٩٤٨ء میں کشمیر اور فلسطین دونوں ریاستوں سے حقِ خود ارادیت کا   وعدہ کیا تھا لیکن اب بغیر حقِ خود ارادیت کے دونوں کو  تقسیم کر کے دو دو ریاستیں بنانے کی تیاری مکمل کی جا چکی ہے۔ اس دوران دنیا کے کئی ممالک نے فلسطین کیلئے موثر آواز بلند کی ہے لیکن کشمیریوں کو  عالمی سطح پر مسلسل بے حسی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ بے حسی بے سبب نہیں، اس کے پسِ پردہ محرکات پر توجہ دی جانی چاہیے۔  
گزشتہ دنوں یہ ٹرین دہلی سے سری نگر نہیں پہنچی بلکہ یہ حقِ خود ارادیت کے انکار کے بعد، اب  کشمیریوں کی شناخت پرایک  بڑا  اور کارگرحملہ ہے۔ اب یہ رونا رونے کا کوئی فائدہ نہیں کہ بھارتی حکومت  انفارمیشن ٹیکنالوجی، میڈیا، سائبر ٹیکنالوجی سوفٹ وار  اور دہشت گردی کو کشمیریوں کے خلاف  ہائبرڈ ٹولز کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اپنی شہ رگ کیلئے کیا کر رہا ہے؟ جب ہم یہ جانتے ہیں کہ   اقوامِ متحدہ  کسی کو بھی  اپنی قراردادوں پر عمل درآمد  کیلئے مجبور نہیں کر سکتی تو پھر یہ عملدرآمد کیسے ہوگا؟
جذباتی نعرے کسی کو بھی فائدہ نہیں پہنچاتے اور زمینی حقائق کو عقلمند کبھی بھی نظر انداز نہیں کرتے۔ عصرِ حاضر میں بات صرف پاکستان اور ہندوستان کی نہیں بلکہ چین بھی اس مسئلے کا ایک مضبوط  فریق ہے۔کئی سالوں سے مذکورہ  تینوں ممالک کے درمیان کشمیر ایک  تھالی میں پڑی ہوئی روٹی کی مانند  تقسیم ہونے کو ہے۔ اس تقسیم کے راستے میں رکاوٹ فقط اقوامِ متحدہ کی قراردادیں ہیں۔ اب کشمیری  لوگ اقوام متحدہ کا شکریہ ادا کریں یا اقوامِ متحدہ کو بُرا بھلا کہیں؟
کشمیر پر مغلوں کے قبضے  سے پہلے  اپنی تاریخ میں کشمیر کبھی غلام اور بے بس  نہیں رہا اور  کشمیر میں کبھی بھی نفرت، تعصب اور مذہبی جنون نے راج نہیں کیا۔ آج کشمیر پر غیروں کے خوف کے سائے کیوں ہیں اور یہاں اپنوں سے نفرت کا بیج کس نے بویا ہے؟
کشمیر میں اسلام کا ظہور بھی کسی خون خرابے کے بغیر ہوا۔ سید شرف الدین موسوی المعروف بلبل شاہ ایک مبلغ تھے نہ کہ کوئی عسکری سپہ سالار۔ وہ رنچن شاہ کے دور حکومت میں ۷۲۴ قمری بمطابق ۱۳۲۴ عیسوی میں خراسان سے  تبلیغِ اسلام کی غرض سے کشمیر آئے۔ رنچن آبائی طور پر  ایک بدھ مت حکمران  تھا۔ وہ بدھ مت تھا لیکن ظالم نہیں۔ اس کے دربار میں  مذاہب  و فرق کا  علمی مباحثہ و مکالمہ اور مناظرہ روزانہ کا معمول تھا۔ بلبل شاہ  بھی اسی دربار میں بادشاہ کی توجہ کا مرکز بنے۔ان کے معقول دلائل نے بادشاہ کے  تصوّر روحانیت کو دگرگوں کر دیا۔بلبل شاہ کے علمی دلائل سے  بادشاہ کے قدیمی مذہبی اعتقادات میں رخنہ پڑا اور اُس نے اپنے  لئے جدید مذہب یعنی اسلام  کا اعلان کر دیا۔ گویا بادشاہ کو جس حقیقت اور سچائی کی تلاش تھی وہ بادشاہ کو مل گئی۔ اس خوشی میں بادشاہ کی رعایا بھی شکرانے کے طور پر مسلمان ہو گئی۔ یوں تبدیلی مذہب کیلئے  ساری ریاست میں نہ خون کا ایک قطرہ گرا اور نہ کسی کی گردن اُڑائی گئی۔
یہ ایک مذہبی مکالمہ تھا جو تہذیبی تبدیلی اور ایک نئے تمدّن کا باعث بنا۔ بعد ازاں جتنے بھی  مبلغین ِاسلام کشمیر میں داخل ہوئے انہوں نے کبھی بھی لشکر کشی یا عسکریت پسندی کا سہارا نہیں لیا۔ رفتہ رفتہ  اسلام کو فروغ ملتا رہا اور  ایک شعوری بلوغ کے طور پر  اسلامی تمدّن جوان ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اسلامی تمدّن کی آغوش میں  سلطان زین العابدین بڈشاہ (عظیم بادشاہ)  جیسا بے مثال حکمران تخت پر جلوہ افروز ہوا۔
ان میں سے کسی نے بھی حصولِ اقتدار کیلئے مذہبی کارڈ نہیں کھیلا۔ رعایا سب کی رعایا اور حکمران سب کے حکمران تھے۔زمانےکے نشیب و فراز میں کئی کشمیری خاندان  یونہی سماجی ارتقاء اور مقامی تبدیلیوں  کے مطابق  برسرِ اقتدار آتے رہے۔ اسی طرح بغیر کسی مسلکی یا مذہبی نعرے کے  ۱۵۶۱ء میں چک خاندان بھی برسرِ اقتدار آیا اور اُس نے ۱۵۸۶ء تک کشمیر پر کسی نہ کسی شکل میں  حکومت کی۔چک خاندان  ۹۲۷ھ، ۹۲۸ھ اور ۹۲۹ ھ میں مغلوں کو تین دندان شکن شکستیں  دے چکا تھا۔کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ۱۵۴۰ء میں مغلوں کو کشمیر کے مقامی مذہبی جنونیوں  مولوی قاضی ابراہیم اور قاضی عبدالغفور نے  ریاست  پر حملے کی دعوت دی۔  انہوں نے  چک خاندان کے خلاف مسلکی کارڈ استعمال کرتے ہوئے کافر کافر شیعہ کافر کا نعرہ لگایا۔ اس نعرے  سے کشمیر میں مذہبی منافرت کا آغاز ہوا اور بعد ازاں  ہندومسلم فسادات اور ناامنی کا دروازہ بھی کھلا۔ ۱۵۴۰ء میں منگول کمانڈر مرزا محمد حیدر دوغلات بیگ نے پہلی مرتبہ کشمیر کو ایک ریاست سے روٹی میں تبدیل کیا اور آج تک اس ریاست کو روٹی کی مانند نوچا اور چبایا جا رہا ہے۔
۵ فروری کو  ضرور منائیں لیکن عوام کو یہ بھی بتائیں کہ کشمیر جو ایک  خودمختار،  مہذب، متمدن اور باوقار ریاست تھی وہ کیسے ایک روٹی میں تبدیل ہوئی!۔تاریخ کشمیر کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ  جب مذہب دوسروں کا حق تسلیم کرنے کے بجائے دوسروں کی حق تلفی کیلئے استعمال ہونے لگے تو پھر وہ  ایک ریاست کو بھی  ایک روٹی میں تبدیل کر دیتا ہے۔۵ فروری منانا اور مخلوق خدا کو سچ نہ بتانا یہ مخلوقِ خدا پر ظلم ہے اور جو خدا پر یقین رکھتا ہے وہ مخلوق خدا پر ظلم نہیں کرتا۔






منگل، 28 جنوری، 2025

دی ایمز کا دورہ اور کئی اہم نکات

دی ایمز کے دورے کے دوران کئی اہم نکات ہمارے سامنے آئے۔ رپورٹ: سید حسن کاظمی:  متعلم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد: صحت افزا مقام، دلکش عمارت، پُرسکون ماحول، با اخلاق اور شفیق اساتذہ  اور منظم عملہ  ۔۔۔ایک بہترین تعلیمی ادارے کی اہم خصوصیات یہاں موجود تھیں۔ جب ہم لوگ دی ایمز  پہنچے تو ایمز سکول اینڈ کالج کا تمام تر اسٹاف بطورِ خود کار اپنی مصروفیات میں مشغول تھا۔
  ریسیپشن کے متعلقہ عملے  نے ہمیں  خوش امدید کہا اور دیگر اسٹاف اپنے متعلقہ کاموں میں معمول کے مطابق مصروف نظر آیا۔  ہم نے کسی کو فارغ نہیں پایا۔  نزدیک سے  مختلف کلاس رومز میں تدریسی عمل کو بھی دیکھا اور  مختلف لیبز کا بھی مشاہدہ کیا۔ یقیناً  دی ایمز کے  خوش قسمت   اسٹوڈنٹس  ان سہولیات سے بھرپور استفادہ کرتے ہونگے۔دی  ایمز سکول اینڈ کالج کی لائبریری بھی بڑے سلیقے سے مرتب کی گئی تھی۔ چھوٹے بچوں کیلئے ایک الگ لائبریری بھی موحود تھی۔  البتہ بچوں سے یہ سوال پوچھنا میں بھول گیا  کہ وہ ان ساری سہولیات سےاستفادہ کرنے کیلئے اپنا روزانہ کا شیڈول کس طرح مرتب کرتے ہیں؟  جہاں ادارے کی انتظامیہ نے یہ ساری سہولیات فراہم کی ہیں وہاں طلبا اور والدین میں بھی ان سہولیات سے استفادہ کرنے اور آگے بڑھنے  کا شوق  بھی ضروری ہے۔
 ادارے کے پرنسپل سر روزی علی نے تعلیم انسانیت اور اپنے آئندہ کے منصوبوں کا مختصر اور جامع تعارف کرایا۔ یاد رہے کہ دی ایمز کی طرف سے اسٹوڈنٹس کو سکول لانے اور لے جانے کیلئے معقول چارجز کے ساتھ  ٹرانسپورٹ کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔روزانہ کئی بسوں سے طلبا سکول آتے اور جاتے ہیں۔  والدین کیلئے خوش خبری ہے کہ سکول کے تمام شعبہ جات خصوصاً  سکول کی بس سروس کے بارے میں فیڈ بیک کا ایک موثر نظام موجود ہے۔ آپ بغیر کسی پریشانی اور الجھن کے اپنا پیغام سکول کی انتظامیہ تک پہنچا سکتے ہیں اور اس پر ہونے والے ایکشن کے بارے میں استفسار کر سکتے ہیں۔ بعد ازاں  ادارے کے  سی ای او سید امتیاز علی رضوی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا ہر جملہ آبِ زر سے لکھنے کے قابل تھا۔ سو ایک جملہ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
دوسروں کی دیکھا دیکھی سکول، کالج، یونیورسٹی یا دینی مدرسہ بنانے کی دوڑ میں نہ لگ جائیں۔ یہ سب اچھے کام ہیں لیکن کوئی بھی کام کرنے سے پہلے آپ یہ دیکھیں کہ ملک و قوم کو اس وقت کس کام کی اشد ضرورت ہے اور آپ کس کام کو ضرورت کے عین مطابق  بطریقِ احسن انجام دینے کی صلاحیّت اور توان رکھتے ہیں۔  

پیر، 27 جنوری، 2025

مولودِ کعبہ کون؟



نذر حافی:
:بہت ساری  خلاف حقیقت اور خلافِ عقل  باتوں کے اسلامی کتابوں میں پائے جانے اور ان پر    پر اسلام کی مُہر  لگنے کی وجہ سے  عام لوگ انہیں  اسلامی مسلمات میں شامل کر لیتے ہیں۔اس مسئلے کو آپ مارکیٹ میں  موجود جعلی کرنسی کے وجود سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی ، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ ایسا ہی دینِ اسلام کے ساتھ ہوا۔ احادیث اور تاریخِ اسلام کے حوالے سے بہت زیادہ ایسے واقعات، مفروضات اور بیانات گھڑ لئے گئے  ہیں جو قرآن و سُنّت نیز قطعیّاتِ تاریخ و عقل سے مطابقت نہیں رکھتے۔مثال کے طور پر  ہم جسے اسلامی سال کہتے ہیں، اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اسلامی سال کا آغاز نبیؐ کی ہجرت سے ہوا۔ حالانکہ نبی ؐ کے زمانے میں اور خلیفہ اوّل کے سارے دور میں کسی اسلامی سال کا تصوّر ہی نہیں تھا۔ نہ ہی نئے اسلامی سال کی مبارکبادیں دینے کی کہیں فضیلت نقل ہوئی ہے اور نہ ہی کسی سال کو قرآن و حدیث میں اسلامی کہا گیا ہے۔  مزے کی بات یہ ہے کہ نبی ؐ نے  ہجرت  بھی محرم الحرام کے بجائے ربیع الاوّل میں کی ہے۔ 
اب جن لوگوں نے محرم الحرام سے شروع ہونے والے مہینے کو اسلامی سال کہنا شروع کیا ہے، ان کی اس فکر کا اسلامی ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے کوئی تعلق نہیں، ان کا محرک کچھ اور ہے جس کی الگ سے تحقیق کی جانی چاہیے۔
اسی طرح  مسلمانوں کے ہاں اسرائیلیات کا رواج  بھی جعلیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ اسرائیلیات وہ معلومات اور روایات ہیں جو اسلامی متون، خاص طور پر قرآن و حدیث میں غیر مسلم مصادر، خصوصاً یہودیوں اور عیسائیوں کی  کتابوں سے شامل ہو گئی ہیں۔ یہ معلومات عام طور پر تورات، انجیل اور دیگر یہودی و عیسائی کتابوں سے اخذ ماخوذ ہیں، یہ غیر مستند تو ہوتی ہی ہیں اور  بعض اوقات افسانوی  قالب میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے درمیان ایسی من گھڑت معلومات کتب تاریخ ، احادیث  یا تفسیر کے ذیل میں شامل  ہیں۔
نمونے کے طور پر قصص انبیا کے واقعات  میں بہت سارے انبیا کے  ایسے حالات کو  بیان کیا گیا ہے  جو قرآن مجید یا مستند  احادیث میں کہیں بھی  ذکر نہیں ہوئے۔ علوم حدیث میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کیلئے  متعدد اصطلاحات رائج ہیں ۔ جیسے:موضوع ،ضعیف ،منکر  ،معلق ،متنازعہ ،مردود، منسوب ،موصول،غریب ،مقلوب ۔۔۔
مذکورہ بالا مقدمے کا مقصد فقط یہ واضح کرنا تھا کہ مسلمانوں  کی بنیادی کتابوں میں  جعلسازی کا وجود ایک حقیقت ہے۔ جعلسازی کے یہ محرکات اسلام کے ابتدائی دور سے ہی موجود تھے اور اس جعلسازی کے کئی  مقاصد  تھے بعض اوقات غلط عقائد کی ترویج، سیاسی مقاصد کی تکمیل یا ذاتی مفاد حاصل کرنا  بھی ہوتا تھا۔ مسلم سکالرز نے کبھی بھی اس جعلسازی کو تقدس کا درجہ نہیں  دیا بلکہ مختلف اصطلاحات کے ساتھ کی نشاندہی کی ہے۔  اب آئیے اس جعلسازی کے محرکات میں سے  ایک بڑے محرک کا تجزیہ کرتے ہیں۔ 
مسلمانوں کے درمیان اسرائیلیات اور دیگر غیر حقیقی متون کی نشرو اشاعت کے کئی اسباب ہیں۔ ان سب پر تو اس وقت  روشنی نہیں ڈالی جا سکتی لیکن  چند ایک اسباب کا ہم مختصراً ذکر کئے دیتے ہیں۔   اسلام کے ابتدائی دور میں ہی  مختلف سیاسی گروہ اور حکمران اپنی طاقت کو مستحکم کرنے اور اپنے مخالفین کے خلاف دلیل پیش کرنے کے لیے کبھی احادیث لکھنے سے منع کرتے تھے اور کبھی  جعلی احادیث گھڑتے تھے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان   ایسی باتیں آج بھی مشہور ہیں جو صحابہ کرام کے عہد میں اصلاً  وجود ہی نہیں رکھتی تھیں:
۱۔ خود کسی بھی صحابی نے خود کو اہل بیتِ رسول ؐ سے افضل کہنا تو دور کی بات اپنے آپ کو اہلِ بیت  کے برابر  بھی نہیں کہا  بلکہ صحابہ کرام اپنے آپ کو اہلِ بیت کا خادم اور غلام کہنے میں فخر کرتے تھے لیکن اہلِ بیت کے مقابلے میں جعلی فضائل و مناقب گھڑنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے صحابہ کراؓم کو اہلِ بیت سے افضل یا اہلِ بیتؑ کے برابر کہنا شروع کر دیا۔ حتی کہ کچھ لوگوں نے درود شریف میں بھی  اصحاب کو شامل کر لیا جبکہ ایسا درود شریف کبھی بھی  نبی اکرم ؐ یا صحابہ کرام ؓ کی زبانوں پر جاری نہیں ہوا۔
۲۔ ہم فلاں نبی کی اولاد میں سے ہیں، اللہ ہم سے محبت کرتا ہے، ہمارے برے اعمال ہمارے اباواجداد کی وجہ سے بخش دئیے جائیں گے، ہمیں اچھے اعمال کی کوئی ضرورت نہیں  اور ہم سیدھے  جنّت میں چلے جائیں گے۔ یہ سراسر بنی اسرائیل کا باطل عقیدہ ہے اور قرآن مجید نے متعدد آیات میں اس عقیدے کی نفی کی  ہے ۔ اسلامی کتابوں میں جعلیات و   اسرائیلیات کی وجہ سے ابھی بھی  بہت سارے مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم بغیر  اعمالِ حسنہ کے جنت میں جائیں گے۔ اسلامی معاشرے میں بعض اوقات غیر مسلم ثقافتوں اور روایات کا اثر بھی جعلی روایات کی تخلیق کا سبب بنا۔ خصوصاً اسرائیلیات (یہودی اور عیسائی روایات) کو بعض اسلامی متون میں شامل کیا گیا، جو بعد میں جعلی روایات کے طور پر پھیل گئیں۔
۳۔   مختلف فرقوں کے درمیان اپنے عقائد کو جواز فراہم کرنے کے لیے جعلی روایات یا احادیث گھڑی گئیں۔ متعدد فرقے  اپنے عقائد کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایسے افسانے یا جھوٹے بیانات ایجاد کرتے رہے جو ان کے نظریات کی حمایت کرتے تھے۔
۴۔ ذاتی مفاد اور شہرت
علمِ رجال کے مطابق    بعض افراد یا راوی اپنے ذاتی مفاد یا شہرت کے لیے جعلی احادیث گھڑتے تھے۔ وہ کسی خاص شخصیت کے حوالے سے روایات بناتے تاکہ اپنی شناخت یا مقام کو بڑھا سکیں۔      بعض اوقات لوگ اسلامی شخصیات کے بارے میں معجزات اور غیر معمولی واقعات کی کہانیاں گھڑتے تھے تاکہ لوگوں میں ان شخصیتوں کے بارے میں عقیدت اور احترام پیدا کر سکیں۔ اموی اور عباسی بادشاہوں سے انعامات لینے کیلئے  اہلِ بیت ؑ کے مقابلے میں بعض صحابہ کرامؓ کے بارے میں فرضی معجزات اور غیر معمولی واقعات کی جھوٹی روایات  وضع  کی گئیں ۔
۵۔دینی تعلیمات کی ترویج یا تشہیر
   بعض اوقات لوگوں نے اسلامی تعلیمات اور اخلاقی اصولوں کو پھیلانے کے لیے جعلی احادیث گھڑیں، جن میں نیکی کرنے، صدقہ دینے ، کثرت سے تلاوت کرنے یا  مستحب عبادت کی اہمیت پر زور دیا جاتا تھا۔لوگوں کو زیادہ عبادت یا صدقہ دینے کی ترغیب دینے کے لیے جعلی روایات گھڑی گئیں، جن میں بتایا گیا کہ زیادہ نیک عمل کرنے سے خدا کی طرف سے بڑے بڑے درجات و انعامات ملتے ہیں۔
۶۔غفلت اور  کمزور حافظہ
   بعض اوقات جعلی احادیث صرف راویوں کی غفلت یا کمزور حافظے  کی وجہ سے بھی  اسلامی متون میں شامل ہوئیں۔ بعض اوقات  راوی کسی حدیث کو سن کر اسے اس طرح بیان کرتا  تھا کہ  وہ اصل حقیقت سے ہٹ جاتی تھی۔
مذکورہ بالا تمام عوامل اپنی جگہ بجا ہیں لیکن ان سب سے ایک بڑا عامل خود فضائل و مناقب علی ابن ابیطالبؑ کے مدّمقابل فضائل و مناقب تراشنے کی  کارروائی ہے۔  حضرت علی ؑ اپنی جامعیّت کے اعتبار سے  اہلِ بیت میں سے بھی ہیں اور صحابہ کرام میں سے بھی۔ ایک طرف تو آپ کی شخصیت اتنی جامع ہے کہ آپ اہلِ بیت، صحابہ کرام اور خلفائے راشدین میں سے ہیں اور دوسری طرف یہ حقیقت مسلمہ ہے کہ فضال و مناقب میں کوئی بھی  دوسری شخصیت آپ کی گردِ پا کو نہیں پہنچتی خواہ  وہ شخصیت  اہل بیت میں سے ہو، صحابہ کرام میں سے ہو یا خلفائے راشدین میں سے ۔ 
صدرِ اسلام میں ہی یہ حقیقت واضح تھی کہ جہانِ علم و عمل میں آپ جیسی جامعیّت کسی کو حاصل نہیں۔ سو آپ کے  معنوی و ایمانی قد و کاٹھ  کے مطابق  آپ کے حریفوں کیلئے کوئی دوسری شخصیت تراشنا ممکن ہی نہیں تھا، سو آپ  اور اہلِ بیتِ رسول کے ہاتھوں شکست خوردہ گروہوں نے  آپ کی ہر فضیلت کے مقابلے میں کسی نہ کسی کی ایک فضیلت ضرور گھڑی ہے۔ ظاہر ہے کہ آپ کے فضائل  میں سے ایک آپ کا مولودِ کعبہ ہونا ہے۔سو  آپ کے حریف  گروہوں نے ایک مرتبہ پھر جلد بازی اور عجلت سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ  حکیم بن حِزام بھی کعبے میں متولد  ہوئے۔  فریقِ مخالف کا مقصد فقط یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت علی ؑ کا  کعبے میں پیدا ہونا کوئی فضیلت نہیں اور اگر ہے تو پھر حکیم بن حِزام بھی اس فضیلت کے حامل ہیں۔
بلاشُبہ ایسی فضیلت گھڑنے سے حضرت حکیم بن حِزامؓ کا  کوئی تعلق نہیں۔ یہ  جعلی افسانہ  بھی دیگر اسلامی افسانوں کی مانند   اہلِ بیتؑ کے مخالفین نے گھڑا ہے۔ آئیے اس افسانے کا تجزیہ کر کے دیکھتے ہیں کہ حقیقتِ حال کیا ہے:
 حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی نفی ایک تو خود علوم حدیث کی رو سے ہی ہو جاتی ہے لہذا جن لوگوں نے  حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کی بات کی ہے انہوں نے اس پر جرح و تعدیل نہیں کی بلکہ فقط یہ کہہ کر  گزارہ کیا ہے کہ فلاں نے اپنی کتاب میں یہ لکھا ہے۔ یہ بالکل اُسی طرح ہے کہ جیسے کوئی یہ کہے کہ  فلاں بات درست ہے چونکہ ارسطو نے کہی ہے۔  خود سے تحقیق کئے بغیر فقط ارسطو کی بات کہہ کر کسی  بات کو درست یا  غلط کہہ دینا یہ علمی و تحقیقی روش نہیں۔ 
دوسری اور اس سے بھی  محکم ترین دلیل یہ ہے کہ  تمام تر تاریخی اسناد  اور قطعیات کے مطابق زمانہ جاہلیت میں حاملہ عورتوں کا کعبے کے اندر داخل ہونا ممنوع تھا۔ جن لوگوں نے   حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں متولد ہونے کا لکھا ہے انہوں نے دروازے سے داخل ہونا لکھا ہے جو کہ زمانہ جاہلیت میں ممنوع تھا  لہذا مادرِ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے میں داخل ہونا ممکن ہی نہیں لیکن حضرت علی ؑ کی مادرِ گرامی کا کسی نے بھی یہ نہیں لکھا کہ آپ دروازے سے داخل ہوئیں بلکہ سب نے لکھا کہ مادرِ علیؑ نے دیوارِ کعبہ کو پکڑ کر  خدا سے دعا کی، جس کے بعد دیوارِ کعبہ شق ہوئی  اور آپ دیوار سے داخل ہوئیں۔ پس اس سے ہر صاحبِ شعور کیلئے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مادرِ علی ؑ کا دیوارِ کعبہ سے کعبے میں داخل ہونا تاریخ اسلام کے مسلمات اور معجزات میں سے ہے جبکہ حضرت حکیم بن حِزامؓ کے کعبے  میں تولد کی داستان دیگر جعلی روایتوں کی مانند گھڑی گئی ہے۔
ایسی کئی دوسری مثالیں بھی موجود ہیں جیسے اگر یہ حدیث ہے کہ  حسنؑ و حسین ؑ جنت کے  جوانوں کے سردار ہیں، تو کچھ لوگوں نے عجلت میں یہ بھی اضافہ کر دیا کہ فلاں   فلاں جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔ حالانکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق جنت میں بڑھاپے کا عارضہ قابلِ تصوّر نہیں ہے۔
اسی طرح اگر یہ حدیث  موجود تھی کہ میں علم کا شہر ہوں اور علیؑ اس کا دروازہ ہے  تو کچھ لوگوں نے اس میں یہ اضافہ کر دیا کہ  کوئی اس شہر کی کھڑکی ہے، کوئی چھت ہے اور کوئی روشندان۔ صاحبانِ عقل بخوبی جانتے ہیں کہ شہر کی چھت، کھڑکی یا روشندان نہیں ہوتے۔ 
بہر حال  جو لوگ خانہ کعبے میں حضرت علی ؑ کی ولادت کا اس لئے انکار کرتے تھے کہ  کعبے کی بلند و بالا عمارت میں کوئی عورت کیسے داخل ہو سکتی ہے اور  حاملہ عورتوں کے کعبے کے نزدیک ہونے کی ممانعت کے باعث کوئی عورت کیسے کعبے کے نزدیک ہو سکتی ہے تو حضرت حکیم بن حِزامؓ کی ولادت کا افسانہ تراش کر انہوں نے خود ہی یہ مان لیا ہے کہ اُس زمانے میں حاملہ خواتین کیلئے  خانہ کعبے کے نزدیک جانے کی ممانعت نہیں تھی۔  
دیوارِ کعبہ کو پکٹر کر حضرت فاطمہ بنتِ اسد کی خدا سے دعا، پھر اللہ نے مادرِ علی ابن ابیطالبؑ کو  دروازے کے بجائے دیوار سے اپنے گھر میں  بلاکر قیامت تک کیلئے یہ ثابت کردیا کہ علی ابن ابیطالبؑ کی کعبے میں ولادت ایک ٹھوس سچائی ہے اور حضرت علیؑ  اپنے فضائل و مناقب میں  لاشریک ہیں۔ کوئی دوسرا چاہے اہلِ بیت ؑ سے ہو، صحابہ کرام سے یا خلفائے راشدین سے کوئی بھی فضائل و مناقب میں حضرت علیؑ کا  شریک یا برابر نہیں۔
آخر میں صاحبانِ جرح و تعدیل کیلئے ہم بغیر سُنّی و شیعہ، وہابی و دیوبندی یا اہلِ حدیث یا سلفی کی کسی تفریق کے چند مستند منابع  حضرت امام علی ؑ کے مولودِ کعبہ  ہونے کے حوالے سے پیش کر رہے ہیں۔ تمام منصف مزاج انسان تحقیق کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں۔ آپ  آزادانہ کسی بھی مسلک کے رجالی اصولوں پر اس واقعے کو پرکھیں اور خود فیصلہ کریں:
1. مسعودی، مروج الذهب، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۳۴۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵.
2. سبط بن جوزی، تذکرة الخواص، ۱۴۰۱ق، ص۲۰
3. ابن صباغ، الفصول المهمة، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۱۷۱
4. حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۴۰۰ق، ج۱، ص۲۲۶
5. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۴۸۳
6. گنجی شافعی، کفایة‌ الطالب، ۱۴۰۴ق، ص۷۰۷
7. ابن مغازلی، مناقب الامام علی بن ابی‌طالب، ۱۴۲۴ق، ص۵۸-۵۹؛ ابن حاتم شامی، الدر النظیم، ۱۴۲۰ق، ص۲۲۵
8. شیخ صدوق، علل الشرائع، ۱۳۸۵ش، ج۱، ص۱۳۵
9. شیخ صدوق، معانی الاخبار، ۱۴۰۳ق، ص۶۲
10. شیخ صدوق، الأمالی، ۱۳۷۶ش، ص۱۳۲
11. محمدی ری‌شهری، دانش‌نامه امیرالمؤمنین ،۱۳۸۹ش، ج۱، ص۷۸
12. طبری، تحفة الابرار، ۱۳۷۶ش، ص۱۶۵-۱۶۴
13. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۳۵، ص۹
14. قرشی اسدی، جمهرة نسب قریش و اخبارها، ۱۳۸۱ق، ص۳۵۳
15. مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۵
اب دوسری طرف اسی طرح ہم  حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے واقعہ کے  حوالے سے سب سے پہلی حدیث کو ہی آپ کے سامنے رکھ دیتے ہیں، باقی کا جائزہ آپ خود  علمِ رجال کی روشنی میں کر لیجئے۔
حضرت حکیم بن حِزامؓ   کے کعبہ میں پیدا ہونے کے بارے میں پہلی روایت "وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة، وکانت أمه ولدته فی الکعبة  " حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال زندگی کی، اور ان کی ماں نے انہیں کعبے میں جنم دیا۔ یہ جملہ   هشام بن محمد بن سائب کلبی متوفای (204 ه. ق)  کی کتاب میں ہے۔ ﴿کلبی، جمهره انساب العرب، ص 13﴾ 
پھر باقی بعد والوں نے اسی کتاب سے  آگے اس جملے کونقل کرنا شروع کر دیا۔ یعنی  یہاں وہی رویّہ دیکھنے میں آ رہا  ہے کہ ارسطو نے کہہ دیا سو  اب یہی درست ہے۔ پہلی بات  تو یہ ہے کہ  کلبی کو اہل سنّت علمائے رجال  بطورِ شیعہ اور غالی بیان کرتے ہیں۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ   کلبی کی کتاب میں یہ کلبی نے لکھا ہے اس کا کوئی ثبوت نہیں بلکہ کلبی کی کتاب  میں حسن بن حسین سکری (212-275 ه. ق) نے ابی جعفر محمد بن حبیب بن امیه بغدادی (ت 245 ه) کے واسطے سے  یہ بات نقل کی ہے۔ 
ایک تو یہ متن بتا رہا ہے کہ کلبی کی اصل عبارت  " وحکیم بن حزام بن خویلد، عاش عشرین ومئة سنة"  حکیم بن حزام نے ۱۲۰ سال عمر کی " کے ساتھ بعد میں  " وکانت أمه ولدته فی الکعبة  "   ان کی ماں نے اُنہیں  کعبے میں جنم دیا "کا  اضافہ کیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ کہ  کلبی  اور سکری خود  تیسری صدی ہجری میں پیدا ہوئے  جبکہ حکیم بن حِزم کی ولادت زمانہ جاہلیت میں عام الفیل سے بھی پہلے کی ہے۔ یوں  یہ سند کلبی اور سکری پر ہی ختم ہو جاتی ہے جس کے بعد یہ عبارت  علم حدیث کی رو  تمام علما  کے نزدیک  معتبر نہیں رہتی۔ 
اب آگے جو لوگ اپنی کتابوں میں نقل کرتے گئے بغیر سوچے سمجھے اور بغیر پرکھے ہی کرتے گئے ورنہ کسی بھی صورت میں کلبی کی کتاب ، سند یا روایت اہلِ سُنّت کے  علمائے رجال کے نزدیک  معبتر نہیں ہے۔
 بہرحال ہمارا مقصد  یہ یاد دلانا تھا کہ یاد رکھئے!  جعلی کرنسی وہی ہوتی ہے جو حقیقی کرنسی کے ساتھ بہت زیادہ مشابہت رکھتی ہے۔جعلی کرنسی جتنی زیادہ حقیقی کرنسی کے مشابہ بنائی جائے گی ، اُسی قدر لوگ اُس سے زیادہ دھوکہ کھائیں گے۔ لہذا دھوکہ نہ کھائیے اور آزادانہ طور پر تاریخ اسلام کو مسلمات اور عقل و منطق کی کسوٹی پر پرکھئے۔  تاریخِ علم نیز عقل و منطق کے مطابق کوئی بھی بات اس لئے درست نہیں ہوتی کہ فلاں شخص  نے کہی یا اپنی کتاب میں لکھی ہے  بلکہ اُس کا حقیقت ہونا ٹھوس شواہد سے ثابت  کرنا پڑتا ہے۔  
نوٹ: حضرت حکیم بن حِزامؓ  کی شخصیت اور خدمات کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون ہم الگ سے لکھیں گے تاکہ  صاحبانِ علم و تحقیق کیلئے یہ حقیقت مزید روشن ہو جائے۔



اتوار، 26 جنوری، 2025

دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے

دی ایمز سکول اینڈ کالج میں چند گھنٹے        

رپورٹ: سبطین حیدر متعلم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد 
25فروری کو جامعۃ الرضا کے سال اول اور سال سوم کے طلبا نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کا مطالعاتی دورہ کیا۔اس دوران دی ایمز سکول اینڈ کالج کے اسٹاف کی طرف سے ہمیں بڑے پرتپاک انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ہم نے دی ایمز سکول اینڈ کالج کے مختلف شعبوں کی لیبارٹریزاورلائبریری کا بھی وزٹ کیا۔اس موقع پر دی ایمز سکول اینڈ کالج کے پرنسپل محترم روزی علی نے بھی مہمان طلباء سے گفتگو کی۔دی ایمز سکول اینڈ کالج کے CEO  پروفیسر امتیاز رضوی صاحب نے ہمیں ایک مختلف انداز میں آگے بڑھنے، تعلیم حاصل کرنے اور سوال کرنے کی دعوت دی۔  تفصیلات کے مطابق جامعتہ الرضا کے طلباء کا مطالعاتی دورہ بروز ہفتہ25/01/2025  کو ہوا۔اس میں جامعۃ الرضا کی دو کلاسز سال اول اور سال سوم نے شرکت کی۔ 
صبح ساڑھے دس بجے ہم دی ایمز سکول اینڈ کالج کی طرف روانہ ہوئے جہاں  دی ایمز کی انتظامیہ نے ہمیں خوش آمدید کہا۔
وہاں سکول کے ایڈمن محترم یثرب صاحب  نے ہمیں مختلف کلاسز کا وزٹ کرایا۔ ہمیں مختلف شعبوں کے لیبز میں بھی لے جایا گیا۔  بیالوجی لیب ، کیمیسٹری لیب اور فزکس لیب نیز  اسٹوڈیو نیز اسپورٹس کا میدان بھی ہمارے دورے میں شامل تھا۔ اس کے بعد ایک کانفرنس ہال میں پروفیسر ذوالفقار علی صاحب نے ہمیں اپنے پورے اسٹاف کی طرف سے خوش آمدید کہا اور  دی ایمز سکول اینڈ کالج  کا Vision اور Mission بیان کیا۔ ان کے بعد دی ایمز سکول اینڈ کالج کے پرنسپل محترم روزی علی صاحب نے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم سے بہت موثر اور جامع گفتگو کی۔ 

کچھ ہی دیر کے بعد ریفریشمنٹ کے دوران ہماری ملاقات ایمز سکول اینڈ کالج کے CEO سید امتیاز علی رضوی صاحب سے بھی ملاقات ہوئی۔ہوئی۔  انہوں نے ہمیں وقت کی قدر کرنے اور جدید دور میں دینی علوم اور علمائے دین کی اہمیت کے حوالے سے انتہائی اہم نکات بیان کئے۔ ان کی گفتگو کے دوران  جامعۃ الرضا کے طلبا نے ان  سے مختلف سوالات کئے ۔انہوں نے جہاں سوالات کے جوابات دئیے وہیں ہمیں علمی دنیا میں سوال اٹھانے کی اہمیت بھی بتائی۔  یہ مطالعاتی دورہ بظاہر مختصر سا تھا لیکن درحقیقت اپنے ہمارے بہت زیادہ معلومات، تجربات اور پیغامات لئے ہوئے تھا۔




کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:۔ پروفیسر سید امتیاز علی رضوی

کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں:

 پروفیسر سید امتیاز علی رضوی:

 اس مرتبہ کا مطالعاتی دورہ ہمارے لئے توقع سے زیادہ دلچسپ اور مفید رہا۔۲۵  جنوری ۲۰۲۵ کو ہم جامعۃ الرضا بارہ کہو اسلام آباد سے دی ایمزسکول اینڈ کالج کی طرف بذریعہ بس روانہ ہوئے۔ دن کے ساڑھے دس بجے تھے اور  بس میں مدیرِ مدرسہ حجۃ الاسلام سید حسنین عباس گردیزی صاحب کی موجودگی سے  لمحہ بہ لمحہ ایک روحانی اور معنوی احساس ہمارے شاملِ حال تھا۔ 

رپورٹ : جامعۃ الرضا میڈیا سیل: سید حسن کاظمی، تاثیر رضا، سبطین حیدر:
  یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ ایک مطالعاتی دورے کا مقصد فقط گھومنا پھرنا  اور وقت گزارنا نہیں ہوتا بلکہ  اس کے ذریعے طلباء کو نئے تجربات، مختلف شعبوں کی حقیقتوں اور علمی دنیا کے  حقیقی حالات کا براہ راست سامنا کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس سے  طلباء  کتابی دنیا سے  نکل کر باہر کی دنیا سے اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں۔ 
ہم لوگ جیسے ہی ایمز کالج کے نزدیک  بس سے اترے تو کالج کی انتظامیہ نے انتہائی نظم و ضبط ا ور محبت بھرے انداز میں ہمارا استقبال کیا۔ کالج میں صفائی ستھرائی، علمی ماحول، دیواروں پر موجود تصاویر ، کمپیوٹر لیب ، لائبریری، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی، میڈیا۔۔۔ وغیرہ کی لیبز۔۔۔ یوں لگا جیسے ہم کوئی خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں ہر قدم پر یہی  سوچ رہا تھا کہ ہم پاکستانی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر اپنی قوم کی تعمیر و ترقی کیلئے بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ 
ہم نے مختلف کلاسز کا وزٹ بھی کیا۔ اساتذہ کے تدریسی طریقہ کار ، کلاس رومز کا ماحول اور طلبا کا پڑھنے کا انداز یہ بتا رہا تھا کہ وطنِ عزیز اور انسانیت کی خدمت کیلئے نہمارے تعلیمی اداروں کا  کم از کم  اتنا معیار تو ہونا چاہیے۔میں نے کئی مرتبہ یہ سوچا کہ اگر میں  آج دی ایمز کالج اینڈ سکول کا وزٹ نہ کرتا تو یقینا ایک بہت بڑی علمی تجربے سے محروم رہتا۔
ایسے مطالعاتی  دورے طلباء میں  نئی تعلیمی روشوں کو دیکھنے، تنقیدی سوچ کے ابھرنے، مسائل حل کرنے کی صلاحیت، اور سیکھنے کی مہارت  میں اضافہ کرتے ہیں۔ آگے چل کر یہ اضافہ ہی  ان کی ذہنی و فکری   وسعت میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

خود اس طرح گروپ کی صورت میں وزٹ کرنے سے طلبا کی مدیریتی صلاحیتیں بھی نکھرتی ہیں اور باہمی روابط بھی  مضبوط ہوتے ہیں، جو اُن کی  تعلیمی اور ذاتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ایسے دورے طلباء کو ٹیم ورک اور قیادت کی مہارتوں کو بہتر بنانے کا موقع دیتے ہیں، کیونکہ گروپ کی صورت میں  وزٹ کرنا  در اصل   ایک دوسرے کے  مزاج اور خیالات کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے۔
دی ایمز  کی طرف سے محترم یثرب صاحب ہماری رہنمائی کر رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں دی ایمز کی چھت سے وادی کے خوبصورت مناظر اور دی ایمز کے اسپورٹس گراونڈ کا بھی نظارہ کرایا۔  ان کے  بعد ہم ایک کانفرنس ہال میں پہچے جہاں   ڈاکٹر  ذوالفقار  صاحب  نے  دی ایمز سکول اینڈ کالج  کی انفرادیت، اس کے ویژن اور مشن پر گفتگو کی۔ یہیں پر دی ایمز کے پرنسپل محترم علی روزی صاحب سے بھی  ہماری ملاقات ہوئی۔  علی روزی صاحب  نے مختصر ووقت میں دی ایمز کی ایک اجمالی پکچر ہمارے سامنے رکھ دی۔ اُن کا ہر جملہ ہمارے لئے امید اور روشنی کی ایک کرن تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ادارے کو ماضی میں کن مشکلات کا سامنا  رہا اور کیسے کیسے حالات سے گزرنے کے بعد  دن رات کی محنت شاقہ سے یہ ادارہ  موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہماری منزل نہیں بلکہ ہم نے ابھی بہت آگ جانا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے نورالھدی ٹرسٹ کے اراکین اور خصوصوی طور پر دی ایمز کے  CEO پروفیسر سید امتیاز علی رضوی صاحب کے وژن، پالیسیز اور حکمت عملی پر بھی مختصر روشنی ڈالی۔ 

  اس کے ساتھ ہی  ہمیں ریفریشمنٹ  کے لئے ایک ہال میں لے جایا گیا۔ وہاں چائے اور سموسوں کے ساتھ ہماری خاطرتواضع کی گئی۔ ہمارے لئے سب سے حیران کن ہر شعبے کا ڈسپلن تھا۔ دینی طلباء کے لیے مطالعاتی دورے کا مقصد فقط معلومات میں اضافہ نہیں ہوتا بلکہ علمی، روحانی اور اخلاقی ارتقا بھی پیشِ نظر ہوتاہے۔ ایسے دورے  دینی طلباء کو معاشرتی تقاضوں اور مطلوبہ مہارتوں سے بھی آگاہ کرتے ہیں۔  ابھی ہم محوِ گفتگو ہی تھے کے دی ایمز کے  سی ای او سید امتیاز علی رضوی  صاحب ہماری بزم میں تشریف لے آئے۔
  اگرچہ وہ اچانک تشریف لائے لیکن ہمیں یوں لگا کہ جیسے ہم سب انہی کے منتظر تھے۔ انہوں نے باتوں ہی باتوں میں کئی کتابوں کے مطالعے سے زیادہ اپنا عملی تجربہ  ہمارے سامنے رکھ دیا۔ ان کی فکر آمیز گفتگو کا خلاصہ یہی تھا کہ انسان کے پاس سب سے بڑی طاقت سوچنے کی ہے اور انسان جتنا اپنے دماغ کو استعمال کرتا ہے، اس کی سوچنے کی صلاحیت اتنی ہی ترقی کرتی ہے۔ تیز ترین دور میں کُند دماغ کے ساتھ زندگی بسر کرنا ممکن نہیں۔  انہوں نے کہا کہ  عقل کے ارتقا اور فروغ کیلئے دینی علوم بہترین وسیلہ ہیں۔ دینی طالب علم یہ جان لیں کہ محنت کے بغیر  کچھ بھی نہیں ملتا۔ کچھ بھی بننے سے پہلے اچھا انسان بننے کی فکر کریں، اس کے لئے دماغ لڑائیں، آپ لوگ بہت کچھ کر سکتے ہیں، بشرطیکہ  اپنی فیلڈ میں   دماغ لڑائیں اور محنت کریں۔


 
ممبرشپ رسائی

وائس آف نیشن کمیونٹی میں شامل ہوں

محفوظ سبسکرپشن کے لئے گوگل سے سائن اِن کریں اور پلیٹ فارم جاری رکھیں۔

  • نئی تحقیقی اشاعتوں تک ترجیحی رسائی۔
  • گوگل تصدیق کے ذریعے محفوظ شناخت۔
  • سبسکرائبرز کے لئے بہتر اور ذاتی تجربہ۔
سبسکرپشن کامیاب ہوگئی۔

Send Your Article

Submit your article here. It will stay off the public website.
Fill the form and submit your article.

Admin Feedback

Your latest feedback messages are shown below.

ایڈمن لاگ اِن

خفیہ کھولنے کے لئے صفحے میں کہیں بھی adminnazar لکھیں۔

ایڈمن اختیارات

سب سے پہلے وہ کام منتخب کریں جو آپ کرنا چاہتے ہیں۔
کاپی کی اجازت = ویب سائٹ پر ٹیکسٹ سلیکٹ/کاپی ہو سکے گا۔
ڈیش بورڈ = favicon، سلائیڈر تصاویر اور لنکس تبدیل کریں۔

ایڈمن ڈیش بورڈ

مرحلہ 1: جس چیز میں تبدیلی چاہیے وہ لکھیں۔
مرحلہ 2: تبدیلیاں محفوظ کریں پر کلک کریں۔
مرحلہ 3: صفحہ ریفریش کریں اور نتیجہ دیکھیں۔

وزیٹر رپورٹ

ایک شخص کو صرف ایک بار گنا جاتا ہے (کوکی + منفرد آئی ڈی کے ذریعے)۔
لائیو وزیٹرز (5 منٹ)
Loading...
آخری 1 گھنٹہ
Loading...
آخری 1 دن
Loading...
آخری 1 مہینہ
Loading...
آخری 1 سال
Loading...
کل یونیک وزیٹرز
Loading...
اس وزیٹر کی آئی ڈی
Loading...
گنتی کی حالت
Loading...
ڈیٹا سورس
Loading...
موجودہ بلاگ کے یونیک وزیٹرز
Loading...
کل سبسکرائبرز
Loading...
سبسکرائبرز (آخری 30 دن)
Loading...
مواد کی رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
کل وزیٹر رپورٹ لوڈ ہو رہی ہے...
یوزر تفصیلات لوڈ ہو رہی ہیں...
سبسکرائبرز لوڈ ہو رہے ہیں...

ویب سائٹ شناخت

مشورہ: تصویر کا سیدھا لنک دیں (`.png`, `.ico`, `.jpg`)۔

سلائیڈر تصاویر

سلائیڈر تصاویر لوڈ ہو رہی ہیں...

لنکس مینیجر

User Article Submissions

Users can submit articles here. Approved articles will remain hidden from the public website so you can publish them manually from Blogger.
Article submissions are loading...